Monday, 23 May 2016

خان صاحب

آئیے آئیے خان صاحب کیسے ہیں آپ
ماڑا اب تو ام کو  خان نہ بولا کر۔ امارا نام تو  بدنام کر کے رکھ چھوڑا  تیرے کپتان خان نیازی نے ۔امارے نام کو جو کیا سو کیا قوم کا جینا بی ارام کر چوڑا     
چاردن سکون کی نیند نئیں سونے دیتا،قسم سے سب کے لئے  کالی کھانسی بنا پڑا اے کم بخت ۔
جی خان جی چھوڑئے آپ ،آتے ہی سیاست پر شُروع ہوگئے اپنی سُنائیے؟
 خا ک سناؤں یار، سیاست کی مارا ماری نے کاروبار کا بٹا بٹھا دیا اے، ادھر مر مر دو قدم آگے دھکیلو۔ یہ بندہ خندق کھودے رستہ روکے کڑا اوتا۔ خُدا کی قسم ایسے لیڈر سے تو گدھا اچا ، چھاؤں میں کھڑا کرو تو خود بی سکون کرتا دوجوں کو بھی کرنے دیتا۔ 
تمارے خان کو تو کہیں بس گھاس نظر آنے کی دیر ہے  دُم سے لیپٹ کر سیدھا مُنہ میں ڈالتا اور شوردوسروں پر مچاتا۔
خان صاحب چھوڑئے بھی اس کلموئی سیاست کو  کوئی اور بات کر یں۔
لو اب ماری بات سُننے کی بھی تکلیف ہوتی تُم کو .امارا کاروبار برباد ہوا پڑا اور اب اسے پیٹنے کو پانامہ ڈھول مِل اے ۔اب گلی محلے کرپشن  کرپشن گاتا پھِرتا اے۔
ادر تو بھینس کو دونمبری ٹیکہ نہ لگے اگلی  دودھ نئیں دیتا، بات کرتا کرپشن کی۔ ادر سب مُنہ کھُلے پڑے  بس سائز دیکو اور   ڈالتے جاؤ  ڈالتے جاؤ ، کام اوتا جائے گا۔سب چور اے ادر ، اتساب کرنے کا شوق اے تو سب کے ناڑے میں ہاتھ ڈالو۔ مگر نئیں ایک بندے سے شوق پورا اوتا ان کا ۔ جب سب کرپٹ اے تو سب کو پکڑو۔ نسوار چور سے لے کر ٹینک چور تک سب کو  ۔ 
خانصاحب یہ آج آپ پر سیاست کا بھوت کچی شراب کا سا نشہ بنے  چڑہا پڑا ہے ۔اب بس بھی کردیجئے ، بچوں کی سُنائیے ؟
 ام  نے بس کیا ، حالات کا گُسا تو خیر نکالنا ای تا۔ایک تو سورج نے بی اپنی پراڈکشن بڑھا کے سالانہ  سُپر سیل لگا چوڑی اے ۔ ایک دم سے پارا دس  ڈگری اوپر اور ہماری سیل نیچےسے نیچے۔اماری دال گلنے کو نئی  آرہی  اور اُدر سورج لوہا پگ لاتا پھررہا اے۔ کاروباری رولے  ہیں کے شیطان کی آنت سے لمبے ختم اونے کا نام نئیں لیتے۔
اچھا مُجھے بتائیےاتنی گرمی میں آپ آ کہاں سے رہے ہیں؟
ایک ب  غیرت کو مِلنے گیا تا
خُدا کی قسم وہ ام کو مل جاتا تو آج ام اُس کی  کھوپڑی کی چوٹی  سے گولی اندر کرتا  سارا گند ا خون بائر  آجاتا
کیا ہوگیا خان جی ؟
ارے کُچھ نہ پوچھو بے شرم رشوت مانگتا ہے بلیک میل کرتا ہے
بس ام نے بھی سوچ لیا اے ۔ اُس کو گولی مارے گا اور سب کے سامنے مارے گا ۔ دوزخ کا ٹکٹ اُس کے   ہاتھ میں  تھمائے گا اور خود  پانسی کا پندا   ہار سمج کر پہنے گا۔
اس کے بعد کوئی جرات نہیں کرے گا فراڈ کرنے کی
خان صاحب آج تو لگتا ہے آپ نے چپلی کباب کی جگہ گولہ بارود کباب سے ناشتہ کیا ہے ۔ یہ مشروب  میں تھوڑی اور برف ڈال لیجئے اورغُصہ تھوک دیجئے ، کیوں اپنا خون جلا تے ہیں ۔ یہاں کا تو سارا سسٹم ہی کرپٹ ہے کِس کس کو گولی ماریں گے اور کہاں کہاں گولیاں چلاتے پھِریں گے۔
پر یار پوسٹ کا بی تو  کوئی مقام ، کُچھ رُتبہ ہوتا تھوڑی بہت شرم ہوتی اے ۔کمشنر انکم ٹیکس ہوکر چور بازیاں کرتا ہے بے غیرت  ، سبق سکھاؤں گا اُسے ایسا کہ اس کُرسی پر بیٹھنے سے پہلے ہر اگلا آنے والا دس بار سوچے گا۔
خان صاحب تو پھِر کیوں نہ مل کر ہم  سبق سکھا دیں؟
کس کو؟
سب سے معتبر کُرسی پر سب سے زیادہ بار بیٹھنے والے کو اور پھِر شائد وہی کُچھ ہونے لگے  جیسا  آپ نے کہا
ماڑاااا  ایک بات  بتا تو امارا دوست اے کے امران خان کا؟



Saturday, 2 April 2016

جانے کہاں گئے وہ دن


"میں ڈرتا ورتا کِسی سے نہیں " ۔کپتان میری پیٹھ تھپ تھپاتے ہوئے بولا اپنی  لینتھ بنا کے رکھ   اور اس درندے سے  ہر گز ڈرنا نہیں۔کلائی کے زور پر دائیں سے بائیں ہاتھ میں گیند گھماتے ہوئے میرا جواب اسی  تاریخی جُملے میں  تھا ۔ چوتھی گیند گگلی  تھی  جو بیلز چھیڑ تی  گُزری ۔ پہلی تین گیندیں باؤنڈری پار نہ کر گئی ہوتیں  تو  آج ہم  جذباتی  حرارت  سے چلتے پنکھوں  سے لُطف اُٹھا رہےہوتے۔کیا کیجئےاس تقدیر کا جِس  نے ہمارے لئے بے نامی کی خاک اور ہمارے ٹریڈ مارک جُملے کو  مُلکوں مُلکوں پھِرتی  شہرت لکھ ڈالی ۔

کھلنڈرے تو ہم  ،شائد پُشتوں سے چلے آرہے ہیں ۔ دادا آل انڈیا  گولڈ میڈلسٹ اُن کےچھوٹےبھائی پنجاب گولڈ میڈلسٹ ایتھلیٹ۔ نمایاں کامیابیوں کا یہ سلسلہ تایا، ابا اور چاچا سے ہوتا  ہوا ہم تک  تھپکیوں اور دلاسوں کی صورت ہی بچ   رہا۔دوش ہمارا بھی نہیں اِس موئی کرکٹ نے نکما کر دیا ورنہ ہم بھی آدمی تھے  کام کے۔

کرکٹ ہمارا خاندانی کھیل ہرگِزنہ تھا مگرجذبات کے اظہار  کو نئی جہت دینے کا ذریعہ ضرور بنا۔  یہ وہ دور تھا جب دادا ابا کے ریڈیوپررواں تبصرہ سُنا جایا کرتا تھا۔ ہرکوئی آتے جاتےسکور پوچھتا جاتا اورلا ل پیلا ہوکراخلاقی حدود کےخم دیتےہوئے نت  نئے جملے سے ٹیم کو نوازتا اور چل پڑتا۔  ہم  نے کرکٹ  اور  "گولم  گول گلوچ "کی آنکھ مچولی    میں ہی آنکھ کھولی ۔ وہ جُمعہ بھی یاد ہے،جب  قبضےکےڈرسے غسل خانے میں سب سے پہلے جا گھُسا تھا میں۔یک دم سے صحن میں روائتی صلواتیں ایک کورس کی صورت نازل ہوتی محسوس ہوئیں ۔ گھبرا کر میں نے کھونٹی سے بندھی ڈوری کھینچ کر دروازہ معمولی سا سرکایا ، ایک آنکھ باہر نکال کر پوچھا "ارے کیا ہواااااا" تایا زاد نے جواب دیا "تیرے فیورٹ میانداد نے کیچ چھوڑ دیا۔ بس یہی ہوا۔" میں نے پھِر سے رسی کھینچ کر کھونٹی پر چڑہائی ہاتھ میں پکڑا ڈول واپس بالٹی میں اُنڈیلا اور دونوں ہاتھ اُٹھا کر رب سے مدد چاہی ۔ معصوم بچے کی پُکار بِنا واسطے کے سیدھی عرش  پر پہنچی ۔یاد رہے یہ وہی میچ تھا جِسکا اختتام لاسٹ بال کمنگ اپ فور رنز ریکوائرڈ پر ہوا تھا۔بس پھِر کیا تھا روٹھی ہوئی فتح ایسی مانی کہ ہم لوگ ہرزہ سرائی کرنا ہی بھول گئے۔ 


ہماری  مماں کو چھپکلی سے ایسی کراہت آتی  کہ نظر پڑتے ہی چیخ مارتیں اور  کرکٹ  سے ایسی الرجی  کہ نام  سُنتے ہی   ہمیں مارتی تھیں۔ ٹی وی پر میچ دیکھنے کی اجازت  پر سو درخواستوں میں سےایک کا جواب ملتا تھا وہ بھی انکارمیں ۔خوش نصیبی تھی ہماری،1987 کے مارچ میں ہم لاہور نانکے گھرچھٹیاں منا رہے تھے انہی دنوں پاک بھارت سیریزبھی جاری تھی ۔ مکمل آزادی اورسکون سے وہ میچز ہم نے نانا ابا کے ساتھ بیٹھ کرٹی وی پردیکھے۔ مذہبی  اینڈ سے خیرو برکت کا سپیل کرواتے رہنے  کی ذمہ داری ہم نے نانی اماں کو سونپ رکھی تھی ۔ وہ بتائے گئے کھلاڑی کا نام لے کر آئت الکرسی  پڑ ھ پڑھ پھونکتی  جاتیں اورکھیلنے والے   کا بلا رنز اُگلتا جاتا ۔ آخری   ٹیسٹ تک   پہنچتے    پہنچتے تو ہماری نانی بھی اس کھیل میں دلچسپی لینے لگی تھیں ۔
بنگلورکی پِچ تو شائد  کشمیر میں استعمال ہوتے بارود سے تیار کی گئی تھی۔تین دِنوں میں ہی کھیل کی آخری اننگز چل پڑی تھی ۔ کم بخت چوتھا دن کھلاڑیوں کےآرام کا  ہو ا کرتا تھا ۔ اُن کےاُس دن کےآرام نے ہمارا جینا حرام کئے رکھا ۔ تمام دن گھڑی کی سوئی ہماری اُئی اُئی کراتی  چلتی رہی ۔اگلے دن  میچ کے آغاز پرہی نانی اماں ٹی وی پر دم درود پھونکتی ہوئی کہتی جاتیں " یا اللہ ہمارا  بِلا دشمن کا ہر کیچ پکڑ لے  آمین  " ہمار ا  بلا"   سلیم یوسف تھے جو وِکٹوں سے ایسے جُڑے بیٹھے تھے جیسے شکار کے انتظار میں بِلا بیٹھا ہو۔ دُعائیں رنگ لا رہی تھیں مگرسُنیل گواسکر بڑی ڈھٹائی سے   جیت کی ہماری آرزو  کورنز کی دیوار میں چُنتے چلے  جا رہے تھے ۔اُدھر بلیک  اینڈ وائٹ وردی والے امپائروں کی اُنگلیاں کالی ماتا نے پتھر کی بنا رکھی تھیں ۔اللہ کے حکم سے بندشوں کا توڑ ہوتا گیا ، بند قفل کھُلتے گئے اور پھردلوں کی دھڑکنیں تیزہوتی چلی گئیں ۔نواں کھلاڑی آؤٹ ہونے کے فوراً بعد راجر بنی نے توصیف کوچھکا لگا دیا، ہمارے دِل نے تو جیسے مزید دھڑکنے سے ہی معذرت کر لی ۔ آخر کار نانی کی   دُعا  قبول ہوئی   اور ہمارے بِلے نے راجر بنی کا کیچ پکڑ کریہ اعصابی جنگ  سولہ رنز سے اپنے نام کر لی

  ورلڈ کپ 1987 ، وہ پہلا موقع تھا جب تمام ٹیموں کے میچز ہمیں ٹی وی پربراہ راست دیکھنے کو ملے، کُل مِلا کے ستائس میچ تھے۔گھر پرعائد پابندیوں کا توڑ ہم نے یہ نکالا کہ بہت سے میچز بی جی (پرنانی ) کے گھر دیکھنے چلے جاتے۔ ہم سکول سے سیدھا بی جی کےگھر  پہنچ جاتے۔ ہمارے  پہنچنے سے چند منٹ پہلے مُلازم دروازہ کھول دیا کرتا تھا۔ اک لمبی سی گلی تھی جِسمیں داخل ہونے پر اناراور امرود کادرخت جھُک کر آنے والے کا  استقبال کر تے ۔ یہ پتلی گلی وسیع صحن میں لے جاتی تھی، جسکے بائیں  ہاتھ کیاریوں میں لگی موسمی سبزیاں جن پر  بانس کے فریم کا سہارا لئے  انگور کی بیل چھت بنائے ہوئےتھی ۔صحن کے دائیں طرف برآمدہ تھا، جِسمیں میں رکھا قدم لال فرش پر پڑتا۔رتا لال ،چمکتا  ہوا شیشہ ، چہرہ دیکھنا کیا پڑہنا بھی مُمکن ہو جیسے۔  ملازمین کو دن میں تین بار پوچا لگانے کے احکامات سختی سے جاری کئے گئے تھے۔پوچا لگنے کے دوران مکمل طور پر کرفیو لگ جایا کرتا، خلاف ورزی کرنے و الا بی جی کے خوف سے ہی مرجایا کرتا تھا۔ بس وردی کی ہی کمی تھی ورنہ کِسی مارشل لا ء ایڈمنسٹریٹر سے کم نہ تھیں ہماری بی جی ۔وہ کرکٹ  کی اتنی  شائق تھیں کہ میچ  والے دن ٹی وی اُن کے پلنگ کے بالکل ساتھ جُڑا ہوتا تھا۔پاکستان کے میچ کی تو بات ہی الگ ہے۔ جیسے ہی ٹیم پر مُشکلات کے بادل چھاتے بی جی کے دونوں ہاتھوں کی گرفت تسبیح پر مضبو ط ہوجاتی ۔ مخالف ٹیم کی بیٹنگ کے دوران ہرکھلاڑی کے آؤٹ ہونےپر وہ نوافل کی منت مانگتیں ، دو ، چار ،چھے یا آٹھ؟؟ ؟ تعداد  کھلاڑی کے سابقہ ریکارڈ سے مشروط ہوا کرتی تھی۔بی جی میچ کے دوران میری نان سٹاپ رننگ کمنٹری بھی  بڑے شوق سے سُنا کرتی تھیں۔انہیں کے ہاں دیکھا  پاکستان اور ویسٹ انڈیز کا میچ جس میں عبدلقادر نے سیکنڈ لاسٹ بال پرچھکا لگا کر میچ  کا پانسا بدلا تھا ۔ ہار کرگراؤنڈ میں لیٹے ویوین رچررڈزجیسے فولادی انسان کی آنکھوں میں تہرتے آنسو بھلانا آج بھی مُشکل ہے ۔ بڑی  روائت پسند ، زندہ دِل اور نہائت وضع دارخاتون تھیں ہماری بی جی ۔ گھرواپسی پر مُجھے ایک روپیہ ملا کرتا تھا۔  یہی دستور تھا بی جی کا ، وہ اپنے بچوں کے ہاتھ پر ہمیشہ  کُچھ رکھ کرہی رُخصت کیا کرتی تھیں ۔

اِس ورلڈ کپ میں ایک میچ ہمارے شہر فیصل آباد میں بھی ہوا۔ آج بھی دِل سے دُعا نکلتی ہے اپنے اُس دوست کے لئے جو لنچ ٹائم پر اپنے بڑے بھائی سے بہانہ کئے اسٹیڈیم سے نکلا اور سیدھا ہمارے گھرآپہنچا۔ ٹکٹ میرے ہاتھ میں تھماتے ہوئے بولا "لے پکڑاور جا کر لےاپنا  شوق دیدار پورا"۔ بس ٹکٹ  کا ہاتھ میں آنا تھا، میں نے دائیں دیکھا  نہ بائیں سیدھا اقبال اسٹیڈیم  پہنچ کر ہی اپنی چھوٹی سی سائکلی کی بریک لگائی ۔ اسٹیڈیم کا منظر میر ے تصورات سے یکسر مختلف نکلا، ا ندرجانےکو ہوتی دھکم پیل  دیکھ کردل ڈوبنے سا لگا۔ ایک پولیس والا چلا یا  " مُنہ چُکدے نیں تے آجاندے میچ ویکھن سارے شہر دے مفت خورے"۔ اصل پریشانی  یہ تھی کہ  یہاں پہنچنے سے پہلے میرے مفُت خورے ہونے کی مخبری ہوئی پڑی تھی ۔میں نے اللہ کا نام لیکر حالات کا مُقابلہ کرنے کی ٹھانی اوراپنی جگہ پرقدم جمائے رکھے۔ پولیس کی لاٹھی اندھی تو ہوتی ہے مگر بے آواز ہر گِز نہیں ، یہی سبق لئے لنگڑاتے ہوئے گھرکی راہ لینی پڑی۔ گراؤنڈ کے باہرجو میرے ساتھ ہوئی اُس سے کہیں بڑھ کر سلوک ہماری ٹیم نے معصوم سری لنکنز کے ساتھ  کیا۔۔اُس دور میں پولیس کی مار کھانے کی نسبت تین سو رنز کھالینے کے طعنے سُننا  زیادہ  ذلت آمیز ہوا کرتا تھا۔ تین سو سے بس تین ہی رنز کم بنائے تھے  ہماری ٹیم نے ۔ 113 رنز سے ملی اس جیت پر اتراتے ہوئے ہمارے کِسی کھلاڑی نے سری لنکا کی ٹیم کے بارے میں  حقارت بھرے الفاظ بول دئے ۔  پھر کیا تھا ہمارے گلے خُشک ہوگئے آنکھوں سے پانی بہہ نِکلا مگر خُدا نے ہماری گریہ زاری نہ سُنی اور ورلڈ کپ سیمی فائنل کے 18 رنز ہم سے نہ بن پائے ۔اللہ  بڑے بول کو پسند نہیں فرماتا ۔ اِسی بڑے بول کی وجہ سے ہماری ٹیم  سیمی فائنل سمیت  مسلسل اگلے نو میچ ہاری تھی۔اُس سیمی فائنل کی ہار پرتو تکلیف سے ہمار ے کلیجے  کٹ ہی جاتے مگر اللہ نے فرنگیوں کو فرشتہ بنا کر بھیجا ۔ بھارت دوسرا سیمی فائنل فرنگیوں سے ہارا تو ہمارے سینوں میں ٹھنڈ پڑ گئی۔

بی جی 1990  اکتوبر میں اللہ  کو پیاری ہوگئیں    ، 1992 میں  زندہ ہوتیں تو یقنا اپنی بیٹی اور اُن کی اولادوں کے ساتھ کرکٹ کی سب سے بڑی خوشی مناتیں۔ ہماری نانی اماں کا
    کرکٹ سے لگاؤ بڑھتا گیا،وہ اخبارمیں کرکٹ کی خبریں، تبصرے اور تجزئے باقائدگی سے پڑہنے لگیں۔1996 میں ہم نے مِلکر  ٹیم کا ایک کمبی نیشن تیار کیا تھا۔ میرا خیال تھا کہ میانداد کو اپنی اوریجنل پوزیشن  ٹو ڈاؤن پربھیجا جانا چاہئے۔ مگر نانی اماں نے تو میانداد کی پلئنگ الیون میں جگہ  پرہی سوالیہ نشان لگا دیا۔ اُن کے خیال میں میانداد  اب  رن ریٹ کو ساتھ لے کر چلنے کے قابل نہیں رہا ۔ اُس کی ٹھُک ٹھُک سےلوور مِڈل آرڈر پرپریشر بنتا جاتا ہے۔ انڈیا پاکستان  ہوئے میچ کے دوران ہمارے ٹی وی لاونج میں ایسا ہی تناؤ رہا جیسا ہارتی ہوئی ٹیم کے ڈریسنگ روم میں ہوا کرتا ہے ۔وہ تو بہت سالوں بعد میں سمجھ پایا کہ نانی اماں کی کرکٹنگ سینس مُجھ سے اِتنی ہی بہتر ہے جِتنی دھونی کی  کپتانی  آفریدی سے۔

Saturday, 4 July 2015

سموسے

جیسے جانورں میں کُتا اِنسان کا دوست ایسے ہی سبزیوں میں آلو اور پیٹ کا پرُانا یارانہ ۔ آلو ایک شریف سبزی ہے شرم و حیا کا پیکر کہ مِٹی کے پردے میں رہ کر پکنے تک کِسی کو اپنی جھلک تک نہیں دِکھاتا ہے ۔آلوؤں پر ڈھائےظلم بربریت کے پہاڑوں سے تاریخ کی ندیاں بہتی رہی ہیں ۔ مگر کِسی آلو کی طرف سے جارحیت کا ایک ہی واقع تاریخی حوالوں میں مِل پایا ہے ۔ اُس پر بھی گہری نظر ڈالی جائےتو اشتعال انگیزی میں آلو سے زیادہ بلے کا کِردار معلوم ہوتا ہے جی ہاں اپنے آلوانضمام الحق کو تشدد پر اُکسانے والا بلا ہی تھا جِس پر نظر پڑتے ہی اپنے اِنضی بھائی عرف "آلو "تماشائی پرٹوٹ  پڑےتھے ۔
 میں  آلوؤں کا ہمدرد ہوں اورناں ہی  اُن کا سرکاری وکیل ۔ پیش  کردہ حقائق سموسوں سے جُڑی میر ی ریسرچ کا حِصہ ہیں۔ جسمیں تیز  مصالحےبھی ببانگ دہل سی سی کرواتا  ہوا ایک کرِدار نبھاتے ہیں  مگر مصالحہ  جات تو ہمارے کھانوں کی اصل روح ہوتے ہیں ۔بریانی سے لیکر کریلے گوشت میں جی سڑانے کا کام تسلی بخش انداز میں سراِنجام دیتا ہے  کبھی ناں  شکائیت ہوئی  اور ناں ہی کِسی نے  مُنہ بنایا ۔

میری تحقیق بتاتی ہے باقی  اِجزائے ترکیبی  ہمارے معمول کے مزاج کے مُطا بق ہیں ۔ اصل شرارت تکونوں کی ہے،جی تین  کونوں  کی ۔ آپ میری بات پر ہنس رہے ہیں ۔بالکل ایسے ہی ہنسی تھی دُنیا جب نیوٹن نے سیب کھانے کے بجائے کُچھ کہنے پر زور دیا تھا ۔اپنے ارد گِرد نظر دوڑا لیجئے آپ کوافطاری سے پہلے سموسے کے  ہر دوسرے ٹھیلے  پر دھکم پیل نظر آئے گی۔مقصد ِرمضان بھولے تقوی کے اصول و ضوابط کو ترک کئے دن بھر کی محنت غارت کئے کہنیاں گھسیڑتے اُنگلیاں مروڑے گھُستے چلے جاتے ، خبطی بنے پیٹ بھرنے کو لڑ مر رہے ہوتے یا پھر سموسوں کے حصول کو یہ  سارا جنگ کا میدان سجتا؟ اپنی زندگی میں رمضان میں سموسوں کی خاطر لڑنے مرنے کے کئی سین دیکھے ۔

ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ایک پڑہے لِکھے پٹھان بھائی محض تین نہیں پانچ سموسوں کے چکر میں آپے سے ایسے باہر ہوئے کہ انگریزی میں گالیاں اور پشتو  میں مُکے چلاتے نظر آئے ۔وہ تو شُکر  ہے کہ پُکارتے رہنے کے باوجود بھی ر  وبی  اُنہیں نہیں  مِلی ۔ یہ اُن کی دِلرُبا روبی   اِٹلی مارکہ پستول گر    ہاتھ آجاتی تو اٹیلین میں ایک عدد  فائر بھی کر دیتے ۔اذان کیا ٹھنڈا پانی بھی  من کو شانت ناں کر پایا ،وجہ سموسے تھے صاحب یہی سموسے ۔ جِس کا تھال وہ پہلے ہی اُلٹا چُکے تھے۔
تو دوستومیں بات کر رہا تھا تکونوں کی۔ یہ جو سموسوں کی تین کونے   ہوتی ہیں ناں ساری نحوست  اِنہی کی ہوتی ہے کیونکہ ان تین  میں سے ایک پر  شیطان نے تھوکا ہوتا ہے، تب جا کر تیار ہوتی ہےیہ تکونی بلا ء۔اب آپ کہیں گے  یہ کیا بکواس تحقیق ہوئی بھلا ۔ تو جناب جب نیوٹن ایک سیب کے گِرنے سے کشش ثقل دریافت کر سکتا تو میں سموسے کی تین تکونوں اور رمضان کے تجربات کو دیکھتے ہوئے کشش شیطانی کا قانون اخذ کرنے سے پیچھے کیوں ہٹوں


Friday, 5 June 2015

پالکی میں ہوکے سوار چلی رے


آپ پچاس روپے کا کڑکتا ہوا نوٹ کِسی بھاگتی ہوئ سڑک پر پھینک کر دیکھئے ۔ تیز ی سے گھومتے ٹائروں سے ضربیں، رگڑیں کھاتا لُڑھکتا ہوا وہ اپنی تمام تر اکڑ پھوں کھوتا ہوا محسوس ہوگا ۔دور کہیں سے کوئی بُرے وقت کا مار ا اللہ کا بندہ اپنی پنکچر پھٹیچر سی موٹر سائیکل گھسیٹتا ہوا اُس نوٹ تک پہنچ ہی جائے گا   یوں زِندگی کی جنگ لڑتا ہوا پچاس روپیہ بھی منزل پالے گا  اور ایک غربت کا مارا بھی دُعائیں دے گا۔ بیان کردہ  کہانی تو ایک پچاس  کے نوٹ  کی تھی خود سوچئے جب سڑک پر پچاس ارب روپے پھینکے (لگائے )جائیں تو کیا ہوگا یقینا چلتی ٹریفک اُڑنے لگے گی۔  
میٹر و بس پر لگا یا گیا پیسہ بھی ضائع نہیں ہوگا بہتوں کے کام آئے گا۔ جڑواں شہروں مٰیں آج سے شُروع ہونے والی میٹروبس یقینی طور پر ایک مثالی منصوبہ ہے ۔ اسلام آباد سیکٹریٹ سے راولپنڈی صدر تک کا فاصلہ جو دو گھنٹے کی خواری مانگتا تھا آرام دہ سواری میں مِنٹوں میں طے ہونا  کِسی خواب سےکم نہیں ہے ۔ راولپنڈی صدر اور بلیو ایریا جڑواں شہروں کے دو بڑے کاروباری مراکز  ہیں میٹرو کی وجہ سے کاروباری سرگرمیوں میں غیر  معمولی  تیزی آئے گی ۔ بلیو ایریا میں رونق  ہوگی اور صارفین کا رجحان   اِس طرف بڑہے گا ۔ جب کاروبار چلے گا تو  روزگار کے  بہت  سے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔


مری روڈ پر سفر کا تجربہ رکھنے والے جانتے ہیں یہ سڑک شیطان کی خالہ جی کے گھر کی پتلی گلی ہے ،مومنین کے صبر کا ایسا اِمتحان جِس میں تینتیس نمبر کِسی ولی اللہ نے ہی کبھی لئے ہوں تو ہوں۔ خُدا خوش رکھے میٹرو بنانے والوں کو جِنہوں نے ایمان والوں کو ایک مُشکل امتحان سے نکالنے کا بندوبست کیا ہے ۔ وہ ماں باپ جو اپنے بچوں کو پنڈی سے اِسلام آباد موٹر سائیکلوں پر بھیجتے تھے اور ون ویلنگ کے انجام کی کہانیاں تصور کر کر سارا دِن سولی پر لٹکے رہتے تھے اب میٹرو کی بدولت سکون کی نیند سو پائیں گے۔ بچہ پارٹی بھی ہشاش بشاش سکول و کالج پہنچے گی ۔ آپ یوں سمجھئے کہ میٹرو پر سفر کرنے والوں کی زِندگی میں روزانہ کی بُنیاد پر دو گھنٹے کا اِضافہ ہو نے جا رہا ہے ۔ بہترین اور تیز بس سروس کے باعث ذاتی گاڑیوں کے اِستعمال کی حوصلہ شِکنی ہوگی اور پٹرول کی بچت سے قیمتی زرِ مُبادلہ بھی بچایا جاسکے گا۔ 
یہ تو تھے جناب میٹرو کے چند ایک فوائد  جو کہ دفتر جانے سے پہلے لِکھے تھے )۔


آج میں آفس سے تھکا ہارا گھر پہنچا ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا ہوا دھڑام سے بیڈ پر جالیٹا کندھا کِسی سخت سی شے سے لگا، کم بخت ٹی وی ریمورٹ اب ٹکرا ہی گیا تھا تو بٹن بھی دبا دیا ۔ وزیر اعظم صاحب کی تقریر چل رہی تھی وہ اپنے مخصوص انداز میں تیس سالہ ذخیرہ الفاط کی پوٹلی میں سے جمہیورت کے ثمرات نِکال نِکال بیان فرما رہے سے اور پھرِ میٹرو کے جمہوری 
تحفے کا شان نزول پڑہا گیا ،ساتھ ہی فرمانے لگے سمجھ نہیں آتی پنڈی کے عوام نے حنیف عباسی کو ووٹ کیوں نہیں دئے ؟ اُس نے تو ہار کر بھی میٹرو دے دی جیت جاتا تو آپ کو ہیلی کاپٹر سروس دے دیتا۔ وزیر اعظم کی اِس لاہوری طرز معصوم سی جُگت پر اُدھر ہال میں زور دار قہقہے گونجے اور اِدھر میرے فون کی گھنٹی بج پڑی اپنا ایک  فیصلاباد ی یار تھا   ر سم سلام بھی پوری نہ ادا کر پایا اور فیصل آبادی انداز میں بولا "اوئے کم عقلو ، نلیقو اسلام آبادیو ویکھیا فیر ساڈے میاں صاحب کیسا شاندار تحفہ دِتا توانوں ۔۔۔۔۔۔میں نے جواب دینے کی بجائے خُشک سے لہجے میں ایک عدد سوال کر ڈالا "کیا جانتے ہو تُم اِسلام آباد کے مُتعلق؟ بولا " یار اِک شاہ فیصل نے مسجد بنائی سی اِسلام باد وِچ تے اج میاں صاحب نے میٹرو بنا دِتی باقی ہور ہے کی ایس شہر دے پلے ؟؟َ؟  اللہ   جانے دوست کی طرف سے کئے اِس طنز کا اثر تھا یا میاں صاحب کے جمہوری لیکچر کا  دباؤ ،میں   بہت پیچھے سن 2000 میں جا پہنچا ۔ جب اِس شہر میں پہلی بار اپنے کزن کے کے ہاں میں نےطویل قیام فرمایا تھا۔ تب ایسی فِکری اور معاشی آزادی نصیب تھی کہ جی بھر کر اِس شہر کی سڑکیں گلیاں ناپیں۔ دنیا جہاں کے شور سے  دور ایک پُرسکون سی آبادی تھی جسے زمین کا ایک خوبصورت ٹکڑا کہ لیں شہر کہنا ہرگز جچتا ناں تھا ۔سورج ڈھلتے ساتھ ہی یہاں تو   اُلوؤں کا راج ہونے لگتا تھا۔ اُن دِنوں میں نے مری   روڈ  راولپنڈی کا چکر بھی  لگایا  تھا اُس روڈ کی ری ماڈلنگ ہو رہی تھی چاندنی چوک پر اچھی خاصی تجاوزات گرائی گئی تھیں سِکستھ روڈ سے کُچھ آگے ایک بڑی جامع مسجد کو شہید کر کے روڈ چوڑی کی جارہی تھی میں  نے چند لوگوں  کو مسجد شہید کئے  جانے پر ناخوش بھی  دیکھا ۔  اسلام آباد میں ڈیڑھ ماہ قیام کے بعد تنگ سی سِنگل آئی جے پی روڈ سے ہوتا ہوا پیر بدھائی پہنچا تو اپنے دارلخلافہ کے لاری اڈے کی حالت دیکھ کر شدید دھچکا لگا۔
دوہزار چھے میں جب اسلام آباد کو اپنا ٹھِکانہ بنایا  تو ایسے لگا جیسے غلطی  سے رستہ  بھولے کسی اور ہی دُنیا  میں آگیا ہوں۔ جدید طرز کی کُشادہ سڑکوں کا جال بِچھا پڑا تھا  چھے برسوں  کی میں  اربوں   روپیہ اِسلام اباد کے اِنفراسٹرکچر پر لگا یا جا چُکا تھا۔ اب یہ بستی ایک شہر کا روپ دھار چُکی تھی ۔مگر ایک بات میں واضح کرتا جاؤ ں کہ اسلام آباد کی اصل پہچان اُس کا قُدرتی حُسن ہے اور بس ، باقی شہروں اور دارلخلافوں سے تو دُنیا بھری پڑی ہے ۔ اس شہر کی کوئی تاریخ نہیں مگر دلفریب نِظارے، آنکھوں کو ٹھنڈگ دیتی     ہریالی  اورانگڑائیاں   لیکر  اپنا گرویدہ کرلینے والا موسم ہی  اِس کا کُل   اثاثہ  ہے ۔  اِس میں کوئی شک نہیں کہ وقت اور حالات کے ساتھ تبدیلیاںآتی رہتی ہیں ۔ مگر ہمارے ہاں کی جمہوری  مُرغیاں انڈہ دینے کے بعد آسمان سر پر اُٹھانے 
کی عادی ہوچُکی ہیں۔آج وزیر  اعظم کی تقریر سُن کر  کم  از کم مُجھے تو کُچھ ایسا ہی  گُمان  ہوا ۔
جب دو ہزار آٹھ میں جوشیلے شہباز شریف پنجاب کے وکھر ی ٹائپ سم کےخادم اعلی بنے تو پنڈی والوں کو اُنہوں نے ایک اچھوتا منصوبہ بنا کر دیا۔مری روڈ پر ایلویٹڈ ایکسپریس وے ، فیض آباد سے صدر تک کا سفر ِمنٹوں میں۔ جگہ جگہ بینزز سجے نواز شریف پارک میں جلسہ بھی ہوا بڑے میاں صاحب بھی تشریف لائے انقلابی خواب دِکھائے گئے مگر پھِر نا جانے کیا ہوا ۔ سرد خانے کی کالی نظر لگ گئی ۔ وزیر اعلی  صاحب جمہوریت  کی میٹھی لسی  کے دو  چار گلاس پی  کر ٹھنڈے  پڑ گئے ۔ جمہوریت بچانے کے لئے نواز زرداری پُل بنانا کہیں زیادہ ضروری تھا اور پھِر یہی کام ہونے لگا۔ خادم اعلی کی آنکھ تو   تب کھُلی جب کپتان  نامی  کوئی نیا  کھلاڑی اپنی جگہ  پکی کرتا محسوس  ہوا۔خیر  یہ سب باتیں ماضی کے ساتھ ہی  دفن ہو چُکیں  ، ذِکر  بے سود ۔   ماشاللہ  آج مری روڈ پر میٹرو پُل بن چُکا ہے ۔ ٹریفک کے اژدہام کو دیکھتے ہوئے یہ بھی کِسی احسان عظیم سے کم نہیں۔  مگر ایک سوال مُجھے  عرصے سے بے چین   کئے ہوئے ہے  کہ  نالہ لئی ایکسپریس وے  جو کہ مری روڈ کا بہت سا بوجھ اُٹھانے کی صلاحیت رکھتی تھی وہ  ووٹوں کے کسی   بنا   فارم پندرہ والے تھیلے میں ڈال دی گئی یا کہیں اورگُم ہوئی ؟۔ کوئی جواب ہے کِسی کے پاس ؟؟؟
میٹرو کے اسلام آباد سیکشن پر 25 ارب روپیہ لگا ہے ۔ یہ میٹرو اِسلام آباد میں جِن اطراف میں سے گُزرے گی اُن ایریاز میں آبادی کا تناسب کم ہے اِس حساب یہ لاگت بہت زیادہ ۔ آئی ایٹ ، ایف ایٹ، ایف سیون، ایف سِکس اور کُچھ حد تک جی –سکس اور جی ایٹ  ۔ یہ  پوش آبادیاں ہیں جہاں ایک ایک گھر میں آپ کو تین تین گاڑیاں کھڑی نظر آئیں گی۔ یہ شہر پاکستان کا واحد خوش نصیب شہر ہے جہاں ٹریفک جیم ناں ہونے کے برابر ہیں روڈز سٹرکچر بہترین اور جدید تقاضوں کے عین مُطابق ہے ۔مگر میٹرو پراجیکٹ پر  پچیس  ارب روپیہ لگانے کے لئے نائنتھ ایونیو اور بلیو ایریا کی گرین بیلٹ اُڑا دی گئی ۔بلیو ایریا پر آج سے پہلے کبھی بھی  کوئی ٹرانسپور ٹ نہیں چلائی گئی تھی تمام پبلک ٹرانسپورٹ فضل حق روڈ پر یا سیکٹر جی کی سروس روڈ پر چلتی تھی ۔ میں نے ایک سال تک آبپارہ سے صدر تک کا سفر کیا ہے یقین مانئے میرا یہ تجربہ کِسی گُناہ کبیرہ کی  دُنیا  ہی میں  مِلی سزا سےکم نہیں رہا مگر ایک بات سمجھنے کی ہے اسلام آباد سیکٹریٹ سے فیض آباد تک پہنچنے میں پندرہ مِنٹ ہی لگتے ہیں سارے کا سارا عذاب مری روڈ کا ہوتا تھا جو کہ مُسافر کا ڈیڑھ گھنٹا کھا جاتا  تھا۔
اب  مسئلے کے حل کی طرف آتے ہیں تو جناب گُزارش یہ ہے کہ اِسلام آباد میٹرو پر لگائے گئے پچیس ارب کا آدھا پیسہ لگا کر پورے اِسلام آباد  میں اِنہی بڑی بسوں کے ساتھ جدید قِسم  کے سٹاپس بنا کر پانچ چھ روٹس چلائے جاسکتے تھے بلکہ ایک روٹ ائیر پورٹ روڈ سے ہوتا ہوا راولپنڈی کچہری تک بھی چلانا مُمکن تھا۔ میں پھِر دہراتا ہوں پچیس ارب کی آدھی رقم میں ایسا مُمکن تھا ۔
آخری بات یہ کہ میٹرو بس کا کرایہ بیس روپے ،کیوں ؟؟؟ ایک طرف چوپڑی ہوئی دو دو بلکہ چار چارجبکہ دوسری طرف سوکھی روٹی بھی  میسر نہیں۔ یہ  کیسا بنا رہے  ہیں  آپ پاکستان ؟؟؟  ایک بہترین سروس  اُس کے ساتھ خطیر  رقم  کی سبسڈی بھی  دی جائے گی ۔مُلک کے طول و عرض میں بسنے والے ہر قِسم کی سہولت سے محروم نادار لوگ ، بوتل کا ڈھکنا کھولنے سے لیکر ایک موبائل کال کرنے پر بھی ٹیکس ادا کرتے ہیں ۔ جب اُن سے لیا گیا ٹیکس چند ہزار لوگوں کی سہولت پر لگایا جائے گا تو نتیجہ کیا ہوگا ؟؟؟  
احساس محرومی   داڑھ  کے درد کی    طرح ظالم  ہوتی ہے      اور  اِس عوامی درد کاباعث بننے والا  کیڑا  شاہی طرز  حُکمرانوں کی شعبدہ بازیوں ہی کے سر  پلتا ہے    ۔
بحرحا ل جناب آج سے میٹرو اپنے روٹ پر رواں دواں ہے  ۔بس   میں  سوار میاں شہباز شریف پر نظر  پڑی تو ایسے  لگا  جیسے ا پنی  سات سالہ مثالی کارکردگی کی باہوں میں باہیں ڈالے     میٹھے سُر میں گُنگُنا ر ہے ہوں
کوئی روک سکے تو روک لے  
میں تو چلی 
چھن چھن چھن چھن چھن 
پالکی میں ہوکے سوار چلی رہے 
میں تو اپنے ساجن کے دوار چلی رے   

Wednesday, 6 May 2015

سائنس اور آرٹ


کوئی دس بارہ سال پُرانی بات ہے ایک تھکا دینے والے سفر کے بعد لاہور سٹیشن پر اُترا ،گھر تک کا سفر آگ کا دریا معلوم ہونے لگا ۔ جون کی جھلسا دینے والی   لو  نے تو قدم اُٹھانے کی ہِمت ہی چھین لی تھی ۔ تینتیش نمبر ویگن تک پہنچتے پہنچتےگرم ہوا شعلہ بننے کو تھی ۔بھری ویگن تو  جیسے میرے ہی انتظار میں سورج کےغضب سے لڑتی ،چلنے کو تیار کھڑی تھی ۔ نیم بیہوشی کی سی کیفیت میں ایک صاحب نے ہاتھ کا سہارا دیتے ہوئے اپنے ساتھ خالی سیٹ پر بِٹھا لیا۔ مُسکراتا چہرہ ،زبان کی مِٹھاس آنکھ کان کو ایسی بھلی لگی جیسے شدید گرمی میں ٹھنڈا ،شربت کا گِلاس ۔
 محترم کا ساتھ اگلے دو سٹاپ تک نصیب ہوا اس دوران میں اُن کی میٹھی باتوں سے محظوظ  ہوتا رہا۔ میں اُنہیں آج تک یاد رکھے ہوئے ہوں۔ بھولوں بھی کیسے بِن موسم کے آئی چند لمحوں کی بہار ،جِس کے جاتے ہی ایسی بیقراری کہ خُدا کی پناہ ، مُجھے تر نوالہ بنائے وہ صاحب بٹوہ لے اُڑے تھے۔
آرٹ ہے جناب بہت بڑا آرٹ ہے ،کِسی کو لوٹنا اور اس پیار سے لوٹنا کہ لُٹنے والا گالی دینا بھی بھول جائے ۔ انِسانی نفسیات کی سائنس کا اُستاد اور ہاتھ کی صفائی میں کمال مہارت ۔سائنس اور 
 آرٹس کا اِس سے بہتر امتزاج شائد ہمارے سیاست دانوں کے ہاں ہی  مُمکن ہے 

الیکشن لڑنا بھی ایک سائنس  ہے اور دھاندلی ایک آرٹ۔ ہمارا سیاسی نظام ایسی مثالوں سے بھر ا ہوا ہے ۔ فرق مواقع مِلنے کا ہے ورنہ کاریگری ایک سی۔ جیب کترا بھی دو اُنگلیوں کا اِستعمال ہی تو کرتا ہے ۔ وہ کِسی کی جیب میں ڈال کر لوٹتا ہے تو سیاست دان اِنہی اُنگلیوں سے وِکٹری کا نِشان بنائے یہی کام بڑے پیمانے پر کر جاتا ہے

Saturday, 22 November 2014

نئی ٹوکری میں گندے انڈے

سوہنے رب نے سوہنا دِن بائیس  گھنٹوں کا بھی بنایا  ہوتا تو کم نہ تھا ، بس  یہ  عصر سے مغرب کا دورانیہ  ہے  جو ہمیشہ قلیل ہی  لگا۔ ہم نے زندگی کی رونقوں کو  اپنے جوبن پردِن کے اِسی حِصے میں دیکھا۔ جاگتی دُنیاؤں کا حسُن مغرب سے عِشا تک بھی ماند نہ پڑتا تھا مگر ہم ہاف ممی ڈیڈی قِسم کے واقع ہوئے تھے ،اِن محفلوں سے مستفیذ ہونا ہماری قِسمت میں کم کم  ہی لِکھا  گیا تھا۔ "اولاد کودو سونے کا نِوالہ لیکن  دیکھو شیرکی آنکھ سے" اِس  ضرب المثل  پر مماں یقین  نہ رکھتی تھیں۔ بلکہ اُن کا کہنا تھا کہ  اولاد  کودیکھو بھلے جِس مرضی آنکھ سے  بس محمد علی کے مُکے سے دبی رکھو۔ مماں کی ڈانٹ تو اپنے ٹامی کو پڑجاتی تو  وہ دو دِن گلی میں جھانک کر نہ دیکھتا تھا۔ہم تو۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں مادری زبان کے طوراُردو نصیب ہوئی اور بڑی سختی سے اِسی زبان پر کاربند رہنے کا حُکم صادر ہوا ۔ ہمارے پاپا ہمیشہ  پنجابی میں بات کرتے اور ہم اُردو میں جواب دیا کرتے تھے۔ پنجابی کے ساتھ ہم نے وہی سلوک کیا جو گاؤں کے غریب دیہاتی رشتے داروں کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ہمیں  اُمید ہے کہ نئی  نسل ہماری اُردو  کو اپنے ڈرائنگ روم تک لے جانے کی زحمت  بھی گوارا نہ کرے گی۔

ِذکر دِن کی اُن حسین گھڑیوں کا  چھڑا ہے جب عصر کی نما ز کے بعد محلے کے بزرگ مُختلف ٹولیوں میں گپیں لگاتے گلیوں میں نظر آتے اور پھر اپنے اپنے مخصوص  کردہ تھڑوں  پر جا بیٹھتے تھے۔ محلے کےچوکوں میں قُلفی والا، لچھے ملائی والا۔ گولے والا سب  ریڑھیاں سجا لیتے تھے۔سردیوں میں اِن کی جگہ مونگ پھلی اور خُشک میوہ جات لے لیا کرتے تھے۔ چھوٹے بچے  بچیاں  بچپن کی معصومیت  بھرے کھیل کھیلتے نظر آتے ۔ کُچھ اٹھکیلیاں کرتے ٹیوشن سنٹروں کو جاتے دِکھتے ۔ لڑکے بالوں کے ٹولے سڑکوں  پر مل مارےکوئی  کھیل  یا کرکٹ کھیلتے نظر آتے ۔ اِس گیند بلے کے کھیل نے  توہمارے ہاں جنگلی شہتوت کی طرح 
جڑ پکڑ لی ہے ۔ ہر طرف   سے چوکے چھکوں کی آوازیں آتی ہیں۔

اُس دن بھی  بعد ازنماز عصرہم  لوگوں نے  حسب معمول پیپسی کے دو ڈالے بطور وِکٹیں لگا کر اپنے کھیل کا آغازکیا تھاکہ گلی   میں چوہدری فتح صاحب کی آمد ہوئی  ۔اپنی گلی کا موڑ مُڑ کر ساتھ والی گلی میں آخری مکان اُنہی کا تھا ۔  چوہدری فتح صاحب ابھی باؤلرز اینڈ کے قریب قریب ہی تھے ۔جب موٹا بلال   عرف لڈو  جو وِکٹ کیپری کے سوا بس دُشمن تھا اناج کا ،وائرس کی طرح پھیلا ہوا بھارتی فِلم   "تِری دیو " کا یہ  گانا گانے لگا "تِرچھی ٹوپی والے ہووووووو/بابو بھولے بھالے " ۔ سِلی مِڈ آن پر کھڑا شاد ہ   تو جیسے  چورن کے پھکے مار  کر آیا تھا،اِس  شیطانی لوری سے جھوم کر پھٹے ہوئے ڈھول کی  طرح  "اوئے اوئے،اوئے اوو اووااا" کہتا   لڈو   کا ہمنوا ہوا۔ اب اِس ساری سچوئشن کا  چوہدری فتح صاحب کے سر پر رکھی  پرہیز گارٹوپی سے رِشتہ کیونکر بنا ؟اس سوال کا جواب عِلاقے کی ڈیوٹی پر مامور شیطان کے سوا اور کِسی کے پاس نہیں ہے ۔چوہدری فتح صاحب نے پچ کے درمیان میں پہنچ کر پوزیشن سنبھالی اور پلک جھپکنے میں مارٹر گولوں کی بوچھاڑ کر ڈالی۔ کوئی جان بچاتے اپنے گھر کو بھاگا ،تو کوئی گلی میں  کھڑی گاڑیوں  پیچھے جا دُبکا ۔ میں خود شیخ صاحب کی سفید  اٹھاسی کرولا کے بیک بمپر کے نیچے گھُسنے کی کوشش میں لگا رہا۔ جو"بھاگنے " کا تجربہ رکھتے تھےاُنہوں نے دوسرا سانس ہی اگلے محلے پہنچ کر لیا۔ رب نے دُنیا  میں کوئی شے بھی بے مقصد نہیں بنائی اِس بات کا عملی تجربہ پہلی بار اُسی دن ہوا جب ہم نے موٹے بِلال کو ساری "گولیاں" بڑے حوصلے سے اپنے سینے پر کھاتے اور  اپنا دفاع کرتے  دیکھا ۔ چوہدری صاحب اور ہماری کرکٹ کا ویر کوئی نئی بات نہ تھی مگر ہماری آنکھوں نے جو ڈرامہ اُس دن دیکھا  وہ تصور سے کہیں بڑا تھا۔

اگلے دِن ہم مجمع بنائے میں ایسے کھڑے تھے کہ جیسے کرکٹ کےقُل   کا  اِرادہ  باندھا ہو۔اِتنے میں شیخ صاحب   اپنے مخصوص انداز میں  چھڑی کوا وپر تک  چلاتے ،لمبے ڈگ بھرتے ہوئے گلی میں داخل ہوئے۔  ہمارے پاس پہنچ کر رُک گئے اور پوچھنے لگے  "او مُنڈیو خیر ہے اج  روڈ تے میلہ نہیں سجیا؟" ہم نے کل کا سارا قِصہ اُن کو سُنا ڈالا۔  وہ بولے  "او جھلیو تتے توے تے بندہ کِنچ نچدا فیر کل تُسی ویکھ ہی لیا ناں ، اپنا ہائی بلڈ پریشر  نوں تتا توا  ہی سمجھو۔ چوہدری  تے ویسے وی  ذرا کپتا بندہ اے ۔تسی  وِکٹاں تھوڑیاں اگے کر کے لا لو تے ایک مُنڈا موڑ  تے کھڑا کر چھڈو ۔ باقی دو چار منٹ اگے پِچھے  ہوجا نا کیڑھا مُشکل اے"۔ ہم نے میاں صاحب کی بات پر عمل کیا ۔ اُس واقعے کےبعد بھی  دو چار بار ہمارا چوہدری صاحب سے ٹاکرا ہوا مگر اُس   ایک تجربے نے ہمیں خاصا سیانہ کر دیا تھا اور چوہدری صاحب کا غُصہ  بھی سُپیڈو میٹر کی  مقرر کردہ حدود میں ہی رہا۔یہ الگ بات ہے کہ  چوہدری صاحب کو ہم نے پھِر جگا ڈاکو کے نام سے ہی یاد کیا۔

ہمارے  محلوں ، کالونیوں میں   تھوڑی بہت اونچ نیچ کے ساتھ  کُچھ ایسا ہی  ماحول ہوا کرتا تھا ۔جہاں ایک  چوہدری فتح ہوتا ہے وہاں شیخ  صاحب جیسا کردار بھی  موجود۔ ۔ٹین ایج میں داخل ہونے والوں سے لیکر کر بیس پچیس سال تک کے لڑکے اِک دوسرے  کی تربیت کا باعث بنتے تھے۔ بزرگ بھی  اپنےتجربات سے ایسے نوازتے جیسے عِلمی عرق کے  بڑے پیار سے چھِٹے مار رہے ۔ پتا بھی  نہ لگ پاتا اور  نئی پنیری  کومعصومیت کی  کیاری سے بڑے کھیت میں  مُنتقل کر دیا جاتا تھا۔ جہاں وہ  دھوپ چھاؤں کی سختیاں جھیلنا سیکھنے لگتی۔ محفلیں جما کرتی تھیں بحث مُباحثے ہوتے تھے ۔ ہنسی مذاق کے ساتھ  ساتھ ہر معاملے پر بات ہوا کرتی تھی حتٰی کہ سیاست پر بھی ۔ جہاں   چین کی بنسی بجتی ہے  وہاں شیطانی   کان  بھی دھواں دینے لگتے ہیں۔کبھی کبھار تلخیاں بھی جنم لیا کرتی تھیں ۔ ۔ بالی عمر  سے گزرتے بچوں میں فطرتی  طور پر جذباتیت کا عنصر زیادہ  ہوتا ہے ۔حالات  جب بھی  کبھی تناؤ کی طرف جاتے تو بزرگ کِسی کا کندھا دبا کر کِسی  کو گلے لگا کر کو ئی لطیفہ  یا حکائت سُنا تے اور معاملہ سنبھال لیتے ۔
گلی محلوں کی رونقیں، وہ محفلیں  اب دم توڑتی جارہی ہیں۔  آج  کا   رونا ہے بس  پیٹ پوجا  ،  بھولا   ہر معاملہ دوجا۔گلی محلوں کی سوشل لائف  سوشل میڈیا  میں سمٹنے لگی ہے ۔نئی نسل جسمانی کسرت کی بجائے کمپوٹر گیمز سے مغز چٹوانے کی زیادہ شائق  ہو گئی ہیں ۔ وہ اپنی اُنگلیوں پرجدید دُنیا دیکھتی ہے ، سوچتی ہے، اپنے تئیں سمجھتی ہے، موازنہ کرتی ہے، پریشان ہوتی ہے ۔۔۔۔  خیالات میں   اِنتشار۔۔۔۔۔مگر اُسکا کندھا پکڑنے والا  ، اُسے گلے لگانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ نتیجہ اِک خلا ، جِسے پورا کرنے کو   چلتی  ہیں آندھیاں ،تیز آندھیاں پگڑیاں اُچھالتی آندھیاں شلواریں  اُڑاتی آندھیاں۔

اِسی ضِمن  میں ایک خط  نقل کر رہا ہوں

ڈئیر ابوجان

آج میں اپنی زِندگی کا ایک بہت بڑا تجربہ کرنے جارہا ہوں  جِسکا کیا نتیجہ نِکلے گا میں نہیں جانتا ۔مگر مُجھ  میں ایسے تجربو ں کی ہمت آپ ہی کی عطا کردہ ہے۔ ابو میں دس سال کا تھا  جب میں  نے سردیوں کی اِک رات آئسکریم کھانےکی ضِد کی تھی  ،آپ کے سمجھانے اور منع کرنے کے باوجود میں نے آئسکریم کھا کر ہی دم لیا تھا۔ اگلی صُبح  جب آپ نے مُجھے اُٹھایا تو میرا بدن بُخار میں تپ رہا تھا۔ میری حالت دیکھ کر آپ کا چہرہ اُتر گیا،  مگر آپ نے  ایک بار بھی    مُجھے کوسا نہیں، بس آئندہ احتیاط کی تلقین کی ۔میں  اپنی نادانی کے سبب ایک ہفتہ شدید بیمارر ہا  ۔آ پ کو دفتر سے  چھُٹی  بھی لینی پڑی مگر آپ نے  مُجھے نہیں جتایا۔ا بو یہ پہلی مثال ہے  جسے میراکمزور ذہن محفوظ کر سکا۔  میری زِندگی ایسے بہت سے واقعات سے بھری ہوئی ہے ۔میرے میٹر ک کے پیپر ہوئے تو میں نے ڈی  وی ڈی پلئر لینے کی ضِد کی تھی ۔ آپ نے امی اور دادا جان  کی سخت مُخالفت کے باوجود ڈی وی ڈی پلئر لیکر دیا ۔ ہمارے شوق کی خاطر آپ ہی  ہمیں فِلمیں لاکر دیتے پہلے خود دیکھتے اور  ہمارے معیار وفہم کے مُطابق  حد بندی کرنے کےبعد ہمیں دیکھنے دیتے ۔ ہر بچے کے لئے  اُسکے والدین آئیڈیل ہوا کرتے  ہیں  مگر ابو ہمارے کزنز ہمارے گھر میں کُچھ دِن گُزارنے کا بہانہ ڈھونڈتے ہیں   ،ہماری وجہ سے نہیں بلکہ ہمارے ابو کی وجہ سے   ۔ شائد آپکو اِ س کا اندازہ نہ ہو میں آج آپ کو بتا رہا ہوں کہ  آپ کے بھانجے بھتیجے آپ  ہی کو اپنا آئیڈیل مانتے ہیں ۔  کیونکہ آپ نئی نسل   کے راہنما سے زیادہ اُن کے ترجمان بنے،  دوست بنے  اُن کی پسند ناپسند  کو فوقیت دینے والے، اُن کے ساتھ ساتھ چلنے والے ساتھی بنے ۔اپنی  روایات پر فخر کرنے والے  گھرانے میں ہماری نسل کو آگے بڑہنا خود سے فیصلے کرنا ، صرف اور صِرف آپ  نے  سِکھایا۔

ابو  آپ کے ذہن سےدوہزار آٹھ کا وہ دن یقینا محو نہیں ہوا  ہوگا  جو میری بیسویں سالگرہ سے دو دن بعد آیا تھا۔ آپ نے مُجھے اُس دِن بڑ ے جوش سے  کہا تھا کہ  چلو بیٹا  اپنا فرض ادا کرنے چلیں آج   اللہ نے ہمیں ایک بڑے بدمعا ش سے بدلہ لینے کا موقع عطا کیا ہے ۔ ابو یاد ہوگا آپ کو، میں نے گاڑی کے پیچھے ہرا جھنڈا بھی لگایا تھا اُس دِن ۔دو ہزار تیرہ تک آتے آتے اِتنا کُچھ بدل جائے گا یہ میں نے  کبھی  نہ سوچا   تھا کہ پانچ سال بعد ہم دونوں ایک دوسرے سے نظریں چھُپاتے  ووٹ ڈالنے جائیں گے ۔ معاملہ اِتنا سنجیدہ ہو جائے گا کہ ہم آپ سے  سیاست پر بات کرنے سے کترائیں ۔ گھر میں اِک ٹینشن کے سے حالات بن جائیں گے۔  امی بتاتی ہیں کہ1985 کو ضیا صاحب کے  ریفرنڈم میں آپ نے بڑے زورو شور سے حِصہ لیا تھا۔ آپ نے اُس نیک کاز کو ثواب سمجھ کر بہت سے لوگوں کے ووٹ بھی  بھگتائے تھے ۔ابو شائد وہ آپ کی زندگی کا ایک تجربہ تھا شائد کُچھ ایسے ہی تجربے سے آج  ہم گُزر رہے ہیں

ابو  یاد ہے آ پ کو  جب آپ ہم بہن بھائیوں کو   پُرانی مہران میں سکول و کالج چھوڑنے جایا کرتے تھےتو کبھی  کبھار چوہدری ظہور اِلہی روڈ کے بند ہونے پر ہمیں لمبا چکر کاٹنا پڑتا تھا  ۔ اِس پر آپ کا بلڈ پریشربہت  بڑھ جاتا تھا۔ آپ بمشکل خود پر قابو پایا کرتے تھے ۔ابا میں  بچپن سے چچا حمید کے   گھر بڑے شوق سے جایا کرتا تھا ۔ میں اور علی شام کو گلی میں  دیگر لڑکوں کے ساتھ کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔ ابو مُجھے پِچھلے پانچ سال سے  چچا حمید کے گھر جانے سے وحشت ہونے لگتی ہے اور اسکی وجہ ،گلی کے  دونوں طرف  رکاوٹیں اور سخت سکیورٹی ۔ ایسے لگتا ہے جیسے  کِسی نے قید کر دیا ہو آزاد لوگوں کو۔  اب یہ "شرافت "کِس شریف کی ہے آپ جانتے ہیں۔ا بو آپ نے تو  پرویز الہی سے اپنا بدلہ لے لیا تھا مگر جذبات میرے بھی کُچلے گئے ایک بار نہیں بار بار کُچلے  جاتےرہے ہیں۔

ابو  میں پِچھلے سال پورا ہفتہ گاؤں  اپنے  دیہاتی  رشتہ داروں کے ہاں رہ کر آیا تھا۔ یہ بات آپ کےلئے  بھی حیرت کی تھی ،کہاں گاؤں کے نام سے بھی میں دور بھاگتا تھا  اور کہاں پورا ایک ہفتہ گاؤں میں رہ آیا ۔ ابا مُجھے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ یہ لوگ ہر گِز کم  تر نہیں  ہیں بلکہ ہم سے بہتر زِندگی گُزارنےوالے اور   ہم سے زیادہ سُتھرےلوگ۔ ابو میں پورا ہفتہ بطور تبدیلی رضا کار گاؤں گاؤں پھِرا  میں نے تو یہی نتیجہ اخذ کیا کہ اُنہیں فرسودہ  نظام میں جکڑ کر جاہل رکھا گیا ہے ۔ ابو آپ نے  تبدیلی کے نعرے کا ہمیشہ مذاق اُڑایا  ۔  میں آپ سے پوچھتا ہوں کیا یہ مُثبت  تبدیلی نہیں کہ جِس نے مُجھے اور مجھ جیسے بہت سے لوگوں کو عام دیہاتی سے  جوڑ دیا؟۔ ابو تبدیلی تو  ایسی گہری کھائی  کا نام ہے کہ جِسمیں جِتنا  بھی کُچھ نیا  ڈال دو وہ بھرتی  نہیں۔ اگر میر ی بات غلط ہے تو  آج کے امریکہ میں تبدیلی کانعرہ  لگانے والا کبھی بھی کامیاب  نہ ہوتا۔

ابو آپ نے ساری عمر بنکنگ کی ہے ۔ مُجھے یاد ہے  اپنے بچپن کا وہ  دور  جب میں آپ کےبنک آیا کرتا تھا ۔میں نے  بنک سے پیسہ نکلوانے آئے  لوگوں  کے چہروں  پر ہمیشہ پریشانی ہی  جھلکتی  ہی  دیکھی۔ پیتل کا ٹوکن لینا   چیک پر درست دستخطوں  کا خاص خیال رکھنا ۔ بنک عملے کا کھاتوں میں اینٹریاں کرتے رہنا، بنک سٹیٹ منٹ  کے لئے  رجسٹر  سے فوٹو کاپیاں  کروانا ۔ زِندگی عذاب، بنکر کی بھی تھی اور  صارف کی بھی ۔ مگراب تو دُنیا ہی بدل گئی ہے،آج کی نسل کو ایسی کہانیاں سنائی جائیں تو وہ مذاق اُڑاتی ہے ۔ جِس نسل نے اے ٹی ایم  مشینیں اور  چند سیکنڈوں میں گھر بیٹھے  بنک سٹیٹ منٹیں نکالنا  ہی دیکھا  اُس کے لئے تو پرانا نظام پتھر کے دور کی کہانی ہی ٹھہرا ۔
اب آپ خود ہی سوچئے کہ  آج  کا انسان کیونکر  پُرانے بوسیدہ  طرزالیکشن  پر یقین و ایمان لائے گا۔ ابو آپ نے ہمیشہ یہی کہا کہ لنگڑی لولی جمہوریت کو چلنے دینا  چاہئے ۔ ابو  ہمیں کوئی اعتراض نہیں مگر اِس لنگڑی لولی  کے ساتھ بھنگی چرسی جمہوریت کو برداشت کرنا مُجھ جیسوں کے لئے شائد مُمکن ہی نہیں ہے۔

ابو  مُجھے فیس بُک پر  کم عقل، ناسمجھ گردانا جاتا  ہے ، جاہل کے نام سے پُکارا جاتا ہے ۔ تاریخ سے نابلد، ترقی کا مُخالف پُکار کر طعنہ زنی کی جاتی ہے ۔ ابو مُجھے کِسی کی پرواہ نہیں میں بس  آپ کے ساتھ کو ترستا ہوں ۔وہ ساتھ جو بچپن سے لیکر آج تک  میری سب سے بڑی طاقت رہا  ہے ۔
.......

اِس خط کےدو  پیراگراف ابھی باقی ہیں مگر مزید   چھاپنے کی  مُجھے اِجازت نہیں  ہے۔  یہ خط  فیس  بُک پر فقط  فیملی ممبرز  کے لئے لکھا گیا  تھا۔ میں اپنے فیس بُک فرینڈ کا  شُکر گزار ہوں کہ اُنہوں نے اپنی ا  ذاتی تحریر   ناصرف مجھ سے شئر کی بلکہ اِس پوسٹ میں شامل کرنے کی اجازت دی۔

خود پر بیتے کا آج کے  دور سے  موازنہ کروں تو بس  یہی کہ پاؤں گا کہ بچے   لاڈلے بھلے نہ ہوں انوکھے ضرور ہوتے  ہیں، کھیلن کو چاند ہی مانگا کرتے ہیں ۔ ہم لوگ چاند کی جگہ" چاند گاڑی" پر  خوش  ہوجایا کرتے تھے۔ مگر آج .....