Sunday, 9 December 2012

بڑا سخت جان ہے ہمارا غریب



کرکِٹ کے کھیل نے انگریز اشرافیہ کے ہاں پرورش پائی ۔ یہی وجہ ہے رکھ رکھاؤ اعلی  اقدار اِس کھیل کا حِصہ بنیں  اور کرکٹ  کو جنٹلمینز گیم کے نام سے شہرت مِلی ۔ آج بھی  اعلیٰ  درجے کے انگریزخاندانوں  میں  یہ کھیل شُرفا کی شان سمجھا جاتا ہے۔جب 1992 کا ورلڈ کپ جاری تھا اور پاکِستان شِکست  پر شِکست  کھاتا  جارہا تھا،  تو اِنگلینڈ میں ایک ظہرانے کے دوران ملکہ الزبتھ نے پاکسِتانی سفیر سے   اُن کی ٹیم کی بُری کارکردگی پر اپنی تشویش کا اِظہار کیا تھا۔بس پھِر کیا تھا ہم نے شاہ سے زیادہ ملکہ کا وفادار ہونے کی  ایک انوکھی مثال قائم کر ڈالی

کرکٹ   انگریز شاہوں  کے ڈیروں  سے باہر نِکلی تو جزائرغربُ الہند  کے کالوں اور برِ صغیر کے رنگ  والوں  کے میدانوں ،پارکوں ،سڑکوں ،فُٹ پاتھوں ،اورگلیوں تک جاپہنچی۔  ہمارے محلوں میں بچے کرکٹ  اُن تنگ و تاریک  گلیوں میں بھی کھیلتے نظر آتے ہیں  جن میں سورج  بھی سارا سال جھانکنے کی ہِمت نہیں کرتا   ۔ اِن تنگ گلیوں میں  جب گیند باؤلر کے ہاتھ سے نکل کر  بیٹ کو چھوتی  ہے تو اُ سکے  بہتی  ہوئی گندی نالی  میں ڈُبکی لینے کے اِمکانات 70فی صد سےبھی  زائد   ہوتے ہیں مگر  کھیل  پھر  بھی جاری رہتا ہے ۔  کرکٹ کی اِسقدر  عوامی مقبولیت  سے اِس کھیل کی جنٹملینی تو خیر کِسی نالی  میں بہہ گئی مگر یہ کھیل  نِکھرتا گیا۔ اِسے  دِلکشی   و طِلسماتی  کشش عطا کرنے  میں  غُلام رہے ممالک کے پلئیرز کا کرِدار  جھُتلایا نہیں جاسکتا ۔غریب  میلکم مارشل   سے لیکر تنگ دست عبدلقادر اور وِو رچرڈزسے لیکر  ٹنڈلکر  تک بیسیوں  نام  ہیں جِن  کی بدولت  
یہ کھیل  آج لوگوں دِلوں  پر حُکمرانی کرتا ہے۔

سنوکر   کی کہانی بھی کُچھ  زیادہ مُختلف نہیں ہے۔ لفظ سنوکر کا  لغوی معنی  غیر  تربیت یافتہ  یا فرسٹ یئر کیڈٹ  ہے ۔  برِصغیر  میں تعینات برِٹش آرمی کا پسندیدہ کھیل  بِلئرڈ تھا   اور  وہیں   سے سنوکر   کا جنم ہوا۔  جبل پور  کے آفیسرز میس میں1875 پہلی بار اس کھیل میں رنگین گیندوں  کا اِستعمال کیا گیا۔  لگ بھگ دس سال بعد کھیل کے رولز طے کئے گئے۔  بیسویں صدی  کے آغاز میں سنوکر  برطانیہ میں تیزی سے مقبول ہونے لگا،مگر  اِس کھیل کو اِبتدا  ہی سے 

اپر کلا س تک ہی محدود رکھا گیا ۔برطانیہ  کے کلبز  میں مخصوص ممبرز ہی یہ کھیل  کھیلنے کے حقدا ر تھے۔ 
قائد اعظم کا  اِس کھیل سے لگاؤ سنوکر سے ہمارے  تعظیمی رِشتے کا باعث بنا۔وقت گُزرنے کے ساتھ  یہ  کھیل   ہمارے ہاں عام  ہوا  اورکرکٹ  کی  طرح تمام حدیں کراس کرتا  چلا گیا اور  بڑے دیہاتوں میں  گارے  کی چھتی   ہوئی چھت  کے تلے ، گرد سے اٹی ٹیبلوں پر  کھیلا جاتا ہوا  بھی نظر آنے  لگا۔ہمارا غریب بھی بہت سخت جان واقع ہوا  ہے  بالکُل  کھُمبی  کے بیچ  کی طرح کا سخت جان۔  گندگی میں تو  یہ پھلتا پھولتا ہے  ہی   ، گر موقع میسر آجائے تو    بادشاہوں کے باغات میں بھی جلوہ گر ہوکر اپنی   حیثیت منوا لیتا  ہے ۔ خواہ  سالہا  سال  مٹی کے نیچے دبا رہنا  پڑے  ۔  حالیہ دِنوں میں بلغاریہ میں    کھیلی  گئی ورلڈ کپ سنوکر ٹائٹل اپنے 
نام کر کے یہی بات ثابت کر دِکھائی محمد آصف   نامی اِک غریب پاکِستانی نے ۔

اِسی طرح اگر تختِ سُلطانی کو بھی   چند خاندانوں  سے نِکال کر  عام کر  دیا  جائے تو  قیاس کیا جا سکتا ہے کہ  اِک چھابڑی فروش سے لیکر  رکشے والا تک تختِ سُلطانی کے خواب دیکھنے لگے گا جِس سے بہت  لُٹ مچے گی ہر طرف لوٹ سیل لگ جائے  گی   اور یہ تخت ِ سُلطانی   اِن غریبوں  کی  پھٹی ایڑیوں  میں جمی گندی مٹی سے اٹ جائے گا۔ مگر اس حقیقت   کو کیسے جھُٹلایا جائےکہ   اقوامِ  عالم میں   چیمپئین فقط اِس  راہ کو اپنانے سے ہی بنا  جاسکتا ہے کیونکہ بڑا سخت جان ہے ہمارا غریب۔

Saturday, 24 November 2012

آج کُچھ میری بھی سُنو


نوٹ    یہ تحریر اُستاد جی کی پوسٹ تعزیہ سے مُتاثر ہو کر لِکھی گئی ہے۔
میرا بچپن اور جوانی بھی اُستاد جی کے شہر ہی میں بسر ہوئی ہے ۔ محرم کے ماتمی جلوسوں پر میری پہلی نطر ڈگلس پورہ کے گھر کی چھت سے پڑی میرا تجربہ بھی اُستاد جی کے بنائے گئے خاکے سےمُختلف نہ تھا۔   اپنے سکول کے دور  میں  ایک بار    دس محرم کے  دِن دھوبی گھاٹ سے گُزنے کا اتفاق ہوا  اور پہلی بار زنجیر زنی   لائیو ہوتے دیکھی تو  حالت غیر ہو گئی۔  بس  خُدا خُدا کر کے اپنے گھر پہنچا وہ دِن اور آج کا دِن میں نو اور دس مُحرم کے دِن خود کو گھر  میں ہی  میں مُقید کئے رکھتا ہوں۔اِس کی  وجہ کوئی خاص نہیں بس اپنا دِل ہے ہی اِتنا کمزور  مُرغی ذبح  ہوتے دیکھ کر   ہی باہر کو  چھلانگتا  ہے ۔ اِنسانی خون  تو ،خیر رہنے ہی دیں اِس بات کو۔ محرم کے دِنوں میں مُنعقدہ مجالس  سے مُجھے اِختلاف  لاوڈ سپیکر کے اِستعمال پر ہے جِس میں ذاکر صاحبان کی تقاریر اور نوحوں کے ساتھ ساتھ دھڑام دھڑام کی آوازیں بھی  سُننے کو مِلتی ہیں ۔ جو مُجھے زنجیر زنی کے  دیکھے گئے سین میں پھِر سے  دھکیل دیتیں ہیں۔

مُجھے یاد ہے کہ میٹرک  پاس کرنے پر مُجھے  تایا جان نے ایک چھوٹا سا ٹیپ رِکاڈر گِفٹ کیا تھا۔وہ ٹیپ رِکارڈر لندن سے سفر کرتا  ہو ا مُجھ تک پہنچا تھا۔بہت پیار سے میں نے اُس ٹیپ رِکارڈر کو رکھا۔ اپنی ٹین ایج کے  ہٹ گانے جو آج بھی میری یادوں میں محفوظ ہیں اُسی پر سُنے ۔بونی ایم گروپ کی ایک کیسٹ    جوکہ ٹیپ رِکارڈر کے ساتھ ہی تشریف لائی تھی ،کُچھ ہی عرصے میں  لگ بھگ حفظ ہوگئ تھی مُجھے۔ نہ جانے کب اُس ٹیپ رِکارڈر میں گانوں کی جگہ حق نوازجھنگوی کی ایمان افرو ز تقریروں نے لے لی ۔ غالباً مسجد میں نماز اور  مولویوں سے علیک سلیک  نے یہ کرشمہ کر دکھایا تھا۔جھنگوی صاحب کی  تقاریر سُنیوں  کا خون گرماتی تھیں اور شیعوں   کے  گھر جلاتی تھیں ۔  اِن تقاریر کا مُجھ پر بھی گہرا  اثر ہوااور میں اُس( کافر قراد دی ہوئی) مخلوق کو کائنات کی بد ترین مخلوق  گرداننے لگا ۔  بس یوں محرم  کی تقاریب سے میری  وہشت کو ایک جائز  اور  مسلکی پناہ گاہ  بھی میسر آگئی۔ کافر کافر کا نعرہ خود لگانا تو  اپنی  خاندانی تربیت کے سبب کبھی مُناسب محسوس نہ ہوا مگر   لگتے دیکھ کر کبھی بُرا  بھی نہ لگا ۔ 

اِس جاندار نعرے نے کُچھ  ہی عرصے میں اپنا اثر پورے معاشرے میں قتل و غارت  اور بے سکونی  کی   صورت دِکھانا شُروع کر دیا ۔مگر میں  نے اِس نعرے کو اپنے ایمان کا  جُز و لازم جانتے ہوئے ہمیشہ اِلزام فریق ِ ثانی پر ہی دھرنے کی روش اپنائے رکھی۔ میرے چھوٹے چچا جو اُن دِنوں چنیوٹ میں اسسٹنٹ کمشنر تھے  ۔وہ اکثر  صحابہ  کے اِن جانثاروں کے قِصے سناتے  اور اِن لوگوں سے دور رہنے کی تلقین کرتے تھے۔مگر  میرا مُرغا بھی ایک ٹانگ لیکر ہی پیدا ہوا  تھا ۔ سٹوری میں ٹوسٹ اُس دِن آیا  جس دِن سعید انور نے 194 رنز کی کبھی نہ بھولنے والی اِننگز کھیلی ۔ سعید انور کی سنچری شام کو بنی تھی مگر اُس دِن  کا آغاز بھی ایک  الگ سنچری سے ہوا تھا۔   عاشقانِ صحابہ  کی ٹیم کے ایک  کھِلاڑی نے  اپنا سواں شکار   ابدی نیند سُلا یا تھا۔ شکار ہونے والا ایک درویش صِفت   اِنسان جِس نے  آخری سانسیں اپنے بیٹے   نیر عباس  کی گود میں  بیچ سڑک  پر لیں ۔ یہاں میں ایک بات واضح کرتا جاوں یہ وہی نیر عباس ہے جِسے  جعفرحُسین نے اپنی پوسٹ  میں عُرف " پستول شاہ "لِکھا ہے۔ اُس درویش کے قتل پر ہر آنکھ عشق بار تھی ہر چہرہ افسردہ ۔ ایوب ریسرچ کی وہ سڑک بھی شرمندہ تھی جہاں دِن دیہاڑے یہ  اندوہناک واقع  پیش آیا  وہ   درویش 25منٹ  تک خون میں لت پت پڑا رہااور کوئی مدد کو آنے والا نہ تھا۔ دُکھ کی بات یہ ہے  کہ میری اِن آنکھوں نے وہ چہرے بھی دیکھے جو اِس سفاکی کو جائز اور  اس قتل پر   دُکھ کے اِظہار کی  سرزنش کرتے  تھے۔

نیئر عباس سے میری دوستی بہت پُرانی ہے۔ اِنسانی تعلق  خصوصاً دوستی اِ  اِتنی کمزور کبھی نہیں ہوتی کہ  وہ حق نوازجھنگوی  یا کِسی  اور مُقرر کی  شعلہ بیانی اُسے جلا کر بھسم کر ڈالے ۔ میں اُسے اور   اُس کے مسلک کو   اِسلام سے خارج قراد دیتا رہا اور وہ اپنے دِفاع میں ہر دم سر گرداں رہا۔ وہ   ہمیشہ اپنے مسئلک کی  بطور اِسلام قبولیت  کے حق میں دلائل      پیش کرتا رہا۔ہم آپس میں لڑتےرہے  ایک دوسرے کے دلائل سُنتے  اور رد کرتےرہے  مگر نہ وہ  اپنی جگہ سے ہِلا نہ میں کھِسکا۔   ہمیں زِندگی  کے تجربات نے یہی سبق دیا کہ  دوسرے کی عِزت کرنے  سے اِنسان عِزت پاتا ہے ۔ دوسرے کا احترام کرنے سے  اِنسان خود محترم کہلاتا ہے اور سب سے بڑھ کر  یہ بات  کہ  صبر ،برداشت اور ڈائیلاگ  ہی  ایک صحت مند  معاشرے کی تشکیل کے ضامن ہیں ہے۔
اِسلام  صبر، برداشت  قُربانی اور عدم تشدد کا درس دیتا ہے ۔ نبی پاک کے نواسے کی قُربانی  اِس کا سب سے بڑا ثبوت ہے  ۔  اِس قُربانی کے اِس بُنیادی فلسفے میں ہی ہمارے تمام مسائل کا حل موجود ہے۔
  

Thursday, 15 November 2012

اے سُپر مین ہٹاں تے نئیں وِکدا



اِک کنگلے کالے  افریقی کے گھر پیدا ہونے والے بدیسی صدر کی شان میں صفحے کالے ہوتے دیکھے تو میرے دِل میں تڑپ پیدا ہوئی کہ کیوں نہ اپنی دھرتی کے حقیقی ہیرواور رئیس الاعظم کی اولادِ اصغر کی شان ِبیان میں کُچھ قصیدہ نِگاری کا فرض ادا کرتا  جاؤں۔ جناب کی سحر انگیزذات مُبارکہ  کے اس مفلوک لحال  اور پِسی ہوئی  عوا م پر  اسقدر احسانات ہیں کہ جِن کا قرض رہتی دُنیا تک اُتارنا کسی طور بھی مُمکِن   نہیں ہے   ۔ آپ کی عظمت کا اِس سے بڑا اور کیا ثبوت ہے کہ چند سال پہلے آپ کو پنجاب کا شیر کہا جاتا تھا مگر آج جنگل کا بادشاہ بھی شہباز کی کھال پہنے نظر آتا ہے۔

قُربان جاؤں  آپ کے صوفیانہ انداز زِندگی پر کہ مئی جون کی گرمی میں بھی آپ کو جُھگی میں بیٹھے پنکھا جھلتے دیکھا جاتا رہا۔ مگر جب ڈینگی افواج نے حملہ کیا تویہ درویش اِک جری سپہ سالارکے روپ میں نظر آیا۔ ہر گلی ہر موڑ ہر دُکان پر ڈینگی سپرے اُٹھائے "شہباز ریمبو دی ڈینگی کِلر "حقیقت میں  ڈینگی کی موت ثابت ہوا ۔ اِس عظیم اِنسان  کی  برق رفتاری  سے ہسپتالوں میں  آنیا جانیاں دیکھ کر یقین ہو گیا کہ جناب کی شکل میں سُپر مین کا حقیقی جنم ہو ا ہے۔  ہمارے سری لنکن بھائی تو  اِس سُپر مین  کے حصول کے لئےمِنتے ترلے کرتے نظر آتے ہیں اب بھلا اِن بھائیوں کو کیسے سمجھایا جائے کہ  "اے سپر مین ہٹاں تے نئیں وِکدا"۔ ہمارااہلیان ِ سرِی لنکا  کو ایک  آزمودہ  مشورہ ہے  کہ  اِس سپر مین  کی آدھ پیجی  تصاویر اپنے مُلک کے تمام اخبارات میں چند دِن لگا ئیں  اور پھِر دیکھئے گا اس کا اثر۔۔۔۔ بھلے ہی موسمی حالات کا بہت فرق ہو پھِر بھی    یقینا  ڈینگی مچھر آپ سے دور ہوگا رہنے پر مجبور۔

عدلِ جہانگیری کے قِصے تو ہم نے سُن رکھے تھے مگراپنی آنکھوں سے  حقیقی عدل  بٹیا رانی کے کیس میں آپ ہی کے ہاتھوں  ہوتے دیکھا  ۔ کِس طرح آپ نے  رِشتے کی نزاکت کو بالے کی طاق پر رکھتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے ہائے  میں جب بھی بِٹیا رانی کے سرتاج کی  "اُتھاں گُزاری آئی رات "کے  بارے میں سوچتا ہوں تو میری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔

آپ کے دانش سکول   سرسید  احمد خان کے مُحمڈن اورئنٹل کالج سے بڑا اِنقلاب لائیں گے۔ جب دانش سکول کے بچے بڑے ہوکر  اپنی عِلمی صلاحیت  و قابلیت کے بل بوتے پرمسندِ صدارت پر براجمان ہوں گےتو ۔۔ہائے رے ککھ نہ روےایس قلم دا۔۔۔اومِٹی پاؤ جی ۔ ہاں تو میں کہ رہا تھا   کہ آپ کے دُشمن ایک آمر کو دس بار باوردی مُنتخب کر نے کی خواہش کا اِظہار  کر سکتے ہیں   تو آ پ کی مُحبت میں گِرفتار   اور احسانوں تلے دبی  یہ غریب عوام   سے آپ کی اگلی  پانچ نسلوں کو بھی  مُنتخب کرنے کا  حق  کوئی مائی کا لال نہیں چھین سکتا۔ جب کھُلا تضادکھُلے عام دِکھائی دیتا ہے تو  موروثیت  سرعام کیوں  چل نہیں  سکتی ۔ مُفت میں ببیچے ہوئے چھوٹے کمپیوٹر   اور بدلے میں نوجوانوں کے دِل ، کِسی سمندری تبدیلی سے کہیں بہتر اِنقلاب ہے  جو حقیقت  میں اب آچُکا ہے  ۔آپ نے جمہوریت کی اِس بے لگام  اور سرکش گھوڑی کو کمشنری نظام کا ایسا چابک مارا کہ   یہ  گھوڑی  اپنے شہزادے  کو بمع اہل و ایال ،پیٹھ پر بٹھائے نئی نویلی سڑکوں اور بِنا سریے کے بنے عالیشان   پُلوں پر سرپٹ دوڑتی نظر آتی ہے۔

ہمارا لیڈر   وہ شہباز ہے جو تندی بادِ مُخالف سے نہ گھبرایا اور نہ ہی  اُس نے اُنچی اُڑان کا جھنجھٹ  پالا بلکہ  اِک کرشمہ کر دکھایا اِس تُندی کو بادِ صبا میں بدل دینے کا کرشمہ۔اِس مردِ آہن نےتنِ تنہا    اِک تباہی پھیلانے والے سونامی کو  اپنی دھرتی کے پنج دریاوں میں غرق کر  کے  جواں مردی و شجاعت کی اعلی ترین مثال قائم کرتے ہوئےاپنا نام گِنس بُک  میں ہمیشہ کے لئے محفوظ کروا  لیا ہے۔( والیم 2012 صفحہ نمبر 303پر ٹی شرٹیں بدلنے  اور روٹیاں پکانے والے رِیکارڈ سے نِچلی لائن پر  آپ شہباز صاحب  کے ریکارڈ کی تفصیل مُلاحظہ کر سکتے ہیں)

خادمِ  اعلی کی دریا دِلی اور سخاوت کا مُنہ بولتا ثبوت روز کے اخبارات ہیں غریب لِکھاریوں اور مفلوک الحال اخبارات کے لئے مُختص کردہ  فنڈ   ہے جو کہ لاکھوں گھروں کے چولہے گرم رکھے ہوئے ہے ۔ اُمید کرتا ہوں  کہ یہ دریا دِلی جلد ہی میری جیب کا رستہ بھی دیکھے گی۔ میری جیب کہ جِس میں آج تک خُشک  کی سالی  غُربت ہی ناچتی رہی ہے۔ مگر اب  دولت کی بہاریں بھی دیکھ پائے گی ۔بس ایک بار۔۔۔۔

  

Friday, 9 November 2012

ایک عامی کا اِقبا ل ڈے



ایک اور اِقبال ڈے گُزر گیا۔ تمام دِن اِقبال کی شاعری اور فلسفے پر روشنی ڈالی جاتی رہی اور فکر ِ اِقبال کی یاد کو تازگی بخشنے کے  نام پر ٹی وی پروگراموں اور اخبارات کا پیٹ بھرا گیا۔ میں اِقبالیات کا طالبِ عِلم کبھی نہیں رہا اورپھِر آنڈے پرونٹھوں کی خوش خوراکی مُجھے فلسفیانہ اور مُدبرانہ خیالات و نظریات سے  دور دھکیلتی رہی۔ میں تو فے سے فضل الرحمٰن کے کے" پلٹنے جھپٹنے "کو کبھی نہ سمجھ پایا یہ فلسفے کے حروفِ تہجی  کو بھلا ۔۔۔

دو قومی نظریہ ڈاکٹر اِقبال کے خواب  کی صورت جنما اور ہمارے مُلک کی تخلیق کا سبب  بنا ۔  ہم بھلا محسِنوں کو کب بھولنے والے ہیں اِس دو قومی نظریے کو آج بھی زِندہ رکھے بیٹھے ہیں۔ ہمارے مُلک میں آج بھی دو  قومیں ہی بستی ہیں۔ اِک امیر اور دوسرے ہم۔   ہمیں  حکومت نے غُربت پروگرام کے سپیشل شناختی کارڈ  دے رکھے مگر اشرافیہ  کے در چھونے کے لئے شفارشی کارڈ بھی ضروری ہوتا ہے وہ نہ جانے کب مِلیں گے؟۔ ہمارا مُلک بھی کمال ہے کہ جہاں کے امیر بھی غُربت کا رونا روتے ہیں ۔بچوں کے پیمپروں کی  بڑھتی قیمت اُنہیں   مہنگائی کا احساس دلاتی  ہے۔ مہنگائی کا رونا رونے والی اِس اپر کلا س کے بچے فیری ٹیلز پڑہتے ہیں ، انگریزی میں خواب دیکھتے ہیں اور لنچ بریک میں نگٹس کھاتے ہیں۔ میں نے  کبھی  شاہین کی پرواز بارے میں نہیں سوچا اور نہ ہی کرگس  کے رہن سہن پر  میر ا کبھی  دھیان گیا مگر  اِک بات میں جانتا ہوں  کہ "اِن بچوں کا جہاں اور ہے اُن بچوں کا جہاں اور"

دو دِن پہلے کے اخبارات  میں اِک چھوٹی سی خبر  پڑھ کر مُجھے یادآیا کہ اِقبال نے  ممولے کو شہباز سے لڑا  دیا  تھا ۔سُنا ہےبہت طاقت تھی اِقبال کی شاعری میں ۔  مگر میں نے زِندگی میں ممولے کو پَٹتے ہی دیکھا۔   شہباز خواہ خادمِ اعلٰی ہو یا پھِرکوئی  اُس کا داماد یا سالا ہو ، وہ  ہر  حال میں مار ہی کھاتا ہے ۔ ممولا ہو یا  کوئی مُجھ  سا  معمولی ہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ اِن شہبازوں کے گُن گائیں  اور خوب دِل لگا  کر  "کھائیں " اِس عملی اُصول کو ذہن نشین کرتے ہوئے " کھاؤں گا نہیں تو بڑا کیسے ہوں گا"۔


Monday, 8 October 2012

سکون وِلا اور وہ


ہمارا ساتھ والی گلی کی ٹیم کے ساتھ ہوم سٹریٹ میچ چل رہا تھا ۔ ہمیں  جیت کے لئے تین گیندوں پرمحظ  دو رنز درکار تھے۔ باؤلر نے اپنے رن اپ پر دو قدم ہی  اُٹھائے  تھے  کہ  امپائر کے اِشارے پر رُک گیا۔ میں جو بیٹنگ کریز پر پوری یکسوئی کے ساتھ باؤلر پر نظریں جمائے ہوئےتھا۔ امپائر کا باہر کو  نِکلا ہو ا ہاتھ دیکھ کر سیدھا ہوگیا۔ اِک لڑکی ہرنی کی سی چال میں تِرچھے زاویے سے سڑک کراس کرتی ہوئی نظر آئی ۔ میری تمام تر یکسوئی اِن چند لمحوں میں بِکھر سی گئی بس  پھِر کیا تھا ہم میچ ہار گئے اور میں اپنا دِل۔ اُس کی چُنری کا ریشم سے بالوں کی ملائمت پر سے پھِسلنا، نیم جھُکی نظروں میں  شرماہٹ  اور  اپنائیت کے   اچھوتے بلینڈ کا  جھلکنا ،  پیلے کُرتے شلوار پر پھُلدار لال دوپٹے کا غضب ڈھانا ۔ جانے کونسی ادا    جو کہ میرے دِل میں مُستقل گھر کرگئی۔اِن چند لمحوں نے میر ی زِندگی ہی بدل ڈالی  ۔

اُس کی خوبصورتی  کے کیا کہنے ۔یہ آج کل کی کترینہ کیف میک اپ انڈسٹری کے سمندر میں سات ڈُبکیا ں لیتے ہوئے بن ٹھن کر نِکلے تب بھی اُس قدرتی حسن   اور پاکیزگی کے عشرِ عشیر کو بھی نہ پہنچ پائے۔ وہ ہماری گلی کے نُکڑ والے گھر میں رہتی تھی،  اُس گھر کی اوپر والی  منزل پر ہماری گلی  کی طرف اُس کا کمرہ تھا۔سورج کی پہلی کِرن اُسی کے کمرے پر پڑتی تھی۔ ہر صُبح اُس کی  گالوں کو چومتی  ، وہ جھٹ سے اُ ٹھتی ، جھروکےسے جھانکتی  اور یوں ساری گلی میں اُجالا ہو جاتا۔ ہم یار دوست تقریباً ہر شام میاں صاحب  کےگھر کے  باہر تھڑے پر بیٹھے گپیں لگاتے   تھے ۔کرکٹ ، کالج کے قِصے ، سیاست ،  پونڈی اور فِلمیں  ہمارے  پسندیدہ موضوعات ہوتے تھے۔ مگر اب میرے لئے ہر چیز بے معنی سی ہوگئی تھی  میرا پورا وجود بس یہی  پکارتا تھا " شامان پئیاں دِل دے ویڑے توں چانن بن کے آ" اُس کا چند لمحوں کے لئے جھروکے میں آنا۔ گھر سے کِسی کام   یا کالج  کے  لئے نکلنا ،  اور میرا ایک نظر اُسے  دیکھ لینا بس میرے لئے زِندگی اِس کے سِوا کُچھ نہ رہی تھی۔

وہ بارہویں کلا س  کی طالبہ تھی   اور میں بھی روزانہ  ہاتھ میں دوعدد کِتابیں اُٹھائے کالج کی سیر کو جاتا تھا ۔ جہاں پہلے ہی پیریڈ میں ہمارے اُستا د  یہ  فِقرہ ضرور دہراتے تھے"  او  میرے ہیرے پُترو بی اے کی انگریزی  آوارہ کُتوں کی طرح گلیوں  میں لور لور پھِرنے سے کلئیر نہیں ہوتی "۔ہمارے اُستاد بہت  فرینڈلی طبیعت کے مالک تھے۔اُنہوں نے ہماری انگریزی پر خوب محنت   ضائع کی۔  ہمیں پریسی لکھنے  کےاسلوب سِکھائے اور خوب  پریکٹس کرنے کی تلقین کی ۔ میں نے بھی اپنی تمام تر توانائیاں اُس پندرہ صفھے کے خط کو اثر انگیز، محبت سے لبریز  اور  پریسائس بنانے میں صر ف کر ڈالیں جو میں  اپنی محبت کی پہلی راتوں میں  لِکھ چُکا تھا ۔ پندرہ صفحوں  کو سُکیڑ کی میں   لگ بھگ دو صفحات کے احاطے تک محدود  کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اب اِسے  مُحبت  کا ضعف کہیں یا اِک بُزدِل کی مُحبت ۔  انگریزی ادب کی وہ شاہکار تحریر آج تک کِسی کے ہاتھ نہیں لگ سکی ۔شائد   میرے بعد یا صدیوں بعد   دورانِ کھُدائی   پولیتھین    کی موٹی پیکنگ میں نہائت سلیقے  سے تہہ شُدہ حالت میں  پائی جانے والی تحریر  کِسی تاریخ دان کے ہاتھ لگ جائے۔پھِر دُنیا ڈھونڈتی پھِرے گی اُس سچے مگر ناکام ع ا ش ق کو۔
دِن رات یونہی گُزرتے گئے اور بہار سے موسم جاڑے میں تبدیل ہوگیا۔ دِسمبر کی چھُٹیوں  میں اِک ٹھنڈی سہ پہر میں اپنے لنگوٹئے یارکے ساتھ میاں صاحب کے تھڑے پر بیٹھا  دِل  کا بوجھ ہلکا کر رہا تھا کہ  گُڈو    آن پہنچا۔ گُڈو"  اُن"  کا بارہ سالہ مُلازم تھا جِسے ہم کرکٹ کھیلتے ہوئے  رلو کٹے کے طور پر ساتھ رکھتے تھے۔  اُس نے آتے  ہی پوچھا  "بھائی جان آج کرکٹ نہیں  کھیلیں گے   ؟"میں  نے اُسے اِگنور کرتے ہوئے  نفی میں  سر ہلایا  اور اُس سے جان چھُڑانے کے لئے کل کا کہ دیا۔  وہ  قدرے مایوس انداز میں بولا  "کل، تو مُجھے ٹائم ہی نہیں مِلے گا کل تو مہمانوں  نے آنا ہے جی، باجی  کی شادی  کی تاریخ رکھنے "۔ یہ کہ کر مایوس   گُڈو تو چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتا  گھر کو ہو لیا۔ مگر اُس کم عقل  کی دی ہوئی خبر مُجھ پر ایک دھماکے کی طرح بریک ہوئی۔میرا لنگوٹیا  اور واحد ہمراز مُجھے سہارا  دیکر گھر تک لے  آیا۔ چند  ایک تسلیاں دیں اور  جاتے ہوئے میری جیب میں غم بھُلانے کی دوا ڈال گیا جو کہ وہ  تازہ تازہ خرید کرلایا تھا۔ میں  تین دِن تک خود  ساختہ قید تنہائی میں رہا اور غم بھلانے کی دوا  ہی میرا ساتھ دیتی رہی۔ یہ بِناکا گیت مالا کا لیٹسٹ والیم "غم کے آنسو "تھا۔ واہ کیا گانے تھے" میری قِسمت میں تو نہیں شائد کیوں تیرا  اِنتظار کرتا ہوں" اِ ن تین دِنوں کی خود ساختہ قید  اور "غم کے آنسو" میری ری کوری میں بہت معان ثابت ہوئے۔یقیناً تنہائی اِک بہترین مساج ہے اور سوچ بِچار ایک طاقتور ٹانک  ۔

اُس کی جِس جھٹ سے منگنی ہوئی تھی اُسی پٹ سے شادی   ہوئی۔ امریکہ میں تین عدد  پٹرول پمپس کے مالک تھے صاحب ۔ بقول  رائے دہندگان جناب جھٹ پٹ صاحب بہت ہینڈ سم   اور  اِنتہائی مِلنسار طبیعت  کے مالک تھے یہ الگ بات ہے کہ وہ مُجھے تو  دیکھنے میں بُش سینئیر کا باڈی گارڈ ہی لگا۔  قِصہ مُختصر  وہ جھٹ پٹ کے ساتھ جھٹ سے امریکہ کے لئے اُڑ گئی۔۔۔اورمیںاُڑتے جہاز کو دیکھ کر بس یہ گیت دہراتا رہا "برباد محبت کی دُعا ساتھ لئے جا"  اِنسان کی زِندگی میں کُچھ تعلق ماچس کی تیلی کی مانند ہوتے ہیں  جو کُچھ دیر کیلئے اور تھوڑی سی  روشنی کرتے ہیں ہے  اورکُچھ تکلیف دے کر ہو ا  میں اُڑ جاتے ہیں  مگر   وہ   چند لمحوں  کی روشنی اِنسان کے اندر اِک چراغ جلا جاتی ہے کبھی نہ بجھنے والا روشن چراغ ۔

میری اگلی منزل اللہ سے لو لگانے  کی تھی۔میں نے چاروں نمازیں  با جماعت مسجد میں پڑہنا شُروع کردیں  ۔  چار اس طرح     کہ سردیوں   کے یخ  موسم میں بِسترمجھے  نہیں چھوڑ تا اورگرمیوں کی  چھوٹی چھوٹی راتوں  میں  بِستر مجھ سے  نہیں  چھوڑا جاتا  ۔ اِسی لئے فجر کی نماز بابت  معافی نامہ میں ہمیشہ سے ہی اپنی جیب میں  تیار رکھتا ہوں  ناجانے کب بُلاوا آجائے ، جھٹ سے اللہ کے حضور پیش کر دوں گا۔اللہ بہت معاف  کرنے والا ہے۔ ہمارے محلے کی مسجد  ساتھ والی گلی میں تھی  بس  موڑ مُڑو  کُچھ قدموں کی واک اور  بندہ مسجد میں۔ میں جب  بھی مسجد جاتا تو راستے میں اُسی نُکڑ والے گھر کی نیم پلیٹ پر میری نظر چند لمحوں کے لئے  احتراماً ٹھہرتی تھی  ۔جِس پربڑی نفاست سے لِکھا تھا"سکون وِلا" ۔ اِس احترام و عقیدت  کی وجہ کچھ اورنہیں ہماری کرکٹ کے رلو کٹے"  گُڈو " کی دی ہوئی خبر تھی جِس کے مُطابق یہ نیم پلیٹ  اُس کی باجی نے اپنے  ہاتھ سے لِکھی تھی۔ وقت نے کروٹ لی اور  تقریباً دو سال بعدمیں اِس گلی ، محلے   بلکہ شہر سےدور پھینک دیا گیا۔

بہت عرصے بعد اپنے   شہر جانے کا اِتفاق ہو ا تو اس گلی سے جڑی یادیں   اِک مقناطیس کی طرح مُجھے اپنی طرف کھینچ لائیں۔  سہپہر کے وقت میں کُچھ دیر باقی تھا ، گلی  میں بِالکُل خاموشی  تھی۔  یہاں بہت کچھ بدل چُکا  تھا  ۔کچھ گھر گِرا کر نئے بنائے جا چُکے تھے۔ جِن میں ہماری سابقہ رہائش گاہ بھی شامل تھی۔ البتہ میاں صاحب کا تھڑا اپنی اصل حالت میں دیکھ کر بہت خوشی محسوس  ہوئی ، میں وہیں بیٹھ گیا۔ پھرِ  تو جیسے کِسی نے  دماغ کا سرچ بٹن ہی دبادیا    ہو لمحوں  میں فائلوں کاایک انبار لگتا گیا۔ گولیوں مچھیوں ، اِمبلی چورن والے  چاچا اکرم سے لیکر  میری پہلی شیو بنانے والا دوسہ نائی، اور نہ جانے کیا کچھ۔ مُجھے تو دماغ کا نیٹ ورک ڈگ مگاتا ہوامحسوس ہوا۔ توجہ بٹانے کے لئے میں  نے سِگریٹ سُلگائی ابھی دو کش  ہی لئے تھے کہ اذان کی آواز میرے کانوں میں گونجی ۔ میں نے گھڑی پر نظر دوڑائی تو ابھی پونے چار ہوئے تھے  اور نماز میں بہت ٹائم پڑا تھا ۔ میری سِگریٹ ختم ہوئی مگر یادوں  کی لڑی تھمنے میں نہ آئیں۔ میں کچھ دیر اپنے ماضی میں کھویا رہا  ۔ اور اُٹھا چھوٹے چھوٹے قدم لیتا ہوا    نُکڑ والے گھر  کے سامنے آکھڑا ہوا میری نظر    "سکون وِلا "  کی مخصوص جگہ پر پڑی مگر۔۔ ۔

گھر کا مین گیٹ کھُلا ہو اتھا ،مجھ  پر سکتہ سا طاری ہوگیا۔ میں بُت بنے کھڑا تھا، گے کہ اِک  صاحب نے  مجھے بڑی گرمجوشی سے گلے لگایا اورگھسیٹتے  ہوئے    "سکون وِلا " کے اندر لے گئے۔ میں اپنے ہوش  میں نہیں تھااُن صاحب  کی گرم جوشی سے  اندازہ  ہو ا کہ ہماری اِ ن سے  بہت پُرانی علیک سلیک  ہے۔ ۔ اقامت کہی جار ہی تھی۔ میں نےبمشُکل  وضو  کِیا اور جماعت کے ساتھ ہو لیا۔ مجھے یوں محسوس ہوا  کہ جیسے میں اپنا ہی نماز ِ جنازہ پڑہ رہا ہوں۔مولانا صاحب  نے سلام پھیرا   ،   دُعا کی اپنی ناف کو چھوتی ہوئی  ریشِ مُبارک میں  خلال کیا۔ اور اپنی جگہ سے اُٹھ کر ایک کونے میں  پہلے سے  تیار بیٹھے  بچوں کو سبق دینے لگے۔ سب نمازی جاچُکے تھے مگر مُجھ میں اُٹھ  کر چلنے کی بھی ہمِت نہ تھی۔ میری سوچنے کی صلاحیت  گُم  ہو چلی تھی مگر میری نظریں  مولانا   ہی پر جمی ہوئی تھیں۔ کُچھ دیر بعد میں گھِسٹتا ہوا  مولانا  صاحب کے پاس آبیٹھا  اور اُن سے  سوال کر نے کی جسارت کر ڈالی  کہ ساتھ والی گلی میں  محظ چند قدموں پر ایک بہت بڑی  اور کشادہ  مسجد موجود ہے تو پھِر اِس رہائشی عِلاقے  کے  اِس گھر میں مسجد بنانے کی آپ کو کیا ضرورت   محسوس ہوئی؟ میر ے لہجے کی تُرشی اور  جُملے کی کڑواہٹ   کو محسوس کرتے ہوئے ،ہاتھ میں پکٹرے   ڈنڈے پر  اُن کی گرفت مضبوط ہوتی گئی ۔مولانا کی  آنکھوں میں اُترتا ہوا جلا ل دیکھ کر میری آواز کی تُرشی گلے ہی میں دب کر رہ گئی۔ ۔۔ ۔۔۔

میں  تیز تیز قدم اُٹھاتا اِس گلی کو پیچھے چھوڑتا جار ہا تھا  میرے ماضی کا  قیمتی خزانہ سانس لیتی جیتی جاگتی  زِندہ  یادیں  ہیں ، جوسکون  وِلا کو مسجد ماننے سے  قطعی اِنکاری تھیں۔ مولانا صاحب کے کہے ہوئے الفاظ میرے کانوں پر مُسلسل ہتھوڑے کی طرح لگ رہے تھے۔  "   دین کی اصل  حالت میں ترویج ہم سب  پر  فرض ہے اور اِس پورے ایریا میں ہمارے شِرک و بدعت سے پاک  مسلک کی ایک بھی مسجد اور مدرسہ موجود  نہیں  تھا ۔ہمارا یہ اقدام شریعت کے  عین مُطابق  ہے  ۔ یہ گھر برائے فروخت تھا ہم نے  خرید کر اِسے مسجد و مدرسہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔۔"

Sunday, 16 September 2012

گُل خان کے نام


گُل خان ہمارے بڑے صاحب کا سرکاری ڈرائیور ہے۔  وہ اِنتہائی سادہ طبیعت اور خلوص سے بھرا ،کھرا اور پیارا اِنسان ہے۔ وہ خیبر پختونخواہ کے کِسی دور افتادہ گاؤں سے تعلق رکھتا ہے ۔ اِتنا دور کہ بیسوں دفعہ بتائے جانے کے باوجود بھی مُجھے اُس کے گاؤں کا نام یاد نہیں رہتا۔میں اکژ سوچتا ہوں کہ   گُل خان اگر کبھی   برینڈڈ سوٹ  پہنے بازار کا چکر لگائے تو لڑکیاں اُسے بریڈ پِٹ نہیں تو  اُس کا کزن سمجھتے ہوئے آٹو گراف لیتی ہوئی نظر آئیں ۔وہ اپنے کام اوراُس سے جُڑے لوگوں سے اِنتہائی مُخلص ہے۔ میں نے اُسے کبھی بھی کِسی قِسم کی دفتری سیاست کا حِصہ بنتے نہیں دیکھا۔ میرے  آفس کولیگز میں غالباً گُل خان وہ واحد بندہ ہے جِسے میں بے دھڑک اپنے اچھے ساتھیوں یا دوستوں  میں شُمار کر سکتا ہوں۔ فُرصت کے لمحات میں وہ اخبار کا مطالعہ کرتا ہوا پایا جا تا ہے یا پھردُنیا جہاں سے لاتعلق ہوئے کِسی ٹی وی ٹاک شو کا حِصہ بنا ہوا نظر آتا ہے۔ گُل خان جیسے لوگ جہاں بھی ہوں اپنے کِردار کی بُلندی سے ہراِک سے عِزت و احترام پاتے ہیں۔وہ بڑے گہرے سیاسی نظریات رکھتا ہے جِن پر اِسلامی رنگ غالب ہوتا ہے۔   گُل خان کی  سیاست اور حالات حاضرہ پر،  وقت اور حالات کی نز اکت  کو سمجھے بغیر بے لا گ اور طول پکڑتے ہوئے  تبصرے ایک واحد ایسی  عادت ہے جو بسا اوقات  سُننے والے کے لئے سخت کوفت کا باعث  بنتی ہے۔
ابھی کچھ ہی عرصے پہلےگُل خان نے آغا  وقار کی پانی سے گاڑی چلتی دیکھی  تو بس پھِر کیا تھا جناب نے    دو عدد گاڑیاں لیکر کر کرائے پر چلانے کا  خواب بھی دیکھ لیا اور نوکری کو خیر باد کہنے کی پلیننگ بھی کرلی۔  اُس کا کہنا تھا کہ آغا وقار اگر امریکہ میں پیدا ہوتا تو  شائد اب تک نوبل پرائز کا    حق دار ٹھہرتا۔آغا وقار کی مدح سرائی  سے تنگ آکر میں نے نامور کیمیا  دان ،  ڈاکٹر عطا لرحمٰن کی اعلٰی ترین ڈِگریوں اور  اُن کے تحقیقاتی مقالوں    کا رُعب جماتے ہوئے   اُسکی زُبان بندی کی کوشش کی تو  گُل خان نے جواب دیا۔ "صیب اِتنا بڑا کیمیا دان ہوتا تو  ایک محلول  نہ تیار کر لیتا جِس کے غرارے کرنے سے  بندے کی آوازتو مردانہ ہو جاتی " گُل  خان  نے اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کی خاطر  حامد میر  کا سہارا کُچھ اِن الفاظ میں لیا" صیب حامد میر بال کی کھا ل اُتار کر اُسے نچوڑتا ہے  اور پھِر دھوپ میں  سوکنے ڈال دیتا ہے ،   اُس نے  پرویز رشید کے ساتھ بیٹھ کر پانی والی گاڑی خود چلائی ہے   ،پتا نہیں آپ کیا بات کرتا ہے۔"
گُل خان کا کہنا تھا  کہ ہمارے لوگوں میں بہت ٹیلنٹ ہے  جِسکی مثال وہ اپنے ساتھی کے کارنامے سے دیتا ہے جِس نے بقول گُل خان کے گھڑی  اُلٹے رُخ چلا کر اپنی ذہانت و قابلیت  ثابت کی۔ میں نے گُل خان پر اپنی تعلیمی برتری  جتانے کی غرض سے  سوال کیا کہ  گھڑی کلاک وائز چلتی ہے اِس  کے رُخ کو اینٹی کلاک وائز چلانے سے بھلا کیا فائد ہ ہوا؟  گُل خان کا جواب تھا  " صیب آپ کی بات اپنی جگہ ،مگر میرے دوست نے گھڑی کو  دائیاں رُخ دِکھا کر ہماری گھڑی کو اِسلامی  رستے پر چلا دیاہے "۔
پانی گاڑی فیم آغا وقار  کی پولیس کو مطلو ب ہونے کی خبر  جب  سُننے میں آئی تو میں نے  گُل خان کو چھیڑتے ہوئے کہا کہ  یار تمُہارا آغا وقار تو  پولیس کو وانٹڈ رہ چُکا ہے ۔ گُل خان نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں  دو سیکنڈ کی خاموشی اختیار کی اور بولا "مُجھے تو ایک بات معلوم ہے  صیب کہ آغا وقار کو میں وانٹتا ہوں میرے سارے گھر والے وانٹتے ہیں اور پور ا پاکستان وانٹتا ہے"
گُل خان کی انگریزی  میری اور"میرا" کی انگریزی سے شائد ایک دو درجے   ہی کم معیار کی ہوگی لیکن  اُسکے  "اقوال  "اقوال زریں  کے ہم پلہ ہوتے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے بادل چھائے  ہوئے تھے گُل خان باہر سے آیا تو میں نے اُس  سے بارش کے   بارے میں سوال کیا    ۔ اُس کا جواب یہ تھا" صیب بارش تو   پِچھلے دو گھنٹوں سے ہوتا جارہا ہے، کبھی  تیز ہوجاتا ہے کبھی ڈِم ہوجاتاہے۔" گُل خان کے اِس جواب پر سب  خوب قہقہ لگا کر ہنسے۔  اب  میرے ذہن میں پیدا ہونے والے سوال کا جواب تو کوئی  مُفکر ہی دے سکتا ہے کہ دو زبانوں  کے باہم قتل و غارت کا   میدان  جو ہم نے  گرم کر رکھا ہے اِس میں نُقصان بھلا کِس زُبان کا زیادہ ہورہا ہے؟ 

Sunday, 9 September 2012

کلچ،ایکسیلیٹر اور بریک


میں جب پہلی بار موٹر سائکل کو چلانے کے اِرادے سے اِس پر سوار ہواتو میرے ایک کزن نے چند مِنٹ پر مُحیط ایک لیکچر دیا ۔ جِس کا آغاز کلچ کے تعارف ، اہمیت  اورمقصد سے ہواپھر ایکسیلیٹر کے  مُتعلق بتایا تیسرے نمبر پر گئر کا تعارف و استعمال اورسب سے آخر میں  بریک کی افادیت پر روشنی ڈالی گئی۔ ایک اہم بات یہ بھی بتائی گئی کہ کلچ اور ایکسیلیٹر کے اِستعمال کے لئے ایک خاص قِسم کی مہارت اور توجہ  درکار ہوتی ہے اس بارے میں معمولی سی لغزش کِسی بڑے نُقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ اِس  پانچ سات منٹ کے لیکچر کے بعد میں نے اپنی  تمام تر  توانائیاں یکجا کرتے ہوئے  کلچ دبایا   بائک گئر میں ڈالی پھِر ایکسیلیٹر اور کلچ میں موزوں ربط پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ میر ی یہ  عملی  کوشش  موٹربائک   کو باِلکُل پسند نہ آئی اور جوابی کاروائی میں اُس نے مُجھے   یوں نیچے گِرایا جیسے  ایک چالاک اور تجربہ کا رگھوڑا اناڑی سوار کو اپنی پیٹھ سے نیچے  گِرا تا بلکہ پھینکتا ہے۔

اِسکے چند سالوں بعد جب ہماری  مسجد کے قاری صاحب نے  مُجھ سے موٹر سائکل سیکھنے کی   خواہش ظاہر کی  تو میں نے فوراً  حامی بھرتے ہوئے خود کو مِلا ہوا   وہی لیکچر  پاس اون کر دیا ۔ قاری صاحب  جیسےہی اِس لرننگ  مِشن پر نِکلنے لگے تو  اُن کی ہمت بندہانے کے لئے میں بھی ساتھ ہو لیا۔ ہمارے قاری صاحب اعصابی طور پر بہت مضبوط ثابت ہوئے اُنہوں نے بڑے اعتماد  کے  ساتھ بائک کو گئر میں ڈالا  کلچ اور ایکسیلیڑ میں موزوں ربط پیدا کیا  اور پھر  چل سو چل   ،بات    پانچ مِنٹوں میں چوتھے گئر تک جاپہنچی   جبکہ سپیڈ و میٹر پر سوئی ساٹھ کے ہندسے کو چھونے لگی کہ ا اچانک مُجھے ایوب زرعی ترقیاتی اِدارہ فیصل آباد کی بیرونی دیوار اپنے قریب آتی نظر آئی  ۔ میں نے قاری صاحب  سے سپیڈ سلو کرنے کی درخواست کی جِسکا جواب جناب نے ایک سوال کہ صورت میں دیا  "یار سپیڈ آہستہ کیسے کرنی ہے" تب جا کر مُجھے یاد آیا  کہ   ڈرائیونگ بابت دیئے گئے لیکچر  میں بریک  کا  حِصہ تو میں سہوا چھو ڑ ہی گیا تھا۔بس پھر کیا تھا دوزخ کے داروغے ہاتھ پھیلائے مجھے اپنی طرف بُلاتے صاف نظر آنے لگے ۔ اُس دوران یقینا ہمارے قاری صاحب حوروں ک  کا نظارہ کر رہے ہوں گے بس  اِنہی حوروں میں سے کسِی  ایک حور کو دیکھ کر قاری صاحب جذباتی ہوگئے اور  فُل کلچ دبا بیٹھے    یوں صِراط مُسقیم سے تھوڑ ا سا بھٹکےاور موٹر سائکل سڑک سے نیچے  کھُلے گراؤنڈ میں جاپہنچی۔ قُدرت نے ہم پر احسان یہ  کیا   کہ اُس وقت  گراؤنڈ میں گھُٹنے  گھُٹنے  تک بارش کا پانی  جمع تھا۔

اِسی طرح جب ہمارے  والد نے پہلی بارگاڑی خریدی تو  وہ غالباً اُس گاڑی  کا ہمارے گھر میں تیسرا دِن تھا ۔ میں اپنے جذبات کو  بریک نہ لگا سکا  اور اپنے چھوٹے بھائیوں پر کُچھ رعب جمانے کے چکر میں  پورچ میں کھڑی گاڑی کو سٹارٹ کئے گئر میں ڈال بیٹھا ۔ مگر جیسے  ہی میں نے کلچ چھوڑا   تو گاڑی دو عدد جھٹکے کھاتی ہوئی  ادھ کھُلے مین گیٹ میں جا لگی  ۔گاڑی کے بمپر  پر  ایک عدد ڈینٹ پڑا  جو کہ اگلے کئی سال تک میر امُنہ چڑہاتا رہا۔ اِس واقعے کے فوراً  بعد  میرے  والد  نے مجھ پر اپنی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے پر بین لگا دیا۔ یہ سخت ترین   فیصلہ  سُنتے ہی میرے دِماغ نے سے جو توانائی حرارت بن کر  خارج ہو ئی اُسے میں نے بغیر کلچ دبائے ایکسیلٹر دیتے ہوئے زبان کے رستے  اِن الفاظ میں  ہوائی لہروں کے سپرد کیا"ٹھیک ہے اب گاڑی میں تب ہی چلاؤں گا جب وہ میری اپنی ہوگی "۔  اِس بات کو سترہ سال بیت چُکے ہیں  ۔ والد صاحب  کی گاڑی کا کلچ پھِر کبھی دبا یا  نہیں اور اپنی اب تک خرید پایا نہیں۔

اپنی ہی زِندگی سے جُڑے کلچ بریک  سے سجے یہ واقعات نہ جانے کیوں سِتمبر کے آغاز  ہی  میں مُجھے یاد آنے لگے۔ ایسا ہی موسم تھا یہی مہینہ اور لگ بھگ یہی تاریخیں مگر اُس وقت کو بیتے پورے سینتالیس سال ہو چلے ہیں جب ہمارے "موروثی دُشمن " نے ہم پر رات کے  اندھیرے  میں حملہ کیا تھا۔
اِس جنگ کے جُڑے کُچھ واقعات بتاتے ہوئے گوہر ایوب  فرماتے ہیں ۔ ہندُستان کے حملے کے جواب میں  ہم نے کھیم کرن کے مقام پر حملے کا ایک  منصوبہ بنایا تھا  جِس کی منظوری جنرل ایوب خان نے خود دی تھی اور وہ اِس  آپریشن بارے میں بہت پُر اُمید تھے۔ کھیم کرن (قصور سے ملحقہ عِلاقہ) کے مُحاظ  پر ہم پیش قدمی کر رہے تھے ۔ایک نہر کے پُل پر سے گزرتے ہوئے ایک ڈرائیور نے کلچ دبا دیااور ٹینک وہیں پھنس گیا ۔ پُل مزید بوجھ برداشت نہ کر سکا اور ٹوٹ گیا  ہمیں پُل مُرمت کرتے ہوئے چھتیس گھنٹے لگ گئے فیلڈ مارشل بار بار  پُل کی مُرمت بارے میں پوچھتے رہے مگر اِس دوران ہندُستان  والوں  نے دریا جِتنی بڑی  مادھو پور نہر کو توڑ کر پورے عِلاقے میں سیلاب کی سی کیفیت پیدا کر دی   ۔ ہم وہا ں بُری طرح پھنس گئے اور یو ں یہ جنگ 11 ستمبر ہی کو ختم ہوگئی۔ الطاف گوہر  نے بھی اپنی کِتاب " فوجی راج کے دس سال "میں  اِ س واقعے کو تفصیل سے بیان کیاہے ۔