Sunday, 10 November 2013

سبز باغ کی سبزی

دو گھنٹوں سے جاری  کامیاب مذاق رات اپنے  آخری مرحلے میں داخل ہو چُکے تھے۔ حکیم اللہ محسود اپنے لاڈلے جرمن شیفرڈ کے بالوں میں پیار سے  ہاتھ پھیرتے ہوئے مُشترکہ اعلامیہ  پر دستخط  کرنے ہی  کو تھاکہ دڑ  ۔۔دڈ۔ دڑ۔دڑ۔ ڈرون طیارے کی آواز نے سب  تلپٹ کرڈالا  ۔مگر  اگلا منظر  ڈرون سے زیادہ ڈرونا  تھا،غضبناک ہوتی ہوئی بیگم میرے سر پر کھڑی تھی ۔ گھبراہٹ میں آنکھیں ملنے کی بجائے بےاختیار میرے مُنہ سے نِکلا "بیگم اِتحاد ہوگیا"۔ میں متوقع حملے سے پہلے خو د کو لحاف کی پناہ میں دے چُکا تھا۔ "ارے او اِتحاد بین الپارٹیز کےٹھیکیدار کُچھ گھر والوں کی  فِکر بھی ہے ،کھِڑکی کے ٹوٹے  شیشے سے آتی ٹھنڈی ہو ا میں بچے ساری رات ٹھٹھرتے رہے مگر تُم دِن  کے گیار ہ  بجے  خراٹے لیتے  ہمسائیوں کے کتے کی نیند بھی حرام کئے ہوئے ہو۔"  تاریخی واقعات و القابات سے لیس  بیگم کا  خِطاب کوئی سو اگیارہ مِنٹ تک جاری رہا ۔جِس کی تفصیل عام کرنا ہر گِز ہر گِز مُلکی مفاد میں نہیں۔ چند سیکنڈکی خاموشی کے بعد  بیگم کی آواز پھِر سے گونجی "پندرہ مِنٹ سے سبزی والا  گلا پھاڑ پھاڑ ہلکان ہو رہا ہے مگر تُمہیں  اپنی سیاست کے سوا کاہے کی ہوش " میں نے جھلا کر لحاف  پرے  پھینکتے ہوئے  کہا "پَچھلے تیرہ مِنٹ  سے تو میں تُمہارے تابڑ توڑ حملوں سے بچ رہا  ہوں اب تُمہاری طرف سے جنگ بندی ہوتو   آگے کے لائحہ عمل بھی تیار کیا جائے "۔میں نے سلیپر پہنے اور  سبزی لینے چل پڑا۔


سبزی والا   سائیکل کی کاٹھی پر بیٹھا پیڈل مارنے ہی کو تھا  کہ اُسے روکتے ہوئے میں نے پوچھا ۔ "ہاں بھئی  یہ مٹر کِس طرح لگائے ہیں  ؟"180 روپے کِلو جی " وہ  سائیکل  سے اُترتے ہوئے بولا۔   میں نے اپنا غُصہ سبزی فروش پر نِکالتے  ہوئے   اللہ کے غضب  کو اُسی کے مخصوص کر دیا۔ اُس نے جھٹ سے  عُذر پیش کیا  "بس کیا  کریں جی، پٹرول ہی بہت مہنگا  ہوگیا ہے جی"۔ میں نے اُس کی  پھٹیچر سائیکلی پر نظریں گاڑتے ہوئے کہا"یہ مِرزا دور کی سایئکل میں بھلا تُم پٹرول ڈالتے کہاں سے ہو"۔  وہ بھی ڈیل کارنیگی کا شاگرد   نِکلا کہنے لگا کہ پٹرول تو اب ہماری قوم کی رگوں میں دوڑتا ہے  صاحب ۔ بس  تھوڑی سی تپش مِلنے کی دیر ہے بندہ آگ کا گولا  بن جاتا ہے ۔ میں نے اُسکے جواب کو نظر انداز کرتے ہوئے ۔ ٹماٹروں کا ریٹ پوچھا  تو جواب مِلا 160 روپے  کِلو ۔  میں نےایک دو ٹماٹر اُٹھا  کر دیکھے "ارے یہ گلے سڑے ٹماٹر  تو کِسی کو مارتے ہوئے بھی شرم آئے" اُس نے جواب دئے بغیر کندھے  میں لٹکتے  تھیلے میں سے چمکتا ہو ا ٹماٹر نِکال کر اپنی ران پر کُچھ ایسے رگڑا کہ مُجھے خانصاحب کی  جوانی یاد آگئی ۔جب وہ  نئی گیند  ران  پررگڑتے   میچ کا  اپنا پہلا سپیل پھینکتے تھے اور  ہمارے کانوں میں اِفتخار احمد کی آواز  رس گھولتی تھی۔ "عِمران ٹو گواسکر  اینڈ  ہی بولڈ ہیِم""220 روپے کِلو جی " کم بخت کی بھدی آواز نے میری سُنہری   یادوں کی بنتی ڈوری کو مکڑی کے جال  کی طرح بِنا احساس کئے توڑ ڈالا۔ میں نے خشمگیں نظروں سے سبزی فروش کو دیکھا اور سائیکل کے  کیرئیر پر پڑی ٹوکری سے ہوا مُنقطع تعلق پھِر سے باندھا ۔ "یار یہ  سُرخی پاؤڈر لگائے کشمیری ناری کی طرح چمکتی سبزی کا کیا   ریٹ ہے  ؟"۔ وہ اپنا مُنہ میرے کان کے قریب لاتے ہوئے بڑے  رازدارنہ اندازمیں بولا " 106 روپے ٍ12پیسے "۔ میں نے حیرت سے پوچھا "بھائی یہ   سبزی کا ریٹ  بتا رہے ہو  کہ ڈالر کا ؟" اُس  کے مُنہ میں بھی جیسے  جواب تیار تھا نِکلنے کو" باؤ جی یہ سبزی کھانے والا ڈالروں میں ہی کھیلتا ہے۔ میں نےسپن باؤلر کی طرح ہاتھ میں شلجم گھُماتے ہوئے جواب دیا" میاں  ہمارا  بھلا فارن کرنسی سے کیا  لینا دینا  ڈالروں میں  تو   بس تُمہارے یہ گونگلوہی  کھیلتے ہیں" اب کی بار اُس نے جواب میں گُلزار کی شاعری کا سہارا لیا۔

ہم نے دیکھی ہے اِن آنکھوں میں شلجموں کی مہکتی خوشبو

ہاتھ سے چھوکے اِنہیں رِشتوں کا اِلزام  نہ دو

شلجم کو شلجم ہی رہنے دو سیاست کا نامِ بدنام نہ دو

اُس کے جواب  کی  داد دئے بغیر میں رہ نہ سکا، مگر وہ اپنی سائیکل پر سوار ہوچُکا تھا۔  میں نے  اُسے پھِر سے روکتے ہوئے  آلو پیاز کے ریٹ   بھی پوچھ لئے ۔ وہ میری ہتھیلی پر دو ہری مرچیں پکڑاتے ہوئے بولا " باؤ جی بُرا مت منانا  آپ اور میرے جیسے مُنہ رکھنے والوں کے لئے جو دال والا  مُحاورہ  بنا ہوا ہے نہ اُس میں اب آلو اور پیاز کا  اِضافہ بھی ہو چُکا ہے ۔ آپ اِن مرچوں  کی چٹنی پر ہی گُزارا کرو جی "۔سبزی والا اپنی چاں چوں کرتی سائیکل پر  اگلی منزل کو چل دیا اور میں  ہتھیلی پر دو  ہری مرچیں سجائےسوچنے لگا کہ ہمارے آج کے حُکمران اپنے ہزاروں مربع میل پر پھیلے سبز باغ میں ہمارے لئے آلو مٹر ٹماٹر بھلے ہی نہ لگائیں  مگر اپنے سیاسی مُرشد کی یاد میں کم ازکم گنڈے (پیاز) تو گڈ لیں۔۔  

8 comments:

  1. الفاظ، مناظر اور جزئیات و واقعات قابلِ تعریف ہیں۔ اب غریب شریفوں کیلئے گنڈے اور غنڈے کا فرق مٹ چکا ہے۔
    لیکن،
    بناء سبزی کے واپس لوٹنا ایک مزید ڈرون حملے جیسا خطرناک تو نہیں ثابت ہوا؟

    ReplyDelete
  2. دیکھیں ناں جی۔ غیر سیاسی حالات کو پکڑ دھکڑ کے آپ پھر سیاست کی طرف لے آئے ناں۔ خیر! گنڈے تو گنڈے ہوتے ہیں۔

    ReplyDelete
  3. eik pal k liey aisa laga jaisey iss tehrir k ikhtitaam per likha zarur hoo ga " Allah aap ko aassaania ata farmaye aor aassaania taqseem karnry ka sharf ataa farmaye "

    ReplyDelete
  4. شوق سے بچے پیدا کرنے والوں کے لیئے یہ مشورہ مناسب ہو سکتا ہے بجائے حکومت کے

    ReplyDelete
  5. کھِڑکی کے ٹوٹے شیشے سے آتی ٹھنڈی ہو ا میں بچے ساری رات ٹھٹھرتے رہے مگر تُم دِن کے گیار ہ بجے خراٹے لیتے ہمسائیوں کے کتے کی نیند بھی حرام کئے ہوئے ہو۔
    بہت خوب ۔۔۔

    ReplyDelete