Monday, 24 March 2014

میرا گھر وہ پیارا گھر( دوسرا حِصہ )

آس پاس کی عمارتوں اوراُن کی تعمیری  رعنائیوں سے مُتاثر ہوتی نظر جب اپنے گھر پر ٹھہرتی تو  ادھورے پن کا سا احساس ہونے لگتا تھا، جیسے دورانِ تعمیر اینٹ،سیمنٹ سریہ بزرگوں کی جیب پر بھاری پڑا ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اِسی ادھورے پن نے ہی ہماری دُنیا خوبصورت رنگوں سے بھری۔ کمروں کی بہتات نہ  ہونے کے باعث  ہمارے گھر کا صحن خاصا وسیع تھا ۔  گرمیوں  کے موسم میں جب سورج دِن بھر آگ بھری پھونکیں مارتا، تھک ٹوٹ کر مغرب کی گود میں سر رکھنے کو  ہوتا تو    صحن میں بالٹی ڈبے کے ساتھ چھڑکاؤ کیا جاتا اور پھرایک  مخصوص ترتیب سے چارپائیاں لگنےلگتیں ۔  سب سے پہلی چارپائی   پربڑے اہتمام سے ایک گاؤ تکیہ سجتا۔ اِس  چارپائی کے ساتھ ایک   لمبی سی  میز رکھی جاتی جس کے اِرد گِرد تین چار کُرسیاں  لگتیں۔ دادا ابا گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھتے، شام کی چائے پر خوب محفل  جما کرتی تھی۔ صحن کے شمال  مغربی کونے میں شیخوں کے گھر کو چھو؎تی دیوار  کے ساتھ  باورچی خانہ تھا، جبکہ اِس کے بالکُل سامنے سنیاروں کی سانجھی دیوار سے جُڑا  بڑا سا غسل خانہ  جِس کے دروازے کے ساتھ ہینڈ پمپ لگا ہوا تھا۔ اِک شہتوت کا بُڈہا درخت   تو جیسے غسل خانے کی دیوار کا ہی حِصہ  معلوم ہوتا  تھا۔پورے علاقے میں چڑیوں کا واحد ٹھکانہ ہوا کرتا تھا وہ  موٹے تنے والا بارعب درخت ۔اِسی وجہ سے دادی اماں سردیوں میں بھی چھنگوانے کی  بمشکل اجازت دیاکرتیں  تھیں۔صبح کا نور پھیلتاتو چڑیاں  اپنے رب کویک زبان  ہوئے یاد کرنےلگتیں ۔ میں آنکھیں ملتا اُٹھتا تو  میری چارپائی کی لتاندی  ساتھ لگا ٹامی رات کی پڑی ہڈی سے اپنےدانت تیز  کرتا دکھائی دیتا۔دیوار پربیٹھا بِلا درخت تلے دانہ چُگتی چڑیوں پر للچائی نظریں جمائے ، اپنی پلیٹ سے چپکا  دودھ کا منتظر ہوتا۔ دادی اماں اپنے تخت پوش پر  بیٹھی  تسبیح وظائف میں  محو ہوتیں ۔ دادا ابا کرسی پر بیٹھے شیو بناتے ہوئے اخبار  گرنے کی آواز  سننے کو بےتاب ہوتےاور پھر کُچھ دیر بعد  دادا جی کا ریڈیو  رضا علی عابدی کی آواز میں بول پڑتا  "یہ بی بی سی لندن ہے"۔


صفحے پر لگے حاشیے کی طرح  ،پتلی سی نالی صحن کے  کنارے ساتھ چلتی ہوئی گھر سے باہر جاتی تھی ۔ نکاسی آب کے عِلاوہ یہ  ہماری گیندیں گیلی کرنے کا کام بھی کرتی تھی۔وسطی کمرے  کی دیوار پر چونا پھیر کر بنائی  گئی وکٹیں ،جِن کے ارد گِرد  گیند کے چھوڑے ہزاروں نشان  کرکٹ سے ہماری  والہانہ محبت  ظاہر کرتے تھے۔ کہتے ہیں گھر میں  توبلی بھی  شیر ہوتی ہے  مگر انگریز نے ہمارے ہی گھر میں  آکر ہمیں پورے سو سال  تک بلی بنائے کمپنی سرکا ر کے تھیلے میں ڈالے رکھا تھا۔آزادی پاِکر اسی بلی نے انگریز کی گرفت میں آتا ہواکرکٹ کا تاج چھین کر اپنے سر سجایا تھا۔ ایک کرکٹ لور کے لئے انگریز کو اِس کھیل میں شکست دینے سے بڑی کوئی   کامیابی نہیں ہوتی۔  یہ حقیقت مُجھ پر تب آشکار ہوئی جب ہم  "ٹیم پاکستان "نے  پیٹرک اینڈ کمپنی کو  پے درپے شکستیں دیں۔اپنے صحن میں ہونے والے اِن کرکٹ میچوں میں ہمارا  جذبہ دیدنی تھا۔اِک دِن تو ٹاس کے دوران  ہی میں نے پیٹرک کے ہاتھ سے عِلامہ اقبال کے عکس  والا سِکہ جھپٹ لیا  ،میں پیٹرک کے ہاتھ سے  یہ سِکہ زمین پرگِرتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔گورا اینڈ کمپنی میری اِس حرکت  پر خاصا حیران ہوئی  ۔ یہ بات اُن کے سمجھنے کی تھی بھی کہاں۔ پی ٹی وی   اور اُس کے ملی نغموں نے  جذبہ حب الوطنی بھر کر ہمیں کُچھ ایسا تیار  کیا تھا جیسے   بکرے کے پیٹ میں چاول ،مصالحے ڈال کر دم پخت  تیار کیا جاتا ہے ۔کرکٹ میں شکستیں سمیٹنے کے بعد ہمیں  "گورا ٹیم " کی طرف سے فٹ بال کا چیلنج دیا گیا ۔ ہم نے  اُس میدان  میں زور تو خوب لگایا مگر پیٹر ک کے اندر تو جیسے کوئی  میراڈونا چھپا ہوا تھا۔ ہمارے   دیسی انگریز کزنز بھی بہت اچھے تھے فٹ بال میں ۔ فُٹ بال میچوں کے دوران  ماحول بہت کشیدہ رہا ۔ مگر اُن سردی کے دِنوں میں بھی دادا ابا صحن میں     کُرسی پر  بیٹھے  کھیل کے ماحول کو کنٹرول میں  رکھتے تھے۔ ہمیں ایسے لگتا تھا جیسے دادا ابا مُخالفین کی طرف داری کررہے ہیں۔ ہمارے دادا ابا خود ایک چمپئین ایتھلیٹ  رہ چکے تھے وہ  ہمیشہ ہمیں سپورٹس مین سپرٹ پیدا کرنے کا درس دیا کرتے تھے۔فٹ بال میں لگاتار چار دن ہارنے کے بعد ہمارے دِل میں اپنے قومی کھیل کی محبت  جاگی اور محبت تو قربانی مانگتی ہی ہے ۔مُخالفین کا گیند پر نشانہ خطا ہوتا اور ہماری ٹانگیں محبت کی سزا پانےکو حاضر ہوتیں۔ اس کے بعد اُن کے مُنہ سے الفاظ نکلتے "اوہ سوری"۔پیڑک  تو یہ لفظ  مُنہ سے ایسے نکالتا  تھا جیسے زخم پر مرہم رکھ رہا ہو۔ خود پر بیتے تجربات بتاتے ہیں کہ انگریز قوم ہزاروں سال پہلے کِسی دُم دار ستارے سے در بدر ہوکر زمین پر اُتری ۔ یہ قوم پورا  دم لگا   زمین والوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتی ہے  کامیاب نہ ہو پائے   تو پسپا ہونے کے لئے  بڑے سحر انگیز انداز میں  "دُمدارچی "زبان کا یہ لفظ بولتی ہے" سوری"۔۔۔


ہمارے گھر پیٹرک کی موجودگی کی خبر آس پاس کی گلیوں تک جاپہنچی تھی  ۔
 دو چار بار ہم پیٹرک کو  پان بوتلوں کے کھوکھے ، یا پھر مسجد کے سامنے نیسیٰ کریانے والے  کی دُکا ن تک لے کر گئے۔ ۔"وٹ اِز یور نیم "۔ہر گُزرنے والے نے تو جیسے یہ سوال اپنی زبان  کی نوک پر تیار کئے بٹھایا ہوتا تھا بس پیڑک کے نظر آنے کی دیر ہوتی۔  وہ بیچارا    کُچھ عرصے  تو شرافت سے  جواب میں اپنا نام بتاتا رہا آخر  تنگ آکر اُسنے  نام  کی بجائےانگریزی میں گالیاں دینا شُروع کر دیں سوال کرنے والا   بیچارا مُنہ  پر مسکراہٹ سجائے اوکے اوکے تھینکیو تھینکیو ہی کرتا  نظر آتا۔ شیطان  کو بھگانے کے لئے  لاحول ولا پڑہا جاتا ہے جبکہ کِسی فیصل آبادی کی زبان بندی درکا ر ہو تو انگریزی کے   چند کلمات  کافی ہوتے ہیں ۔ بسنت  کا تہوار ابھی دور تھا  مگر اکا دُکا پتنگیں اُڑتی نظر آجایا کرتی  تھیں جِنہیں پیڑک بڑے  شوق  سے دیکھتا تھا۔  ہم نے پیڑک کی خاطر پتنگ بازی کے عملی مُظاہرے کا بندوبست کیا۔زِندگی میں پہلی بار بازار سے پتنگ خریدی  اور اُسے اُڑا کر دِکھائی ۔ اِسی دوران ایک لال رنگ کا گُڈا دور سےکٹ کر آتا  ہوانظر آیا میں نے پیڑک کو اُس گُڈے کی طرف متوجہ کیا ۔ پیڑک    مُنڈیر پر اپنا وزن ڈالے باہر گلی میں بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔ اُس نے  لال گُڈے پر نظر ڈالی ، خوشی  کا ِاِظہار کیا اور پھر سے نیچے گلی   کی طرف توجہ مرکوز کرتے ہوئے بولا "وٹ دیز پیپل آر لوکنگ فار؟" میں نے اپنی گُڈی کوکھینچ کر اوپر آسمان کی طرف چڑہایا  اور آگے بڑہ کر گلی میں جھانک کر دیکھا اور  جواب دیا "دئے وانٹ ٹو کیچ دس کائٹ" ۔  مُنہ میں ٹیڑھ لاتے ہوئے مکمل انگریزوں کے انداز میں انگریزی کا   یہ پہلا مکمل  جملہ تھا جو میں نے بولا ہو۔ اپنی اِس کامیابی پر  میں تو   جیسے  پھولے نہ سمایا۔اپنی آٹھ آنے کی گُڈی کا گُڈا بنے میں تو  ہواؤں  میں ہی اُڑنے لگا۔ ہوش تو تب آیا جب  ایک شناسا  آواز کانوں سے ٹکرائی ۔ یہ  مین گیٹ کا چھوٹا دروازہ کھلنے کی آواز تھی۔ پیٹرک صاحب  گُڈا پکڑنے بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔ بس پھِر کیا تھا گھر میں ایمرجنسی لگی۔ فورا سے دوٹیمیں تیار ہوکر  پیڑک کی تلاش میں  دو مختلف  راستوں پر روانہ ہوئیں۔ نڑوالا روڈ پر جناح کالونی مین  گیٹ  سے کُچھ پہلے مجمع نظر  آیا تو ہما ری جان ہی نِکل گئی۔قریب  پہنچنے پر میری آنکھوں نے جو کُچھ دیکھا اُس نے اگلی زِندگی میں  میرے لئے تاریخ کی کِتابیں  سمجھنا بہت آسان  کردیا۔ ایک ہجومتھا۔ پیڑک لال گُڈا ہاتھ میں لئے  فاتحانہ انداز میں اُچھل رہا تھا  ۔ چند ایک لوگ لوٹی ڈور کی لڑیاں بنا بنا کر پیڑک  کی خدمت میں پیش کر رہے تھے۔جنتا پیڑک سےعقیدت مندانہ  انداز میں ایسے مُصافحہ کررہی تھی  جیسے ارادہ ہاتھ مِلانے کانہیں بلکہ بیعت ہونے  کی  نیت کر رکھی ہو۔اُس گوری چمڑی والے  لڑکے کو تو ایسے عِزت دی جا  رہی تھی جیسے وہ سر جیمز لائل کا پوتا ،پڑپوتا ہو۔ وہ تو ہماری سرکار کی "دور اندیشی و دانشمندی" نے بچا لیا  اپنا فیصل آباد۔ورنہ لائل پور کو تو پیڑک لے اُڑا تھا بغاوت کے زور پر۔

یونہی ایک خیال  اُمڈ کر آتا ہے  ،اگر  ایسی بغاوت حقیقت میں  ہو بھی جاتی تو کیا بُرا تھا۔گورا صاحب  اور ہمارے براؤن صاحب  میں ایک فرق تو بحرحال تھا۔ گورا  کم از کم گالی تو انگریزی میں دیتا تھا ۔۔۔۔

جاری ہے 


                                                                                                                                     

15 comments:

  1. بہت اعلیٰ آپ نے درست کہا کہ انگریز گالی تو انگلش میں دیتے تھے آپ کی تحریر واپس اس ماحول میں لے گئی جب مشینوں کا عمل دخل ہماری زندگی میں کم تھا

    ReplyDelete
  2. ایسی خوبصورت یادش بخیر پر تبصرہ کرنا بلاشبہ سورج کو چراغ والا معاملہ ہے. اتنا ہے کہ بہت دنوں بعد کسی بلاگ نے حرف بحرف پڑھنے پر مجبور کیا اور اس کی وجہ شائد تحریر میں کہیں مجھے اپنے ماضی کی جھلک بھی نظر آئی. بلاگ آف دا منتھ... تیسرے حصے کا انتظار رہے گا.

    ReplyDelete
  3. جانے کب ہم ذہنی غلامی سے آزاد ہوں گے بہرحال بہت خوب لکھا آپ نے

    ReplyDelete
  4. ہائے ہائے ہائے . . . . کیا سہانا منظر کھینچا کہ بس . . . سینے میں لگا ٹھاہ کر کے

    ReplyDelete
  5. ایک اتنی خوبصورت تحریر ہے کہ باقاعدہ گهسیٹ کر اس پولوشن فری ماحول میں لے گئ
    ایک لمحے کو لگا پهر سے بچپن والا ماحول لوٹ آیا.
    گورے صاحب کی روداد کا انتظار ہے.
    بہت خوبصورت تحریر
    Aurangzeb , Mahwish

    ReplyDelete
  6. میں نے ایک تبصرہ کیا تھا
    وہ نظر نہیں آرہا
    خیر۔
    عمدہ لکھا ہے
    بلکہ زبردست۔
    اب اس محلے کا نام بھی لکھ دے جہاں تو رہتا تھا
    جناح کالونی کے گیٹ کا ذکر کرکے بہت سی پرانی یادیں تازہ کردیں تونے۔
    اور املا کی طرف دھیان بھی دیا کر
    رعنائی میں الف نہیں ہوتا۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. اُستاد جی اِملا پر توجہ دینا تو بہت ضروری ہے اورمیری بہت بڑی نالائقی میں اکثر غلطیاں کرتا ہوں ۔ رعنائی کا الف میں نے چند گھنٹوں کےبعد ہی ہٹا دیا تھا۔میرا محلہ وہی تھا جِس کے گیٹ تھے اور جِسے آپ بہت سے ناقابلِ اشاعت قِسم کے نام بھی دیتے رہے ہیں۔

      Delete
  7. عمدہ تحریر . تعجب ھے کہ آپ کم.لکھتے ہیں

    ReplyDelete
  8. بہت عمدہ لکها لگ رہا تها کہ کوئی پرانی یادوں کو کهلی آنکھوں سے دیکه رہی ہوں .

    ReplyDelete
  9. بھائی جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنا شہر تو پھر اپنا ہوتا ہے ناں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے وابستہ کہانیاں تو اور مزا دیتی ہیں ، بہر حال بہت ہی خوب لکھا ہے ، بس لکھتے رہا کریں

    ReplyDelete
  10. از احمر

    آپ نے تو ہمارے گھر اور گھرانوں کو نقشہ کھینچ دیا

    ایک مکمل مڈل کلاس گھرانہ

    ReplyDelete
  11. از احمر

    ایک مکمل اورگمشدہ مڈل کلاس گھرانہ

    ہم سب کتنے ایک جیسے تھے

    "نیل کے ساحل سے لے کر تابہ خاک کاشغر" تک نہیں تو کم از کم کراچی سے پنجاب تک

    ReplyDelete
  12. فیصل آباد میں گزاری گرمیوں اورسردیوں کی چھٹیاں یاد آ گئیں یہ پڑھ کر.

    ReplyDelete