Wednesday, 22 October 2014

مون سون سٹوڈیو

ترتیب کی لڑی میں اِک سلیقےسے پرویا اُنتیس تیس دِنوں بعد آسمان پر جو جلوہ افروز ہوتا ہے وہ مون کہلاتا ہے اور اُس بے اصولے، من موجی، سال بعد آنے والے گھن چکرکو مون سون کہتے ہیں ۔ مئی جون کی تھپیڑے مارتی ہوئی گردن توڑ گرمی سے بے حال اللہ کی مخلوق ہاتھ اُٹھائے رب سے اُسے  ہی مانگتی ہے ۔ ساون کے آغاز پر جنگل کا مور اور اِنسانی دِل ایک ہی سا ناچتے ہیں ۔ مکیش کا  گانا اِسی کی عکاسی کرتاہے ۔
ساون کا مہینہ پون کرے سور
جیا رارا جھومے ایسے
جیسے بن ما (جنگل میں) ناچے مور
موت کے سرد غُبارے میں بھری حرارت کام نام زندگی ہے ۔حیات  حرارت میں ہےاور حرارت حرکت کی مرہون۔ ٹھنڈے سمندر سے ہوائیں زِندگی کی تلاش میں  خُشکی کا رُخ کرتی ہیں۔ ہندوستان کے بادشاہوں کی طرح بحرہند بھی دِل کا شہنشاہ ہوتا ہے  ۔اپنے سینے پر آوارہ پھرتی ،دِل کی  اس رانی  
  کو بہت کُچھ دے دِلا کر رُخصت کرتا ہے۔


بحرِ ہند سے ہوائیں خُشکی کارُخ دوحِصوں میں کرتی  ہے ۔ ایک حِصے کو ویسٹرن آرم اور دوسرے
 کو ایسٹرن آرم کہتے ہیں۔  مغربی گھاٹ کا پہاڑی سلسلہ  کوچی، منگلور پانا جی ، گوا سے  لیکر ممبئی تک کے ساحلی علاقے مون سون کی ہواؤں سے خوب نہاتے ہیں۔ مون سون ہواؤں کا ایسٹرن آرم "گنگا کے جبڑے " (ماوتھ آف گینجز) کے راستے خُشکی  سے ٹکراتا ہے ۔ یہ ماؤتھ آف گینجز بھی قدرت کا کمال کرشمہ ہے۔ گنگا(پدما)  اورآسا  م کی پہاڑیوں سے آتے دریائے برہم پترا(بنگالی جمنا) بنگلہ دیش کے مقام راج باڑی   پر آپس  میں مِلتے ہیں  اوران گِنت ندی نالے بناتے ہوئے پاپیوں کے پاپ  سمند ر کے  حوالے کردیتے ہیں۔


بنگال اوربھارت کے شمال مشرقی عِلاقوں   کے رستے  یہ مون سون ہوائیں ہمالیہ سلسلے سے ٹکراتی ہوئی   پیارے پاکستان کو رُخ کرتی ہیں ۔باقی سب دعوے کرتے ہیں ،حقیقت میں آسمان سے باتیں صِرف ہمالیائی پہاڑ ہی کرتےہیں ۔ یہ  پہاڑ ہماری زِندگیوں میں سب سے زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں  ۔پل بھر کو اپنی  دُنیا  اِن پہاڑوں بِنا تصورکیجئے،  خشک گرمیاں  اور پھرِ میٹھے آم ہی نہیں کانوں میں رس گھولتی میٹھی  سرائیکی  زبان بھی سُننے  کو  نصیب نہ ہوتی ۔ پانی کی بوند بوند  کو ترستے گرما کے بعد جب سائبیرئین  ہوائیں  سردیوں میں ملتان کا درجہ حرارت منفی 20 تک لے جاتیں تو کدھر بچتی میٹھی  زبان  بولنے  والی    ملتانی"شریف" مخلوق۔

مون سون سسٹم دُنیا کی ساٹھ فیصد آبادی پر اثر اندازہوتا ہے ۔اِس کے  میکانزم  کو سمجھنے کے لئے  محض سمندر سے خُشکی اور سردیوں میں اِس کے برعکس چلتی ہواؤں کی ٹریڈشنل تھیوری ناکافی ہے ۔زمین کا درجہ حرارت ہرجگہ یکساں نہیں ہوتاہےاور اِسی سبب  ہوا کا دباؤ بھی  متغیر ۔ جِس کے باعث تجارتی ہواؤں کو  تقویت مِلتی ہے۔خط استوا پر سورج کی شُعاعیں سیدھی پڑتی ہیں ۔زمین کے  اِستوائی  خط  پر سور ج کی سالانہ شِفٹ  کی وجہ سے"    اِنٹر کنورجنس زون"(آئی ٹی سی زیڈ)  ( ہوا کے کم دباؤ کی پٹی  جو کہ خط استوا کے ساتھ ساتھ  زمین کو لپیٹے ہوئی  ہے جہاں شمالی کرے اور جنوبی کرے کی تجارتی ہوائیں  آپس میں ملتی ہیں )بھی  سورج کے ساتھ   شمال اور پھِر  جنوب کی طرف حرکت کرتا ہے۔"ڈائنامک تھیوری آف مون سون"   کی رو  سے  آئی ٹی سی زیڈمئی سے جون تک  شمال کی طرف حرکت کرتا ہے ۔آئی ٹی سی زیڈ کی یہ   شِفٹ  مون سون کی شِدت  اور وقت کا تعین کرتی ہے ۔
  
ہمارے ہاں جب  مون سون  کی یہ   بدلیاں پہنچتی ہیں تو  پیلائی ہوئی رُت کو ہریالی سے بدل دیتی ہیں ۔  مگر یہ بے لگام مون سون مستی پر اُتر آئے تو ہمارے  دریاؤں کو باغی بنا دیتی ہے اور پھِر   انگریزی کا سیل اور اردو کا آب   مل کر  بنتا ہے سیلاب ۔ پانی کی لوٹ سیل  ہی تو ہے  سیلاب ۔ پانی لُٹاتا ہے  غریب لُٹتا ہے ،اپنے گھر بار ڈھور ڈنگر سے ۔  غریب کے ڈنگر گوبھر کے مول  خریدنے والا کوئی  اور نہیں  عِلاقے کا چوہدری  یا وڈیرہ ہوتا ہے۔ سیلابی پانی نے بھی شائد بڑے زمینداروں کے ساتھ  کوئی  مُک مُکا  کر رکھا ہے ۔ یہ پانی زمین کو سونا اُگلنے کی  شکتی دیتا ہوا واپس ہولیتا  ۔مگر غریب کے گھر کی چوکھٹ سالوں تک سیدھی نہیں ہوپاتی ۔

 کہتے ہیں پانی دولت ہے بہت بڑی دولت، شائد اِسی لئے سیانے انگریز نے دریا کنارے کو بنک آف ریور کا نام  دے رکھا ہے  ۔ اللہ جانے  ہمارے دیس میں نا اِتفاقی کی آگ کِس نے لگائی۔مگر بدبختی  کے عِلاوہ اِسے کیا  نا م دیا جائے کہ  ان دریاؤں کے پانی کو"  بنک آف پنجاب "کا  ٹھپہ لگائے      ہر سال ہم یہ دولت سمندر کی سپردگی میں دئیے جاتے ہیں۔

بچپن میں جب ہم یار دوست  ملکر کوئی شرارت  کیا کرتے تھے تو بڑے  بزرگ ہماری  سرزنش  ان الفاظ میں کرتے  تھے۔"پُتر کیڑہے سکولے پڑہدے او؟؟" یہ  طنزیہ سوال ہمیں  ایسےچُبھتا تھا جیسے سینڈل   کا بکل  ٹخنے میں  ۔  ہمارے سیاست دانوں کی حرکتیں دیکھ    کر وہ سکول والا سوال نہیں بلکہ  جھٹ سے جواب  ذہن میں آتا ہے کہ  یہ لوگ  یقینا ً     کِسی  فِلم سٹوڈیو  سے "تعلیم یافتہ" ہیں۔ اِن مون سون کی بارشوں سے ہی اندازہ لگا لیجئے اِدھر    بارشوں نے  سین بنایا  اُدھر  لمبے لمبے  بوٹ   پہنے سڑکوں پر لوکیشن اور سین کے انتخاب کا آغاز  ہوجاتا ہے ۔  اب  تو بارش کے بعد مینڈکو ں کی ٹر ٹر  کم  ریڈی سٹارٹ ایکشن کی آوازیں زیادہ آتی ہیں۔


لڑکپن کا دور تھا   جب   ایس ٹی این ٹی وی چینل   لانچ ہوا  تو ہمیں پی ٹی وی  کی جبری "قید  بینائی" سے رہائی   مِلی   تھی ۔ایس ٹی این خبریں  نشر  کرنے  کا اختیار تو نہ رکھتا تھا مگر اُن دنوں بانوے کے سیلاب پر بنی  شاہکار فلم  سرکاری  چینل کے ساتھ  ساتھ  ایس ٹی این  پر بھی  اِس  تواتر سے دِکھائی گئی کہ ہر  پاکستانی کو حفظ ہوگئی تھی۔ ڈوبے دیہات میں غریبوں  کے گھروں تک پہنچتا ہوا ، غریب بُڈھے  کو اپنی واسکٹ  پہناتا ہوا  ، بوڑھی عورت سے دُعائیں لیتا  ہواہیرو" ہیرے" کی طرح ہِٹ  ہوا۔   مون سون سٹوڈیو میں بننے والی یہ   فِلم  بلاک بسٹر ثابت ہوئی تھی۔ بڑی سے بڑی ہِٹ فلم  بھی  پلاٹینم جوبلی   کے بعد  شہری سینماؤں سے اُتر کر  چھوٹے  قصبوں دیہاتوں  کے تھکڑ  ،بے چھتے سینماؤں  میں اپنی آخری سانسیں لیتی ہیں۔اب تو  زمانہ بھی  پلٹی کھا چُکا ہے ۔   ہلکی آنچ پر پکائے پکوان کھانے والےپرانے فِلمی ہیرو طرزسیاستدانوں  کو جان  لینا چاہئے کہ    مارشلائی  دور  کے دُکھڑے سنا کر   رام کرنے  کا دور بیت چُکا   ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ  " بلو ٹھمکا لگاذرا لک نوں ہِلا  " کے اِس دور میں جمہویت کے فیض کو ترستی ، ہوا کے گھوڑوں پر سوارنئی نسل ایک"   اینگری ینگ مین" کردار کی طرف  متوجہ نظر آتی ہے۔ 

Thursday, 14 August 2014

سیاسی مِکس چاٹ

1
وزیر اعظم میاں نواز شریف نے رندھی ہوئ آواز میں کہا میرےعزیز ہم وطنو میں نے استعفی دینے کا فیصلہ کر لیا ہے. معصوم چہرےپر چھائے کرب کو ہر دیکھنے والے نے محسوس کیا. میری والدہ رونے لگیں والد صاحب کا پارا یک دم آسمان کو چھونے لگا میری آنکھوں میں بھی آنسو تہر رہے تھے. ٹیوی سکرین میں کھبا ہوا ربو مسلی جو دروازے کے ساتھ لگا کھڑا تھا اس کے چہرے پر خوشی کے تاثرات دیکھے تو میرے جسم میں تو جیسے آگ لگ گئی. یہ بات انیس سو ترانوے کی ہے. اس وقت میں ووٹ دینے کا اہل نہ تھا مگر میاں صاحب کے لئے دل میں شدید محبت رکھتا تھا
آج پھر میاں صاحب تقریر کرنے کو ہیں مگر وہ آج استعفی دے بھی دیں تو مجھے ذرہ برابر بھی افسوس نہ ہو گا. میاں صاحب کے ساتھ آج بھی وہی ماضی والا ظلم ہونے کو ہے مگر آج میں ان کے ساتھ نہیں ہوں اور نہ ہی جمہوریت کے بچھوڑے کا تصور مجھے کھائے جا رہا ہے.
ماضی کے تجربات پر جب میں نظر ڈالتا ہوں تو مجھے ترانوے میں میاں صاحب ملک اور جمہوریت کےعلمبردار نظر آتےتھے. مگر چھیانوے میں میرا ماتھا ٹھنکا جب انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو پنجاب کا مختار کل بنا دیا. آج تو میں لاکھ کوشش بھی کر لوں میاں صاحب کے حق میں ایک لفظ بھی نہیں کہ پاؤں گا. میں مریم نواز شریف اور حمزہ شہباز شریف کو ملوک جمہوریت کا ولی عہد ہونے کے سوا کچھ بھی نہیں دیکھ پاتا.

 2

جمہوریت کے ساتھ ضیا صاحب نے جو کیا سو کیا مگر بینظیر بھٹو کی پاکستان آمد نے عوامی جذبہ جنوں پھِر سے بیدار کر دیا۔ وہ سالوں کی جلاوطنی کے بعد پاکستان آئیں اور جمہوری سیاست میں ایک نئی روح پھونکتے ہوئے مُلک کی پہلی خاتون وزیر اعظم بن گئیں اُس الیکشن کا ٹرن آؤٹ 43 ٪ رہا تھا۔ عورت کی حکومت سےاِسلام کو شدید خطرات لاحق ہوگئے دو سالوں میں حکومت گِرا دی گئی اورووٹ ڈالنے فرشتے بھی میدان میں آئے اور ۔ ووٹنگ ٹرن آؤٹ 44٪ تک چلا گیا۔ اِس کےبعد ترانوے اور ستانوے کے الیکشن میں ووٹنگ ٹرن آؤٹ باِلترتیب 40٪ اور 36٪ پر آگیا ۔ گویا جمہوریت سے محبت میں عوامی جوش میں کمی آنے لگی۔ اللہ خوش رکھے مشرف صاحب کو جن کی جمہوریت کے لئے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی جن کی بدولت عوام پھر سے جمہوریت کی اہمیت کو حقیقی معنوں میں جان پائے۔ 2008 میں ووٹنگ ٹرن آؤٹ 44 پرسنٹ پر پھِر سے آگیا۔

مگر دو ہزار تیرہ میں تبدیلی کا نعرہ سمندری لہروں پر بیٹھا تو جمہوری سیاست کا نقشہ ہی بدل گیا ووٹنگ ٹرن آؤٹ 55 ٪ سے بھی اوپر چلا گیا۔ جمہوری انقلاب کی نشانیاں ظاہر ہونے لگیں ۔ یہ گیارہ پرسنٹ ووٹر کہاں سے آیا ؟؟ یقینا یہ فرشتے نہیں تھے یہ لوگ مُلک کی برگری کلاس ہے یا پھِر وہ لوگ جِن کا سیاست سے کوئی لینا دینا ہی کبھی نہیں رہا۔ الیکشن دوہزاز تیرہ میں لائین میں لگے اٹھاون سالہ ووٹر نے مُجھے  بتایا تھا  کہ وہ اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ آج کے دن  ووٹ ڈالنے نِکلا ہے۔ 

ہم لوگ تو دھاندلیوں اور ڈرامے بازیوں کے عادی ہوچُکے ہیں دھاندلی ہوتی ہے اور ہر بار بڑی مہارت سےہوتی ہے۔ مگر ہماری سیاست میں شامل ہوئی یہ نئی  کلاس ہی زیادہ مضطرب نظر آتی ہے لمبی لائنوں میں لگے گھنٹوں کی خواری کاٹ کر ووٹ ڈالنے والے آج اپنے ووٹ کا حساب مانگتے ہیں ۔ 

ہماری سیاست میں میچورٹی  ابھی نہیں آئی ہے اور ناں ہی ہمارے سیاست دان اِتنے وثنری ہوئے  کہ بدلے ہوئے زمانے کا ادراک کر سکیں ۔ بیسویں ترمیم کرنے والے سینئیر سیاست دانوں نے الیکشن کو قابل قبول بنانے کے لئے اپنے تئیں اچھا قدم اُتھایا مگر میرے خیال میں وہ نیک نیتی پر مبنی نہیں تھا۔ زمانہ بہت آگے چلا گیا ہے آج  اٹھارہ سال کابچہ بہت سے سوال کرتا ہے اور فوری جواب مانگتا ہے۔ اُسے جمہوی تسلسل اور ٹرم پوری کرنے کا لالی پاپ دیکر سُلایا نہیں جاسکتا۔جب ان الیکشن میں پہلی بار نادرہ کارڈ اِستعمال کئے گئے اور الیکشن سے پہلے میگنیٹک انک کے ذریعے ہر ووٹ کا ریکارڈ رکھنے کی نوید سُنائی گئی تو مانگنے والے اپنا حساب مانگنے میں حق بجانب ہیں۔ آئین یا قانون کےپیچھے چھُپنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ آئیں اور قانون میں درج بہت کچھ اِس قوم کو نہیں مِل رہا مگر یہی آئین بڑےکرداروں کے لئے جمہوری روایات کی دھجیاں اُڑانے پر مکمل خاموش ۔ ذِمہ دار کون؟؟؟میرے خیال میں تو ہماری سیاست کےوہی تجربہ کار لوگ جو اپنے سوئس اکاؤنٹس کو بچانے کے لئے پانچ سال جنگ لڑتے نظر آئے اور وہ جو تیسری بار خوبصورت شیروانی پہننے کی خاطر دینے دلانے میں بہت آگے تک نِکل گئے۔
 4
حکمران نیک ہو تو شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے ہیں،اگر شریف ہو تو انقلاب اور تبدیلی ایک ساتھ مارچ کرتے ہیں.
 5
آج باہر سے آئے ایک مہمان کو ہسپتال لیکر جانا پڑا پولیو کا قطرہ پلوانے واسطے. اب ایسی ایمبیرسنگ سچویشن کو بندہ کیا کہے؟ قطرہ قطرہ بنا شرم کا سمندر
 6
اس نے کہا بہت خطرہ ہے
میں نے کہا ابے کس کو خطرہ ہے
بولا ہماری جمہوریت کو جی 
میں کچھ نہ بولا بس سوچنے لگا وہ جو ہمارے ہاں ہے وہ جمہوریت ہے یا بذات خود ایک خطرہ.

 7
استعفی چیز کیا ہے آپ میری حکومت لیجئے
بس ایک بار آئین کا کہا مان لیجئے
اس ڈی چوک میں آپ کو آنا ہے بار بار
دیوار و در کو غور سے پہچان لیجئے
مانا کہ ہم کو تو نہیں جمہوریت کا پاس 
لیکن یہ کیا کہ فوج کا احسان لیجئے
استعفی چیز کیا ہے آپ میری حکومت لیجئے
بس ایک بار آئین کا کہا مان لیجئے
میاں محمد نواز شریف


Monday, 28 July 2014

آج تو میرا روزہ ہے

تیزی سے رقص کرتی ہوئی اُنگلیاں رُکیں ،ہتھیلیاں کی بورڈ  پر ایسے گِریں جیسے تھک ٹوٹ 

کر جِسم بستر پر گِرتا ہے۔اُس نے کُرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے جسم  کوڈھیلا چھوڑ دیا۔ چند 

سیکنڈز بعد  بند آنکھیں کھولتے ہوئے  اپنی میز کے دائیں کونے کو چھوتے ستون پر لگی گھڑی 

پر نظر ڈالی ۔دونوں سوئیاں اُفقی سیدھ پر،جیسے ہشاش بشاش سپاہی کھڑاک سے سلیوٹ مارنے 

کو ہو۔ شام کے چھے بج گئے ،یہ سوچ کر اُس کے کندھے مزید ڈھلک گئے۔ کرسی کو پیچھے 

دھکیل  کر اُسنے کھڑکی کی بلائنڈز اُٹھائیں مارگلہ کی پہاڑیوں پر نئے نکور سبز کپڑے پہنے  

ہوئے درختوں سے سورج سرگوشی کرتا نظر آیا۔ گیت گاتے رقص کرتے ہوئے یہ 

پیڑبھی  اُس کے لبوں پر مُسکراہٹ نہ لا سکے۔اِس ہوا بند ہا ل  میں درختوں کے  گیتوں 

کے میٹھے بول اندر آ بھی تو نہ سکتے تھے اور پھِر اُسکا تھکا ہوا ذہن کل کی پریزنٹیشن میں گُم تھا 

۔ اُس نے ہال میں نظر دوڑائی تمام ورک سٹیشن خالی تھے ،مگر آخری کُرسی پر بیٹھی شگفتہ پر 

نظر پڑتے ہی اُسکا چہرہ کھِل اُٹھا۔گھریلو سی  لڑکی کی طرح  اپنے بالوں کو  ماتھے  تک دوپٹے 

میں چھُپائے   ،نظریں نیچی جیسے پیر سے ملے پیر  کے بِنا پالش ناخنوں پر جمی  ہوں۔ ایک ہاتھ 

میں موبائل  دوسرے  ہاتھ کی مُٹھی نیم  بند جیسے  اُنگلیوں پر کوئی وظیفہ کر رہی ہو۔ اُسکے 

معصوم چہرے پر بڑی بڑ ی آنکھیں غضب ڈھانے کو  کافی تھیں ۔ "آپ  ابھی گئی نہیں"؟   

یہ سوال سُن کر شگفتہ چونکی  اور گھبراہٹ پر قابو پاتے  ہوئے بولی "جی ابو کا اِنتظار کر رہی 

ہوں  آج کُچھ لیٹ ہوگئے ہیں سات بجے تک  آئیں گے"۔ وہ لمبے ڈگ بھرتا ہوا شگفتہ 

کے  پاس  آپہنچا ۔  پِچھلے تین دِنوں سے وہ    شگفتہ سے بات کرنے کا موقع  ڈھونڈ رہا تھا ۔ 


بہار کی  تازہ کلی  جیسی شگفتہ کو اپنا پہلا آفس جوائین کئےہوئے 

آج تیسرا  دِن ہی توتھا۔ وہ  آفس  میں کھِلی اِس نئی کلی کا ایسے انٹرویو  لینے لگا جیسے  کسی 

میٹری مونیل سائٹ میں اشتہار لگاناہو۔یہ  کام بھی تو ضروری تھا اگلے دن اپنے کولیگز پر رعب 

جھاڑنے کو مال مصالحہ بھی توچاہئے تھا۔دِلپشوری  کے کھیل کا  ایک الگ سا  ہی سواد  ہوتا 

ہے ۔ یہ کھیل بھی ٹیم ورک  سے کھیلا جاتا ہے   ، آپس میں لمبے پاس دیکر بڑی محنت سے 

پوزیشن بنائی جاتی ہے مگر  فتح   کا جشن بس گول   کرنے والا  ہی مناتا ہے  ۔چند  مِنٹو ں 

کے انٹرویو  سے اُسے مخالف  کھلاڑی کی کمزویوں اور خوبیوں کا اچھا خاصا مواد مِل گیا ۔ ایک 

ماہر کھلاڑی  کی طرح مُخالف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالےوہ اپنے کھیل  کے 

جوہر دِکھانے لگا۔ قائد اعظم یونیورسٹی کا ایم بی اے ، اِسلامک سے ایم ایس اور پھر تین 

 پرومشنز  کے ساتھ آٹھ سالہ   شاندار جاب ایکسپرئنس  ۔ یہ سب کُچھ گِناتے ہوئے اُس 

 نے شگفتہ کو ہر مُمکن تعاون  کی یقین دہانی بھی کرا ڈالی۔اُسکی طرف سے شیریں جملوں 

کے  لچھے دار حملے    اجنبیتکے حفاظتی خو ل  پرہونے لگے ۔لڑکی کا حفاظتی خو ل 

توڑنا ہی  تو اصل کمال ہوتا ہے اور اِس کام میں نعیم کالج لائف سے بڑا فنکار  مانا جاتا تھا۔ اپنے 

 پہلے شو  کی کامیابی کے  احساس سے اُس کے چہرے پر طمانیت نظر آنے لگی۔اِسی دوران 

اُس نے شگفتہکو چائے پکوڑوں کی آفر بھی کر ڈالی ۔مگر اگلے ہی  لمحے وہ سر جھٹکتا ہوا فورا  

سے اپنی آستینیں چڑہانے لگا ۔ عصر کی  نماز کےچھُٹنے کا سوچ کر چہرے پر طمانیت کی جگہ پشیمانی 

کےتاثراتچھاگئے۔بہت  کم ہوا کہ اُس کی نما ز قضا ہو اور عصر کی نماز تو وہ  ہمیشہ  

وقت پر ہی ادا کرتا تھا ۔ اپنی ٹائی کی ناٹ کھولتے ہوئےاُس نے ندیم کو  زور سے آواز دی۔ ندیم 

فوٹو کاپئر مشین پردھڑادھڑ  سیٹ بناتا   ہوااپنا کام ختم کرنے کی جلدی میں تھا۔  وہ  آیا جی 

نعیم صاحب کہتا ہوا اُس کے پاس پہنچا۔   ندیم  کے ہاتھ میں پیسے پکڑاتے ہوئےوہ بولا 

"یار ندیم  چاچے کرمو کو میں نے  گاڑی پر کپڑا مارنے   نیچےبھیجا ہے تو بھاگتا  جا اور گرما گرم 

تین کپ چائے اور   آدھ کلو پکوڑے لے آ،جا شاباش منٹ مار " ندیم نفی میں سر ہلاتے 

ہوئےجواب دیا"نہیں سر جی آج تو میرا روزہ ہے"جھٹ  سے ندیم کے اِنکار پر اپنی ناگواری  

چھپاتے ہوئے  نعیم بولا "او چھوڑ یار روزےکا کیا ہے توکل پھر رکھ  لینا   ابھی جا چائے 

پکوڑ  ےلیکر آ"۔دوسری بار  ندیم  کا اِنکار قدرےسخت الفاظ میں تھا۔لڑکی کے سامنے 

ایسی خفت     وہ بھی ایک فوٹو کاپئر آپریٹر سے، جِسکی  نعیم    کو ہر گِزتوقع نہ تھی۔حقارت  بھری 

نظروں سے ندیم کی طرف  دیکھتے  اُسے نے طنز یہ انداز میں  بولا"پہلے اپنا قبلہ درست کرلے پھر روزے 

کےبارے میں سوچنا  ، جب ایمان ہی نہ ہو تو روزہ کِس کام کا"۔۔ ندیم جواب دینے کی 

بجائے ہاتھ میں پکڑے پیسے نعیم کے مُنہ پر  پھینکتا ہوا   بڑی تیزی سے باہر  کی طرف نِکل گیا ۔ 

ندیم کو آوازیں دیکر   چاچا کرمو روکتا رہا جو اِس دوران ہال میں پہنچ چُکا تھا۔

 ندیم غُصے میں تیزی سے سیڑہیاں اُتر کر بِلڈنگ سے باہر آگیا۔ اُسکا  دماغ لاوے کی طرح اُبل 

رہا تھا  ۔ باہر سڑک پر آکر اُسمیں چلنے کی ہمت بھی  نہ رہی تھی۔ وہ   کُچھ دیر  بُت 

بنا کھڑا رہا  اورپھِر آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتا   ہوااپنے راستے کو ہو لیا ۔غُصے میں دانت دبائے  دائیں 

ہاتھ  سے مُکا بنائے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر مارتا جاتا اور نعیم  صاحب کوجی بھر کی  گالیاں  

دئے جا رہا تھا  ۔ ندیم نے پکا فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ یہ نوکر ی چھوڑ دے گا۔ وہ   راستے  

میں آتی مسجدکے پاس ہی پہنچا  تھا  اذان کی آواز آنے لگی ۔  وہ سر اُٹھا کر  مسجد کے  اونچے 

مینار پر لگے لاؤڈ سپیکر کی طرف دیکھنے لگا۔پیچھے سے  کِسی نے ندیم کے کندھے پر ہاتھ رکھا  

۔ لمبی سفید داڑھی  نورانی  چہر ہ  ، یہ چاچا کرمو تھے۔ انہوں نے ندیم کو گلے لگایا اور 

بولے۔" پُتر نفس کے گھوڑے کو  ضبط کی لگام پہنانے کا نام  ہی تو روزہ ہے۔ہوس اور 

  دکھاوے   کےجنون نے اِنسان کو اندھا کر دیا ہے۔  جیسے   خوبصورت نظر آتی  نائلون 

کی چادر  پر بارش کا پانی   پھسلتا جا تا ہے   ایسے ہی  برتر  اور بہتر  نظر  آنے 

 کے خبط کا مارا   ،               رب دے سوہنیاں بندیاں دی بات ککھ سمجھ نہیں  پاتا۔ 

میرے چاند سے بچے اللہ تجھے ہر

میدان میں کامیاب کرے میں نماز پڑہ کر تیرے حق میں دُعا کروں گا تو روزہ کھول کر  

سے میرے لئے  دُعا کرنا۔"  چاچا کرمو   ندیم  کا دائیاں ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں 

دبائے   اُسے تلقین کرتے ہوئے مسجد  کو چل دیئے۔ ندیم  اپنیجگہ کھڑا سوچنے لگا  کہ چا چا 

کرموکِتنے نیک اِنسان ہیں ،میں  اِس   ایسٹر پر چاچا کرمو کے لئےخاص طور پر  دُعا  کروں گا خُدا وند 

ہم  سب کو چاچا کرمو جیسا نیک بنا دے۔ 

Sunday, 22 June 2014

بولتی تصویریں






اس بچی کی عمر لگ بھک پانچ سال ہے میں نے اِسے ایک بڑے چوک میں پنسلیں 


 بیچتے دیکھا. دس روپے کا ایک بال پوائنٹ. ہر آتی جاتی گاڑی والا حیران و پریشان ، اس 

 بچی کی طرف دیکھتا تھاکوئی اِ س سے سوال کرتا تو وہ فورا سے اگلی گاڑی کی طرف بھاگ کھڑی 

 ہوتی ۔ اشارے پر ایک پولیس وین رُکی ,اُس وین میں  بیٹھے 

اِک وردی والے نے بچی کو بڑے پیار سے اپنے پاس بُلا کر پوچھا "کس کتے کے بچے نے 

تمهارے ہاتھ میں بیچنے کویہ پنسلیں پکڑائی ہیں"؟ بچی جواب دینے کی بجائے  فورا ً سےڈر کر   

آگے کو  بھاگ پڑی. پولیس والے کی  دی ہوئی گالی اس رشتےکو پڑی جس کا آج عالمی دن منایا 

جارہا ہے  یعنی "فادرز ڈے"(. 15-06-2014)یا پھر پورے معاشرے کو جس کا حصہ 

میں بھی ہوں. 

آپ ان تصویروں کو  غور سے دیکھئے،   پس منظر میں آپ کو بڑی بڑی کرینیں نظر 

آرہی ہوں گی. یہ ہیوی  مشینری میٹرو بس کے لئے  ایک بهت بڑا فلائی 

اوور بنانے کا کام کررہی ہے.اسلام آباد کی اس میٹروبس  پر چوبیس ارب روپے کی خطیر  رقم 

 خرچ   کی جا رہی ہے۔  یہ  اسلام آباد 

کا مصروف ترین چوک پشاور موڑ ہے چند مہینوں بعد غالبا اِسی چوک میں انقلابی نعرے

سُنے جائیں گےاور فتح کے ہار پہنےاعلی مرتبت  شخصیات   میٹرو  بس دوڑانے  کا فیتہ کاٹیں گے ۔


مگر یہ بچی آپ کو یہاں نظر نہیں  آئے گی بلکہ اپنے باپ کی بےغیرتی(بظاہر )اور معاشرے 

کی بےحِسی کے باعث، ہاتھ میں چند پنسلیں لئے کِسی اور چوک میں گُزرتی گاڑیوں کے شیشے 

کھڑکاتی دس دس روپے کی پنسلیں بیچتی پھِرے گی۔

   میں بھی کُچھ زیادہ  ہی منفی انداز میں سوچنے لگا ہوں  ۔اِس بچی کی زندگی  بہتر رُخ بھی  اختیار 

کرسکتی ہے۔شائد وہ چوک میں پنسلیں بیچنے کی بجائے   کِسی سریہ والےسیمِنٹ والے یا پھر 

کِسی کنٹریکٹر  کے دودھ پیتے بچوں  کے پیمپر بدلنے اور کھلونے سنبھالنے کی مزدوری کرتی نظر 

آئے۔


نوٹ:                    یہ تحریرمیں نےمورخہ 15-06-2014 فیس بُک اکاؤنٹ پر پوسٹ 
کی تھی اور پھر چند سائٹس اور پیجز پر کاپی پیسٹ ہوتے دیکھی۔





Thursday, 12 June 2014

مچھر "دانی ستا"۔

ہمیشہ سے ہماری سیاست کی رونق فصلی بٹیروں کے دم سے ہی رہی ہے۔  اِن سیاست دانوں کو "سیزنڈ پالیٹیشئنز " بھی کہا جاسکتا ہے ۔جو سیاست دان ایسے بہت سے اچھےفصلی  سیزن لگا لیتے ہیں وہ بابائے سیاست کہلوائے جانا پسند کرتے ہیں۔ اِنہی سیاسی بابوں کی نئی لاٹ کی بدروح رواں نے نقص امن کو نصیبو لعل کی ڈھال سے روکنے کا تجربہ کیا۔ یہ تجربہ" دو  رس "  نتائج کا حامل ہے ۔ ایک تو گھٹن کی اِس فِضا میں  موسیقی کی محفل  سجی دوسرا  کھرے اورکھوتے کی پہچان بھی سب پر ظاہر ہونے لگی۔  مفاد عامہ کے اس تجربے کو منجھے ہوئے  قومی ادارے واپڈا نے گودلیتے ہوئے، پچھلی کُچھ راتوں سے میوزیکل کانسرٹ کے ٹِکٹ مُفت میں بانٹنے شروع کئے  ہیں۔ وقت ،رات دو سے تین بجے ،مقام اہل محلہ کے اپنے اپنے پلنگ،  مچھروں کی سنگت اور فری کا میوزیکل کنسرٹ ۔ کُچھ نہ پوچھیں   موج  و مستی کی اُس   دُنیا کا حال۔ اِنسانی وجود میں ایسی تھرکتی کتھکتی تحریک کبھی راحت فتح علی  بھی پیدا نہیں کر پایا ۔ میوزیکل کانسرٹ میں پرفارمنس دینے والے مچھروں کی دِن بھر کی ریاضت کا نچوڑ رات کو پکے راگوں  میں ڈھلتا ہے ۔ ویسے تو مچھروں کے بھی بہت سے فِرقے ہیں    جِن میں سے ایک فِرقہ" ڈینگی مچھر " دہشت گردی پر  بھی یقین  رکھتا ہے  مگر اُس کی دہشت گردی امریکی طرز  کی  ہے ۔ امریکہ غیروں کے تیل پر پلتا ہے اور یہ اجنبیوں  کے جمع کردہ  صاف پانی پر۔مچھروں میںمولوی فِرقے کا تاحال کوئی وجود نہیں ہے۔بلا خوف و خطر رات کے آخری پہر میں رقص و سرور کی مخلوط محفلیں ،اِس کا مُنہ بولتا ثبوت ہیں ۔ہماری طرح مچھر وں کا بھی یہی ایمان   کہ موسیقی روح کی غذا ہے۔اللہ کی یہ مخلوق ہم سے  ذرا زیادہسیانی  ہے ،  روحوں  کی غذا  رِسانی کے ساتھ ساتھ کولڈ ڈرنک  کے  طور لال شربت کے دور   بھی وقفے وقفے سے چلاتی 
 رہتی ہے ۔

رِنگ رنگ رِنگ آ رِنگ رِنگ رِنگ آ
رِنگ رِنگ رِنگ آ رِنگ  رِنگ آ رِنگ

کھٹئے پے میں پڑی تھی  اور گہر ی نیند بڑی تھی

آگے میں کیا کہوں سکھیو رےےےے

اِک کھٹمل تھا سیانہ،مُجھ پے تھا اُسکا نِشانہ

چُنری میں گھُس گیا دھیرے دھیرےےےے

کچھ نہیں سمجھا وہ بُدھو، کچھ نہیں سوچا

رینگ کر جانے کہاں پہنچا رےےے


سائینس کی رو سے اِنسانی خون وارم بلڈ یعنی گرم خون  ہوتا ہے ۔ یہ تحقیق بڑی پُرانی ہوچکی ہے  ۔ آج اِنسان سے زیادہ مشین قیمتی ہےاور موجود دور سابقہ ادوار سے یکسر مُختلف ہے ۔عصر حاضر کا   اِنسانی خون  بھی بقا کے اصول کے عین مُطابق وارم سے  کولڈ بلڈ میں تبدیل ہو چُکا ہے۔آج کے انسا ن کو   خون گرم  نہیں بلکہ  ہتھیلی گرم رکھنے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔یقین نہیں آتا 

تواِنسانی  خون کی  چُسکیاں لیتے   مچھروں کے قہقہوں  ہی سے اِسکی "ٹھنڈک " کا اندازہ    لگا  لیجئے  ۔


جب سےمیاں شہباز شریف نے ڈینگی مچھر  اور اس  کےنُقصانات و بچاؤ سے آگہی کی زور دار  مہم چلائی ہے ۔ 
مُقابلے کو یہ  سالے مچھر تو لگتا ہے جیسے  آگہی اور ادراک میں پی ایچ ڈی کی ڈگریاں لئے گھومنے  لگے  ہیں۔ 


سورج اڑتالیس کی گھنٹی بجا رہا،چرند پرند موت سے لڑتے نظر آرہےپر اِن مچھروں  کے ہاتھ تو جیسے حیاتِ خِزر کا نُسخہ لگ گیا ہو ۔آج کامچھر اِنسان کو صِرف ہیجڑہ ہی نہیں بناتا بلکہ ٹھیک ٹھاک بے وقوف بھی بناتا ہے  مچھر مار دوا سازوں کے گٹھ جوڑ سے۔