Sunday, 16 June 2013

نیکی سے دریا

وہ سڑک کِنارے بِکھرے ہوئےکھانے کے ڈبوں اور مشروبات کے ٹِن پیکس پر جھُکا ہوا تھا ۔سڑک پر اِکا دُکا گاڑیاں اور چند ایک سایئکلیں اپنےمُتعین کردہ  رستوں پر وقتِ مُقررہ میں پہنچنے کو بے چین نظر آتیں تھیں۔ اِس مشینی دور کے اوقات کار نو سے چھے میں ابھی قریباً آدھ گھنٹہ باقی تھا۔ وہ اِرد گِرد کی دُنیا سے بے پرواہ اِن خالی ڈبوں کو سمیٹنے میں لگا تھا کہ اِک گاڑی اُس کے سامنے آکر رُکی ۔ وہ کھڑا ہوا  اور فورا سے گاڑی کی طرف  بڑہا ۔ کار کا شیشہ اُترا  ایک نیلی آنکھوں والی خوبصورت دوشیزہ نے پانچ یوروکا نوٹ اُس کی طرف  بڑہاتے  ہوئے اِلتجائیہ سے انداز میں  کہا" اگر تُم بھوکے ہو تو دُکان سے کُچھ لیکر کھالو"۔ اِس  آفر کا جواب نہ پاکر اپنی شرمندگی  چھُپاتے ہوئے معصوم گُڑیا کی سی شکل بنا کراُسنے       اپنی آفر  بڑہا تے ہوئے   سوال کیا "کیا تُمہیں مزید پیسے چاہیں؟"۔  " جی نہیں میرے لئے اِتنے پیسے ہی بہت ہیں ،آپ کا شُکریہ"  یہ کہتے ہوئے  اُس نے  نازک ہاتھوں سے نوٹ پکڑ لیا۔ کھِلے چہرے کے ساتھ نیلی آنکھوں والی نے ناٹ  ٹو مینش کہا اور  گاڑی گئیر میں ڈال دی ۔  داہنے ہاتھ  کی اُنگلیوں میں  نوٹ سے کھیلتے ہوئے اُس کی نظریں دور تک گاڑی کا تعاقب کرتی رہیں۔ گاڑی نظروں سے اوجھل ہوئی تو اُس نے بائیں ہاتھ کی اُنگلیاںاپنی لمبی زُلفوں  میں پھیریں ،  ایک نظراپنے جوتوں اور  اوور کوٹ پر ڈالی ۔     جمع شُدہ خالی ڈبوں سے ڈسٹ بِن کا پیٹ بھرا  اور سائکل پر سوار ہو کر اپنی راہ پر چل نِکلا

برخِلاف معمول وہ  آفس پندرہ مِنٹ لیٹ پہنچا ۔ اپنی  آرام دہ کُرسی پر بیٹھتے ہی اُس نے جیب سے پانچ یورو  کا نوٹ نِکالا اور میز پر رکھ دیا  ۔ کُچھ دیر بعد اُس نے اپنے کو ورکرز کی میٹنگ کا ل کی اور میز پر پڑے  پانچ یورو کا   مُکمل قِصہ بیان کرڈالا۔ "آپ نے اُس لڑکی سے یہ پیسے کیوں لئے ؟" بہت سی زبانوں  سے یہی اِ ک  سوال ایک ساتھ نِکلا ۔ مُسکراتے ہوئےاُسنے تمام  ساتھیوں پر ایک نظر ڈالی اور گویا ہوا۔"میں اُس لڑکی  کے دِل سے  بہتے نیکی کے جذبے پر شرمندگی کا پتھر نہیں رکھنا چاہتا تھا ۔ میر ی خواہش ہے کہ اِس نیکی کا درست مصرف ہو میں نے اِس  5 یورو سے ایک اکاوئنٹ کھولنے  کا اِرادہ کیا ہے    جِس سے   دُنیا کے غُربت  زدہ عِلاقوں میں بھوک کا شِکار لوگوں کی مدد کی جا سکے مگر  یہ سب آپ کے تعاون سے مُمکن ہو سکے گا"۔

آج صُبح  کی میں نے اپنی ای میل چیک کی تو  یہ واقع پڑہنے کو مِلا  جِسے پڑہ کر مُجھے اپنا  کالج کا یار یاد آگیا۔ وہ کالج  کا پہلا دِن تھا  جب ایک دوجے کے نام سے ناآشنا  ہم ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے سینئیر سٹوڈنٹس  کے نوکیلے جُملوں  اور اُن کے ہاتھ میں پکڑی رنگیلے پانی کی سُرنجوں سے اپنی سفید شرٹیں  بچاتے ایک کلا س روم سے دوسری میں چھُپتے پھِررہے تھے ۔ اگلے دِن  اُس  لڑکے  کو اپنی کلاس ہی میں موجود پایا۔ پہلے دِن کا اِتفاقی ساتھ اور دوسرے دِن کا تعارف ہماری دوستی  کا باعث بنا  ۔ چند ہی دِنوں میں ہماری دوستی ایک ختم نہ ہونے والی موٹر وے پر چل نِکلی جِس پر کہیں کوئی سپیڈ بریکر  یا رُکاوٹ نہ تھی۔ وہ   فرنٹ سیٹس  پر بیٹھنے والا اُساتذہ سے سوال کرنے والا اپنے جواب سے سب کو لاجواب کرنے والا  ،دوسروں  کو  سوال کرنے پر اُکسانے والا اورچیلنج قبول کرنے والا لڑکا تھا جب کہ میں سدا کا بیک بنچر اپنے چھوٹے قد کے باوجود آخری سیٹوں پر دُبک کر بیٹھنے والا نکما  طالب عِلم ۔  اُس نیلے آسمان والے کے اپنے ہی رنگ ہیں جِس نے مُجھ جیسے اِنسان  کو دھکا لگا کر آگے چلانے کا کیا بندوبست کر رکھا تھا۔

وہ باغ کے اُس پھول کی طرح تھا جِس کی مُنفرد خوشبو سے مُتاثر ہوئے بغیر کوئی رہ نہیں پاتا. مُجھے یاد  پڑتا ہے،  غالباً ہماری  کالج لائف کا تیسرا مہینہ چل رہا تھا ہمارے آٹھ بازاروں کے شہر  کے ایک بازار میں بم دھماکہ ہواتھا۔ وہ  سہ پہر کا  وقت تھا ۔  دھماکے کی خبر مِلتے ہی  وہ   خون دینے ہسپتا ل پہنچ گیا تھا۔ اگلے روز کالج    کے لان میں ہم جیسے بہت سے محبانِ وطن یار دوست سر جوڑے بم دھماکے کے اثرات و محرکات کا باریک بینی سے تجزیہ کرتے رہے  ۔ اپنی کمزوریوں سے لیکر  یہودو نصارا کی سازشوں تک ہر نُقظہ زیر بحث رہا ۔ ہم نے  را سے لیکر  کے بی جی اور موساد  تک کا اپریشن  کر ڈالا ۔   مُلکی مُفاد   کے اِس اکٹھ میں    دردِ دِل  والی ہر آواز تڑپی  ۔مگر  وہ  ہمارے درمیان موجود نہیں تھا  ۔ اُس نے     دھماکے میں  جان بحق ہوجانے  والوں کا جنازہ پڑہنا اور زخمیوں کی تیمارداری کو  اِس قومی سلامتی کے اکٹھ سےزیادہ ضروری جانا۔ عملیت پسندی کی یہی عادت اُسے مُنفرد بنا دیتی تھی۔

بڑا مان تھا اُسے میری مُحبت پر بہت اِترا اِترا کر وہ چلتی تھی۔میں بھی اُس کےبہت  ناز نخرے اُٹھاتا رہا ۔اب سالوں سے میری بے وفائی پر آنسو بہاتی  گھر کے سٹور میں کھڑی ہے ۔  وہ پگلی کیا جانے کہ حضرتِ مرد محبت سے زیادہ حاصل کرنے اور اِستعمال کر نے کا رسیا ہوتا ہے۔ میں اِسی سہراب کی سائیکل پر کالج جایا کرتا تھا۔دِن چڑہے   وو کِتابیں کیرئیر میں دبائے  تیز تیز پیڈل مارتے  ہانپتے  کانپتے کالج پہنچنا  اور واپسی پر سیٹیا ں بجاتے ،گُنگُناتے کچھوے کی چال میں    بچیوں کے ٹانگے کے پییچھے  چلتے رہنا۔ اِدھر  نینوں سے نین لڑے  اور آنکھیں بول پڑیں اپنی زباں۔لمحوں  میں   سینکڑوں باتیں کہنا  اور بیسویوں جواب وصولنا  کبھی پیار میں بھرے کبھی جوتوں میں  لِپٹے۔قسم ہے میکملن کی ، جِس کی ایجاد کردہ  سواری میں جو مزہ ہے وہ کِسی جھنڈے والی گاڑی  میں  بھی نہیں۔ بس ٹانگے میں بچیاں ذرا  لِفٹ کروانے والی ہونی چاہیں۔ میری  اِن  چلتی پھِرتی پریم کہانیوں میں روزانہ  اِک وِلن بھی اینٹری مارا کرتا تھا۔ بس ایک جانی پہچانی آواز "یار سائیکل روکیں" اور  یہیں پر فِلم کی ریل کٹ جاتی ۔ وہ    کالج سے واپسی پر میرا  ہمسفر ہوتا تھا۔ سائیکل کے پیچھے کیرئیر پر بیٹھے کبھی اُس کی نظر کِسی پریشان  حال بُڑہیا پر پڑ جاتی تو کبھی  کو ئی  تھکاہوا مُسافر یا  کوئی   بُڈھا    پیدل چلتا نظر آجاتا  اگر ایسا کچھ نہیں  تو  روڈ کے کنارے پڑا کوئی پتھر  اُس کی نظروں کو پا لیتا  جِسے ہٹانا  قومی فریضہ ٹھہرتا۔ مُجھے ناچاہتے ہوئے بھی اُس کی اِن نیکیوں میں ایک مِڈل مین کا کردار ادا کرنا پڑتا تھا۔

ہماری کلاس کی اکثریت اُس کی گرویدہ تھی مگر   کُچھ لڑکے   اُس کی اِنتہا کو چھوتی آئیدئلزم  اور اصول پرستی سے عاجز تھے۔     اپنے آئڈیل اِزم  ہی  کے  باعث اُس نے سلیکٹو سٹڈی کے خِلاف  کلا س میں اپنا سخت موقف بیان کیا اُس کا کہنا تھا کہ  اساتذہ کا   کا م تعلیم دینا اور ہمارا تعلیم  سے اِستفادہ کرنا ہے   یہ نمبرز کی دوڑ میں میں شامل ہوکر  سیلیکٹور سٹڈی اپنے  فرض سے  ناِانصافی ہے  ۔ قِصہ مُختصر نہ وہ کِسی کو اپنی بات سمجھا سکا اور نہ کوئی اُسے۔ اِک دِن پرنسپل کے  آفس کے قریب سے گُزرتے ہوئے میں نے اُس سےکہا ۔ یہ جوانگریزی کا لفظ پرنسپل ہے نہ بڑا بھاری  ہے  ۔اِس  سجےسجائے کمرےمیں  جو  اِک  رعب دار   اور سخت طبیعت  والا شخص بیٹھا ہے  نہ وہ پرنسپل صاحب کہلاتا ہےاِن  کی عِزت کرنا ہماری مجبوری بھی ہے اور ضرورت بھی ۔ اِسی طرح کا ایک   پرنسپل تیرے اور میرے اندر بھی بیٹھا  ہے  جو ہم پر اِسی طرح رعب چلاتا ہے  ۔ مگر اُس کی سننا  نہ ہماری مجبوری ہے اور نہ ضرورت ۔ ۔ اپنے اندر بیٹھے  کے بنائے  گئے پرنسپل کی ہر وقت ماننا کہیں کی عقلمندی نہیں  ۔ اِس دُنیا میں جیت جانے والے کو سب ہار پہناتے ہیں  مگر  ہار کی تو  کوئی ماں بھی نہیں ہوتی جو دلاسہ دینے کو آئے ۔اُس نے جواب دیا کہ  اِنسان یا زِندگی جیتا ہے یا گُزارتا ہے  اور  میں زِندگی جینا چاہتا ہوں ۔زِندگی میں جیت زورآور کی ہی نہیں ہوتی اگر ایسا ہوتا تو پہاڑوں کے سینے کبھی بھی چیرے نہ جاتے۔ حقیقی جیت  ہمیشہ زور لگانے والے کی ہی ہوتی  ہے

 امتحانات کے نتیجے میں  وہ چند نمبر کم ہونے کی وجہ سے انجنئرنگ یونیوسٹی میں داخلہ حاصل نہ کر پایا۔اُس نے اپنے ضمیر کی آواز کو دبنے سے بچا لیا مگر  اپنے والد صاحب کے چھِتروں سے خود کو نہ بچا سکا ۔ اُس کے والد صاحب  اپنے قابل بچے  کو انجنئیر بنانے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ ایک سرکاری مُلازم جو رِشوت لینے کو حرام سمجھے   ساری عُمر  گھر کی دال روٹی چلانے میں گُزارے اور اپنے جیسوں کی کوٹھیاں بنتا دیکھے۔وہ  اپنی خواہشات کی پوٹلی  اولاد  کے سر پر لادنے کے سِوا بھلا کر  بھی کیا سکتا ہے۔ ۔ والد صاحب کا رویہ اُس کے ساتھ دِن بدن سخت ہوتا گیا۔  والد کے حُکم پر اُس نے دوبارہ پرچے دینے کا اِرادہ ترک کردیا ۔اورسر  جھُکائے ہر حُکم کی تعمیل کرتا رہا۔ اُنہی کے حُکم پر نا چاہتے ہوئے بھی اُس نے بی کام میں داخلہ لے  لیا۔اُسکی  ماں جو کہ ایک سکول ٹیچر تھی   نے اپنے بیٹے کو ہِمت نہ ہارنے اور صبر اور شُکر کی تلقین ۔ یہ غالباً ماں کی تربیت کا اثر تھا کہ میں نے اُس کی آنکھوں میں کبھی مایوسی نہیں دیکھی ۔بی کام  کی کلاسز لینے کے دوران وہ اپنے طور پر باپ کے خواہش کی تکمیل کے لئے ہاتھ پاؤں مارتا رہا۔  سات آٹھ ماہ بعد ایک اعلی تعلیمی اِدارے میں  اُس نے اینٹری ٹیسٹ دیا اور  اُسے وظیفےپر  انجئرنگ میں داخلہ مِل گیا۔ چار سال بعد   اُس نے اپنے باپ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرڈالا۔

اعلیٰ  اِدارے کی تعلیمی ڈِگری کے سبب اُسے بہت جلد سرکاری جاب بھی آفر ہوگئی ۔ مُجھے یاد ہے وہ دِن جب  وہ  مٹھائی کا ڈبہ لئے  یہ خوشی کی خبر  دینے میرے گھر آیا تھا۔وہ  بہت ایکسائٹڈ نظر آرہا تھا ۔ ویسے کا ویسا ہی تو تھا  وہ ۔زِندگی گُزارنے والا  نہیں بلکہ جینے والا۔ہمیشہ مُثبت سوچنے والا کِسی سے کوئی شکائت نہ کرنے والا ، اپنے اندر بیٹھے  کے  بنائے گئے پرنسپلز کو نہ توڑنے والا، دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے والا۔اُس نے بڑے جذبے کے ساتھ سرکاری نوکری جائن کی۔اِس  کینسر زدہ سِسٹم کو یکسر بدل ڈالنے کے عزم کے ساتھ کبھی ہار نہ ماننے  کا اِرادہ کئے ۔مُجھے نہیں معلوم کہ وہ اپنی سرکاری نوکری میں کیا کچھ تبدیل کر پایا۔ میں تو بس اِتنا جانتا ہوں کہ  اپنی نوکری کے تیسرے سال اُس نے جاب سے  اِستعفی دے دیا۔ کِسی سے  کوئی گِلا کئے بغیر ، اپنوں  کو گالی دئے بغیر،اِس سسٹم پر لا عِلاج ہونے کا ٹھپہ لگائے بغیر وہ خاموشی سے امریکہ چلا گیا۔

میرا اُس سےرابطہ  خط و کِتابت کے ذریعے قائم رہا۔ میں اپنی زِندگی کے رونے  ، اُسے لِکھتا تو  اُس کا پیار بھرا  اور ہِمت نندھاتا ہوا جواب  موصول پاتا ۔  خط کی چند سطریں پڑہتے ہی میرے اندر کی تمام گندگی اُبل پڑتی ۔ ٹِپ ٹِپ کرتے آنسو  کاغذ پر گرِتے  اور میں سکون سا محسوس کرنے لگتا ۔ اُس کی لِکھی باتوں سے میرے اندر اپنی بقا کی جنگ لڑنے کا پھِر سے حوصلہ پیدا ہو جاتا۔ اُس کی تحریر میں اپنے وطن اور اپنوں کے لئے آج  وہی پیار وہی  تڑپ محسوس ہوتی۔میں اُسکا خط اپنے سرہانے رکھتا ،کئی بار پڑہتا۔اُسکے لِکھے حروف کی خوشبو محسوس کرتا   ۔ خط پر گِرے اپنے آنسو گِنتا اور سو جاتا۔مگر اِس  تیزی سے ہوتی اِنسانی ترقی نے میرا یہ قیمتی اثاثہ مُجھ سے چھین  لیااور  خط کی جگہ ای میل نے لے لی۔ آج صُبح ای میل میں  میرے یار نے مُجھے اپنا پانچ یورو  والا قصہ لِکھ بھیجا  ۔وہ آجکل  ولندیزیوں کے شہر ایمسٹرڈیم میں  اِک  ملٹی نینشنل کمپنی میں اعلٰی عُہدے پر فائز ہے ۔

وہ دھرتی کبھی بھی بانجھ نہیں ہو سکتی جہاں  میرے یار جیسے سپوت پیدا ہوتے ہوں۔ جو  نیکی کر کے دریا میں ڈالتے نہیں  بلکہ نیکی سے دریا بنا ڈالتے ہیں۔اللہ سے دُعا ہے کہ ہمارا سِسٹم کم ازکم اِتنا بہتر ہوجائے  کہ میری دھرتی کے یہ انمول پُتر اپنی دھرتی چھوڑ کر باہر نہ  جائیں۔(آمین)





Sunday, 7 April 2013

محض اِک چنگاری


آج چاچا ڈیوڈ بہت دِنوں کے بعد دفتر آیا تھا ۔دِن بھر کی غیر معمولی مصروفیت کے سبب رسمی سلام دُعا کے عِلاوہ اُس سے کوئی بات نہ ہوئی۔  مگر شام کو پلک کے دو جھپکوں سےپہلے گھر پہنچنے  کی تمنا دِل میں لئے  میرے قدم حرکت میں آئے تو چاچا ڈیوڈ سے ٹاکر ا ہوگیا۔ میں نے نظر اُٹھائے بغیر الوداعی سلام کیا ۔جواب میں اُسکی مخصوص دُعا "مولا تینؤ خوش رکھے پُتر"کانوں سےٹکرائی ۔ میں نے جب سے یہ آفس جوائن کیا ہے اُس ستر کو پہنچے بزرگ  کو  یہی دُعا دیتے سُنا  ہے۔اپنائیت بھرے انداز میں  کہا گیا  یہ دُعائیہ کلمہ بِجلی کی سی تیزی سے کانوں کے رستے دِل   پر اثر کرتا جاتا ہے ۔ مگر آج یہ دُعا محض ایک رسمی سی کاروائی  کی طرح بے جان سی محسوس ہوئی  جو پردہ سماعت سے  ٹکراتے ہی مُردہ ہوگئی۔میرے قدم  اپنی جگہ جم گئے میں نے گردن گھُما کر چاچا کی طرف دیکھا  ۔ ہمیشہ   چمکتی آنکھوں میں  آج پہلی بار مُجھے خوف اور مایوسی نظر آئی۔وہ  جوزف کالونی کے واقعہ کے بعد لاہور چلا گیا  اور ایسٹر اپنی بیٹی کے پاس جوزف کالونی ہی  میں گُزار کر آیا تھا۔ میں  نے حالات کے بارے دریافت کیا تو وہ محتا ط  انداز اپنے دِل کی بات کہنے لگا۔ اُسے تسلی دینے کی خاطرمیں نےمذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے  کے موضوع پر  دسویں جماعت میں رٹی ہوئی تقریر  بنا کِسی فُل سٹاپ کے کر ڈالی  ۔وہ دیوار پر وزن ڈالے کھڑا ،سر کو معمولی جُنبش دیتا میر ی  تقریر سُنتا رہا اور پھِر بولا"پُت تیر ی ہر گل بجا  ،  بے شک سارے وادے کاٹے پورے ہوجاندے نے۔پر  دِلاں تے لگے زخماں دا  کی کریئے ؟ ظالم دے گل پیندا پھندا ہی اِناںزخماں دا مرہم ہونداے۔ ساڈے زخماں تے مرہم خبرے کون رکھے گا تے کدوں رکھے گا؟؟۔ "چاچے کا کہنا تھا  کہ میں نے اپنی اولاد کو پیٹ پر پتھر باندھ کر اعلٰی تعلیم دلوائی ۔ اُن کی بہتر تربیت کی ۔ ہمارے گھر اذا ن کی آواز پر گانا تو دور کی بات ٹی وی بھی بند کر دیا جاتا ہے ۔مگر ہائے  رے بد نصیبی کہ آج بھی ہم مشکوک و  غیر محفوظ ہیں ۔دلائل   میں رنگی میرے مُنہ سے برآمد ہوتی  تسلیاں مُجھے کمزور محسوس ہونے لگیں  تو میں نے گھر جانے کی اِجازت لی۔.
تیسرے فلور سے نییچے اُترتے وقت سیڑھیوں پر رکھا ہر قدم مُجھے  معاشرتی  اِقدار کی تنزلی کا اِشارہ دیتا رہا۔مُجھے سکول کا اپنا پہلا دِن یاد آنے لگا۔آنٹی مقبول کی اُنگلی پکڑے میں وی آئی پی پروٹوکول اینجوائے کرتا پورے سکول سے مُتعارف ہوا تھا۔آنٹی مقبول ہمارے ہمسائے میں کرائے کے مکان میں  رہتی تھیں اور اُس سکول کی ہید مِسٹریس تھیں۔سکول کا پہلے دِن کا یہ بمباسٹک تجربہ میرے حافظے  میں جلد ہی دھندلا گیا مگر آنٹی مقبول کے گلے کا لاکٹ ذہن پر اپنا گہرا نقش چھوڑ گیا۔بہت سالوں بعد صلیب اور صلیب سے جُڑی جنگوں سے تعارف ہوا تو میں یہ معمہ حل کر پایا کہ آنٹی مقبول کے گھر آنے پر کیوں چائے کے برتن خصوصی طور پر کلمہ پڑہ  کر دُھلائے جاتے تھے۔
فوارے والی گراونڈ سے میری بچپن کی یاری ہے۔ دس گیارہ سال کی عُمر سے گرمیوں کی چھُٹیوں کے ساتھ ہی  گلی کے بچے صُبح روشنی ہوتے ہی ست ربڑی گیند اور بلا لئے گراونڈ پہنچ جاتے تھے۔ گراونڈ کے وسط میں لگا  فوارہ توہم نے  شاذو نادر ہی چلتے دیکھا مگر گراونڈ سے جُڑی یادیں  فوارے کی سی پھوار کی طرح ہمیشہ خوشگوار احساس پیدا کرتی ہیں۔ سوائے وہ ایک اُداس کردینے والا واقعہ جب ایک گیا رہ بارہ  سالہ بچے سے دوران کھیل مُسلمانی ک ٹیسٹ پاس کرنے کا مُطالبہ ہوا۔کرکٹ کے خمار میں گِرفتار وہ بچہ مذہب کی دیوار پھلانگ کر خود کو مُسلمان ظاہر کر تا رہا مگر کلمہ سُنانے کا ٹیسٹ پاس نہ کر سکا۔شرمندگی اور ذِلت کا احساس سمیٹے سر جھُکائے آہستہ آہستہ میدان چھوڑ کر جاتا ہوا  وہ لڑکا آج تک  میں بھول نہیں پایا۔میں بچوں کی ا ِس حرکت کو معصومیت کے  نام پر یقیناً بھول جاتا مگر  چند سالوں  بعد 1997نڑ والا روڈ  ،فیصل آباد ،پر واقع  عیسائیوں کی بستی کو جلا ڈالنے کے جہاد  میں اِنہی بچوں کی جوانیاں اپنا حِصہ ڈالتی نظر آئیں ۔اُس وقت کی شہباز گورنمنٹ  کی پولیس نے  دو دِن کے کرفیو اور سخت سکیورٹی  کے زور پر معاملات کو کنڑول میں کر لیا تھا۔
وہ ستائسویں رمضان کا دِن تھا جب یونس نے اِسلام قبول کرنے کا  اعلان کیا تھا۔ یونس ہماری گلی کا خاکروب تھا۔ دو دِن  بعد اُس نے عید گا ہ میں ہمارے ساتھ نماز عید بھی ادا کی تھی ۔ مگر اُسے کِسی نے گلے نہیں لگایا تھا۔ بلکہ دور کھڑے ہوکر محلے کے کُچھ لوگ    اُس کی  ہوشیاریوں اور ڈرامے بازیوں کو یاد کرتے ہوئے    اُس کا تمسخر اُڑاتے ،قہقے لگاتے نظر آئے۔ اپنے اندر کبھی نہ جھانکنے والے  دوسروں کے دِلوں کو اخباری سُرخیوں کی طرح پڑھ ڈالتے ہیں"فٹا فٹ"۔ یوسف کے قبول اِسلام کی جب اخبار میں سُرخی لگی ۔  تو میں نے بہت  سو ں کو مٹھائیاں بانٹتے دیکھا۔ اِقبا ل سٹیڈیم فیصل آباد کی اگلی سیڑھیوں میں بھی اِنہی شناسا چہروں سے مُلاقات ہوئی تھی  اُس ٹیسٹ میچ میں   اِنہی لوگوں سےباونڈری پر فیلڈنگ کرتےیوسف کو  گِرے ہوئے گٹھیا القابات مِلتے رہے اور وہ تماشایئوں کی حرکتوں کو اِگنور کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ یوسف باؤنڈری پر آنے سے ٖ کترانے لگا۔میچ کے بعد یوسف نے تماشائیوں کے سلوک پر  اعتراض بھی کیا ۔ مگر چند سالوں بعد یوسف مُسلمان  ہوگیا ۔ اُس کے دِل میں اِسلام کا چراغ  روشن کرنے والے  ہم ہی میں سے ہیں مگر ہم سے بِالُکل نہیں ۔ وہ اللہ سے ڈرنے والے اور خلقِ خدا سے محُبت کرنے والے بزرگ تھے جو ہم میں سے ہونے کے باوجود ہم جیسے نہیں ہیں۔ ہمار ے نبی آخری نبی ہیں اور اُن  کا لایا دین ، دینِ برحق ۔ہمیں اپنے دین پر  فخرہے  ۔فخر ہے۔ مگر  فخر جب غرور بن جائے تو کُچھ نہیں بچتا ۔ ما سِوائے اِک جڑ کٹا درخت جِسے  محض اِک چنگاری سورج کی جنبش سے پہلے   ہوا  میں  اُڑا دیتی ہے ۔

Sunday, 17 February 2013

جمہوریت یا جمہوری تماشا




18 فروری 2008 کو قوم نے اپنے نمائندوں کا اِنتخاب کیا تھا۔کھِلتے گُلاب ،مہکتی بہار  اور مُسکراتے ہوئے سورج نے ہر طرف رنگ تو بکھیرے  ہی ہوئے 

تھے مگر سیاسی میدان کی گرما گرمی نے اِس دِن کی غضبناکی میں دُگنا چُگنا اِضافہ کر دیا۔  میں شیر کی تصویروں سے سجی گاڑی میں اپنے کزن کے  ساتھ پولنگ 

سٹیشن تک گیا تھا۔اُس وقت تک پولنگ سٹیشن پرزیادہ رش نہیں ہوا تھا۔ میرے کزن نے ووٹ ڈالا مگر میں مُشرف کے اِس این آر او زدہ الیکشن کا حِصہ نہ بننے کا 

پہلے سے ہی فیصلہ کر چُکا تھا۔ بقیہ دِن اخبار پڑہتے ،ٹی وی دیکھتے اور  لذیذ کھانوں کے ساتھ سیاست پر چسکور ی گفتکو  کرتے گُزرا۔میں ٹی وی پر جمہوریت کے حق  

میں کئے گئے سیاسی تبصرے سُنتا رہا اور جھومتا رہا۔مثلا! "پاکِستان میں دو پارٹی سِسٹم رواج پا چُکا ہے" "پاکِستانی ووٹرزبہت باشعور ہو چُکے"۔پاکِستان میں مضبوط ہوتی 

جمہوریت اور فروغ پاتے جمہوری کلچر کے مُثبت اِشارے دِل کو بہت بھانے لگے۔  جمہوریت کی دھمال ڈالتا ہوا میرا ذہین اِس بات کو قطعی طور پر نظر انداز کر 

تا رہاکہ میری بیگم تمام دِن اپنی مرضی کے مُطابق ووٹ کاحق اِستعمال کرنے کی خواہش ظاہر کرتی رہی مگرمیں اُس پر اپنی مرضی مُسلط کرنے کی کوشش کرتا رہا۔

قائد اعظم  نے نہ جانے کِن مُسلمانوں کا خون کِس لیبارٹری سے چیک کروایا تھا ،جِس کے مُطابق جمہوریت مُسلمانوں کے خون میں شامل ہے۔


میری چسکوری فِطرت نے مُجھے  ہمیشہ مجبور کیا کہ میں اپنے گھر سے قریب مین روڈ پر دہی بھلے کی  ریڑھی پررالیں ٹپکاتے ہوئے  ہر دوسرے تیسرے دِن حاضری دوں۔

جب تک میں فیصل آبادمیں  رہا یہ سِلسلہ اِسی طرح چلتا رہا  ۔پچھلے دِنوں  فیصل آباد کا چکر لگا تو میں اُس دہی بھلے کی ریڑی پر پیٹ کا چسکا بھرنے پہنچ گیا۔ بہت کُچھ 

بدل گیا تھا اِرد گِرد کا ماحول بھی اور دہی بھلے  والا بھی ۔اُس سادہ سی ریڑھی کی جگہ برقی قمقموں سے سجے سٹال نے لے لی تھی ۔  مُجھے نہ تو اِس بدلے ماحول  میں 

کوئی کشش محسوس ہوئی اورنہ  ہی دہی بھلوں  کی پلیٹ نے وہ پہلے کا سا مزہ دیا۔رات کا وقت تھا اور رش بالکُل بھی نہ تھا۔میں نے اپنا چسکا پورا کرنے کی دہی بھلے 

والے سے  سیاست کا موضوع چھیڑ دیا۔ جناب نے مُجھے سیاست پر اچھا خاصہ لیکچر دے ڈالا جِس کا  اِختتام اِن الفاظ پر تھا "وڈی بُرائی دی جگہ چھوٹی بُرائی دا اِنتخاب 

ہی بہتر ہے "۔ اُس کا یہ جواب مُجھے بیس سال پیچھے لے گیا۔جب اِسی جگہ پر اِسی  کے باپ نے یہ "چھوٹی بُرائی تھیوری "میٹرک میں پڑہتے ہوئے اِک بچے کو سمجھائی 

تھی۔میں کافی دیر تک وہیں بیٹھا یہ سوچتا رہا کہ پِچھلے بیس سال میں کیا کُچھ  بدلا اور کیا کُچھ جوں کا توں ہی رکھ دیا گیا۔ مگر کب تک کے لئے؟؟؟


تُم آنے والے الیکشن میں کس پارٹی کو ووٹ دو گے؟ یہ سوال جب میں نے اپنے ایک اچھے خاصے پڑہے لِکھے دوست سے کیا تو اُس کا جواب تھا :"اُسی پارٹی کو 

جِسے  2008 کے الیکشن میں ذِمہ داری سونپی تھی ۔اپنے اِس جواب کی وضاحت میں بتانے والے نے  بتایا  " ہماری گلی کی ٹوٹی سڑک نئی بنا دی گئی ہے ۔ محلے کا 

کوڑا کرکٹ اُٹھانے کا بندوبست کر دیا گیاہے اور سب سے بڑھ کر یہ بات کہ میرے بچے کا برتھ سرٹیفیکیٹ میری منشا کے عین مُطابق 2 سال کم کرکے تیار 

حالت میں میرے ہاتھ میں تھما دیا گیا ہے اب اِس سے بڑھ کر مُجھے اور کیا چاہئے؟ "بس یہی ہے ہماری جمہوریت کی پانچ سالہ پرفارمنس ۔ہماری پانچ سالہ جیتی 

جاگتی جمہوریت نے لوکل باڈیز سطح کے کام قانون ساز نمائندوں کے حوالے کئے رکھےہم پر ڈیڑہ سو سالہ کمشنری نظام مسلط رکھااور اِسی کو جمہوریت کا  نام دیاجا تا رہا ۔ شرمناک بات یہ ہے کہ آج بھی  
ہمارا قانون ساز نمائندہ ڈیولپمنٹ فنڈ کے سر پر اپنی کارکردگی منواتا ہوا نظر آتا ہے ۔


پِچھلے دِنوں لاہور میں چلنے والی بس سروس کو دیکھ کر حقیقی معنوں میں خوشی محسوس ہوئی  مگر اِس بس کو اِنقلابی رنگ دینے کے لئے میر ے ہی دئے گئے ٹیکس 

کے سر پر جِس طرح سے پبلسٹی کی گئی وہ لمحہ فِکریہ ہے۔ کب تک ہمارے ہاں اِنقلاب سڑکوں ہی کے راستے آتا رہے گا۔ فِکری انقلاب کی طرف قدم کب اُٹھائے 

جائیں گے؟؟۔کہ جِس سے ہمارا ووٹر بِنا خوف اور لالچ کے سوچ میں آزاد ہوگا ۔ یہ  آزادی ہی ہمیں بالغ نظر بنا سکتی ہے ۔نہیں تو جمہوریت کے نام پر جمہوری 

تماشے یوں ہی چلتے رہیں گے۔


Saturday, 2 February 2013

آدھا جھوٹ کا ایک سال



میرے تخیل نے جب بھی اُڑان بھرنے کے لئے پر تولے تو اُن کا وزن چند چھٹانکوں سے  زیادہ نہ نِکلا ۔کوشش در کوشش سے تولے ،ماشوں میں  اِضافہ تو ہوا مگر 

تخیل کاشوق ِ پرواز اِنہی ٹوٹے پھوٹے  اور بےوزن پروں میں ہی دم توڑتاگیا  ۔  مجبوراً   مُجھے  یہ نتیجہ اخذ کرنا پڑا کہ یہ کم بخت میرا تخیل بھی حقیقی زِندگی کا 

آئینہ دار  ہے۔۔۔میر ی حقیقی زِندگی کی مثال اُس سرکاری دفتر کے آفس بوائے کی سی ہے  جو کہ صاحب کے روم کے باہر بیٹھا اکثر خوابِ اخروٹ کے مزے 

لیتا دِکھائی دیتا ہے .ایک کپ چائے کے لئے نیند میں خلل آنے پر مُنہ بسورتا ہوا کِچن کا رُخ کرتا ہے اور ایک عدد سینہ ساڑ قِسم کی  کالی چائے کا کپ طلبگار 

کی خِدمت میں دے مارتا ہے۔


 میں تخیل کے پرواز کا شوق تو پورا نہ کرپایا  مگر اپنا خیالی انڈےاُبالنے کا شوق ابھی تک پالے ہوئے ہوں۔انڈوں کا یہ خیالی کاروبار کِسی شیخ چلی کی صحبت کا  اثر 

نہیں ہے بلکہ یہ انتخاب میں نے اپنی سہل پسندی کی عادت کے باعث خود ہی فرمایا ہے ۔ایک تو دماغ میں اُبل اُبل کر یہ انڈے خود ہی پک جاتے ہیں   اور میرے تخیل 

کو دوام  بخشنے کا باعث بنتے ہیں ۔دوسری بات یہ کہ اگر  کُچھ کرنے کو دِل نہ چاہے تو بِنا کِسی جھنجٹ کے توڑ کر پھینکنا بھی آسان کام ہے۔ جہاں تک مُجھے یاد پڑتا ہے خیالی انڈے 

اُبالنے کا  شوق مُجھے بلوغت کی پیچیدہ زِندگی میں قدم رکھنے سے پہلے سے  ہے۔جب میں اپنی دادی اماں سے روپیہ دو روپیہ لیکر رگلی میں  بِکتی چھوٹی چھوٹی مچھلیاں خرید 

لاتا تھا اوراُنہیں غُسل خانے   میں  سیمنٹ کےبنے  بڑے سےباتھ ٹب میں ڈال کر اُن کے بڑے ہونے کا اِنتظار کر تا تھا۔وہ مچھلیاں چند دِن بعد مرنے سے پہلے 

میرے نام ہزاروں انڈے وصیت کر جاتی تھیں۔ میں آج بھی اُنہی انڈوں  کو   خیالوں میں لئے  جی رہا ہوں۔


میرے دور کی جینریشن نے وی سی آر کے توسط سے تعلیم تو خیر حاصل نہ کی  مگر  تربیت کو خوب  گلے لگایا۔ایک دور تھا جب  ایک رات کے لئے وی سی آر کرائے 

پر لایا جاتا اور بغیر کسی بریک کے چار چار فِلمیں ہضم کی جاتیں۔بعض اوقات چلتے چلتے وی سی آر  کے ہیڈ میں کچرہ آنے سے فِلم سے فِلم بینوں کا رابطہ مُنقطہ ہو جاتا 

ایسےمیں ہیڈ صاف کرنے کی ضرورت پڑتی تھی۔ میری تخیلاتی دُنیا  میں بھی انڈے اُبال  قِسم کےخیالات فِلمی انداز میں ہر دم چلتےرہتےہیں۔مگر بعض اوقات ہیڈ میں کچرہ آجانے 

کے باعث ہیڈ کی صفائی نا گزیر ہو جاتی ہے بس اِس صفائی کی خاطر میں  قلم اُٹھاتا ہوں اور کُچھ لِکھ ڈالتا ہوں۔

میں نے جب بھی لِکھا خود ہی پڑھا اور کُچھ دِنوں بعد پھاڑ کر پھینک دیا۔پِچھلے سال فروری میں میرے ایک قریبی دوست کے ہاتھ میر ی ایک تحریر لگ گئی ۔ 

جناب میرا وہ قیمتی کاغذ لے اُڑے ۔ اگلے دِن میں اپنی پُرانی سی سکوٹری پر   وہ کاغذ لینے اُن کے گھر جا پہنچا۔ موصوف نے وہ "قیمتی اثاثہ" میرے ہاتھ میں دیتے 

ہوئے ایک عدد مشورہ دے ڈالا۔"یار  یہ جوتُم فضول قِسم کی بکواس لِکھنے میں وقت برباد کرتے ہواِس س کہیں  بہتر ہے کہ اپنی اِس گند ی ہوتی  سکوٹری کو پانی و کپڑا   

مار کر صاف کر لیا کرو"۔ واپسی پر گھر جاتے ہوئے میری پھٹیچری گاڑی نے اِتنا دھواں نہیں مارا ہوگاجِتنی میرے مُنہ سے اُن کے لئے دھواں دار القابات برآمد ۔ 

بس پھِر میں نے ضِد میں آکر اپنا بلاگ بنا ڈالا۔مگر یہ میرے  محترم دوست کا بڑا پن ہے  کہ اُس نے اپنی کہی بات  کو انا کا مسئلہ نہ بنایا بلکہ وہ بلاگ پر تشریف 

بھی لاتے ہیں اور مُفید مشورے بھی دیتے ہیں۔ بڑے لوگ ہمیشہ بڑے دِل والے ہوتے ہیں۔


ہمارے معاشرے میں ہر طرف سچ ہی سچ بِکھرا ہوا ہے ہر چینل اور اخبار سچ کےاصولوں پر قائم اور  ہر کوئی سچ بول رہا ہے  اور بیچ  رہا ہے ۔ بڑا سخت مُقابلہ ہے 

اِس میدان میں ۔اِسی لئے  میں نے جھوٹ کا اِنتخاب کیا اور اپنا بلاگ جھوٹ سے  شُروع  کیا ہے  آدھے جھوٹ سے ۔ یہ تجربہ کامیاب رہا تو پورا جھوٹ بولنا بھی 

شُروع کیا جاسکتا ہے۔


میں خصوصی طور شُکریہ ادا کرنا چاہوں گا اپنے دیرینہ دوست  جعفر حُسین کا جِس نے   میری بھرپور  راہمنائی کی ۔وہ واقعی اُستاد کہلائے جانے کا حق دار ہے۔

شیخوں کی کنجوسی کے مُتعلق ہزار قِصے مشہور ہیں ۔ مگر میرے ایک شیخ  دوست ہیں ۔ وہ  مُجھے بِنا پیکج  لمبے لمبےفون کرتے ہیں اور اپنی پریکٹیکل  دُنیا  کے  قیمتی تجربات مُجھ 

حقیر سے شئیر کرتےہوئے   ہمیشہ میری راہنمائی و حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔میں اُن کا شُکریہ ادا کرنا  ضروری سمجھتا ہوں۔

میں تمام ریڈرز اور ساتھی بلاگرز کا بھی مشکور  ہوں جِن کے قیمتی کومنٹس  میری تربیت اور فِکری بلوغت کا   باعث بن رہے ہیں ۔آپ   دوستوں کا ساتھ رہا 

تو یہ سِلسلہ چلتا رہے گا۔(اِنشاللہ)          


Wednesday, 23 January 2013

مارچوں کا مِرچی مزہ



میاں نواز شریف کےپہلے دورِ حکومت  میں محترمہ بینظیر بھُٹونے حکومت سےرِشتہ ء عداوت نِبھانے کی خاطر لانگ مارچ کیا تھا جِس میں فاروق لغاری مرحوم نے 

بینظیر بھُٹو پر  کئے گئے کے وار  خود پر سہے۔  ڈی ایس پی کے چلائے گئے ڈنڈے جناب لغاری صاحب کے ہاتھ میں صدارتی کُرسی کی لکیر بنا گئے ۔ اُس  لانگ مارچ 

کو روکنے کے لئے حکومت وقت کی میڈیا ٹیم نے اچھوتا انداز اپنایا ۔ کُچھ عرصے پہلے جیتے گئے کرکٹ ورلڈ کپ  فائنل کی بال ٹو بال رِکارڈنگ چلا دی گئ ۔ اور یوں 

دِن بھر  کپتان  جی کی فری میں مشہوری ہوتی رہی۔ میاں صاحب بھی کمال کے شریف اِنسان ہیں ۔ یہ چھوٹے موٹے لوگوں  کو خود ہی ہیرو بناتے ہیں ۔مگر جیسے 

ہی اُن کے ہاتھ میں سیاسی کُلہاڑا دیکھتے ہیں تو اُنہں خوف محسوس ہونے لگتا ہے ،اور پھِر میاں صاحب اُس کُلہاڑے کو ٹھوکریں مار مار اپنے پاؤں ۔۔۔۔۔


االلہ تعالی جنت میں قاضی صاحب کو بُلند درجات عطافرمائے  آمین۔  اُن جیسا سادہ، پُرخلوص ، محنتی اور ڈٹ جانے والا اِنسان شائد ہی ہماری سیاست کو پھِر کبھی 


نصیب ہو۔ اُنکا بینظیر حکومت کے خِلاف کیا گیا لانگ مارچ بھُلائے نہیں بھولتا۔ بے نظیر کی حکومت اگست 1996 میں اُن کے مُنہ بولے بھائی فاروق لغاری نے 

ختم کر دی۔ اِس  موقع پر قاضی صاحب نے  کرپشن کے خِلاف شدید آواز اُٹھائی اور آرٹیکل 62 63 پر عمل درآمد کرنے کے لئے عملی  اِقدامات پر زور دیا۔ یہ 

قاضی صاحب ہی کی کاوش تھی کی عوام  آرٹیکل 62 63  اور اِس کے مقصد سے واقف ہوئے ۔ اِس سےپہلے  تو ہماری جنتاآرٹیکل 6263 کو نیوخان کی بس کا نمبر 

ہی سمجھتی تھی۔ قاضی  صاحب  نے پہلے احتساب پھِر اِنتخاب کا نعرہ لگاتے ہوئے عوا م کو الیکشن کے بائکاٹ کا مشورہ دیا۔ قاضی حسین اپنی سادگی کی وجہ سے  

شائد یہ بھول گئے کہ اِنہی الیکشنوں کے بہانے ہی یہ غریب عوام پورا  مہینہ پیٹ بھر کر دیگی چاول کھاتی ہے اپنی گلیا ں پکی کرواتی ہے وہ بھلا  اِس  نعمت  سے 

کیسے مُنہ پھیر سکتی تھی ۔رمضان کے بابرکت مہینے کے آخری عشرے میں یہ الیکشن بخیریت ہوگئے۔ ٹرن آؤٹ کُچھ کم رہا جِس کی وجہ جنابِ صدر  فاروق لغاری  

نے پاکستان ٹیوی پر اِنٹرویو دیتے ہوئے یہ بیان فرمائی "بہت سے لوگ تو اعتکاف میں  بیٹھ گئے ہیں اِسی لئے  ٹرن آؤٹ میں کمی محسوس ہورہی ہے"۔جناب صدر 

کی اِس موشگافی پر سٹوڈیو میں بیٹھے تمام جی حضوریوں  نے  اُنہیں دِل کھول کر داد دی۔



اسلام آباد میں کئے گئے حالیہ مارچ کو مُنفرد تو خیر قادری صاحب کی ست رنگی شخصیت نے ہی بنا  ڈالا مگر یہ ایک حقیقت ہے  کہ اِس قدر بڑے پیمانے پر اور اِتنا 

مُنظم  پروٹسٹ ہماری تاریخ میں  اِس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔اپنے معٹقدین  کو  سیاسی مقاسد کے لئے بطور ہتھیار اِستعمال کرنا  بِلاشُبہ ایک خطرناک طرزِ عمل 

ہے  ۔ اس ڈالی گئی روائت  کی ہر صاحب نظر نے مُخالفت  کی ہے۔حتی کہ بعض حلقوں کی طرف سے  اُن  معتقدین کو "دولے شاہ کی چوہیاں  " تک لِکھا گیا۔یہ 

سب اِلزام درست مگر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئےکہ ہمارےسیاسی جمہوری نظام میں کُچھ بنیادی کمزوریاں ہیں جِس کے باعث  رائے دہندگان میں 

بلوغت کا عمل جمود کا شِکا ر ہے جِس کی وجہ  پارٹیوں کا  کمزور اور شخصیات کا طاقتور ہونا ہے ۔ ایک جماعت اِسلامی کو چھوڑ کر ہر پارٹی  اِسی ڈگر پر چل رہی ہے۔

طاہرلقادری پر لگائے گئے اِلزام سُن  کر نا جانے کیوں مُجھے  گاؤں  کے چوہدری کی کہانی یاد آجاتی ہے جِس میں چوہدری اپنی بیٹی کو اعلی تعلیم دلواتا ہے اور اُس 

کے پاس ہونے پر خوشیاں مناتا ہے۔  لوگوں  سے مُبارکبادیں وصول کرتا  ہے ۔لیکن جب گاؤ ں کےکمی کی بیٹی کو اچھے  کالج میں داخلہ مِل جاتا ہے تو  چوہدری  

کو  اُس لڑکی  کی ماں کا لوز کیریکٹر یاد آنے لگتا ہے اور اُسے سماجی اور مذہبی اِقدار خطرے میں نظر آنے لگتی ہیں۔



ہماری سیاست میں  یو ٹرن لینے کی روائیت تو بہت پُرانی ہے ۔قادری صاحب کی دو اُنگلیوں کے  بنائے گئے نِشان کو حاضرین نے وِکٹری کی علامت سمجھا تھا 

درحقیقت وہ ہماری سیاست میں اِک جدید  اِصطلاح" وی  ٹرن  "کے اِضافے کو ظاہر  کر  رہی تھیں۔ اس مُقدس ایونٹ   کو زرداری صاحب نےاپنے شاطرانہ انداز 

میں خوب ہینڈل کیا اوراپنا سیاسی  منتر جنتر پڑہ  کر   اِس لانگ مارچ کو "لانگ مِرچ  "میں بدل ڈالا۔ اب زرداری  صاحب اِس  لانگ مِرچ کی  مدد سے آنے والے 

سیاسی میلے  میں اپنے  مُخالفین کے کانوں سے دھواں نِکالنے کا کرتب بھی دِکھا سکتے ہیں۔


Saturday, 5 January 2013

کرسمس کا کیک


میں روزانہ دس بجے  کے قریب اپنی دُکان  پر پہنچتا تواُسے اپنے ہتھیاروں سے لیس دُکان کے باہر کھڑا پاتا۔ وہ اِک سِپاہی کےسے  انداز میں مُجھے سلیوٹ ٹھوکتا اور دُکان کھول کر اگلے پندرہ بیس  مِنٹ میں اپنے حِصے کا کام کرتے ہوئے اگلی دُکان کا رُخ کرتا ۔اِس بڑی مارکیٹ   کے دُکاندار اُسکی   تنی ہوئی گردن اور دو گزی زبان   کو "چوہڑیاں دی آکڑ "کا نام دیتے اور اُسےبمشکل برداشت کرتے تھے۔وہ مارکیٹ میں   چوڑا مائکل کے نام سے  یاد کیا جاتا اور مائکل اوئے کے نام سے بُلایا جاتا تھا۔ غالِباً پوری مارکیٹ میں واحد میں ہی تھا  جو  اُسے پورےنام جارج مائکل سے  پُکارتا  تھا ۔ شائد اِس  کی وجہ یہ تھی کہ  مُجھے اُس کی" صِفت  " "چوہڑیاں  دی  آکڑ" سے کبھی واسطہ نہ پڑاتھا۔
اِس  لعن تعن اور  گالم گلوچ     رویے سے جب خاطر خوا ہ  نتائیج  نہ  نِکلے  تو  ساتھی دُکانداروں  نے  مارکیٹ کی صفائی سُتھرائی  اور  جارج مائیکل  سے تمام معاملات میرے حوالے کر دئیے ۔اُسے لاتوں   کی زبان سمجھانے والوں کو میں  کوشش کے باوجودکبھی قائل نہ کر سکا کہ  جانورں سے بھی بد تر ماحول میں رہنے والے وجود  کے اندر ،اِنسان فقط  مردم شُماری کے کا م آسکتا ہے ۔ ایسےحیوانی  وجود میں موجود علیل اِنسا ن کو   صِرف  پیار کی پُکار ہی تندرستی عطا کر سکتی ہے ۔ اِنسان کی روح کی غذا صرف پیار  کے بول ہیں ،صِرف پیار۔۔۔ جارج مائیکل ہر شام میری دُکان  پر ایک   کپ چائے  کے لئے  بھی آتا تھا۔ میں الیکٹرک  کیتلی سے  چائے بنا  کر  اپنے اِستعمال کے لئے رکھے اِمپورٹیڈ   ٹی سیٹ کی پِرچ پیالی  میں  بمع چمچ اِک سلیقے  سے اُسے پیش کرتا۔ وہ محض اِس ایک کپ چائے  کی خِدمت پر  مُجھ سے اِسقدر خوش تھا   کہ اپنی طرف سے ہر مُمکن کوشش کرتا تھا کہ  صفائی  کے  معاملے میں مُجھے شکائت  کا موقع نہ دے۔ وہ بچپن سے ہی  نشہ کا عادی ہو گیا تھا۔ اُس کی یہ عادت   مسائل  کا باعث بھی بنتی تھی مگر میں اُسکی  اس عادت کو  اُونٹ کی سواری  میں کوہان تصور کرتے ہوئے نظرا انداز کر دیتا تھا۔  ۔ مُجھے نہیں معلوم کہ وہ کِس کِس  قِسم کا نشہ کرتا تھا البتہ اپنی آنکھوں سے  میں نے اُسے کوئی دیسی قِسم کا کھانسی کا شربت  ایک ہی سانس میں  غٹا غٹ پیتے دیکھا تھا۔
اُس سال 24 دِسمبر  کو   میرا  ایک کرسچین  دوست ایک عدد کیک سمیت مُلاقات  کے لئے  حاضر ہوا۔اب یہ تحفہ  تو دوست کی محبت  تھی مگر  اُس روز میرا کیک کھانے کا   بالکُل  موڈ  نہ  ہوا۔  میں اُن دِنوں اِس شہر میں میں بِنا فیملی کے خالص چھڑوں کی سی زِندگی گُزار رہا تھا ۔ میں نے دُکان بند  کرتے ہوئے  خوبصورتی سے پیک ہوا وہ کرسمس کیک جارج مائیکل  کو  گِفٹ  کر دیا ۔ اِس تحفے  کو  ہاتھوں میں  لیتے وقت   اُس  نے ایسی  تشکر بھری نظروں سے مُجھے دیکھا جیسے  میں  اِنسانی شکل میں کوئی مسیحا ہو ں جو اُسے اِک نئی زِندگی اِک نیا نام عطا کر رہا  ہے ۔وہ  میرے سامنے کُرسی پر بیٹھ گیا  اور اپنی زِندگی کے  دُکھ پھرولنے لگا ۔  اپنی ماں کے  جلدی چلے جانے کا دُکھ ۔ سوتیلی ماں کے ظالمانہ سلوک کی کہانی ۔ سرکاری محکمے میں کلرک  باپ      کی بےحِسی    کی داستان جِس نے  بارہ  سالہ بچے کو گھر سے نِکال دیا۔ چھٹی  کلاس میں سکول چھُٹ جانے کا ملال۔بھیڑئے    کی طرح   کمزور  کی بوٹیاں  نوچنے والی بازاری دُنیا کی سڑکوں  پر  گُزری  لمبی  ٍراتوںمیں تڑپا دینے والی بھوک۔ شادی کے تیسرے مہینے      بیگم  کے اپنے آشنا کے ساتھ بھاگ جانے کی ٹریجڈی ۔ میں اُس کی لائف میں ہونے والی ٹریجیدیز میں بالکُل کوئی دِلچسی نہ رکھتا تھا   اور اِس دوران کلائی پر بندھی گھڑی کی سوئیوں   کو گھور  گھور کر تیز چلانے  کی ناکام  کوشش کرتا رہا  ۔مگر اُسکی  زبان  ایک ایگزاسٹ فین کی طرح نان سٹاپ چلتی جارہی تھی  غالباً    اُس کےاندر کا  گھُٹ  کر مرتا ہوا اِنسان پہلی  مرتبہ   چیخ چیخ کر  تازہ ہوا مانگ رہا تھا۔
کُچھ تازگی  محسوس کرتا جارج مائیکل چند  دِن ہی مزید جی  سکا۔ نئے سال کا سورج دیکھنے سے پہلے ہی   اُس کی جھبیس ستائیس سالہ  زِندگی  کی ڈوری  ٹوٹ  گئی ۔ وہ یکم  جنوری  1998 کی صبح ،قبرستان کے  گیٹ کے داہنے طرف لگے نیِم  کے پیٹر  تلے مُردہ حالت میں پایا  گیا۔ اُسکی  موت   کِسی  دیسی کھانسی کے شربت سےہوئی ؟  کوئی زیریلی شراب؟ یاپھِر  معاشرتی نا ہمواریاں اُس  کی قاتل  تھیں؟  یہ سوال کِسی نے  نہ اُٹھایا  بس اللہ  کی مرضی والا کلیہ  لگا کر مِٹی ڈال دی گئی۔ مُجھے اُس کی موت کی خبر ایک دِن بعد مِلی  ۔ میں نے اپنی ریوالونگ چئیرکو اِدھر اُدھر  گھُما کر  بس ڈھائی تین  منٹ   تک ہی اُس کے مرنے کا افسوس  کیا۔اِ س مصروف دُنیا میں بیکار  کے کاموں  کے لئے  وقت بچتا ہی کہاں ہے ۔بچپن میں پیارے نبی کی پیاری باتیں  پڑہنے کا موقع مِلا تھا  اگر میں اُن پیاری باتوں  کو مشعل ِ راہ بناتاتو کم ازکم مائیکل   کی قبر پر ایک عدد پھول رکھنے تو ضرورجاتا۔مگر میں تو  بچپن ہی سے ہر میدان میں تینتیس نمبر لینے والا   ہوں کہ جسِ نے چونتییسویں  کی کبھی  آرزو بھی  نہ کی۔بچپن میں مولوی صاحب نے ایک بات ذہن نشین کروا  دی تھی کہ  نبی سے عشق کا دعویٰ ہی  پاسنگ مارکس دلوا دیتا ہے  ۔میرے لئے تو بس یہی تینتیس نمبر ہی کافی ہیں۔
آج بہت سالوں بعد نا جانے کیوں  میرا جارج مائکل سے معافی  مانگنے  کو دِل کررہا ہے ۔ اپنی چالاکیوں  کی معافی ۔ میں  نے اُسے  ہمیشہ اپنے  اِمپورٹڈ سیٹ  میں علیحدہ سے رکھے پِرچ پیالی  میں چائے دی   ۔وہ میری  اِس  چالاکی  کو کبھی نہ سمجھ  سکا  اور  میری اِنسانیت دوستی  کے گیت گا تا رہا ۔میں نے ہمیشہ  اُس کے غلیظ  کپڑوں اور میلے کُچیلے جِسم  سے گھِن محسوس  کی   اور نہ ہی میرے دِل  میں اُس  گنوار کے لئے کوئی نیک جذبات تھےمگر وہ مُجھے  غریب  و لاچار لوگوں کا دِلی  ہمدرد  ہی سمجھتا رہا۔
میں جب بھی کوئی پبلک ٹائیلٹ  اِستعمال کرتا  ہوں تو دیواروں پر لِکھے غلیظ فِقرے  پڑھ کر  مُجھے مائکل  کی یاد ضرور آتی ہے جِس  نے ہمیشہ اِس بات  کو یقینی  بنایا تھا   کہ دیواروں  پر کچھ  بھی لکھا   نہ جائے۔مگر وہ  اِک بے ہنگم سے کٹے گتے پر  اُس کی اپنی ٹوٹی  پھوٹی لِکھائی میں لِکھا ہو ا  اِک شعر جو بیرونی  دروازے  کی چوکٹھ پر   ہمیشہ لٹکا  رہا۔
میری غُربت نے اُڑایا  ہے میرے فن کا مذاق
تیری دولت نے تیرے عیب چھُپا رکھے ہیں


                 

Sunday, 9 December 2012

بڑا سخت جان ہے ہمارا غریب



کرکِٹ کے کھیل نے انگریز اشرافیہ کے ہاں پرورش پائی ۔ یہی وجہ ہے رکھ رکھاؤ اعلی  اقدار اِس کھیل کا حِصہ بنیں  اور کرکٹ  کو جنٹلمینز گیم کے نام سے شہرت مِلی ۔ آج بھی  اعلیٰ  درجے کے انگریزخاندانوں  میں  یہ کھیل شُرفا کی شان سمجھا جاتا ہے۔جب 1992 کا ورلڈ کپ جاری تھا اور پاکِستان شِکست  پر شِکست  کھاتا  جارہا تھا،  تو اِنگلینڈ میں ایک ظہرانے کے دوران ملکہ الزبتھ نے پاکسِتانی سفیر سے   اُن کی ٹیم کی بُری کارکردگی پر اپنی تشویش کا اِظہار کیا تھا۔بس پھِر کیا تھا ہم نے شاہ سے زیادہ ملکہ کا وفادار ہونے کی  ایک انوکھی مثال قائم کر ڈالی

کرکٹ   انگریز شاہوں  کے ڈیروں  سے باہر نِکلی تو جزائرغربُ الہند  کے کالوں اور برِ صغیر کے رنگ  والوں  کے میدانوں ،پارکوں ،سڑکوں ،فُٹ پاتھوں ،اورگلیوں تک جاپہنچی۔  ہمارے محلوں میں بچے کرکٹ  اُن تنگ و تاریک  گلیوں میں بھی کھیلتے نظر آتے ہیں  جن میں سورج  بھی سارا سال جھانکنے کی ہِمت نہیں کرتا   ۔ اِن تنگ گلیوں میں  جب گیند باؤلر کے ہاتھ سے نکل کر  بیٹ کو چھوتی  ہے تو اُ سکے  بہتی  ہوئی گندی نالی  میں ڈُبکی لینے کے اِمکانات 70فی صد سےبھی  زائد   ہوتے ہیں مگر  کھیل  پھر  بھی جاری رہتا ہے ۔  کرکٹ کی اِسقدر  عوامی مقبولیت  سے اِس کھیل کی جنٹملینی تو خیر کِسی نالی  میں بہہ گئی مگر یہ کھیل  نِکھرتا گیا۔ اِسے  دِلکشی   و طِلسماتی  کشش عطا کرنے  میں  غُلام رہے ممالک کے پلئیرز کا کرِدار  جھُتلایا نہیں جاسکتا ۔غریب  میلکم مارشل   سے لیکر تنگ دست عبدلقادر اور وِو رچرڈزسے لیکر  ٹنڈلکر  تک بیسیوں  نام  ہیں جِن  کی بدولت  
یہ کھیل  آج لوگوں دِلوں  پر حُکمرانی کرتا ہے۔

سنوکر   کی کہانی بھی کُچھ  زیادہ مُختلف نہیں ہے۔ لفظ سنوکر کا  لغوی معنی  غیر  تربیت یافتہ  یا فرسٹ یئر کیڈٹ  ہے ۔  برِصغیر  میں تعینات برِٹش آرمی کا پسندیدہ کھیل  بِلئرڈ تھا   اور  وہیں   سے سنوکر   کا جنم ہوا۔  جبل پور  کے آفیسرز میس میں1875 پہلی بار اس کھیل میں رنگین گیندوں  کا اِستعمال کیا گیا۔  لگ بھگ دس سال بعد کھیل کے رولز طے کئے گئے۔  بیسویں صدی  کے آغاز میں سنوکر  برطانیہ میں تیزی سے مقبول ہونے لگا،مگر  اِس کھیل کو اِبتدا  ہی سے 

اپر کلا س تک ہی محدود رکھا گیا ۔برطانیہ  کے کلبز  میں مخصوص ممبرز ہی یہ کھیل  کھیلنے کے حقدا ر تھے۔ 
قائد اعظم کا  اِس کھیل سے لگاؤ سنوکر سے ہمارے  تعظیمی رِشتے کا باعث بنا۔وقت گُزرنے کے ساتھ  یہ  کھیل   ہمارے ہاں عام  ہوا  اورکرکٹ  کی  طرح تمام حدیں کراس کرتا  چلا گیا اور  بڑے دیہاتوں میں  گارے  کی چھتی   ہوئی چھت  کے تلے ، گرد سے اٹی ٹیبلوں پر  کھیلا جاتا ہوا  بھی نظر آنے  لگا۔ہمارا غریب بھی بہت سخت جان واقع ہوا  ہے  بالکُل  کھُمبی  کے بیچ  کی طرح کا سخت جان۔  گندگی میں تو  یہ پھلتا پھولتا ہے  ہی   ، گر موقع میسر آجائے تو    بادشاہوں کے باغات میں بھی جلوہ گر ہوکر اپنی   حیثیت منوا لیتا  ہے ۔ خواہ  سالہا  سال  مٹی کے نیچے دبا رہنا  پڑے  ۔  حالیہ دِنوں میں بلغاریہ میں    کھیلی  گئی ورلڈ کپ سنوکر ٹائٹل اپنے 
نام کر کے یہی بات ثابت کر دِکھائی محمد آصف   نامی اِک غریب پاکِستانی نے ۔

اِسی طرح اگر تختِ سُلطانی کو بھی   چند خاندانوں  سے نِکال کر  عام کر  دیا  جائے تو  قیاس کیا جا سکتا ہے کہ  اِک چھابڑی فروش سے لیکر  رکشے والا تک تختِ سُلطانی کے خواب دیکھنے لگے گا جِس سے بہت  لُٹ مچے گی ہر طرف لوٹ سیل لگ جائے  گی   اور یہ تخت ِ سُلطانی   اِن غریبوں  کی  پھٹی ایڑیوں  میں جمی گندی مٹی سے اٹ جائے گا۔ مگر اس حقیقت   کو کیسے جھُٹلایا جائےکہ   اقوامِ  عالم میں   چیمپئین فقط اِس  راہ کو اپنانے سے ہی بنا  جاسکتا ہے کیونکہ بڑا سخت جان ہے ہمارا غریب۔