Monday, 23 May 2016

خان صاحب

آئیے آئیے خان صاحب کیسے ہیں آپ
ماڑا اب تو ام کو  خان نہ بولا کر۔ امارا نام تو  بدنام کر کے رکھ چھوڑا  تیرے کپتان خان نیازی نے ۔امارے نام کو جو کیا سو کیا قوم کا جینا بی ارام کر چوڑا     
چاردن سکون کی نیند نئیں سونے دیتا،قسم سے سب کے لئے  کالی کھانسی بنا پڑا اے کم بخت ۔
جی خان جی چھوڑئے آپ ،آتے ہی سیاست پر شُروع ہوگئے اپنی سُنائیے؟
 خا ک سناؤں یار، سیاست کی مارا ماری نے کاروبار کا بٹا بٹھا دیا اے، ادھر مر مر دو قدم آگے دھکیلو۔ یہ بندہ خندق کھودے رستہ روکے کڑا اوتا۔ خُدا کی قسم ایسے لیڈر سے تو گدھا اچا ، چھاؤں میں کھڑا کرو تو خود بی سکون کرتا دوجوں کو بھی کرنے دیتا۔ 
تمارے خان کو تو کہیں بس گھاس نظر آنے کی دیر ہے  دُم سے لیپٹ کر سیدھا مُنہ میں ڈالتا اور شوردوسروں پر مچاتا۔
خان صاحب چھوڑئے بھی اس کلموئی سیاست کو  کوئی اور بات کر یں۔
لو اب ماری بات سُننے کی بھی تکلیف ہوتی تُم کو .امارا کاروبار برباد ہوا پڑا اور اب اسے پیٹنے کو پانامہ ڈھول مِل اے ۔اب گلی محلے کرپشن  کرپشن گاتا پھِرتا اے۔
ادر تو بھینس کو دونمبری ٹیکہ نہ لگے اگلی  دودھ نئیں دیتا، بات کرتا کرپشن کی۔ ادر سب مُنہ کھُلے پڑے  بس سائز دیکو اور   ڈالتے جاؤ  ڈالتے جاؤ ، کام اوتا جائے گا۔سب چور اے ادر ، اتساب کرنے کا شوق اے تو سب کے ناڑے میں ہاتھ ڈالو۔ مگر نئیں ایک بندے سے شوق پورا اوتا ان کا ۔ جب سب کرپٹ اے تو سب کو پکڑو۔ نسوار چور سے لے کر ٹینک چور تک سب کو  ۔ 
خانصاحب یہ آج آپ پر سیاست کا بھوت کچی شراب کا سا نشہ بنے  چڑہا پڑا ہے ۔اب بس بھی کردیجئے ، بچوں کی سُنائیے ؟
 ام  نے بس کیا ، حالات کا گُسا تو خیر نکالنا ای تا۔ایک تو سورج نے بی اپنی پراڈکشن بڑھا کے سالانہ  سُپر سیل لگا چوڑی اے ۔ ایک دم سے پارا دس  ڈگری اوپر اور ہماری سیل نیچےسے نیچے۔اماری دال گلنے کو نئی  آرہی  اور اُدر سورج لوہا پگ لاتا پھررہا اے۔ کاروباری رولے  ہیں کے شیطان کی آنت سے لمبے ختم اونے کا نام نئیں لیتے۔
اچھا مُجھے بتائیےاتنی گرمی میں آپ آ کہاں سے رہے ہیں؟
ایک ب  غیرت کو مِلنے گیا تا
خُدا کی قسم وہ ام کو مل جاتا تو آج ام اُس کی  کھوپڑی کی چوٹی  سے گولی اندر کرتا  سارا گند ا خون بائر  آجاتا
کیا ہوگیا خان جی ؟
ارے کُچھ نہ پوچھو بے شرم رشوت مانگتا ہے بلیک میل کرتا ہے
بس ام نے بھی سوچ لیا اے ۔ اُس کو گولی مارے گا اور سب کے سامنے مارے گا ۔ دوزخ کا ٹکٹ اُس کے   ہاتھ میں  تھمائے گا اور خود  پانسی کا پندا   ہار سمج کر پہنے گا۔
اس کے بعد کوئی جرات نہیں کرے گا فراڈ کرنے کی
خان صاحب آج تو لگتا ہے آپ نے چپلی کباب کی جگہ گولہ بارود کباب سے ناشتہ کیا ہے ۔ یہ مشروب  میں تھوڑی اور برف ڈال لیجئے اورغُصہ تھوک دیجئے ، کیوں اپنا خون جلا تے ہیں ۔ یہاں کا تو سارا سسٹم ہی کرپٹ ہے کِس کس کو گولی ماریں گے اور کہاں کہاں گولیاں چلاتے پھِریں گے۔
پر یار پوسٹ کا بی تو  کوئی مقام ، کُچھ رُتبہ ہوتا تھوڑی بہت شرم ہوتی اے ۔کمشنر انکم ٹیکس ہوکر چور بازیاں کرتا ہے بے غیرت  ، سبق سکھاؤں گا اُسے ایسا کہ اس کُرسی پر بیٹھنے سے پہلے ہر اگلا آنے والا دس بار سوچے گا۔
خان صاحب تو پھِر کیوں نہ مل کر ہم  سبق سکھا دیں؟
کس کو؟
سب سے معتبر کُرسی پر سب سے زیادہ بار بیٹھنے والے کو اور پھِر شائد وہی کُچھ ہونے لگے  جیسا  آپ نے کہا
ماڑاااا  ایک بات  بتا تو امارا دوست اے کے امران خان کا؟



Friday, 13 May 2016

ستے پے ستہ


ادویات بچوں کی اور ماچس بندروں کی پہنچ  سے دور رکھنے میں ہی سب کی بھلائی ہوا کرتی ہے۔  ذرا  اپنے  بندر  نما سیاسی زعما پر ہی ایک نظر ڈال دیکھئے جن کے ہاتھ   اک تیلی سی پانامہ بمع  لیک مصالحہ  کیا لگی جھٹ   سے سات سمندروں میں ایسی آگ لگا چھوڑی کہ بھلے چنگے ، جیتے جاگتے کھاتے پیتے وزیر اعظم کو  سات پردوں میں پناہ لینی پڑی۔ اپوزیشن کی حس بندریت کو اس پر بھی سکون نہ ملا اور اس آتش پانامہ  پر سات سوالوں کا تیل چھِڑک ڈالا ۔ سمندر سمندر لگی  پڑی اس آگ کو ست سوالی  تیل سے بھڑکتا دیکھ کر وزیر اعظم بھلا کرتے بھی تو کیا کرتے مجبورا اُنہیں  فیصل آباد کے پرنالے کھولنے پڑے ۔ ایٹمی دھماکوں کی  سی  طاقت  والا بھاری پانی پیتی فیصل آبادی زبانیں جب  چل پڑیں  تو  پھر کِسی اور کی  کُچھ نہیں چلتی  ،بُت بنے  انہی کی سُننا پڑتی ہے ۔ یہ معاملہ اُٹھائے گئے سوالوں کا ہے    اور ظاہر سی بات کہ سوال تو سوال  ہوتا ہے کوئی سٹیل   کا راڈ تو نہیں  کہ فیصل آبادیوں کے ہتھے چڑہے  اور اُن کے انجر پنجر ہل جا نے سے محفوظ رہ جائیں    ۔  اپنے  عابد شیر علی جیسے تو زبان کیا ہاتھوں کے اشاروں سے ہی سوالوں کی پیدائش مشکوک بنا نے میں   قدرت رکھتے ہیں ۔  اللہ ان کے والد کی عُمر دراز کرے  وہ اس فن  کے  بڑے  مشاق ہوا کرتے تھے ۔ بس  اُن کے ہاتھ ہِلنے کی دیر ہوا کرتی  تھی کہ دُشمن    کے   پسینے چھوٹنے لگتے ۔ زبان  سے تو اُن کی  پھول   جھڑنے  کی  بجائے  ہمیشہ بم   ہی پھٹتے  ،  دیکھے اور سُنے جاتے تھے۔ موصوف بخشش میں بھی کُچھ نکالتے تو     دو چار گالیوں کی صورت ہی  نکالتے تھے ۔ لوگ دور دور سے اپنے گُناہ بخشوانے ان  کے ہاں حاضری دیا کرتے تھے ۔ بینظیر بھٹو تو اُن کی  زبانی تیر اندازی    کی زد میں خصوصی طور پر آیا کرتی تھیں دھوبی گھاٹ میں بھرا مجمع    اُن کی لچر بازاری" فصاحت"سے محظوظ ہوا کرتا تھا۔   اس شہر کی   مٹی  خاص ہے بلکہ  کُچھ ہٹ کے خاص  ۔ذرا  سی نم   کئے اس مٹی سے ادیب بھی بنا یا جائے تو  اُس کا لکھا ادب نہیں رہتا ، با ادب   باملاحظہ " ہوشیاری" قِسم کا  ملغوبہ بن جایا کرتا ہے ۔

میاں صاحب کی قِسمت اولاد کی طرف سے ماڑی ہی  رہی ۔  ان بچوں نے  سیاسی پانیوں میں  ٹاپ بلکہ ٹاپ  وٹاپ  جاتی اپنےشریف  النفس باپ  کی کشتی بیچ بھنور کے پھنسا چھوڑی ہے ۔  وہ  شخص جِسے سات مُلکوں کی عدلیہ ہاتھ نہ لگا سکی ہو جِس کی حقیقی زندگی سے چُرا کر فلمی ڈائلاگ   سُپر ہٹ ہوتے  رہے ہوں۔

 اصل " میاں کو پکڑنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے "

چوری  شُدہ "ڈان کو پکڑنا  مُشکل ہی نہیں نا ممکن ہے

وہ جِس  نے سات بار   کی کاروباری تباہی   کو اگلے سات سالوں میں پھر سے  سات براعظموں    کا جگ مگ چمکتا ستارہ  بنا  کر دُنیا کو دکھایا  ہو ۔ وہ شخص آج  اپنی شرافت  و شفافیت کی انتہا دکھانے کا   کھُل کر فیصلہ کرنے  کی بجائے  فیصل آبادیوں سےرجوع  کرنے کو مجبور ہوا پڑ ا ہے ۔   ایسی  نالائق اولاد  سے تو نہ ہوتی بھلی تھی   کہ جِس نے اُسے سات ناموں کی چھوٹی سی اپوزیشن کے گلے پڑوا دیا۔   ست رنگی گِرگٹ صفت مولوی  کو  آج اپنے باپ کا امام  بنوا دیا ۔ سات بزرگوں کی کمائی گئ نیک نامی اور سات سو صندوقوں کی دولت کو زمین کی سات تہوں نیچے کی بدنامی کے  خطرات  کا گھیراؤ کروا دیا۔ سات نسلوں تک راج  پاٹ چلانے کا خواب دیکھتی چارپائی کی چولیں ہلا  کر رکھ دیں   ۔ اب  تو  نوبت   یہاں تک آپہنچی  کہ ست سلام کرتی رعایا بھولے بھالے سے میاں صاحب کو دور بہت دور ساتویں آسمان پر  پھینکنے کی باتیں کرنے لگی ہے ۔  ایسے حقیقی کرداروں کو دیکھ کر ہی فِلمی ڈائلاگز بنتے اورزبان زدِ عام ہوا کرتے ہیں "سالی گندی اولاد مزانہ سواد"