Sunday, 17 February 2013

جمہوریت یا جمہوری تماشا




18 فروری 2008 کو قوم نے اپنے نمائندوں کا اِنتخاب کیا تھا۔کھِلتے گُلاب ،مہکتی بہار  اور مُسکراتے ہوئے سورج نے ہر طرف رنگ تو بکھیرے  ہی ہوئے 

تھے مگر سیاسی میدان کی گرما گرمی نے اِس دِن کی غضبناکی میں دُگنا چُگنا اِضافہ کر دیا۔  میں شیر کی تصویروں سے سجی گاڑی میں اپنے کزن کے  ساتھ پولنگ 

سٹیشن تک گیا تھا۔اُس وقت تک پولنگ سٹیشن پرزیادہ رش نہیں ہوا تھا۔ میرے کزن نے ووٹ ڈالا مگر میں مُشرف کے اِس این آر او زدہ الیکشن کا حِصہ نہ بننے کا 

پہلے سے ہی فیصلہ کر چُکا تھا۔ بقیہ دِن اخبار پڑہتے ،ٹی وی دیکھتے اور  لذیذ کھانوں کے ساتھ سیاست پر چسکور ی گفتکو  کرتے گُزرا۔میں ٹی وی پر جمہوریت کے حق  

میں کئے گئے سیاسی تبصرے سُنتا رہا اور جھومتا رہا۔مثلا! "پاکِستان میں دو پارٹی سِسٹم رواج پا چُکا ہے" "پاکِستانی ووٹرزبہت باشعور ہو چُکے"۔پاکِستان میں مضبوط ہوتی 

جمہوریت اور فروغ پاتے جمہوری کلچر کے مُثبت اِشارے دِل کو بہت بھانے لگے۔  جمہوریت کی دھمال ڈالتا ہوا میرا ذہین اِس بات کو قطعی طور پر نظر انداز کر 

تا رہاکہ میری بیگم تمام دِن اپنی مرضی کے مُطابق ووٹ کاحق اِستعمال کرنے کی خواہش ظاہر کرتی رہی مگرمیں اُس پر اپنی مرضی مُسلط کرنے کی کوشش کرتا رہا۔

قائد اعظم  نے نہ جانے کِن مُسلمانوں کا خون کِس لیبارٹری سے چیک کروایا تھا ،جِس کے مُطابق جمہوریت مُسلمانوں کے خون میں شامل ہے۔


میری چسکوری فِطرت نے مُجھے  ہمیشہ مجبور کیا کہ میں اپنے گھر سے قریب مین روڈ پر دہی بھلے کی  ریڑھی پررالیں ٹپکاتے ہوئے  ہر دوسرے تیسرے دِن حاضری دوں۔

جب تک میں فیصل آبادمیں  رہا یہ سِلسلہ اِسی طرح چلتا رہا  ۔پچھلے دِنوں  فیصل آباد کا چکر لگا تو میں اُس دہی بھلے کی ریڑی پر پیٹ کا چسکا بھرنے پہنچ گیا۔ بہت کُچھ 

بدل گیا تھا اِرد گِرد کا ماحول بھی اور دہی بھلے  والا بھی ۔اُس سادہ سی ریڑھی کی جگہ برقی قمقموں سے سجے سٹال نے لے لی تھی ۔  مُجھے نہ تو اِس بدلے ماحول  میں 

کوئی کشش محسوس ہوئی اورنہ  ہی دہی بھلوں  کی پلیٹ نے وہ پہلے کا سا مزہ دیا۔رات کا وقت تھا اور رش بالکُل بھی نہ تھا۔میں نے اپنا چسکا پورا کرنے کی دہی بھلے 

والے سے  سیاست کا موضوع چھیڑ دیا۔ جناب نے مُجھے سیاست پر اچھا خاصہ لیکچر دے ڈالا جِس کا  اِختتام اِن الفاظ پر تھا "وڈی بُرائی دی جگہ چھوٹی بُرائی دا اِنتخاب 

ہی بہتر ہے "۔ اُس کا یہ جواب مُجھے بیس سال پیچھے لے گیا۔جب اِسی جگہ پر اِسی  کے باپ نے یہ "چھوٹی بُرائی تھیوری "میٹرک میں پڑہتے ہوئے اِک بچے کو سمجھائی 

تھی۔میں کافی دیر تک وہیں بیٹھا یہ سوچتا رہا کہ پِچھلے بیس سال میں کیا کُچھ  بدلا اور کیا کُچھ جوں کا توں ہی رکھ دیا گیا۔ مگر کب تک کے لئے؟؟؟


تُم آنے والے الیکشن میں کس پارٹی کو ووٹ دو گے؟ یہ سوال جب میں نے اپنے ایک اچھے خاصے پڑہے لِکھے دوست سے کیا تو اُس کا جواب تھا :"اُسی پارٹی کو 

جِسے  2008 کے الیکشن میں ذِمہ داری سونپی تھی ۔اپنے اِس جواب کی وضاحت میں بتانے والے نے  بتایا  " ہماری گلی کی ٹوٹی سڑک نئی بنا دی گئی ہے ۔ محلے کا 

کوڑا کرکٹ اُٹھانے کا بندوبست کر دیا گیاہے اور سب سے بڑھ کر یہ بات کہ میرے بچے کا برتھ سرٹیفیکیٹ میری منشا کے عین مُطابق 2 سال کم کرکے تیار 

حالت میں میرے ہاتھ میں تھما دیا گیا ہے اب اِس سے بڑھ کر مُجھے اور کیا چاہئے؟ "بس یہی ہے ہماری جمہوریت کی پانچ سالہ پرفارمنس ۔ہماری پانچ سالہ جیتی 

جاگتی جمہوریت نے لوکل باڈیز سطح کے کام قانون ساز نمائندوں کے حوالے کئے رکھےہم پر ڈیڑہ سو سالہ کمشنری نظام مسلط رکھااور اِسی کو جمہوریت کا  نام دیاجا تا رہا ۔ شرمناک بات یہ ہے کہ آج بھی  
ہمارا قانون ساز نمائندہ ڈیولپمنٹ فنڈ کے سر پر اپنی کارکردگی منواتا ہوا نظر آتا ہے ۔


پِچھلے دِنوں لاہور میں چلنے والی بس سروس کو دیکھ کر حقیقی معنوں میں خوشی محسوس ہوئی  مگر اِس بس کو اِنقلابی رنگ دینے کے لئے میر ے ہی دئے گئے ٹیکس 

کے سر پر جِس طرح سے پبلسٹی کی گئی وہ لمحہ فِکریہ ہے۔ کب تک ہمارے ہاں اِنقلاب سڑکوں ہی کے راستے آتا رہے گا۔ فِکری انقلاب کی طرف قدم کب اُٹھائے 

جائیں گے؟؟۔کہ جِس سے ہمارا ووٹر بِنا خوف اور لالچ کے سوچ میں آزاد ہوگا ۔ یہ  آزادی ہی ہمیں بالغ نظر بنا سکتی ہے ۔نہیں تو جمہوریت کے نام پر جمہوری 

تماشے یوں ہی چلتے رہیں گے۔


Saturday, 2 February 2013

آدھا جھوٹ کا ایک سال



میرے تخیل نے جب بھی اُڑان بھرنے کے لئے پر تولے تو اُن کا وزن چند چھٹانکوں سے  زیادہ نہ نِکلا ۔کوشش در کوشش سے تولے ،ماشوں میں  اِضافہ تو ہوا مگر 

تخیل کاشوق ِ پرواز اِنہی ٹوٹے پھوٹے  اور بےوزن پروں میں ہی دم توڑتاگیا  ۔  مجبوراً   مُجھے  یہ نتیجہ اخذ کرنا پڑا کہ یہ کم بخت میرا تخیل بھی حقیقی زِندگی کا 

آئینہ دار  ہے۔۔۔میر ی حقیقی زِندگی کی مثال اُس سرکاری دفتر کے آفس بوائے کی سی ہے  جو کہ صاحب کے روم کے باہر بیٹھا اکثر خوابِ اخروٹ کے مزے 

لیتا دِکھائی دیتا ہے .ایک کپ چائے کے لئے نیند میں خلل آنے پر مُنہ بسورتا ہوا کِچن کا رُخ کرتا ہے اور ایک عدد سینہ ساڑ قِسم کی  کالی چائے کا کپ طلبگار 

کی خِدمت میں دے مارتا ہے۔


 میں تخیل کے پرواز کا شوق تو پورا نہ کرپایا  مگر اپنا خیالی انڈےاُبالنے کا شوق ابھی تک پالے ہوئے ہوں۔انڈوں کا یہ خیالی کاروبار کِسی شیخ چلی کی صحبت کا  اثر 

نہیں ہے بلکہ یہ انتخاب میں نے اپنی سہل پسندی کی عادت کے باعث خود ہی فرمایا ہے ۔ایک تو دماغ میں اُبل اُبل کر یہ انڈے خود ہی پک جاتے ہیں   اور میرے تخیل 

کو دوام  بخشنے کا باعث بنتے ہیں ۔دوسری بات یہ کہ اگر  کُچھ کرنے کو دِل نہ چاہے تو بِنا کِسی جھنجٹ کے توڑ کر پھینکنا بھی آسان کام ہے۔ جہاں تک مُجھے یاد پڑتا ہے خیالی انڈے 

اُبالنے کا  شوق مُجھے بلوغت کی پیچیدہ زِندگی میں قدم رکھنے سے پہلے سے  ہے۔جب میں اپنی دادی اماں سے روپیہ دو روپیہ لیکر رگلی میں  بِکتی چھوٹی چھوٹی مچھلیاں خرید 

لاتا تھا اوراُنہیں غُسل خانے   میں  سیمنٹ کےبنے  بڑے سےباتھ ٹب میں ڈال کر اُن کے بڑے ہونے کا اِنتظار کر تا تھا۔وہ مچھلیاں چند دِن بعد مرنے سے پہلے 

میرے نام ہزاروں انڈے وصیت کر جاتی تھیں۔ میں آج بھی اُنہی انڈوں  کو   خیالوں میں لئے  جی رہا ہوں۔


میرے دور کی جینریشن نے وی سی آر کے توسط سے تعلیم تو خیر حاصل نہ کی  مگر  تربیت کو خوب  گلے لگایا۔ایک دور تھا جب  ایک رات کے لئے وی سی آر کرائے 

پر لایا جاتا اور بغیر کسی بریک کے چار چار فِلمیں ہضم کی جاتیں۔بعض اوقات چلتے چلتے وی سی آر  کے ہیڈ میں کچرہ آنے سے فِلم سے فِلم بینوں کا رابطہ مُنقطہ ہو جاتا 

ایسےمیں ہیڈ صاف کرنے کی ضرورت پڑتی تھی۔ میری تخیلاتی دُنیا  میں بھی انڈے اُبال  قِسم کےخیالات فِلمی انداز میں ہر دم چلتےرہتےہیں۔مگر بعض اوقات ہیڈ میں کچرہ آجانے 

کے باعث ہیڈ کی صفائی نا گزیر ہو جاتی ہے بس اِس صفائی کی خاطر میں  قلم اُٹھاتا ہوں اور کُچھ لِکھ ڈالتا ہوں۔

میں نے جب بھی لِکھا خود ہی پڑھا اور کُچھ دِنوں بعد پھاڑ کر پھینک دیا۔پِچھلے سال فروری میں میرے ایک قریبی دوست کے ہاتھ میر ی ایک تحریر لگ گئی ۔ 

جناب میرا وہ قیمتی کاغذ لے اُڑے ۔ اگلے دِن میں اپنی پُرانی سی سکوٹری پر   وہ کاغذ لینے اُن کے گھر جا پہنچا۔ موصوف نے وہ "قیمتی اثاثہ" میرے ہاتھ میں دیتے 

ہوئے ایک عدد مشورہ دے ڈالا۔"یار  یہ جوتُم فضول قِسم کی بکواس لِکھنے میں وقت برباد کرتے ہواِس س کہیں  بہتر ہے کہ اپنی اِس گند ی ہوتی  سکوٹری کو پانی و کپڑا   

مار کر صاف کر لیا کرو"۔ واپسی پر گھر جاتے ہوئے میری پھٹیچری گاڑی نے اِتنا دھواں نہیں مارا ہوگاجِتنی میرے مُنہ سے اُن کے لئے دھواں دار القابات برآمد ۔ 

بس پھِر میں نے ضِد میں آکر اپنا بلاگ بنا ڈالا۔مگر یہ میرے  محترم دوست کا بڑا پن ہے  کہ اُس نے اپنی کہی بات  کو انا کا مسئلہ نہ بنایا بلکہ وہ بلاگ پر تشریف 

بھی لاتے ہیں اور مُفید مشورے بھی دیتے ہیں۔ بڑے لوگ ہمیشہ بڑے دِل والے ہوتے ہیں۔


ہمارے معاشرے میں ہر طرف سچ ہی سچ بِکھرا ہوا ہے ہر چینل اور اخبار سچ کےاصولوں پر قائم اور  ہر کوئی سچ بول رہا ہے  اور بیچ  رہا ہے ۔ بڑا سخت مُقابلہ ہے 

اِس میدان میں ۔اِسی لئے  میں نے جھوٹ کا اِنتخاب کیا اور اپنا بلاگ جھوٹ سے  شُروع  کیا ہے  آدھے جھوٹ سے ۔ یہ تجربہ کامیاب رہا تو پورا جھوٹ بولنا بھی 

شُروع کیا جاسکتا ہے۔


میں خصوصی طور شُکریہ ادا کرنا چاہوں گا اپنے دیرینہ دوست  جعفر حُسین کا جِس نے   میری بھرپور  راہمنائی کی ۔وہ واقعی اُستاد کہلائے جانے کا حق دار ہے۔

شیخوں کی کنجوسی کے مُتعلق ہزار قِصے مشہور ہیں ۔ مگر میرے ایک شیخ  دوست ہیں ۔ وہ  مُجھے بِنا پیکج  لمبے لمبےفون کرتے ہیں اور اپنی پریکٹیکل  دُنیا  کے  قیمتی تجربات مُجھ 

حقیر سے شئیر کرتےہوئے   ہمیشہ میری راہنمائی و حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔میں اُن کا شُکریہ ادا کرنا  ضروری سمجھتا ہوں۔

میں تمام ریڈرز اور ساتھی بلاگرز کا بھی مشکور  ہوں جِن کے قیمتی کومنٹس  میری تربیت اور فِکری بلوغت کا   باعث بن رہے ہیں ۔آپ   دوستوں کا ساتھ رہا 

تو یہ سِلسلہ چلتا رہے گا۔(اِنشاللہ)          


Wednesday, 23 January 2013

مارچوں کا مِرچی مزہ



میاں نواز شریف کےپہلے دورِ حکومت  میں محترمہ بینظیر بھُٹونے حکومت سےرِشتہ ء عداوت نِبھانے کی خاطر لانگ مارچ کیا تھا جِس میں فاروق لغاری مرحوم نے 

بینظیر بھُٹو پر  کئے گئے کے وار  خود پر سہے۔  ڈی ایس پی کے چلائے گئے ڈنڈے جناب لغاری صاحب کے ہاتھ میں صدارتی کُرسی کی لکیر بنا گئے ۔ اُس  لانگ مارچ 

کو روکنے کے لئے حکومت وقت کی میڈیا ٹیم نے اچھوتا انداز اپنایا ۔ کُچھ عرصے پہلے جیتے گئے کرکٹ ورلڈ کپ  فائنل کی بال ٹو بال رِکارڈنگ چلا دی گئ ۔ اور یوں 

دِن بھر  کپتان  جی کی فری میں مشہوری ہوتی رہی۔ میاں صاحب بھی کمال کے شریف اِنسان ہیں ۔ یہ چھوٹے موٹے لوگوں  کو خود ہی ہیرو بناتے ہیں ۔مگر جیسے 

ہی اُن کے ہاتھ میں سیاسی کُلہاڑا دیکھتے ہیں تو اُنہں خوف محسوس ہونے لگتا ہے ،اور پھِر میاں صاحب اُس کُلہاڑے کو ٹھوکریں مار مار اپنے پاؤں ۔۔۔۔۔


االلہ تعالی جنت میں قاضی صاحب کو بُلند درجات عطافرمائے  آمین۔  اُن جیسا سادہ، پُرخلوص ، محنتی اور ڈٹ جانے والا اِنسان شائد ہی ہماری سیاست کو پھِر کبھی 


نصیب ہو۔ اُنکا بینظیر حکومت کے خِلاف کیا گیا لانگ مارچ بھُلائے نہیں بھولتا۔ بے نظیر کی حکومت اگست 1996 میں اُن کے مُنہ بولے بھائی فاروق لغاری نے 

ختم کر دی۔ اِس  موقع پر قاضی صاحب نے  کرپشن کے خِلاف شدید آواز اُٹھائی اور آرٹیکل 62 63 پر عمل درآمد کرنے کے لئے عملی  اِقدامات پر زور دیا۔ یہ 

قاضی صاحب ہی کی کاوش تھی کی عوام  آرٹیکل 62 63  اور اِس کے مقصد سے واقف ہوئے ۔ اِس سےپہلے  تو ہماری جنتاآرٹیکل 6263 کو نیوخان کی بس کا نمبر 

ہی سمجھتی تھی۔ قاضی  صاحب  نے پہلے احتساب پھِر اِنتخاب کا نعرہ لگاتے ہوئے عوا م کو الیکشن کے بائکاٹ کا مشورہ دیا۔ قاضی حسین اپنی سادگی کی وجہ سے  

شائد یہ بھول گئے کہ اِنہی الیکشنوں کے بہانے ہی یہ غریب عوام پورا  مہینہ پیٹ بھر کر دیگی چاول کھاتی ہے اپنی گلیا ں پکی کرواتی ہے وہ بھلا  اِس  نعمت  سے 

کیسے مُنہ پھیر سکتی تھی ۔رمضان کے بابرکت مہینے کے آخری عشرے میں یہ الیکشن بخیریت ہوگئے۔ ٹرن آؤٹ کُچھ کم رہا جِس کی وجہ جنابِ صدر  فاروق لغاری  

نے پاکستان ٹیوی پر اِنٹرویو دیتے ہوئے یہ بیان فرمائی "بہت سے لوگ تو اعتکاف میں  بیٹھ گئے ہیں اِسی لئے  ٹرن آؤٹ میں کمی محسوس ہورہی ہے"۔جناب صدر 

کی اِس موشگافی پر سٹوڈیو میں بیٹھے تمام جی حضوریوں  نے  اُنہیں دِل کھول کر داد دی۔



اسلام آباد میں کئے گئے حالیہ مارچ کو مُنفرد تو خیر قادری صاحب کی ست رنگی شخصیت نے ہی بنا  ڈالا مگر یہ ایک حقیقت ہے  کہ اِس قدر بڑے پیمانے پر اور اِتنا 

مُنظم  پروٹسٹ ہماری تاریخ میں  اِس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔اپنے معٹقدین  کو  سیاسی مقاسد کے لئے بطور ہتھیار اِستعمال کرنا  بِلاشُبہ ایک خطرناک طرزِ عمل 

ہے  ۔ اس ڈالی گئی روائت  کی ہر صاحب نظر نے مُخالفت  کی ہے۔حتی کہ بعض حلقوں کی طرف سے  اُن  معتقدین کو "دولے شاہ کی چوہیاں  " تک لِکھا گیا۔یہ 

سب اِلزام درست مگر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئےکہ ہمارےسیاسی جمہوری نظام میں کُچھ بنیادی کمزوریاں ہیں جِس کے باعث  رائے دہندگان میں 

بلوغت کا عمل جمود کا شِکا ر ہے جِس کی وجہ  پارٹیوں کا  کمزور اور شخصیات کا طاقتور ہونا ہے ۔ ایک جماعت اِسلامی کو چھوڑ کر ہر پارٹی  اِسی ڈگر پر چل رہی ہے۔

طاہرلقادری پر لگائے گئے اِلزام سُن  کر نا جانے کیوں مُجھے  گاؤں  کے چوہدری کی کہانی یاد آجاتی ہے جِس میں چوہدری اپنی بیٹی کو اعلی تعلیم دلواتا ہے اور اُس 

کے پاس ہونے پر خوشیاں مناتا ہے۔  لوگوں  سے مُبارکبادیں وصول کرتا  ہے ۔لیکن جب گاؤ ں کےکمی کی بیٹی کو اچھے  کالج میں داخلہ مِل جاتا ہے تو  چوہدری  

کو  اُس لڑکی  کی ماں کا لوز کیریکٹر یاد آنے لگتا ہے اور اُسے سماجی اور مذہبی اِقدار خطرے میں نظر آنے لگتی ہیں۔



ہماری سیاست میں  یو ٹرن لینے کی روائیت تو بہت پُرانی ہے ۔قادری صاحب کی دو اُنگلیوں کے  بنائے گئے نِشان کو حاضرین نے وِکٹری کی علامت سمجھا تھا 

درحقیقت وہ ہماری سیاست میں اِک جدید  اِصطلاح" وی  ٹرن  "کے اِضافے کو ظاہر  کر  رہی تھیں۔ اس مُقدس ایونٹ   کو زرداری صاحب نےاپنے شاطرانہ انداز 

میں خوب ہینڈل کیا اوراپنا سیاسی  منتر جنتر پڑہ  کر   اِس لانگ مارچ کو "لانگ مِرچ  "میں بدل ڈالا۔ اب زرداری  صاحب اِس  لانگ مِرچ کی  مدد سے آنے والے 

سیاسی میلے  میں اپنے  مُخالفین کے کانوں سے دھواں نِکالنے کا کرتب بھی دِکھا سکتے ہیں۔


Saturday, 5 January 2013

کرسمس کا کیک


میں روزانہ دس بجے  کے قریب اپنی دُکان  پر پہنچتا تواُسے اپنے ہتھیاروں سے لیس دُکان کے باہر کھڑا پاتا۔ وہ اِک سِپاہی کےسے  انداز میں مُجھے سلیوٹ ٹھوکتا اور دُکان کھول کر اگلے پندرہ بیس  مِنٹ میں اپنے حِصے کا کام کرتے ہوئے اگلی دُکان کا رُخ کرتا ۔اِس بڑی مارکیٹ   کے دُکاندار اُسکی   تنی ہوئی گردن اور دو گزی زبان   کو "چوہڑیاں دی آکڑ "کا نام دیتے اور اُسےبمشکل برداشت کرتے تھے۔وہ مارکیٹ میں   چوڑا مائکل کے نام سے  یاد کیا جاتا اور مائکل اوئے کے نام سے بُلایا جاتا تھا۔ غالِباً پوری مارکیٹ میں واحد میں ہی تھا  جو  اُسے پورےنام جارج مائکل سے  پُکارتا  تھا ۔ شائد اِس  کی وجہ یہ تھی کہ  مُجھے اُس کی" صِفت  " "چوہڑیاں  دی  آکڑ" سے کبھی واسطہ نہ پڑاتھا۔
اِس  لعن تعن اور  گالم گلوچ     رویے سے جب خاطر خوا ہ  نتائیج  نہ  نِکلے  تو  ساتھی دُکانداروں  نے  مارکیٹ کی صفائی سُتھرائی  اور  جارج مائیکل  سے تمام معاملات میرے حوالے کر دئیے ۔اُسے لاتوں   کی زبان سمجھانے والوں کو میں  کوشش کے باوجودکبھی قائل نہ کر سکا کہ  جانورں سے بھی بد تر ماحول میں رہنے والے وجود  کے اندر ،اِنسان فقط  مردم شُماری کے کا م آسکتا ہے ۔ ایسےحیوانی  وجود میں موجود علیل اِنسا ن کو   صِرف  پیار کی پُکار ہی تندرستی عطا کر سکتی ہے ۔ اِنسان کی روح کی غذا صرف پیار  کے بول ہیں ،صِرف پیار۔۔۔ جارج مائیکل ہر شام میری دُکان  پر ایک   کپ چائے  کے لئے  بھی آتا تھا۔ میں الیکٹرک  کیتلی سے  چائے بنا  کر  اپنے اِستعمال کے لئے رکھے اِمپورٹیڈ   ٹی سیٹ کی پِرچ پیالی  میں  بمع چمچ اِک سلیقے  سے اُسے پیش کرتا۔ وہ محض اِس ایک کپ چائے  کی خِدمت پر  مُجھ سے اِسقدر خوش تھا   کہ اپنی طرف سے ہر مُمکن کوشش کرتا تھا کہ  صفائی  کے  معاملے میں مُجھے شکائت  کا موقع نہ دے۔ وہ بچپن سے ہی  نشہ کا عادی ہو گیا تھا۔ اُس کی یہ عادت   مسائل  کا باعث بھی بنتی تھی مگر میں اُسکی  اس عادت کو  اُونٹ کی سواری  میں کوہان تصور کرتے ہوئے نظرا انداز کر دیتا تھا۔  ۔ مُجھے نہیں معلوم کہ وہ کِس کِس  قِسم کا نشہ کرتا تھا البتہ اپنی آنکھوں سے  میں نے اُسے کوئی دیسی قِسم کا کھانسی کا شربت  ایک ہی سانس میں  غٹا غٹ پیتے دیکھا تھا۔
اُس سال 24 دِسمبر  کو   میرا  ایک کرسچین  دوست ایک عدد کیک سمیت مُلاقات  کے لئے  حاضر ہوا۔اب یہ تحفہ  تو دوست کی محبت  تھی مگر  اُس روز میرا کیک کھانے کا   بالکُل  موڈ  نہ  ہوا۔  میں اُن دِنوں اِس شہر میں میں بِنا فیملی کے خالص چھڑوں کی سی زِندگی گُزار رہا تھا ۔ میں نے دُکان بند  کرتے ہوئے  خوبصورتی سے پیک ہوا وہ کرسمس کیک جارج مائیکل  کو  گِفٹ  کر دیا ۔ اِس تحفے  کو  ہاتھوں میں  لیتے وقت   اُس  نے ایسی  تشکر بھری نظروں سے مُجھے دیکھا جیسے  میں  اِنسانی شکل میں کوئی مسیحا ہو ں جو اُسے اِک نئی زِندگی اِک نیا نام عطا کر رہا  ہے ۔وہ  میرے سامنے کُرسی پر بیٹھ گیا  اور اپنی زِندگی کے  دُکھ پھرولنے لگا ۔  اپنی ماں کے  جلدی چلے جانے کا دُکھ ۔ سوتیلی ماں کے ظالمانہ سلوک کی کہانی ۔ سرکاری محکمے میں کلرک  باپ      کی بےحِسی    کی داستان جِس نے  بارہ  سالہ بچے کو گھر سے نِکال دیا۔ چھٹی  کلاس میں سکول چھُٹ جانے کا ملال۔بھیڑئے    کی طرح   کمزور  کی بوٹیاں  نوچنے والی بازاری دُنیا کی سڑکوں  پر  گُزری  لمبی  ٍراتوںمیں تڑپا دینے والی بھوک۔ شادی کے تیسرے مہینے      بیگم  کے اپنے آشنا کے ساتھ بھاگ جانے کی ٹریجڈی ۔ میں اُس کی لائف میں ہونے والی ٹریجیدیز میں بالکُل کوئی دِلچسی نہ رکھتا تھا   اور اِس دوران کلائی پر بندھی گھڑی کی سوئیوں   کو گھور  گھور کر تیز چلانے  کی ناکام  کوشش کرتا رہا  ۔مگر اُسکی  زبان  ایک ایگزاسٹ فین کی طرح نان سٹاپ چلتی جارہی تھی  غالباً    اُس کےاندر کا  گھُٹ  کر مرتا ہوا اِنسان پہلی  مرتبہ   چیخ چیخ کر  تازہ ہوا مانگ رہا تھا۔
کُچھ تازگی  محسوس کرتا جارج مائیکل چند  دِن ہی مزید جی  سکا۔ نئے سال کا سورج دیکھنے سے پہلے ہی   اُس کی جھبیس ستائیس سالہ  زِندگی  کی ڈوری  ٹوٹ  گئی ۔ وہ یکم  جنوری  1998 کی صبح ،قبرستان کے  گیٹ کے داہنے طرف لگے نیِم  کے پیٹر  تلے مُردہ حالت میں پایا  گیا۔ اُسکی  موت   کِسی  دیسی کھانسی کے شربت سےہوئی ؟  کوئی زیریلی شراب؟ یاپھِر  معاشرتی نا ہمواریاں اُس  کی قاتل  تھیں؟  یہ سوال کِسی نے  نہ اُٹھایا  بس اللہ  کی مرضی والا کلیہ  لگا کر مِٹی ڈال دی گئی۔ مُجھے اُس کی موت کی خبر ایک دِن بعد مِلی  ۔ میں نے اپنی ریوالونگ چئیرکو اِدھر اُدھر  گھُما کر  بس ڈھائی تین  منٹ   تک ہی اُس کے مرنے کا افسوس  کیا۔اِ س مصروف دُنیا میں بیکار  کے کاموں  کے لئے  وقت بچتا ہی کہاں ہے ۔بچپن میں پیارے نبی کی پیاری باتیں  پڑہنے کا موقع مِلا تھا  اگر میں اُن پیاری باتوں  کو مشعل ِ راہ بناتاتو کم ازکم مائیکل   کی قبر پر ایک عدد پھول رکھنے تو ضرورجاتا۔مگر میں تو  بچپن ہی سے ہر میدان میں تینتیس نمبر لینے والا   ہوں کہ جسِ نے چونتییسویں  کی کبھی  آرزو بھی  نہ کی۔بچپن میں مولوی صاحب نے ایک بات ذہن نشین کروا  دی تھی کہ  نبی سے عشق کا دعویٰ ہی  پاسنگ مارکس دلوا دیتا ہے  ۔میرے لئے تو بس یہی تینتیس نمبر ہی کافی ہیں۔
آج بہت سالوں بعد نا جانے کیوں  میرا جارج مائکل سے معافی  مانگنے  کو دِل کررہا ہے ۔ اپنی چالاکیوں  کی معافی ۔ میں  نے اُسے  ہمیشہ اپنے  اِمپورٹڈ سیٹ  میں علیحدہ سے رکھے پِرچ پیالی  میں چائے دی   ۔وہ میری  اِس  چالاکی  کو کبھی نہ سمجھ  سکا  اور  میری اِنسانیت دوستی  کے گیت گا تا رہا ۔میں نے ہمیشہ  اُس کے غلیظ  کپڑوں اور میلے کُچیلے جِسم  سے گھِن محسوس  کی   اور نہ ہی میرے دِل  میں اُس  گنوار کے لئے کوئی نیک جذبات تھےمگر وہ مُجھے  غریب  و لاچار لوگوں کا دِلی  ہمدرد  ہی سمجھتا رہا۔
میں جب بھی کوئی پبلک ٹائیلٹ  اِستعمال کرتا  ہوں تو دیواروں پر لِکھے غلیظ فِقرے  پڑھ کر  مُجھے مائکل  کی یاد ضرور آتی ہے جِس  نے ہمیشہ اِس بات  کو یقینی  بنایا تھا   کہ دیواروں  پر کچھ  بھی لکھا   نہ جائے۔مگر وہ  اِک بے ہنگم سے کٹے گتے پر  اُس کی اپنی ٹوٹی  پھوٹی لِکھائی میں لِکھا ہو ا  اِک شعر جو بیرونی  دروازے  کی چوکٹھ پر   ہمیشہ لٹکا  رہا۔
میری غُربت نے اُڑایا  ہے میرے فن کا مذاق
تیری دولت نے تیرے عیب چھُپا رکھے ہیں


                 

Sunday, 9 December 2012

بڑا سخت جان ہے ہمارا غریب



کرکِٹ کے کھیل نے انگریز اشرافیہ کے ہاں پرورش پائی ۔ یہی وجہ ہے رکھ رکھاؤ اعلی  اقدار اِس کھیل کا حِصہ بنیں  اور کرکٹ  کو جنٹلمینز گیم کے نام سے شہرت مِلی ۔ آج بھی  اعلیٰ  درجے کے انگریزخاندانوں  میں  یہ کھیل شُرفا کی شان سمجھا جاتا ہے۔جب 1992 کا ورلڈ کپ جاری تھا اور پاکِستان شِکست  پر شِکست  کھاتا  جارہا تھا،  تو اِنگلینڈ میں ایک ظہرانے کے دوران ملکہ الزبتھ نے پاکسِتانی سفیر سے   اُن کی ٹیم کی بُری کارکردگی پر اپنی تشویش کا اِظہار کیا تھا۔بس پھِر کیا تھا ہم نے شاہ سے زیادہ ملکہ کا وفادار ہونے کی  ایک انوکھی مثال قائم کر ڈالی

کرکٹ   انگریز شاہوں  کے ڈیروں  سے باہر نِکلی تو جزائرغربُ الہند  کے کالوں اور برِ صغیر کے رنگ  والوں  کے میدانوں ،پارکوں ،سڑکوں ،فُٹ پاتھوں ،اورگلیوں تک جاپہنچی۔  ہمارے محلوں میں بچے کرکٹ  اُن تنگ و تاریک  گلیوں میں بھی کھیلتے نظر آتے ہیں  جن میں سورج  بھی سارا سال جھانکنے کی ہِمت نہیں کرتا   ۔ اِن تنگ گلیوں میں  جب گیند باؤلر کے ہاتھ سے نکل کر  بیٹ کو چھوتی  ہے تو اُ سکے  بہتی  ہوئی گندی نالی  میں ڈُبکی لینے کے اِمکانات 70فی صد سےبھی  زائد   ہوتے ہیں مگر  کھیل  پھر  بھی جاری رہتا ہے ۔  کرکٹ کی اِسقدر  عوامی مقبولیت  سے اِس کھیل کی جنٹملینی تو خیر کِسی نالی  میں بہہ گئی مگر یہ کھیل  نِکھرتا گیا۔ اِسے  دِلکشی   و طِلسماتی  کشش عطا کرنے  میں  غُلام رہے ممالک کے پلئیرز کا کرِدار  جھُتلایا نہیں جاسکتا ۔غریب  میلکم مارشل   سے لیکر تنگ دست عبدلقادر اور وِو رچرڈزسے لیکر  ٹنڈلکر  تک بیسیوں  نام  ہیں جِن  کی بدولت  
یہ کھیل  آج لوگوں دِلوں  پر حُکمرانی کرتا ہے۔

سنوکر   کی کہانی بھی کُچھ  زیادہ مُختلف نہیں ہے۔ لفظ سنوکر کا  لغوی معنی  غیر  تربیت یافتہ  یا فرسٹ یئر کیڈٹ  ہے ۔  برِصغیر  میں تعینات برِٹش آرمی کا پسندیدہ کھیل  بِلئرڈ تھا   اور  وہیں   سے سنوکر   کا جنم ہوا۔  جبل پور  کے آفیسرز میس میں1875 پہلی بار اس کھیل میں رنگین گیندوں  کا اِستعمال کیا گیا۔  لگ بھگ دس سال بعد کھیل کے رولز طے کئے گئے۔  بیسویں صدی  کے آغاز میں سنوکر  برطانیہ میں تیزی سے مقبول ہونے لگا،مگر  اِس کھیل کو اِبتدا  ہی سے 

اپر کلا س تک ہی محدود رکھا گیا ۔برطانیہ  کے کلبز  میں مخصوص ممبرز ہی یہ کھیل  کھیلنے کے حقدا ر تھے۔ 
قائد اعظم کا  اِس کھیل سے لگاؤ سنوکر سے ہمارے  تعظیمی رِشتے کا باعث بنا۔وقت گُزرنے کے ساتھ  یہ  کھیل   ہمارے ہاں عام  ہوا  اورکرکٹ  کی  طرح تمام حدیں کراس کرتا  چلا گیا اور  بڑے دیہاتوں میں  گارے  کی چھتی   ہوئی چھت  کے تلے ، گرد سے اٹی ٹیبلوں پر  کھیلا جاتا ہوا  بھی نظر آنے  لگا۔ہمارا غریب بھی بہت سخت جان واقع ہوا  ہے  بالکُل  کھُمبی  کے بیچ  کی طرح کا سخت جان۔  گندگی میں تو  یہ پھلتا پھولتا ہے  ہی   ، گر موقع میسر آجائے تو    بادشاہوں کے باغات میں بھی جلوہ گر ہوکر اپنی   حیثیت منوا لیتا  ہے ۔ خواہ  سالہا  سال  مٹی کے نیچے دبا رہنا  پڑے  ۔  حالیہ دِنوں میں بلغاریہ میں    کھیلی  گئی ورلڈ کپ سنوکر ٹائٹل اپنے 
نام کر کے یہی بات ثابت کر دِکھائی محمد آصف   نامی اِک غریب پاکِستانی نے ۔

اِسی طرح اگر تختِ سُلطانی کو بھی   چند خاندانوں  سے نِکال کر  عام کر  دیا  جائے تو  قیاس کیا جا سکتا ہے کہ  اِک چھابڑی فروش سے لیکر  رکشے والا تک تختِ سُلطانی کے خواب دیکھنے لگے گا جِس سے بہت  لُٹ مچے گی ہر طرف لوٹ سیل لگ جائے  گی   اور یہ تخت ِ سُلطانی   اِن غریبوں  کی  پھٹی ایڑیوں  میں جمی گندی مٹی سے اٹ جائے گا۔ مگر اس حقیقت   کو کیسے جھُٹلایا جائےکہ   اقوامِ  عالم میں   چیمپئین فقط اِس  راہ کو اپنانے سے ہی بنا  جاسکتا ہے کیونکہ بڑا سخت جان ہے ہمارا غریب۔

Saturday, 24 November 2012

آج کُچھ میری بھی سُنو


نوٹ    یہ تحریر اُستاد جی کی پوسٹ تعزیہ سے مُتاثر ہو کر لِکھی گئی ہے۔
میرا بچپن اور جوانی بھی اُستاد جی کے شہر ہی میں بسر ہوئی ہے ۔ محرم کے ماتمی جلوسوں پر میری پہلی نطر ڈگلس پورہ کے گھر کی چھت سے پڑی میرا تجربہ بھی اُستاد جی کے بنائے گئے خاکے سےمُختلف نہ تھا۔   اپنے سکول کے دور  میں  ایک بار    دس محرم کے  دِن دھوبی گھاٹ سے گُزنے کا اتفاق ہوا  اور پہلی بار زنجیر زنی   لائیو ہوتے دیکھی تو  حالت غیر ہو گئی۔  بس  خُدا خُدا کر کے اپنے گھر پہنچا وہ دِن اور آج کا دِن میں نو اور دس مُحرم کے دِن خود کو گھر  میں ہی  میں مُقید کئے رکھتا ہوں۔اِس کی  وجہ کوئی خاص نہیں بس اپنا دِل ہے ہی اِتنا کمزور  مُرغی ذبح  ہوتے دیکھ کر   ہی باہر کو  چھلانگتا  ہے ۔ اِنسانی خون  تو ،خیر رہنے ہی دیں اِس بات کو۔ محرم کے دِنوں میں مُنعقدہ مجالس  سے مُجھے اِختلاف  لاوڈ سپیکر کے اِستعمال پر ہے جِس میں ذاکر صاحبان کی تقاریر اور نوحوں کے ساتھ ساتھ دھڑام دھڑام کی آوازیں بھی  سُننے کو مِلتی ہیں ۔ جو مُجھے زنجیر زنی کے  دیکھے گئے سین میں پھِر سے  دھکیل دیتیں ہیں۔

مُجھے یاد ہے کہ میٹرک  پاس کرنے پر مُجھے  تایا جان نے ایک چھوٹا سا ٹیپ رِکاڈر گِفٹ کیا تھا۔وہ ٹیپ رِکارڈر لندن سے سفر کرتا  ہو ا مُجھ تک پہنچا تھا۔بہت پیار سے میں نے اُس ٹیپ رِکارڈر کو رکھا۔ اپنی ٹین ایج کے  ہٹ گانے جو آج بھی میری یادوں میں محفوظ ہیں اُسی پر سُنے ۔بونی ایم گروپ کی ایک کیسٹ    جوکہ ٹیپ رِکارڈر کے ساتھ ہی تشریف لائی تھی ،کُچھ ہی عرصے میں  لگ بھگ حفظ ہوگئ تھی مُجھے۔ نہ جانے کب اُس ٹیپ رِکارڈر میں گانوں کی جگہ حق نوازجھنگوی کی ایمان افرو ز تقریروں نے لے لی ۔ غالباً مسجد میں نماز اور  مولویوں سے علیک سلیک  نے یہ کرشمہ کر دکھایا تھا۔جھنگوی صاحب کی  تقاریر سُنیوں  کا خون گرماتی تھیں اور شیعوں   کے  گھر جلاتی تھیں ۔  اِن تقاریر کا مُجھ پر بھی گہرا  اثر ہوااور میں اُس( کافر قراد دی ہوئی) مخلوق کو کائنات کی بد ترین مخلوق  گرداننے لگا ۔  بس یوں محرم  کی تقاریب سے میری  وہشت کو ایک جائز  اور  مسلکی پناہ گاہ  بھی میسر آگئی۔ کافر کافر کا نعرہ خود لگانا تو  اپنی  خاندانی تربیت کے سبب کبھی مُناسب محسوس نہ ہوا مگر   لگتے دیکھ کر کبھی بُرا  بھی نہ لگا ۔ 

اِس جاندار نعرے نے کُچھ  ہی عرصے میں اپنا اثر پورے معاشرے میں قتل و غارت  اور بے سکونی  کی   صورت دِکھانا شُروع کر دیا ۔مگر میں  نے اِس نعرے کو اپنے ایمان کا  جُز و لازم جانتے ہوئے ہمیشہ اِلزام فریق ِ ثانی پر ہی دھرنے کی روش اپنائے رکھی۔ میرے چھوٹے چچا جو اُن دِنوں چنیوٹ میں اسسٹنٹ کمشنر تھے  ۔وہ اکثر  صحابہ  کے اِن جانثاروں کے قِصے سناتے  اور اِن لوگوں سے دور رہنے کی تلقین کرتے تھے۔مگر  میرا مُرغا بھی ایک ٹانگ لیکر ہی پیدا ہوا  تھا ۔ سٹوری میں ٹوسٹ اُس دِن آیا  جس دِن سعید انور نے 194 رنز کی کبھی نہ بھولنے والی اِننگز کھیلی ۔ سعید انور کی سنچری شام کو بنی تھی مگر اُس دِن  کا آغاز بھی ایک  الگ سنچری سے ہوا تھا۔   عاشقانِ صحابہ  کی ٹیم کے ایک  کھِلاڑی نے  اپنا سواں شکار   ابدی نیند سُلا یا تھا۔ شکار ہونے والا ایک درویش صِفت   اِنسان جِس نے  آخری سانسیں اپنے بیٹے   نیر عباس  کی گود میں  بیچ سڑک  پر لیں ۔ یہاں میں ایک بات واضح کرتا جاوں یہ وہی نیر عباس ہے جِسے  جعفرحُسین نے اپنی پوسٹ  میں عُرف " پستول شاہ "لِکھا ہے۔ اُس درویش کے قتل پر ہر آنکھ عشق بار تھی ہر چہرہ افسردہ ۔ ایوب ریسرچ کی وہ سڑک بھی شرمندہ تھی جہاں دِن دیہاڑے یہ  اندوہناک واقع  پیش آیا  وہ   درویش 25منٹ  تک خون میں لت پت پڑا رہااور کوئی مدد کو آنے والا نہ تھا۔ دُکھ کی بات یہ ہے  کہ میری اِن آنکھوں نے وہ چہرے بھی دیکھے جو اِس سفاکی کو جائز اور  اس قتل پر   دُکھ کے اِظہار کی  سرزنش کرتے  تھے۔

نیئر عباس سے میری دوستی بہت پُرانی ہے۔ اِنسانی تعلق  خصوصاً دوستی اِ  اِتنی کمزور کبھی نہیں ہوتی کہ  وہ حق نوازجھنگوی  یا کِسی  اور مُقرر کی  شعلہ بیانی اُسے جلا کر بھسم کر ڈالے ۔ میں اُسے اور   اُس کے مسلک کو   اِسلام سے خارج قراد دیتا رہا اور وہ اپنے دِفاع میں ہر دم سر گرداں رہا۔ وہ   ہمیشہ اپنے مسئلک کی  بطور اِسلام قبولیت  کے حق میں دلائل      پیش کرتا رہا۔ہم آپس میں لڑتےرہے  ایک دوسرے کے دلائل سُنتے  اور رد کرتےرہے  مگر نہ وہ  اپنی جگہ سے ہِلا نہ میں کھِسکا۔   ہمیں زِندگی  کے تجربات نے یہی سبق دیا کہ  دوسرے کی عِزت کرنے  سے اِنسان عِزت پاتا ہے ۔ دوسرے کا احترام کرنے سے  اِنسان خود محترم کہلاتا ہے اور سب سے بڑھ کر  یہ بات  کہ  صبر ،برداشت اور ڈائیلاگ  ہی  ایک صحت مند  معاشرے کی تشکیل کے ضامن ہیں ہے۔
اِسلام  صبر، برداشت  قُربانی اور عدم تشدد کا درس دیتا ہے ۔ نبی پاک کے نواسے کی قُربانی  اِس کا سب سے بڑا ثبوت ہے  ۔  اِس قُربانی کے اِس بُنیادی فلسفے میں ہی ہمارے تمام مسائل کا حل موجود ہے۔
  

Thursday, 15 November 2012

اے سُپر مین ہٹاں تے نئیں وِکدا



اِک کنگلے کالے  افریقی کے گھر پیدا ہونے والے بدیسی صدر کی شان میں صفحے کالے ہوتے دیکھے تو میرے دِل میں تڑپ پیدا ہوئی کہ کیوں نہ اپنی دھرتی کے حقیقی ہیرواور رئیس الاعظم کی اولادِ اصغر کی شان ِبیان میں کُچھ قصیدہ نِگاری کا فرض ادا کرتا  جاؤں۔ جناب کی سحر انگیزذات مُبارکہ  کے اس مفلوک لحال  اور پِسی ہوئی  عوا م پر  اسقدر احسانات ہیں کہ جِن کا قرض رہتی دُنیا تک اُتارنا کسی طور بھی مُمکِن   نہیں ہے   ۔ آپ کی عظمت کا اِس سے بڑا اور کیا ثبوت ہے کہ چند سال پہلے آپ کو پنجاب کا شیر کہا جاتا تھا مگر آج جنگل کا بادشاہ بھی شہباز کی کھال پہنے نظر آتا ہے۔

قُربان جاؤں  آپ کے صوفیانہ انداز زِندگی پر کہ مئی جون کی گرمی میں بھی آپ کو جُھگی میں بیٹھے پنکھا جھلتے دیکھا جاتا رہا۔ مگر جب ڈینگی افواج نے حملہ کیا تویہ درویش اِک جری سپہ سالارکے روپ میں نظر آیا۔ ہر گلی ہر موڑ ہر دُکان پر ڈینگی سپرے اُٹھائے "شہباز ریمبو دی ڈینگی کِلر "حقیقت میں  ڈینگی کی موت ثابت ہوا ۔ اِس عظیم اِنسان  کی  برق رفتاری  سے ہسپتالوں میں  آنیا جانیاں دیکھ کر یقین ہو گیا کہ جناب کی شکل میں سُپر مین کا حقیقی جنم ہو ا ہے۔  ہمارے سری لنکن بھائی تو  اِس سُپر مین  کے حصول کے لئےمِنتے ترلے کرتے نظر آتے ہیں اب بھلا اِن بھائیوں کو کیسے سمجھایا جائے کہ  "اے سپر مین ہٹاں تے نئیں وِکدا"۔ ہمارااہلیان ِ سرِی لنکا  کو ایک  آزمودہ  مشورہ ہے  کہ  اِس سپر مین  کی آدھ پیجی  تصاویر اپنے مُلک کے تمام اخبارات میں چند دِن لگا ئیں  اور پھِر دیکھئے گا اس کا اثر۔۔۔۔ بھلے ہی موسمی حالات کا بہت فرق ہو پھِر بھی    یقینا  ڈینگی مچھر آپ سے دور ہوگا رہنے پر مجبور۔

عدلِ جہانگیری کے قِصے تو ہم نے سُن رکھے تھے مگراپنی آنکھوں سے  حقیقی عدل  بٹیا رانی کے کیس میں آپ ہی کے ہاتھوں  ہوتے دیکھا  ۔ کِس طرح آپ نے  رِشتے کی نزاکت کو بالے کی طاق پر رکھتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے ہائے  میں جب بھی بِٹیا رانی کے سرتاج کی  "اُتھاں گُزاری آئی رات "کے  بارے میں سوچتا ہوں تو میری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔

آپ کے دانش سکول   سرسید  احمد خان کے مُحمڈن اورئنٹل کالج سے بڑا اِنقلاب لائیں گے۔ جب دانش سکول کے بچے بڑے ہوکر  اپنی عِلمی صلاحیت  و قابلیت کے بل بوتے پرمسندِ صدارت پر براجمان ہوں گےتو ۔۔ہائے رے ککھ نہ روےایس قلم دا۔۔۔اومِٹی پاؤ جی ۔ ہاں تو میں کہ رہا تھا   کہ آپ کے دُشمن ایک آمر کو دس بار باوردی مُنتخب کر نے کی خواہش کا اِظہار  کر سکتے ہیں   تو آ پ کی مُحبت میں گِرفتار   اور احسانوں تلے دبی  یہ غریب عوام   سے آپ کی اگلی  پانچ نسلوں کو بھی  مُنتخب کرنے کا  حق  کوئی مائی کا لال نہیں چھین سکتا۔ جب کھُلا تضادکھُلے عام دِکھائی دیتا ہے تو  موروثیت  سرعام کیوں  چل نہیں  سکتی ۔ مُفت میں ببیچے ہوئے چھوٹے کمپیوٹر   اور بدلے میں نوجوانوں کے دِل ، کِسی سمندری تبدیلی سے کہیں بہتر اِنقلاب ہے  جو حقیقت  میں اب آچُکا ہے  ۔آپ نے جمہوریت کی اِس بے لگام  اور سرکش گھوڑی کو کمشنری نظام کا ایسا چابک مارا کہ   یہ  گھوڑی  اپنے شہزادے  کو بمع اہل و ایال ،پیٹھ پر بٹھائے نئی نویلی سڑکوں اور بِنا سریے کے بنے عالیشان   پُلوں پر سرپٹ دوڑتی نظر آتی ہے۔

ہمارا لیڈر   وہ شہباز ہے جو تندی بادِ مُخالف سے نہ گھبرایا اور نہ ہی  اُس نے اُنچی اُڑان کا جھنجھٹ  پالا بلکہ  اِک کرشمہ کر دکھایا اِس تُندی کو بادِ صبا میں بدل دینے کا کرشمہ۔اِس مردِ آہن نےتنِ تنہا    اِک تباہی پھیلانے والے سونامی کو  اپنی دھرتی کے پنج دریاوں میں غرق کر  کے  جواں مردی و شجاعت کی اعلی ترین مثال قائم کرتے ہوئےاپنا نام گِنس بُک  میں ہمیشہ کے لئے محفوظ کروا  لیا ہے۔( والیم 2012 صفحہ نمبر 303پر ٹی شرٹیں بدلنے  اور روٹیاں پکانے والے رِیکارڈ سے نِچلی لائن پر  آپ شہباز صاحب  کے ریکارڈ کی تفصیل مُلاحظہ کر سکتے ہیں)

خادمِ  اعلی کی دریا دِلی اور سخاوت کا مُنہ بولتا ثبوت روز کے اخبارات ہیں غریب لِکھاریوں اور مفلوک الحال اخبارات کے لئے مُختص کردہ  فنڈ   ہے جو کہ لاکھوں گھروں کے چولہے گرم رکھے ہوئے ہے ۔ اُمید کرتا ہوں  کہ یہ دریا دِلی جلد ہی میری جیب کا رستہ بھی دیکھے گی۔ میری جیب کہ جِس میں آج تک خُشک  کی سالی  غُربت ہی ناچتی رہی ہے۔ مگر اب  دولت کی بہاریں بھی دیکھ پائے گی ۔بس ایک بار۔۔۔۔