Thursday, 22 May 2014

میرا گھر وہ پیارا گھر۔ تیسری اور آخری قِسط


گلے میں بستہ ڈالے سرکاری سکول کے گیٹ اندر داخل ہوتا  ہر بچہ عمارت   کے ماتھے پر ٹِکے کی طرح سجی یہ عبارت پڑہ  ہی لیتا 
ہے "تعلیم اِنسان کا زیور ہے"۔نصاب کی چند  کِتابیں  کھولنے پر یہ حقیقت  بھی  اُس پر عیاں ہو جاتی ہے  کہ انگریزی اِس زیور
سے لدی  دلہن ہے۔  خیر ہمارے ہاں خالی برتن بھی انگریزی میں کھڑک جائے تو اپنی قیمت بڑہا  لیتا ہے ۔  پنجابی لہجے میں اُردو بولنے کی  کوشش کرتا  سرکاری سکول کا بچہ لاکھ سر پٹخ لے ، انگریزی اور اردو   کی کے درمیان خلیج پاٹنے میں کامیاب نہیں ہو پاتا۔پھر ہزاروں سال بعد نرگس کےہاں میرا پیدا ہوجاتی ہے۔  دُنیا لاکھ مذاق اُڑائے ، حق بات یہ  
کہ میراکی بولی  وہ نہر سویز ہے  جو اردو کےسفینے کو سیدھا   بحر الانگریزی تک رسائی دیتی ہے  ۔دو زبانوں کو  قریب لانے پر  میڈم 
میرا کا نام  آج نہیں تو کل سنہری لپ اسٹک سے ضرور لکھا جائے گا۔ میڈم میرا   پر غیب سے نازل ہوتی لِسانی شکتی مُجھ  پر بھی اُترا 
کرتی تھی اور میں نرگسی کوفتے کی سی شکل بنائے  پیڑک کی انگریز ی درست کرتا رہا تھا۔ مگر کُتے کی دُم کا بنایا سو سالہ ریکارڈ انگریز  کےجبڑے میں پھسی زبان  ہی توڑتی ہے ایک سو  ایک سال  کی کوشش کرمارو،لفظ ڈِنگے چِبے ہی نکالے گی  ۔ ویسے پیڑک نے   بھی ہماری اُردو میں جدِت پیدا کرنے کی کوئی  کم کوشش نہیں کی۔ ناجانے کِس مترجم کی راہنمائ سے وہ  چند اُردو کے الفاظ  سیکھ کر آیا تھا ۔ جب گھر کے کِسی بڑے سے مِلتا تو   کمر کو ہلکا سا خم دیتے ہوئے  کہتا "جناب علی کیا حال ہے" ۔  جنا ب  کی ب کو سائلنٹ کا درجہ عطاکرتے ہوئے  بنا الف کے عالی   کُچھ اِس معصومانہ انداز میں بولتا کہ  دیکھنے والے کی ہنسی  ایسے مُنہ پھاڑ تی  باہر کو آتی جیسے سینے  سے نہیں بلکہ راکٹ لانچر سے چھُٹی ہو۔ انگریز ی کا وہ لفط جِسے ہم غُصے کی شِدت کنٹرول کرنے کا لقمانی نُسخہ تصور کرتے تھے اُس  کا اُردو مُتبادل بھی ہمیں پیڑک ہی سے معلوم ہواتو  ناک پر ہاتھ رکھے  بےاختیار ہمارے مُنہ سے نِکلا  "ش ش ٹ ٹ "۔ ایک دِن  ٹیوی پر  انگلش فلم سیریز  "نائیٹ رائیڈر " (جادوئی گاڑی والی سیریز)۔ دیکھتے ہوئے   پیٹر ک نے  یہی بدبو دار   لفظ  ہمارے ٹی وی کے مُتعلق بولا۔اُس کے مُنہ سے ایسی گُستاخی  سیدھی میرے دِل میں جنگلی کنڈے کی طرح لگی۔ سچ ہے کہ وہ  بُڈھا ہو چُکا تھا مگر  پھیکی پھیکی  مدہم سی تصویر دکھاتا فلپس کا یہ  ٹی وی میری زندگی کا پہلا رومانس   تھا۔عمر میں مجھ سے چار پانچ سال بڑا تھا۔رات خبرنامہ کے بعد ہلکے نیلے رنگ کا ریشمی کپڑا      ڈال کر   سر پر گُلدان رکھے سُلا دیا جاتا تھا۔حاملہ پیٹ کی طرح پھولی ہوئی سکرین والا  ٹی وی   ولائیت گئے ہمارے تایا نے بھیجا تھا۔ہماری گلی  کے کسی بھی  گھرمیں  چلتی تصویریں دکھانے والا یہ پہلا  ڈبہ تھا ۔سُنا ہے ہر شام   آس  پاس کے گھروں سے بیبیاں ہمارے ہاں اکٹھی ہوجاتی تھیں ۔ کمرے  میں اندھیرا کئے   سینماہا ل
جیسا ماحول بنایا جاتا  تھااوردوڑتی بولتی  تصویریں دیکھنے  والوں کی پلکیں ساکت ہو جایا کرتی تھیں۔


بڑا سادہ دور  تھا وہ ، ہمسایوں سے ملنا ملانا  بغیر کِسی تصنع و بناوٹ کے ہوا کرتا تھا۔ ہمارے صحن میں  تو ایک دو بائی دو فٹ کا جھروکہ 
بھی  رکھا  گیا تھا۔  جہاں سے میں اور میرا لنگوٹیا یار  آپس میں باتیں کیا کرتے تھے ۔ ہم سیٹی  مارکی ایک دوسرے کو جھروکے میں
بُلاتے تھے ۔ہماری دادیاں  بھی اسی جھروکے سے  گھنٹوں  دِن بھر کی کارگزاریوں کا  تبادلہ کیا کرتی تھیں۔ بہنوں جیسا پیار تھا ہماری دادیوں میں  ،شائد اِس سے بھی زیادہ ۔ خاص بات یہ تھی کہ دونوں ایک دوسرے کو نیک اور بہت بڑی ولیہ کا درجہ   دیتیں  تھیں۔میں نے جب  ہو ش سنبھالا اپنی دادی کو حُقہ  پیتے دیکھا   اور  جب  میں نے ہاتھ میں گیند سنبھالا  تو حُقے کی چلموں  کا نشانہ لینے لگا۔   اِسی لئے  گھر میں  چلم شکن کے نام سے شہرت  پائی ۔ میں انگیٹھی پر رکھی چلم  کا نشانہ لیتا اور  فاتحانہ انداز میں  دادی اماں کی طرف دیکھتا ،چلم ٹوٹنے  کی آواز   سُن کر دادی اماں ماتھے پر  شکن ڈالتی  مُجھے  گھور  تیں ، تھپڑ دکھاتی  ہوئی تیزی سے   میری طرف  بڑھتیں   اور  پھرپوپلے مُنہ  سے  میرا دایاں گال چومتے ہوئے کہتیں " اے منڈا  تے شیطان دی ٹوٹی  بن گیا   ھےے"۔ اگلے جُملے میں مُجھے  دادی اماں  کی طرف سے   سخت سی وارننگ مِلا کرتی تھی ، جِسکا مُجھ پر رتی برابر بھی اثر نہیں ہوتا تھا۔ مُجھے  تو 
چِلم توڑکر دادی اماں  سے  گال پر انعام لینا ہوتا تھا،اپنی پیاری دادی کا کِس۔


بھاری بھرکم وڈ ورک  اور ماتھے پر کاشی کاری    کا تاج  سجائے  وہ مقفل   الماری   جِس کے پھول  نما ہینڈل کو  لٹو کی طرح گھماتے 
 ہوئے ہم کھُل جا سم سم کا ورد کیا  کرتے تھے ۔ مگر  خزانے سےبھری الماری  کی چابی ہمیشہ دادی اماں 
کے دوپٹے کے پلو سے بندھی رہتی تھی۔دُنیا کا کوئی  بھی تالاانسانی کھوپڑی میں فِٹ شیطانی ہتھوڑی کا وار نہیں سہہ سکتا ۔
سوہن حلوہ ،پستے ، بادام اخروٹ  ، چلغوزے ، مخانے پھلیاں یہ سب خزانہ ہم اکثر  چُرا  لیا کرتے تھےاور معصوم   دادی  قانونی 
رستوں سے چور ڈھوندتی رہ جاتی  تھیں ۔ اُن کا  ایمان تھا کہ  قانون کے ہاتھ بہت لمبے ہوتےہیں ،جبکہ ہماری طاقت یہ یقین کہ  جِس قانون کو پولیو کے قطرےہی کبھی نہیں پلائے گئے  اُس کے لمبے ہاتھوں سے کیا ڈرنا۔  ہمارے  گھر کے صحن میں  لگی سٹیل کی تار  ہر تیسرے دِن کپڑو  ں سے بھری نظر آتی تھی ۔  دیسی صابن اور  ڈنڈے کی دھمک   سے  وہی چمک  اور اُجلا پن  کپڑوں میں آتا تھا  جِسے  آج  بدیسی پاؤڈروں کے چمتکا ر کا نام دیا جاتا ہے۔ دادی اماں کا کپڑے دھونے والا ڈنڈا  خاص  طور پر ڈیزائین کیا گیا تھا۔  وہ  بیس بال بیٹ سے مشابہت رکھتا  تھا  اور اِس کےچاروں کنارے گول تھے ۔ میں نے اپنے کرکٹ  کیرئیر کا آغاز بھی اِسی بلے سے کیا تھا۔میں اپنی دادی کے مُتعلق بس  ایک جملہ ہی کہوں گا" تُجھ سا ناہیں کوئی اور"۔ اپنے حِصے کے سیب کی مالٹے جِتنی پھاڑیاں کئے اپنے بچو ںاور بچوں کے بچوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر  اُن کے مُنہ میں ڈالنے والی  ہماری دادی۔ اگر کبھی صرف اپنی بھوک مٹا نے کو روٹی پکاتیں تو ایک نہیں دو ،پہلی روٹی گلی کے کِسی آوارہ کُتے کے لئے ہوتی تھی۔سردیوں  کی راتوں میں  ہم سب کِچن میں   بڑی چھوٹی  چوکیوں ، پیڑیوں پر قبضے کی لڑائی لڑتے  ہوئے چولہے کے  گِرد  دائرہ  بنائے    بیٹھ جاتے۔کھانے کے ساتھ ساتھ دادی اماں  سے کہانیاں سُنا کرتے تھے۔ دادی اماں  ہاتھوںمیں پیڑا گھماتے ہوئے   توے پر  روٹی ڈالنا بھول جاتیں اور ہمیں کہانی میں ڈوب کر  ،اگلا نوالہ مُنہ تک   اُٹھا نا یاد نہیں رہتا تھا ۔مذہبی روائیتوں ، حکایتوں ، لوک داستانوں  ،کہاوتوں سے لیکر سکھ دور تک  کے قِصے   سُننے کو ملا کرتے تھے۔ایرانی بِلے کی طرح  اپنی پسند کی چوکی   پر بیٹھا توے پر پکتی روٹی کو  بغور دیکھتا ہو اپیڑک جسے دادی اماں پہلی روٹی  دیتیں مگر  پوری بِسم اللہ  پڑہے  بغیر اُسے نوالہ توڑنے کی اِجازت نہیں ہوتی تھی ۔ ہماری دادی نے تو اُسے پہلا کلمہ  بھی یاد کروا دیا تھا۔ اُن کا بس چلتا تو نمازیں بھی سِکھا دیتیں اور اس بھولے بادشاہ نے نمازیں شُروع بھی کر دینیں تھیں۔  ہم پر حکومت کرنے والے انگریز کے راج میں سورج  غریب ،غروب   ہو نے کو ترسا کرتا تھا۔ شائد کِسی  ایسی  کہانی نے   پیٹرک  کے کانوںکو نہیں چھوا  تھا، ورنہ وہ اپنے  شاندار ماضی کی کُچھ جھلک ہمیں بھی دکھاتا  ۔ جیسے  اِسلام کے  دورِ عروج کے   ٹیکے لگا لگا  ہماری نسلوں  کو"مُتعدی قوموں "سے  بچایا جاتا ہے ایسا ٹیکہ اُسے نہیں لگایا گیا تھا۔مُجھے  آج تک یاد ہے  مہمانوں کی روانگی  کاوہ  دِن ،جب  دادی اماں نے اپنے مخصوص انداز میں پیڑک کو  چومتے ہوئے کہا " چل پُتر اللہ دے حوالے "ناجانے اُسے یہ دُعا سمجھ 
آئی تھی کہ نہیں مگر اُس کی آنکھوں سے ٹپکتے آنسوؤں  نے ہم سب کو رُلا دیا تھا۔


کُچھ عرصہ پہلے میر ےتایا  کا بڑا بیٹا   کمپنی ٹوؤرپرایک  ہفتے کے لئے پاکستان آیا تھا۔میں اُسے پنچ ستارہ ہوٹل میں ملنے گیا۔کافی سالوں  بعد ہماری مُلاقات ہوئی ۔  وہ بڑی گرمجوشی   سے ملا بہت اچھا لگا ۔بات کرنے کا وہی انداز، ٹوٹی پھوٹی سی
بول کر احسان کرنے والی اردو۔خوشگوار حیرت اُس کے مذہبی رجحان سے ہوئی ماشااللہ ہر بات میں قُرانی آئت سے دلیل 
اور حدیث کا حوالہ، سچی بات ہے میں تواُس سے بہت  مُتاثر ہوا۔کھانےکی میز پر میں نے بات سے بات چلانے  کے لئے پیڑک  کاذِکر 
کر دیا۔ وہ میری طرف غور سے دیکھنے لگا  اور  اپنی گھنی سیاہ داڑہی میں خلال کرتے ہوئے بولا ۔" مُجھے تو اب یاد بھی نہیں رہا پیڑک" ۔ پھِر مُسکراکر کہنے لگا  " ضرورت بھی کیا ہے یاد رکھنے کی، کُفار سے ہمیں  دوستی  کی ضرورت بھی کیا ہے"۔ شائد وہ درست کہ 
رہا تھا   ہمارا کُفار سے بھلا  کیسا تعلق اور  کیسی دوستی ۔

پنچ ستارہ ہوٹل کی پارکنگ سے اپنا موٹر سائیکل باہر نکالتے ہوئے مُجھے اپنی دادی یاد آگئی ۔جِس دن دادا ابا کا ساتا(ساتواں ) تھا  ٹھیک اُس سے اگلے دِن ہماری دادی بھی دادا کے ساتھ والی قبر میں جاکر لیٹ گئیں تھیں ۔ سادگی کے  رنگ میں رنگا   اور خلوص کے شیرے ڈوبا  ہوا  معصوم سا اِسلام ، ہماری دادی  جاتے وقت  اپنے ساتھ ہی لے گئیں۔

Monday, 24 March 2014

میرا گھر وہ پیارا گھر( دوسرا حِصہ )

آس پاس کی عمارتوں اوراُن کی تعمیری  رعنائیوں سے مُتاثر ہوتی نظر جب اپنے گھر پر ٹھہرتی تو  ادھورے پن کا سا احساس ہونے لگتا تھا، جیسے دورانِ تعمیر اینٹ،سیمنٹ سریہ بزرگوں کی جیب پر بھاری پڑا ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اِسی ادھورے پن نے ہی ہماری دُنیا خوبصورت رنگوں سے بھری۔ کمروں کی بہتات نہ  ہونے کے باعث  ہمارے گھر کا صحن خاصا وسیع تھا ۔  گرمیوں  کے موسم میں جب سورج دِن بھر آگ بھری پھونکیں مارتا، تھک ٹوٹ کر مغرب کی گود میں سر رکھنے کو  ہوتا تو    صحن میں بالٹی ڈبے کے ساتھ چھڑکاؤ کیا جاتا اور پھرایک  مخصوص ترتیب سے چارپائیاں لگنےلگتیں ۔  سب سے پہلی چارپائی   پربڑے اہتمام سے ایک گاؤ تکیہ سجتا۔ اِس  چارپائی کے ساتھ ایک   لمبی سی  میز رکھی جاتی جس کے اِرد گِرد تین چار کُرسیاں  لگتیں۔ دادا ابا گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھتے، شام کی چائے پر خوب محفل  جما کرتی تھی۔ صحن کے شمال  مغربی کونے میں شیخوں کے گھر کو چھو؎تی دیوار  کے ساتھ  باورچی خانہ تھا، جبکہ اِس کے بالکُل سامنے سنیاروں کی سانجھی دیوار سے جُڑا  بڑا سا غسل خانہ  جِس کے دروازے کے ساتھ ہینڈ پمپ لگا ہوا تھا۔ اِک شہتوت کا بُڈہا درخت   تو جیسے غسل خانے کی دیوار کا ہی حِصہ  معلوم ہوتا  تھا۔پورے علاقے میں چڑیوں کا واحد ٹھکانہ ہوا کرتا تھا وہ  موٹے تنے والا بارعب درخت ۔اِسی وجہ سے دادی اماں سردیوں میں بھی چھنگوانے کی  بمشکل اجازت دیاکرتیں  تھیں۔صبح کا نور پھیلتاتو چڑیاں  اپنے رب کویک زبان  ہوئے یاد کرنےلگتیں ۔ میں آنکھیں ملتا اُٹھتا تو  میری چارپائی کی لتاندی  ساتھ لگا ٹامی رات کی پڑی ہڈی سے اپنےدانت تیز  کرتا دکھائی دیتا۔دیوار پربیٹھا بِلا درخت تلے دانہ چُگتی چڑیوں پر للچائی نظریں جمائے ، اپنی پلیٹ سے چپکا  دودھ کا منتظر ہوتا۔ دادی اماں اپنے تخت پوش پر  بیٹھی  تسبیح وظائف میں  محو ہوتیں ۔ دادا ابا کرسی پر بیٹھے شیو بناتے ہوئے اخبار  گرنے کی آواز  سننے کو بےتاب ہوتےاور پھر کُچھ دیر بعد  دادا جی کا ریڈیو  رضا علی عابدی کی آواز میں بول پڑتا  "یہ بی بی سی لندن ہے"۔


صفحے پر لگے حاشیے کی طرح  ،پتلی سی نالی صحن کے  کنارے ساتھ چلتی ہوئی گھر سے باہر جاتی تھی ۔ نکاسی آب کے عِلاوہ یہ  ہماری گیندیں گیلی کرنے کا کام بھی کرتی تھی۔وسطی کمرے  کی دیوار پر چونا پھیر کر بنائی  گئی وکٹیں ،جِن کے ارد گِرد  گیند کے چھوڑے ہزاروں نشان  کرکٹ سے ہماری  والہانہ محبت  ظاہر کرتے تھے۔ کہتے ہیں گھر میں  توبلی بھی  شیر ہوتی ہے  مگر انگریز نے ہمارے ہی گھر میں  آکر ہمیں پورے سو سال  تک بلی بنائے کمپنی سرکا ر کے تھیلے میں ڈالے رکھا تھا۔آزادی پاِکر اسی بلی نے انگریز کی گرفت میں آتا ہواکرکٹ کا تاج چھین کر اپنے سر سجایا تھا۔ ایک کرکٹ لور کے لئے انگریز کو اِس کھیل میں شکست دینے سے بڑی کوئی   کامیابی نہیں ہوتی۔  یہ حقیقت مُجھ پر تب آشکار ہوئی جب ہم  "ٹیم پاکستان "نے  پیٹرک اینڈ کمپنی کو  پے درپے شکستیں دیں۔اپنے صحن میں ہونے والے اِن کرکٹ میچوں میں ہمارا  جذبہ دیدنی تھا۔اِک دِن تو ٹاس کے دوران  ہی میں نے پیٹرک کے ہاتھ سے عِلامہ اقبال کے عکس  والا سِکہ جھپٹ لیا  ،میں پیٹرک کے ہاتھ سے  یہ سِکہ زمین پرگِرتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔گورا اینڈ کمپنی میری اِس حرکت  پر خاصا حیران ہوئی  ۔ یہ بات اُن کے سمجھنے کی تھی بھی کہاں۔ پی ٹی وی   اور اُس کے ملی نغموں نے  جذبہ حب الوطنی بھر کر ہمیں کُچھ ایسا تیار  کیا تھا جیسے   بکرے کے پیٹ میں چاول ،مصالحے ڈال کر دم پخت  تیار کیا جاتا ہے ۔کرکٹ میں شکستیں سمیٹنے کے بعد ہمیں  "گورا ٹیم " کی طرف سے فٹ بال کا چیلنج دیا گیا ۔ ہم نے  اُس میدان  میں زور تو خوب لگایا مگر پیٹر ک کے اندر تو جیسے کوئی  میراڈونا چھپا ہوا تھا۔ ہمارے   دیسی انگریز کزنز بھی بہت اچھے تھے فٹ بال میں ۔ فُٹ بال میچوں کے دوران  ماحول بہت کشیدہ رہا ۔ مگر اُن سردی کے دِنوں میں بھی دادا ابا صحن میں     کُرسی پر  بیٹھے  کھیل کے ماحول کو کنٹرول میں  رکھتے تھے۔ ہمیں ایسے لگتا تھا جیسے دادا ابا مُخالفین کی طرف داری کررہے ہیں۔ ہمارے دادا ابا خود ایک چمپئین ایتھلیٹ  رہ چکے تھے وہ  ہمیشہ ہمیں سپورٹس مین سپرٹ پیدا کرنے کا درس دیا کرتے تھے۔فٹ بال میں لگاتار چار دن ہارنے کے بعد ہمارے دِل میں اپنے قومی کھیل کی محبت  جاگی اور محبت تو قربانی مانگتی ہی ہے ۔مُخالفین کا گیند پر نشانہ خطا ہوتا اور ہماری ٹانگیں محبت کی سزا پانےکو حاضر ہوتیں۔ اس کے بعد اُن کے مُنہ سے الفاظ نکلتے "اوہ سوری"۔پیڑک  تو یہ لفظ  مُنہ سے ایسے نکالتا  تھا جیسے زخم پر مرہم رکھ رہا ہو۔ خود پر بیتے تجربات بتاتے ہیں کہ انگریز قوم ہزاروں سال پہلے کِسی دُم دار ستارے سے در بدر ہوکر زمین پر اُتری ۔ یہ قوم پورا  دم لگا   زمین والوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتی ہے  کامیاب نہ ہو پائے   تو پسپا ہونے کے لئے  بڑے سحر انگیز انداز میں  "دُمدارچی "زبان کا یہ لفظ بولتی ہے" سوری"۔۔۔


ہمارے گھر پیٹرک کی موجودگی کی خبر آس پاس کی گلیوں تک جاپہنچی تھی  ۔
 دو چار بار ہم پیٹرک کو  پان بوتلوں کے کھوکھے ، یا پھر مسجد کے سامنے نیسیٰ کریانے والے  کی دُکا ن تک لے کر گئے۔ ۔"وٹ اِز یور نیم "۔ہر گُزرنے والے نے تو جیسے یہ سوال اپنی زبان  کی نوک پر تیار کئے بٹھایا ہوتا تھا بس پیڑک کے نظر آنے کی دیر ہوتی۔  وہ بیچارا    کُچھ عرصے  تو شرافت سے  جواب میں اپنا نام بتاتا رہا آخر  تنگ آکر اُسنے  نام  کی بجائےانگریزی میں گالیاں دینا شُروع کر دیں سوال کرنے والا   بیچارا مُنہ  پر مسکراہٹ سجائے اوکے اوکے تھینکیو تھینکیو ہی کرتا  نظر آتا۔ شیطان  کو بھگانے کے لئے  لاحول ولا پڑہا جاتا ہے جبکہ کِسی فیصل آبادی کی زبان بندی درکا ر ہو تو انگریزی کے   چند کلمات  کافی ہوتے ہیں ۔ بسنت  کا تہوار ابھی دور تھا  مگر اکا دُکا پتنگیں اُڑتی نظر آجایا کرتی  تھیں جِنہیں پیڑک بڑے  شوق  سے دیکھتا تھا۔  ہم نے پیڑک کی خاطر پتنگ بازی کے عملی مُظاہرے کا بندوبست کیا۔زِندگی میں پہلی بار بازار سے پتنگ خریدی  اور اُسے اُڑا کر دِکھائی ۔ اِسی دوران ایک لال رنگ کا گُڈا دور سےکٹ کر آتا  ہوانظر آیا میں نے پیڑک کو اُس گُڈے کی طرف متوجہ کیا ۔ پیڑک    مُنڈیر پر اپنا وزن ڈالے باہر گلی میں بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔ اُس نے  لال گُڈے پر نظر ڈالی ، خوشی  کا ِاِظہار کیا اور پھر سے نیچے گلی   کی طرف توجہ مرکوز کرتے ہوئے بولا "وٹ دیز پیپل آر لوکنگ فار؟" میں نے اپنی گُڈی کوکھینچ کر اوپر آسمان کی طرف چڑہایا  اور آگے بڑہ کر گلی میں جھانک کر دیکھا اور  جواب دیا "دئے وانٹ ٹو کیچ دس کائٹ" ۔  مُنہ میں ٹیڑھ لاتے ہوئے مکمل انگریزوں کے انداز میں انگریزی کا   یہ پہلا مکمل  جملہ تھا جو میں نے بولا ہو۔ اپنی اِس کامیابی پر  میں تو   جیسے  پھولے نہ سمایا۔اپنی آٹھ آنے کی گُڈی کا گُڈا بنے میں تو  ہواؤں  میں ہی اُڑنے لگا۔ ہوش تو تب آیا جب  ایک شناسا  آواز کانوں سے ٹکرائی ۔ یہ  مین گیٹ کا چھوٹا دروازہ کھلنے کی آواز تھی۔ پیٹرک صاحب  گُڈا پکڑنے بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔ بس پھِر کیا تھا گھر میں ایمرجنسی لگی۔ فورا سے دوٹیمیں تیار ہوکر  پیڑک کی تلاش میں  دو مختلف  راستوں پر روانہ ہوئیں۔ نڑوالا روڈ پر جناح کالونی مین  گیٹ  سے کُچھ پہلے مجمع نظر  آیا تو ہما ری جان ہی نِکل گئی۔قریب  پہنچنے پر میری آنکھوں نے جو کُچھ دیکھا اُس نے اگلی زِندگی میں  میرے لئے تاریخ کی کِتابیں  سمجھنا بہت آسان  کردیا۔ ایک ہجومتھا۔ پیڑک لال گُڈا ہاتھ میں لئے  فاتحانہ انداز میں اُچھل رہا تھا  ۔ چند ایک لوگ لوٹی ڈور کی لڑیاں بنا بنا کر پیڑک  کی خدمت میں پیش کر رہے تھے۔جنتا پیڑک سےعقیدت مندانہ  انداز میں ایسے مُصافحہ کررہی تھی  جیسے ارادہ ہاتھ مِلانے کانہیں بلکہ بیعت ہونے  کی  نیت کر رکھی ہو۔اُس گوری چمڑی والے  لڑکے کو تو ایسے عِزت دی جا  رہی تھی جیسے وہ سر جیمز لائل کا پوتا ،پڑپوتا ہو۔ وہ تو ہماری سرکار کی "دور اندیشی و دانشمندی" نے بچا لیا  اپنا فیصل آباد۔ورنہ لائل پور کو تو پیڑک لے اُڑا تھا بغاوت کے زور پر۔

یونہی ایک خیال  اُمڈ کر آتا ہے  ،اگر  ایسی بغاوت حقیقت میں  ہو بھی جاتی تو کیا بُرا تھا۔گورا صاحب  اور ہمارے براؤن صاحب  میں ایک فرق تو بحرحال تھا۔ گورا  کم از کم گالی تو انگریزی میں دیتا تھا ۔۔۔۔

جاری ہے 


                                                                                                                                     

Friday, 7 February 2014

میرا گھر، وہ پیارا گھر (حِصہ اول)

سال کا آخری مہینہ آتا ہے تو سات آسمانوں والااپنے چولہے کا برنر سلو کردیتا ہے اوردُنیا والے سوئی سے تلاش کی گئی گیس اپنے چولہوں میں تلاشنے لگتے ہیں۔ مگر اُن دِنوں  گیس نہیں بلکہ ہیٹرکی تلاش مُشکل ہوا کرتی تھی ۔وہ دِن لند ن سے لاہور تک اُڑتے جہاز پر بھی  بہت "بھاری "گُزرا کرتے تھے۔ہمارے  چھوٹےتایا بال  بچوں  بمعہ ہماری تائی  اماں کے  اپنے وطن جو آیا کرتے تھے۔اُس سال بھی اپنی قائم کردہ روائیت کے مُطابق ہماری تائی  نے  ہمیں مِلتے ساتھ ہی   پہلا سوال یہی  پوچھا  تھا،بیٹا پہچانا؟ ؟؟؟۔چھوٹا بھائی جھٹ سے بول پڑا ،آنٹی ہم تو آ پ کودور سے ہی پہچان لیتےہیں ۔تائی اماں  نے بڑے پیار سےاُسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا "اچھا!!بیٹا وہ کیسے؟؟"۔ وہ تو شُکر ہے ،عین موقع  پر چھوٹے کی تشریف پر کاٹی چُٹکی کام آگئی نہیں  تو  ہم پاکستانی بچوں کی  شرافت کا بھرم  کچی پنسل کے سِکے کی طرح ٹوٹ جاتا۔ چھوٹےتایا کی ہِمت کو سوسلام  کہ تھری اِن ون  بیگم کے ہوتے  ہوئے بھی وہ  دوسری، دوسری کی گردان کئے اپنی گِنتی غلط کرتے رہتے تھے۔ اُس روز  تایا کے قدم سے قدم مِلاتی تیکھے نین نقش والی گوری حسینہ پر نظر پڑی  تو ہمارا دِل  جھٹ سےاُسے اپنی دوسری تائی مان بیٹھا۔ گوری چمڑی کااپنے حلقہ رِشتہ داراں    میں شمولیت کے خیال نے  توجیسے  دماغ کی بتی  ہی جلا ڈالی  ۔ مگر یہ بتی ، اگربتی کی سی  خوشبودار دُھنی دیتے ہوئے  ہوا ہوگئی جب ایک ہٹے  کٹے انگریزسے آنکھیں ٹکرااچار ہوئیں۔


یہ لند ن میں رہتے ہمارے تایا کا ہمسایہ کپل تھا۔جو پاکستان کی سیر کی نیت باندھے 
 اپنے دو بچوں سمیت ہمارے درمیان موجود تھا۔ اگلی صبح بہت "مِنتوں مُرادوں "  کے بعد جھنگ سے لایا گیا ہمارا  اصیل مُرغا  اُن کی نذ ر ہوا۔  چار عدد جوان جہان مُرغ بیبیاں وِدھوا ہوئیں چھُری ہمارے دِل پر چلی مگر مُرغے کا خون دیکھ کر "ہاؤ کروئل دیز پیپل آر" کی آوازیں ہمارے سینے پر مونگ دلتی رہیں۔ہمیں کروول  کہتا  ،گیارہ بارہ سال کا یہ انگریز بچہ  مُجھ سے کوئی  سال ایک  چھوٹا ہی  تھا مگر قد میں مُجھ سے چوٹی  نِکالے ہوئے تھا۔اِن خاص مہمانوں کو دو دِن میں فیصل آباد کے مشہور آٹھ بازاروں سمیت  چند دیگر اہم مقامات دِکھائے گئے۔ ہمارے گاؤں میں گُزارا گیاتیسرا دِن ،حقیقی معنوں میں ایک یادگار دِن تھا۔۔ پگڈنڈیاں چھوڑے  سرسوں کے کھیتوں میں دیوانہ وار بھاگتے ، کِنو کے باغ   میں چھلانگیں لگا ئے ، پسند کا دانہ توڑتے  ہم  اور ہمارے مہمان ۔ اُس دِن تو سورج کی کِرنیں بھی جیسے شہد میں نہاتی آرہی تھیں ، چہار سو مِٹھاس بِکھری نظر آتی تھی۔ڈیرے پر  بڑی بڑی  کڑہائیوں میں بنتا گُڑ جِسکی گرم پت   سے  مُنہ جلتا ،مگر زبان  یہ  میٹھی جلن بار بار مانگے جاتی تھی ۔ گڈے کی  سواری    کے دئیے ہچکولوں  سے تو  اہلِ لندن ایسے محظوظ ہوئے کہ جیسے ڈزنی لینڈ کی رولر کوسٹر میں بیٹھے ہوں ۔ کچے رستے پر ایک لمبا چکر لگانے پر سر ہلا کر غُصہ دِکھاتے بیل  نے تھکاوٹ کا اظہار کیا مگر  سواریاں ونس مور، ونس مور کہتی سُنی گئیں۔

اگلے دِن ہمارے خاص مہمانوں نے لاہور کے لئے رختِ سفر باندھا۔ اپنے جنمی دستاویز پر لاہوری ٹھپے کی خاطراُنہوں نے چار دن مُختص کر رکھے تھے اور اِس کے بعد اُنہیں   بھارت یاترا کے لئےاُڑان بھرنی تھی۔صُبح ناشتے کے بعدسیڑھیوں  سے  اُترتے  ہوئے اُس لڑکے میں بغاوت کے کُچھ جراثیم نظر آنے لگے۔ لڑکے کے  والدین  نے معاملے کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے  مذاکرات کا راستہ اختیار کیا۔ معاملہ کُچھ یوں تھا کہ ہمیں کروؤل کہنے والا  وہ مہاتما بُدھ  اپنے  والدین کا ہمسفر بننے سے انکاری تھا۔ وہ اپنے ہمسائے  دوستوں (میرے کزنز) کےساتھ رہنے اور اُنہی کے ساتھ لندن  واپسی کا ارادہ رکھتا تھا۔ اِن مُذاکرات کا نتیجہ اُس لڑکے  ہی کے حق میں برآمد ہوتا دیکھا تو ہماری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ محض چند لمحوں کے  لئے خود کو اُس لڑکے کی جگہ تصور کیا تو اپنے چہرے کو لال و لال پایا ۔ اُس انگریز لڑکے کا نام پیٹرک  تھا ۔ وہ اگلے تین ہفتوں تک ہمارے ساتھ رہا۔

ہماری گلی کے مکینوں میں   سوتر منڈی کے سیٹھوں کی اکثریت تھی۔شائد کِسی پیر 
سوتر شاہ کی دعا کا اثر تھا  کہ سیٹھوں کا تیار کردہ سوتر تجوریاں دھن سے بھرےچلا جاتا تھا ۔ چند ایک گھرانے ریل بازا ر کے سنیاروں  کے بھی تھے جو کہ دعوی کرتے تھے " ہم زیورات کی واپسی پر کاٹ نہیں لیتے"  اب سادہ لوح  خریداروں کو کون سمجھائے کہ مگر مچھ کہ طرح نگلنے والوں کو بھلا" کاٹ لینے" کی کیا ضرورت پڑے۔۔۔بشمول ہمارے،  گلی کے دو گھرانوں سے "وے کِتاباں کھول تے کُجھ پڑہ  مر وی لے " جیسی آوازیں سُننے کومِلا کرتی تھیں ۔ اس قِسم کی آوازیں نِشانی ہوتی ہیں  نان کاروباری مڈل کلاس گھرانوں کی۔کاروباری گھرانوں میں تو سِلسلہ کوہِ تعلمیہ میں میڑک کی سند 8611 میٹر بلند تصور کی جاتی ہے ۔ ادھر بچے نے کےٹو سر  کی، اُسے مُبارک دیتے ہوئے دُکان کی راہ دِکھلا دی گئی۔مگر  ہم جیسے مِڈل کلاسیوں  کو "پڑہو گے لکھو کے تو بنو کے نواب " طرز کی  لوریاں دے دے  سُلایا جاتا ہے۔اِن گھرانوں کے بچے جب سر اُٹھا کر آسمان کو دیکھتے ہیں تو رب سے اور کچھ نہیں بس  اچھے  نمبر مانگتے ہیں۔ امتحان میں حاصل کئے  اچھے نمبر ہی سُکھی زِندگی کی ضمانت ہوتے ہیں۔۔اُس کے نمبر؟اِس کے نمبر؟   تُمہارے نمبر ؟کِتنے نمبر ؟ کہاں ہیں نمبر؟کیوں نہیں آئے نمبر؟؟؟؟ ۔ بچے کے نمبر نہ ہوئے سٹاک مارکیٹ کے خریدے ہوئے  شیئر ہوگئے جِنہیں  ماں باپ ہر وقت بڑہتا ہی دیکھنا چاہتے ہیں ۔ میرے کم امتحانی نمبروں پر ابا  یہی کہا کرتے  تھے "اگلی بار تُم نے اپنی حالت نہ بدلی تو  بازار میں ریڑھی  لگوا دوں گا"۔ مُجھے اُن دِنوں گولی ، مچھی ، امبلی چورن والی ریڑھی بہت فیسینیٹ کیا کرتی تھی۔ ہر بار میرا رِزلٹ کارڈ لفظ بنے میری خواہش بیان کرتا ۔ مگر سچ بات ہے کہ حُکمران خواہ گھر کا  ہو یا  مُلک کا بس بیانات دینے پر ہی یقین رکھتا ہے۔

ہمارے گھر کا مین گیٹ لکڑی کا تھا جِس کے درمیان میں ایک چھوٹا سا دروازہ بھی تھا   ۔ اِک  بارہ سال کا  بچہ بھی اُس چھوٹے دروازے سے سر کو ہلکا سا  خم دے کر ہی گھر کے اندر داخل ہوتا تھا۔  بائیں طرف بیرونی دیوار کے ساتھ ساتھ  تنگ سی سیڑھیاں اوپرگیلری کو جاتی تھیں۔ گیراج کے اوپر بنی یہ لمبی گیلری گیسٹ روم کے طور اِستعمال ہوتی یا پھِر ہمارے قبضے میں رہتی ۔ ہم نے پیٹرک کے  ساتھ اُن تین ہفتوں میں  وہاں خوب اُدھم مچایا ۔ اُچھل کود میں وہ ہم سے بھی آگے تھا۔ جو کام ہم سالوں میں نہ کرسکے اُسے نے دو ہفتوں میں کردیا۔یعنی  کمرے کے بیڈ  اور ایک عدد صوفہ سیٹ   کی" دھلائی  "۔ بیڈ اورصوفہ کے ہاتھ پاؤں ٹوٹنے کی خبر   والدہ کو ہوئی ، اور ہمیں  مزیدارلزیذ، چٹخارے دار،اُردو پنجابی مِکس ڈانٹ کھانی پڑی۔ اپنی بھی اور  اُس  انگریزی دان کے حِصے کی بھی  ۔ہمارے لندن پلٹ کزنز بھی  ایک قِسم کے انگریز بابو  ہی تھے۔ پاکستان سے اُنہیں نہ کوئی دِلچسپی تھی اور نہ  لگاؤ۔ ٹوٹی پھوٹی اُردو بول کر ہم پر احسان کرتے تھے۔پانی کی جگہ بس پیپسی کو ہی مُنہ لگائے رکھتے تھے۔ وہ دِن عید کا ہوتا تھا یا پھِر کِسی مامے چاچے کی شادی کا جب ہمیں دن میں دو بوتلیں نصیب  ہو جاتی ہوں۔ مگر یہ  لوگ تھے کہ  بوتل پر بوتل  چڑہائی جاتے تھے ۔ اِسی لئے ہم دِل جلوں نے اِن کانام "سزائے کالا پانی" رکھ دیا تھا۔بحرحال اُس ولیتی پارٹی کے ساتھ گیلری میں گُزرے  وہ دِن خوب رہے تھے۔گیلری کے عین نیچے گیراج تھا،جِسے گاڑی  شاذو ناذر  ہی نصیب ہوئی۔میری پیدائش سے پہلے تک اس گیراج میں ایک عدد بھینس باندھی جاتی تھی۔ ہمارے گھر کے اِس ڈبل ڈیکر  نما حِصے کے اوپر  ایک  گارے مِٹی سے بنا کچا کمرہ بھی تھا جوکہ سٹور کے طور پر اِستعمال ہوتا تھا  یا پھِر رمضان کے  آخری عشرے  ،ہماری دادی  اُسی کچے کمرے میں اعتکاف  بیٹھتی تھیں۔۔ اس  کمرے کی بڑی تاریخی حیثیت بھی ہے کیوں کہ یہاں  ایوب خان  کا قصیدہ لِکھنے والا شاعر چند دن روپوش رہاتھا۔

بیس گھرانے ہیں آباد
اور کروڑوں ہیں ناشاد
صدر ایوب زندہ باد
آج بھی ہم پر جاری ہے
کالی صدیوں کی بیداد
صدر  ایوب زِ ندہ باد
بیس روپیہ من آٹا
اس پر بھی ہے سناٹا
گوہر، سہگل ،آدم جی
بنے ہیں بِرلا اور ٹاٹا
مُلک کے دُشمن کہلاتے ہیں
جب ہم کرتے ہیں فریاد
صدر ایوب زِندہ باد


ابا بتاتے ہیں کہ تُمہارے  بڑے تایا نے حبیب جالب صاحب کو اِس قدر راز داری سے گھر میں چھُپایا تھا کہ  تُمہاری دادی  کے عِلاوہ کِسی تیسرے کو  بھنک تک نہ پڑی تھی۔ ہمارے بڑے تایا   نے زِندگی میں ہمیشہ دلیرانہ اور بڑے  فیصلے کئے۔یہ غالباً اُس دور کی بات ہے جب فاطمہ جِناح کی پُکار پر پوری قوم صف بند تھی ۔مگر گرجدار آواز میں عزیز ہم وطنو کہنے والوں کے عزیز تو چند ایک ہی ہوتے  ہیں   اور باقی  سب ٹھہرے بھیڑ اور بکریاں۔
جاری  ہے۔۔۔۔

                                                   

Sunday, 5 January 2014

میں اور میرا پاکستان

میں اور میرا پاکستان
 اکثر یہ باتیں کرتے ہیں
قائد ہوتے تو کیسا ہوتا
قائد ایسا کرتے ویسا نہ کرنے دیتے
وہ بلاول کی باتوں پر حیران ہوتے
اور قادری کی باتوں پر کِتنا ہستے
قائد ہوتے تو ایسا ہوتاقائد ہوتے تو ویسا ہوتا
میں اور میرا پاکستان اکثر یہ باتیں کرتے ہیں



یہ رات ہے کہ اندھیر نگری میں اندھیر مچی ہوئی ہے
ہے چاندنی
یا واپڈا کی بِجلی سے میری راتیں دُھلی ہوئی ہیں
یہ چاند ہے کہ ہماری سرکار کا چڑہایا کوئی نواںچن
ستارے ہیں یا تُمہارےاقربین کی فوج ظفر موج
ہوا کا جھونکا ہے کہ امریکی امداد کی خوشبو
یہ پتیوں کی ہے سرسراہٹ یا طالبان نےچُپکے  سے کوئی خود کُش بمبار تیار کرڈالا ہے
یہ سوچتاہوں میں کب سے گُم صم
جبکہ مُجھکو بھی یہ خبر ہے
 ہن ککھ نئیں رہیا ساڈا
مگر یہ دِل ہے کے کہ  رہا ہے
اللہ چنگا کرسی ،اللہ چنگا کرسی




مزدور کے حالات بوسیدہ کپڑے اور ٹوٹی جوتی
تنہائی کی لمبی رات جِسکی صُبح کہیں کھوگئی ہے
کہنے کو بہت کُچھ ہے مگر کِس سے کہیں ہم
کب تک یونہی خاموش رہیں اور سہیں ہم
دِل کہتا ہے دُنیا کہ ہر اِک رسم اُٹھا دیں
حمام جو ِاِن ننگوں کا ہے آج اُلٹا دیں
کیوں دِل میں سُلگتے رہیں لوگوں کو بتا دیں
ہاں یہاں سب ننگے ہیں سب ننگے سب۔۔
افسوس کہ دِل میں یہ بات  اِدھر ہے بس اِدھر ہی
                

                                        (دہرا ح)

جاوید اختر صاحب سے معذرت کے ساتھ