Monday, 24 March 2014

میرا گھر وہ پیارا گھر( دوسرا حِصہ )

آس پاس کی عمارتوں اوراُن کی تعمیری  رعنائیوں سے مُتاثر ہوتی نظر جب اپنے گھر پر ٹھہرتی تو  ادھورے پن کا سا احساس ہونے لگتا تھا، جیسے دورانِ تعمیر اینٹ،سیمنٹ سریہ بزرگوں کی جیب پر بھاری پڑا ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اِسی ادھورے پن نے ہی ہماری دُنیا خوبصورت رنگوں سے بھری۔ کمروں کی بہتات نہ  ہونے کے باعث  ہمارے گھر کا صحن خاصا وسیع تھا ۔  گرمیوں  کے موسم میں جب سورج دِن بھر آگ بھری پھونکیں مارتا، تھک ٹوٹ کر مغرب کی گود میں سر رکھنے کو  ہوتا تو    صحن میں بالٹی ڈبے کے ساتھ چھڑکاؤ کیا جاتا اور پھرایک  مخصوص ترتیب سے چارپائیاں لگنےلگتیں ۔  سب سے پہلی چارپائی   پربڑے اہتمام سے ایک گاؤ تکیہ سجتا۔ اِس  چارپائی کے ساتھ ایک   لمبی سی  میز رکھی جاتی جس کے اِرد گِرد تین چار کُرسیاں  لگتیں۔ دادا ابا گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھتے، شام کی چائے پر خوب محفل  جما کرتی تھی۔ صحن کے شمال  مغربی کونے میں شیخوں کے گھر کو چھو؎تی دیوار  کے ساتھ  باورچی خانہ تھا، جبکہ اِس کے بالکُل سامنے سنیاروں کی سانجھی دیوار سے جُڑا  بڑا سا غسل خانہ  جِس کے دروازے کے ساتھ ہینڈ پمپ لگا ہوا تھا۔ اِک شہتوت کا بُڈہا درخت   تو جیسے غسل خانے کی دیوار کا ہی حِصہ  معلوم ہوتا  تھا۔پورے علاقے میں چڑیوں کا واحد ٹھکانہ ہوا کرتا تھا وہ  موٹے تنے والا بارعب درخت ۔اِسی وجہ سے دادی اماں سردیوں میں بھی چھنگوانے کی  بمشکل اجازت دیاکرتیں  تھیں۔صبح کا نور پھیلتاتو چڑیاں  اپنے رب کویک زبان  ہوئے یاد کرنےلگتیں ۔ میں آنکھیں ملتا اُٹھتا تو  میری چارپائی کی لتاندی  ساتھ لگا ٹامی رات کی پڑی ہڈی سے اپنےدانت تیز  کرتا دکھائی دیتا۔دیوار پربیٹھا بِلا درخت تلے دانہ چُگتی چڑیوں پر للچائی نظریں جمائے ، اپنی پلیٹ سے چپکا  دودھ کا منتظر ہوتا۔ دادی اماں اپنے تخت پوش پر  بیٹھی  تسبیح وظائف میں  محو ہوتیں ۔ دادا ابا کرسی پر بیٹھے شیو بناتے ہوئے اخبار  گرنے کی آواز  سننے کو بےتاب ہوتےاور پھر کُچھ دیر بعد  دادا جی کا ریڈیو  رضا علی عابدی کی آواز میں بول پڑتا  "یہ بی بی سی لندن ہے"۔


صفحے پر لگے حاشیے کی طرح  ،پتلی سی نالی صحن کے  کنارے ساتھ چلتی ہوئی گھر سے باہر جاتی تھی ۔ نکاسی آب کے عِلاوہ یہ  ہماری گیندیں گیلی کرنے کا کام بھی کرتی تھی۔وسطی کمرے  کی دیوار پر چونا پھیر کر بنائی  گئی وکٹیں ،جِن کے ارد گِرد  گیند کے چھوڑے ہزاروں نشان  کرکٹ سے ہماری  والہانہ محبت  ظاہر کرتے تھے۔ کہتے ہیں گھر میں  توبلی بھی  شیر ہوتی ہے  مگر انگریز نے ہمارے ہی گھر میں  آکر ہمیں پورے سو سال  تک بلی بنائے کمپنی سرکا ر کے تھیلے میں ڈالے رکھا تھا۔آزادی پاِکر اسی بلی نے انگریز کی گرفت میں آتا ہواکرکٹ کا تاج چھین کر اپنے سر سجایا تھا۔ ایک کرکٹ لور کے لئے انگریز کو اِس کھیل میں شکست دینے سے بڑی کوئی   کامیابی نہیں ہوتی۔  یہ حقیقت مُجھ پر تب آشکار ہوئی جب ہم  "ٹیم پاکستان "نے  پیٹرک اینڈ کمپنی کو  پے درپے شکستیں دیں۔اپنے صحن میں ہونے والے اِن کرکٹ میچوں میں ہمارا  جذبہ دیدنی تھا۔اِک دِن تو ٹاس کے دوران  ہی میں نے پیٹرک کے ہاتھ سے عِلامہ اقبال کے عکس  والا سِکہ جھپٹ لیا  ،میں پیٹرک کے ہاتھ سے  یہ سِکہ زمین پرگِرتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔گورا اینڈ کمپنی میری اِس حرکت  پر خاصا حیران ہوئی  ۔ یہ بات اُن کے سمجھنے کی تھی بھی کہاں۔ پی ٹی وی   اور اُس کے ملی نغموں نے  جذبہ حب الوطنی بھر کر ہمیں کُچھ ایسا تیار  کیا تھا جیسے   بکرے کے پیٹ میں چاول ،مصالحے ڈال کر دم پخت  تیار کیا جاتا ہے ۔کرکٹ میں شکستیں سمیٹنے کے بعد ہمیں  "گورا ٹیم " کی طرف سے فٹ بال کا چیلنج دیا گیا ۔ ہم نے  اُس میدان  میں زور تو خوب لگایا مگر پیٹر ک کے اندر تو جیسے کوئی  میراڈونا چھپا ہوا تھا۔ ہمارے   دیسی انگریز کزنز بھی بہت اچھے تھے فٹ بال میں ۔ فُٹ بال میچوں کے دوران  ماحول بہت کشیدہ رہا ۔ مگر اُن سردی کے دِنوں میں بھی دادا ابا صحن میں     کُرسی پر  بیٹھے  کھیل کے ماحول کو کنٹرول میں  رکھتے تھے۔ ہمیں ایسے لگتا تھا جیسے دادا ابا مُخالفین کی طرف داری کررہے ہیں۔ ہمارے دادا ابا خود ایک چمپئین ایتھلیٹ  رہ چکے تھے وہ  ہمیشہ ہمیں سپورٹس مین سپرٹ پیدا کرنے کا درس دیا کرتے تھے۔فٹ بال میں لگاتار چار دن ہارنے کے بعد ہمارے دِل میں اپنے قومی کھیل کی محبت  جاگی اور محبت تو قربانی مانگتی ہی ہے ۔مُخالفین کا گیند پر نشانہ خطا ہوتا اور ہماری ٹانگیں محبت کی سزا پانےکو حاضر ہوتیں۔ اس کے بعد اُن کے مُنہ سے الفاظ نکلتے "اوہ سوری"۔پیڑک  تو یہ لفظ  مُنہ سے ایسے نکالتا  تھا جیسے زخم پر مرہم رکھ رہا ہو۔ خود پر بیتے تجربات بتاتے ہیں کہ انگریز قوم ہزاروں سال پہلے کِسی دُم دار ستارے سے در بدر ہوکر زمین پر اُتری ۔ یہ قوم پورا  دم لگا   زمین والوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتی ہے  کامیاب نہ ہو پائے   تو پسپا ہونے کے لئے  بڑے سحر انگیز انداز میں  "دُمدارچی "زبان کا یہ لفظ بولتی ہے" سوری"۔۔۔


ہمارے گھر پیٹرک کی موجودگی کی خبر آس پاس کی گلیوں تک جاپہنچی تھی  ۔
 دو چار بار ہم پیٹرک کو  پان بوتلوں کے کھوکھے ، یا پھر مسجد کے سامنے نیسیٰ کریانے والے  کی دُکا ن تک لے کر گئے۔ ۔"وٹ اِز یور نیم "۔ہر گُزرنے والے نے تو جیسے یہ سوال اپنی زبان  کی نوک پر تیار کئے بٹھایا ہوتا تھا بس پیڑک کے نظر آنے کی دیر ہوتی۔  وہ بیچارا    کُچھ عرصے  تو شرافت سے  جواب میں اپنا نام بتاتا رہا آخر  تنگ آکر اُسنے  نام  کی بجائےانگریزی میں گالیاں دینا شُروع کر دیں سوال کرنے والا   بیچارا مُنہ  پر مسکراہٹ سجائے اوکے اوکے تھینکیو تھینکیو ہی کرتا  نظر آتا۔ شیطان  کو بھگانے کے لئے  لاحول ولا پڑہا جاتا ہے جبکہ کِسی فیصل آبادی کی زبان بندی درکا ر ہو تو انگریزی کے   چند کلمات  کافی ہوتے ہیں ۔ بسنت  کا تہوار ابھی دور تھا  مگر اکا دُکا پتنگیں اُڑتی نظر آجایا کرتی  تھیں جِنہیں پیڑک بڑے  شوق  سے دیکھتا تھا۔  ہم نے پیڑک کی خاطر پتنگ بازی کے عملی مُظاہرے کا بندوبست کیا۔زِندگی میں پہلی بار بازار سے پتنگ خریدی  اور اُسے اُڑا کر دِکھائی ۔ اِسی دوران ایک لال رنگ کا گُڈا دور سےکٹ کر آتا  ہوانظر آیا میں نے پیڑک کو اُس گُڈے کی طرف متوجہ کیا ۔ پیڑک    مُنڈیر پر اپنا وزن ڈالے باہر گلی میں بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔ اُس نے  لال گُڈے پر نظر ڈالی ، خوشی  کا ِاِظہار کیا اور پھر سے نیچے گلی   کی طرف توجہ مرکوز کرتے ہوئے بولا "وٹ دیز پیپل آر لوکنگ فار؟" میں نے اپنی گُڈی کوکھینچ کر اوپر آسمان کی طرف چڑہایا  اور آگے بڑہ کر گلی میں جھانک کر دیکھا اور  جواب دیا "دئے وانٹ ٹو کیچ دس کائٹ" ۔  مُنہ میں ٹیڑھ لاتے ہوئے مکمل انگریزوں کے انداز میں انگریزی کا   یہ پہلا مکمل  جملہ تھا جو میں نے بولا ہو۔ اپنی اِس کامیابی پر  میں تو   جیسے  پھولے نہ سمایا۔اپنی آٹھ آنے کی گُڈی کا گُڈا بنے میں تو  ہواؤں  میں ہی اُڑنے لگا۔ ہوش تو تب آیا جب  ایک شناسا  آواز کانوں سے ٹکرائی ۔ یہ  مین گیٹ کا چھوٹا دروازہ کھلنے کی آواز تھی۔ پیٹرک صاحب  گُڈا پکڑنے بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔ بس پھِر کیا تھا گھر میں ایمرجنسی لگی۔ فورا سے دوٹیمیں تیار ہوکر  پیڑک کی تلاش میں  دو مختلف  راستوں پر روانہ ہوئیں۔ نڑوالا روڈ پر جناح کالونی مین  گیٹ  سے کُچھ پہلے مجمع نظر  آیا تو ہما ری جان ہی نِکل گئی۔قریب  پہنچنے پر میری آنکھوں نے جو کُچھ دیکھا اُس نے اگلی زِندگی میں  میرے لئے تاریخ کی کِتابیں  سمجھنا بہت آسان  کردیا۔ ایک ہجومتھا۔ پیڑک لال گُڈا ہاتھ میں لئے  فاتحانہ انداز میں اُچھل رہا تھا  ۔ چند ایک لوگ لوٹی ڈور کی لڑیاں بنا بنا کر پیڑک  کی خدمت میں پیش کر رہے تھے۔جنتا پیڑک سےعقیدت مندانہ  انداز میں ایسے مُصافحہ کررہی تھی  جیسے ارادہ ہاتھ مِلانے کانہیں بلکہ بیعت ہونے  کی  نیت کر رکھی ہو۔اُس گوری چمڑی والے  لڑکے کو تو ایسے عِزت دی جا  رہی تھی جیسے وہ سر جیمز لائل کا پوتا ،پڑپوتا ہو۔ وہ تو ہماری سرکار کی "دور اندیشی و دانشمندی" نے بچا لیا  اپنا فیصل آباد۔ورنہ لائل پور کو تو پیڑک لے اُڑا تھا بغاوت کے زور پر۔

یونہی ایک خیال  اُمڈ کر آتا ہے  ،اگر  ایسی بغاوت حقیقت میں  ہو بھی جاتی تو کیا بُرا تھا۔گورا صاحب  اور ہمارے براؤن صاحب  میں ایک فرق تو بحرحال تھا۔ گورا  کم از کم گالی تو انگریزی میں دیتا تھا ۔۔۔۔

جاری ہے 


                                                                                                                                     

Friday, 7 February 2014

میرا گھر، وہ پیارا گھر (حِصہ اول)

سال کا آخری مہینہ آتا ہے تو سات آسمانوں والااپنے چولہے کا برنر سلو کردیتا ہے اوردُنیا والے سوئی سے تلاش کی گئی گیس اپنے چولہوں میں تلاشنے لگتے ہیں۔ مگر اُن دِنوں  گیس نہیں بلکہ ہیٹرکی تلاش مُشکل ہوا کرتی تھی ۔وہ دِن لند ن سے لاہور تک اُڑتے جہاز پر بھی  بہت "بھاری "گُزرا کرتے تھے۔ہمارے  چھوٹےتایا بال  بچوں  بمعہ ہماری تائی  اماں کے  اپنے وطن جو آیا کرتے تھے۔اُس سال بھی اپنی قائم کردہ روائیت کے مُطابق ہماری تائی  نے  ہمیں مِلتے ساتھ ہی   پہلا سوال یہی  پوچھا  تھا،بیٹا پہچانا؟ ؟؟؟۔چھوٹا بھائی جھٹ سے بول پڑا ،آنٹی ہم تو آ پ کودور سے ہی پہچان لیتےہیں ۔تائی اماں  نے بڑے پیار سےاُسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا "اچھا!!بیٹا وہ کیسے؟؟"۔ وہ تو شُکر ہے ،عین موقع  پر چھوٹے کی تشریف پر کاٹی چُٹکی کام آگئی نہیں  تو  ہم پاکستانی بچوں کی  شرافت کا بھرم  کچی پنسل کے سِکے کی طرح ٹوٹ جاتا۔ چھوٹےتایا کی ہِمت کو سوسلام  کہ تھری اِن ون  بیگم کے ہوتے  ہوئے بھی وہ  دوسری، دوسری کی گردان کئے اپنی گِنتی غلط کرتے رہتے تھے۔ اُس روز  تایا کے قدم سے قدم مِلاتی تیکھے نین نقش والی گوری حسینہ پر نظر پڑی  تو ہمارا دِل  جھٹ سےاُسے اپنی دوسری تائی مان بیٹھا۔ گوری چمڑی کااپنے حلقہ رِشتہ داراں    میں شمولیت کے خیال نے  توجیسے  دماغ کی بتی  ہی جلا ڈالی  ۔ مگر یہ بتی ، اگربتی کی سی  خوشبودار دُھنی دیتے ہوئے  ہوا ہوگئی جب ایک ہٹے  کٹے انگریزسے آنکھیں ٹکرااچار ہوئیں۔


یہ لند ن میں رہتے ہمارے تایا کا ہمسایہ کپل تھا۔جو پاکستان کی سیر کی نیت باندھے 
 اپنے دو بچوں سمیت ہمارے درمیان موجود تھا۔ اگلی صبح بہت "مِنتوں مُرادوں "  کے بعد جھنگ سے لایا گیا ہمارا  اصیل مُرغا  اُن کی نذ ر ہوا۔  چار عدد جوان جہان مُرغ بیبیاں وِدھوا ہوئیں چھُری ہمارے دِل پر چلی مگر مُرغے کا خون دیکھ کر "ہاؤ کروئل دیز پیپل آر" کی آوازیں ہمارے سینے پر مونگ دلتی رہیں۔ہمیں کروول  کہتا  ،گیارہ بارہ سال کا یہ انگریز بچہ  مُجھ سے کوئی  سال ایک  چھوٹا ہی  تھا مگر قد میں مُجھ سے چوٹی  نِکالے ہوئے تھا۔اِن خاص مہمانوں کو دو دِن میں فیصل آباد کے مشہور آٹھ بازاروں سمیت  چند دیگر اہم مقامات دِکھائے گئے۔ ہمارے گاؤں میں گُزارا گیاتیسرا دِن ،حقیقی معنوں میں ایک یادگار دِن تھا۔۔ پگڈنڈیاں چھوڑے  سرسوں کے کھیتوں میں دیوانہ وار بھاگتے ، کِنو کے باغ   میں چھلانگیں لگا ئے ، پسند کا دانہ توڑتے  ہم  اور ہمارے مہمان ۔ اُس دِن تو سورج کی کِرنیں بھی جیسے شہد میں نہاتی آرہی تھیں ، چہار سو مِٹھاس بِکھری نظر آتی تھی۔ڈیرے پر  بڑی بڑی  کڑہائیوں میں بنتا گُڑ جِسکی گرم پت   سے  مُنہ جلتا ،مگر زبان  یہ  میٹھی جلن بار بار مانگے جاتی تھی ۔ گڈے کی  سواری    کے دئیے ہچکولوں  سے تو  اہلِ لندن ایسے محظوظ ہوئے کہ جیسے ڈزنی لینڈ کی رولر کوسٹر میں بیٹھے ہوں ۔ کچے رستے پر ایک لمبا چکر لگانے پر سر ہلا کر غُصہ دِکھاتے بیل  نے تھکاوٹ کا اظہار کیا مگر  سواریاں ونس مور، ونس مور کہتی سُنی گئیں۔

اگلے دِن ہمارے خاص مہمانوں نے لاہور کے لئے رختِ سفر باندھا۔ اپنے جنمی دستاویز پر لاہوری ٹھپے کی خاطراُنہوں نے چار دن مُختص کر رکھے تھے اور اِس کے بعد اُنہیں   بھارت یاترا کے لئےاُڑان بھرنی تھی۔صُبح ناشتے کے بعدسیڑھیوں  سے  اُترتے  ہوئے اُس لڑکے میں بغاوت کے کُچھ جراثیم نظر آنے لگے۔ لڑکے کے  والدین  نے معاملے کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے  مذاکرات کا راستہ اختیار کیا۔ معاملہ کُچھ یوں تھا کہ ہمیں کروؤل کہنے والا  وہ مہاتما بُدھ  اپنے  والدین کا ہمسفر بننے سے انکاری تھا۔ وہ اپنے ہمسائے  دوستوں (میرے کزنز) کےساتھ رہنے اور اُنہی کے ساتھ لندن  واپسی کا ارادہ رکھتا تھا۔ اِن مُذاکرات کا نتیجہ اُس لڑکے  ہی کے حق میں برآمد ہوتا دیکھا تو ہماری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ محض چند لمحوں کے  لئے خود کو اُس لڑکے کی جگہ تصور کیا تو اپنے چہرے کو لال و لال پایا ۔ اُس انگریز لڑکے کا نام پیٹرک  تھا ۔ وہ اگلے تین ہفتوں تک ہمارے ساتھ رہا۔

ہماری گلی کے مکینوں میں   سوتر منڈی کے سیٹھوں کی اکثریت تھی۔شائد کِسی پیر 
سوتر شاہ کی دعا کا اثر تھا  کہ سیٹھوں کا تیار کردہ سوتر تجوریاں دھن سے بھرےچلا جاتا تھا ۔ چند ایک گھرانے ریل بازا ر کے سنیاروں  کے بھی تھے جو کہ دعوی کرتے تھے " ہم زیورات کی واپسی پر کاٹ نہیں لیتے"  اب سادہ لوح  خریداروں کو کون سمجھائے کہ مگر مچھ کہ طرح نگلنے والوں کو بھلا" کاٹ لینے" کی کیا ضرورت پڑے۔۔۔بشمول ہمارے،  گلی کے دو گھرانوں سے "وے کِتاباں کھول تے کُجھ پڑہ  مر وی لے " جیسی آوازیں سُننے کومِلا کرتی تھیں ۔ اس قِسم کی آوازیں نِشانی ہوتی ہیں  نان کاروباری مڈل کلاس گھرانوں کی۔کاروباری گھرانوں میں تو سِلسلہ کوہِ تعلمیہ میں میڑک کی سند 8611 میٹر بلند تصور کی جاتی ہے ۔ ادھر بچے نے کےٹو سر  کی، اُسے مُبارک دیتے ہوئے دُکان کی راہ دِکھلا دی گئی۔مگر  ہم جیسے مِڈل کلاسیوں  کو "پڑہو گے لکھو کے تو بنو کے نواب " طرز کی  لوریاں دے دے  سُلایا جاتا ہے۔اِن گھرانوں کے بچے جب سر اُٹھا کر آسمان کو دیکھتے ہیں تو رب سے اور کچھ نہیں بس  اچھے  نمبر مانگتے ہیں۔ امتحان میں حاصل کئے  اچھے نمبر ہی سُکھی زِندگی کی ضمانت ہوتے ہیں۔۔اُس کے نمبر؟اِس کے نمبر؟   تُمہارے نمبر ؟کِتنے نمبر ؟ کہاں ہیں نمبر؟کیوں نہیں آئے نمبر؟؟؟؟ ۔ بچے کے نمبر نہ ہوئے سٹاک مارکیٹ کے خریدے ہوئے  شیئر ہوگئے جِنہیں  ماں باپ ہر وقت بڑہتا ہی دیکھنا چاہتے ہیں ۔ میرے کم امتحانی نمبروں پر ابا  یہی کہا کرتے  تھے "اگلی بار تُم نے اپنی حالت نہ بدلی تو  بازار میں ریڑھی  لگوا دوں گا"۔ مُجھے اُن دِنوں گولی ، مچھی ، امبلی چورن والی ریڑھی بہت فیسینیٹ کیا کرتی تھی۔ ہر بار میرا رِزلٹ کارڈ لفظ بنے میری خواہش بیان کرتا ۔ مگر سچ بات ہے کہ حُکمران خواہ گھر کا  ہو یا  مُلک کا بس بیانات دینے پر ہی یقین رکھتا ہے۔

ہمارے گھر کا مین گیٹ لکڑی کا تھا جِس کے درمیان میں ایک چھوٹا سا دروازہ بھی تھا   ۔ اِک  بارہ سال کا  بچہ بھی اُس چھوٹے دروازے سے سر کو ہلکا سا  خم دے کر ہی گھر کے اندر داخل ہوتا تھا۔  بائیں طرف بیرونی دیوار کے ساتھ ساتھ  تنگ سی سیڑھیاں اوپرگیلری کو جاتی تھیں۔ گیراج کے اوپر بنی یہ لمبی گیلری گیسٹ روم کے طور اِستعمال ہوتی یا پھِر ہمارے قبضے میں رہتی ۔ ہم نے پیٹرک کے  ساتھ اُن تین ہفتوں میں  وہاں خوب اُدھم مچایا ۔ اُچھل کود میں وہ ہم سے بھی آگے تھا۔ جو کام ہم سالوں میں نہ کرسکے اُسے نے دو ہفتوں میں کردیا۔یعنی  کمرے کے بیڈ  اور ایک عدد صوفہ سیٹ   کی" دھلائی  "۔ بیڈ اورصوفہ کے ہاتھ پاؤں ٹوٹنے کی خبر   والدہ کو ہوئی ، اور ہمیں  مزیدارلزیذ، چٹخارے دار،اُردو پنجابی مِکس ڈانٹ کھانی پڑی۔ اپنی بھی اور  اُس  انگریزی دان کے حِصے کی بھی  ۔ہمارے لندن پلٹ کزنز بھی  ایک قِسم کے انگریز بابو  ہی تھے۔ پاکستان سے اُنہیں نہ کوئی دِلچسپی تھی اور نہ  لگاؤ۔ ٹوٹی پھوٹی اُردو بول کر ہم پر احسان کرتے تھے۔پانی کی جگہ بس پیپسی کو ہی مُنہ لگائے رکھتے تھے۔ وہ دِن عید کا ہوتا تھا یا پھِر کِسی مامے چاچے کی شادی کا جب ہمیں دن میں دو بوتلیں نصیب  ہو جاتی ہوں۔ مگر یہ  لوگ تھے کہ  بوتل پر بوتل  چڑہائی جاتے تھے ۔ اِسی لئے ہم دِل جلوں نے اِن کانام "سزائے کالا پانی" رکھ دیا تھا۔بحرحال اُس ولیتی پارٹی کے ساتھ گیلری میں گُزرے  وہ دِن خوب رہے تھے۔گیلری کے عین نیچے گیراج تھا،جِسے گاڑی  شاذو ناذر  ہی نصیب ہوئی۔میری پیدائش سے پہلے تک اس گیراج میں ایک عدد بھینس باندھی جاتی تھی۔ ہمارے گھر کے اِس ڈبل ڈیکر  نما حِصے کے اوپر  ایک  گارے مِٹی سے بنا کچا کمرہ بھی تھا جوکہ سٹور کے طور پر اِستعمال ہوتا تھا  یا پھِر رمضان کے  آخری عشرے  ،ہماری دادی  اُسی کچے کمرے میں اعتکاف  بیٹھتی تھیں۔۔ اس  کمرے کی بڑی تاریخی حیثیت بھی ہے کیوں کہ یہاں  ایوب خان  کا قصیدہ لِکھنے والا شاعر چند دن روپوش رہاتھا۔

بیس گھرانے ہیں آباد
اور کروڑوں ہیں ناشاد
صدر ایوب زندہ باد
آج بھی ہم پر جاری ہے
کالی صدیوں کی بیداد
صدر  ایوب زِ ندہ باد
بیس روپیہ من آٹا
اس پر بھی ہے سناٹا
گوہر، سہگل ،آدم جی
بنے ہیں بِرلا اور ٹاٹا
مُلک کے دُشمن کہلاتے ہیں
جب ہم کرتے ہیں فریاد
صدر ایوب زِندہ باد


ابا بتاتے ہیں کہ تُمہارے  بڑے تایا نے حبیب جالب صاحب کو اِس قدر راز داری سے گھر میں چھُپایا تھا کہ  تُمہاری دادی  کے عِلاوہ کِسی تیسرے کو  بھنک تک نہ پڑی تھی۔ ہمارے بڑے تایا   نے زِندگی میں ہمیشہ دلیرانہ اور بڑے  فیصلے کئے۔یہ غالباً اُس دور کی بات ہے جب فاطمہ جِناح کی پُکار پر پوری قوم صف بند تھی ۔مگر گرجدار آواز میں عزیز ہم وطنو کہنے والوں کے عزیز تو چند ایک ہی ہوتے  ہیں   اور باقی  سب ٹھہرے بھیڑ اور بکریاں۔
جاری  ہے۔۔۔۔

                                                   

Sunday, 5 January 2014

میں اور میرا پاکستان

میں اور میرا پاکستان
 اکثر یہ باتیں کرتے ہیں
قائد ہوتے تو کیسا ہوتا
قائد ایسا کرتے ویسا نہ کرنے دیتے
وہ بلاول کی باتوں پر حیران ہوتے
اور قادری کی باتوں پر کِتنا ہستے
قائد ہوتے تو ایسا ہوتاقائد ہوتے تو ویسا ہوتا
میں اور میرا پاکستان اکثر یہ باتیں کرتے ہیں



یہ رات ہے کہ اندھیر نگری میں اندھیر مچی ہوئی ہے
ہے چاندنی
یا واپڈا کی بِجلی سے میری راتیں دُھلی ہوئی ہیں
یہ چاند ہے کہ ہماری سرکار کا چڑہایا کوئی نواںچن
ستارے ہیں یا تُمہارےاقربین کی فوج ظفر موج
ہوا کا جھونکا ہے کہ امریکی امداد کی خوشبو
یہ پتیوں کی ہے سرسراہٹ یا طالبان نےچُپکے  سے کوئی خود کُش بمبار تیار کرڈالا ہے
یہ سوچتاہوں میں کب سے گُم صم
جبکہ مُجھکو بھی یہ خبر ہے
 ہن ککھ نئیں رہیا ساڈا
مگر یہ دِل ہے کے کہ  رہا ہے
اللہ چنگا کرسی ،اللہ چنگا کرسی




مزدور کے حالات بوسیدہ کپڑے اور ٹوٹی جوتی
تنہائی کی لمبی رات جِسکی صُبح کہیں کھوگئی ہے
کہنے کو بہت کُچھ ہے مگر کِس سے کہیں ہم
کب تک یونہی خاموش رہیں اور سہیں ہم
دِل کہتا ہے دُنیا کہ ہر اِک رسم اُٹھا دیں
حمام جو ِاِن ننگوں کا ہے آج اُلٹا دیں
کیوں دِل میں سُلگتے رہیں لوگوں کو بتا دیں
ہاں یہاں سب ننگے ہیں سب ننگے سب۔۔
افسوس کہ دِل میں یہ بات  اِدھر ہے بس اِدھر ہی
                

                                        (دہرا ح)

جاوید اختر صاحب سے معذرت کے ساتھ  


Friday, 29 November 2013

وہ دس دِن

مُسلسل اِنکار پر اُس نے مُجھے میری محبت کا واسطہ دے ڈالا ۔اِس جذباتی حملے نے میری ناں ہاں میں بدل دی۔ وہ اُسے میرے حوالے کرتے ہوئے  بولا "تو نے  بس یہی سمجھنا کہ تو کِسی اور کو نہیں مُجھے اپنا مہمان رکھ رہا ہے " ۔ میں نے نِسبتا چھوٹے ڈائیامیٹر کی دو عدد گالیوں سے  اُس کا مُنہ بند کیا۔ یہ میرا دوست جمیل تھا ۔اُس کا دیا ہوا واسطہ کِسی "جانو "کا نہیں بلکہ جانوروں سےمیری محبت کا تھا ۔وہ  چھوٹے ماموں  کی شادی پر دس دِن کے لئے ڈیرہ غازی خاں  جاتے ہوئے اپنا  ڈوڈو نامی کُتا  میرے حوالے کرگیا۔ میں نے ڈوڈو  سے   ہیلو ہائے کرتے ہوئے اُس کا تعارف ٹامی سے کروایا۔ ٹامی ، چِٹے سفید بالوں  والا  معصوم ،پیار ا سا ، ہمارا رشین کُتا۔ اپنی شے بھلے  ٹُٹے  پیڈل والی سائیکل ہی کیوں نہ ہو چنگی  لگتی  ہے  ،  ڈھلتی عمر والا ٹامی تو خیر ہم سب کا لاڈلا تھا ۔ یہ الگ بات ہے کہ ہماری گلی والے اُسکی غُصیلی طبیعت سے اکثر نالاں رہتے تھے۔

ڈوڈو اور ٹامی کے دو چار گھنٹے ایک دوسرے سے چھیڑ خانی کرتے کھیلتے کودتے خوشگوارماحول میں گُزرتو گئے مگر اس دوران میں نے محسوس کیا کہ ڈوڈو کو پیار کرنے پر ٹامی کی بے چینی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ رات کے کھانے پر تو شیطان نے "پہلے میں " کا ایسا گھٹیا وار کیا  کہ دونوں ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے روادار نہ رہے ۔ڈوڈو اپنی جوانی   پر اِتراتااور قد کاٹھ کا گھمنڈ  کرتا  ،پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھااور ہمارا ٹامی  حقوقِ ملکیت کِسی کو دینے پر راضی نہ ہوا۔ صُلح کی ہر کوشش ناکام  ہوئی باِلآخر ٹامی کو پِچھلے صحن مُنتقل کر کے فریقین میں حد بندی کرنی پڑی ۔"کُتا بڑی کُتی شے ہوتا ہے " سیانو ں کی یہ بات میں نے سُن رکھی تھی۔ مگر اِس شے کی گہرائی ،چوڑائی ، حُجم  ،سب  کُچھ مُجھے ڈوڈو نے ایک ہی دِن میں سمجھا دیا۔جمیل نے درست کہا تھا کہ میں دس دِنوں کے لئےمیں  اُسے ہی اپنا مہمان رکھ رہا ہوں۔ڈوڈوباِلُکل اُسی ساضِدی ، ہٹ دھرم اوربے ترتیبہ تھا ۔کِسی قائدے  قانون کو نہ ماننے والا۔  اُسے کھولنا مُشکل اور  باندھنا عذاب تھا۔نسل کا خالص ہونا بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ سُنانےکو تو جمیل ڈوڈو  کے ماںاور  باپ  دونوں کا شجرہ نصب سات پشتوں تک سُناتا تھا مگر حقیقت نہیں سب فسانے تھے۔پہچان رکھنے والے سب سمجھتے تھے کہ ڈوڈو کی ماں کے ساتھ کوئی بے نسلا "کُتی حرکت "کر گیا تھا  اور ڈوڈو۔۔۔۔

ٹامی کو پِچھلے صحن تک محدود کر دیا گیا اورڈوڈو کو اگلے صحن میں باندھا جانے لگا۔ ہمارے گھر کے سامنے پارک تھا۔  صبح کے وقت اور شام کو ٹامی کو اُس پارک تک لانے کے لئے گھر میں دفہ "کُتالیس" لگانی پڑتی تھی ۔یعنی یہ بات یقینی بنائی جاتی تھی کہ  دونوں کِسی صورت میں بھی ایک دوسرے کا مُنہ نہ دیکھنے پائیں۔ بصورتِ دیگر  اگلے دِن ڈاکڑ عبدلقدیر کو اپنے کلینک میں ایمرجنسی لگانی پڑجاتی ۔ڈاکٹر صاحب ہمارے عِلاقے کے مشہور ای این ٹی سپیشلسٹ تھے۔ڈاکٹر صاحب محلے میں" کناں آلا ڈاکٹر "کے نام سے جانے جاتے تھے"یہ پیارا سا  نام اِنسانی کانوں کے لئے  اُن کی گرانقدر خدمات کا  صِلہ نہیں تھا  بلکہ  اللہ کے عطا کردا  ا ُن کے اپنے    ہاتھی نما  کان اِس  خِطاب کا سبب بنے تھے ۔

میں اُن دِنوں میں سیکنڈ ایئر کا سٹوڈنٹ تھا۔ ہفتہ وار تعطیل جُمعے کو ہوتی تھی اور اُس ویک اینڈ پر کالج  کے دوستوں نے سینما میں رات کا شو  دیکھنے کا پروگرام بنایا۔  میرے دِل میں سینما درشن کی خواہش  کافی عرصے سے انگڑائیا ں لے رہی تھی، سو میں نے حامی بھرلی۔ اب مسئلہ گھر سے رات کو پھوٹنے کا تھا۔ کام بہت مُشکل تھا    اِک ذرا  سی  لغزش کچے پلستر کی طرح  کھال اُدھڑوا سکتی تھی۔ میں نے یہ رِسک لینے کا فیصلہ کیا۔چھوٹے بھائی کو دو سموسوں کا لالچ دیکر شریک جُرم کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ  اُن دوسموسوں میں سے ایک  پر میں نے ہی ہاتھ صاف کئے۔خیر  "بڑےبھائی کا بھتہ " کی   یہ روائیت توچلی آرہی ہے۔ رات نو بجے چھوٹے بھائی نے  سرکاری  کاغذوں میں  میری نیند پر دستخط کئے ، مہر لگائی اور سیل بند لفافہ  دروازے پر لٹکا  چھوڑا ۔ سبزی منڈی میں واقع بابر سینما ، میری پہلی سینما گردی ، مزید یہ کہ ہر دس مِنٹ بعد  ناچتے گاتے شان اور ریما ۔ بس یہی تھا میرے اُس ایڈونچر کا کُل حاصل ۔واپسی پر میں سوچ رہا تھا کہ کِتنے اچھے ہوتے ہیں وہ بچے جو بڑوں کی باتوں کو پلے باندھ لیتے ہیں خود سے تجربہ کر کے خوار نہیں ہوتے۔
لوٹ کے یہ بُدھو جب گلی کے نُکڑ پر پہنچا تو رات کے دو بج چُکے تھے۔ غالباً نومبر کا تیسرا   ہفتہ تھا۔ ہولے ہولے  سے چلتی ٹھنڈی ہوا موسم کو اچھا خاصاسرد کئے ہوئے تھی۔ رات  تو جیسے کالےسمند ر میں ڈوبی ہوئی ہو۔اِس فِلمی مِشن کا آخری مرحلہ سر پر آن پہنچا تھا۔اپنی گلی میں داخل ہوتے ہی مُجھے مین گیٹ پر ڈوڈو کی موجودگی کا احساس ہوا۔ میں  پوری گلی کو فِلم کی کہانی سُنانے کا رِسک نہیں لے سکتا تھا لہذا میں اُلٹے قدموں واپس ہوا۔اب میرے پاس  پِچھلی گلی سے گھر پہنچنے کے سِوا اور کوئی  راستہ نہیں تھا۔ شام کے بعد اِس پتلی گلی میں تو جن بھوتوں کی محفل سجتی تھی ۔ اُس اندھیری رات  تو ایسے لگ رہا تھا   جیسے گلی میں چڑیلیں  بال بکھیرے لیٹی پڑی ہوں۔ بس ایک  غلط قدم پڑا اور بندہ چڑیل کے مُنہ میں۔ اب چڑیل کا مُنہ ہو یابِنا ڈھکن کے گٹر نتیجہ تو ایک ہی سا  ہوتا ہے۔ خیراللہ اللہ کر تا میں اپنے گھر تک پہنچ گیا۔ ٹامی کو آہستہ سے آواز دیکر اپنی موجودگی کا یقین دلایا۔ کُتا بھی اِنسان کی طرح بڑا جذباتی جانور ہے۔ اچانک سے  مِلی خوشخبر ی  پر بندے کی آنکھ کا پانی کنڈے کنارے توڑ کر بہنے لگتا ہے  اور کُتے کی زبان لگام   چھُڑا  ئے دوڑپڑتی ہے ۔ٹامی نے مُجھ پر احسان یہ کیا کہ اُسنے اُچھلتے کودتے ، بھونکتے ہوئے اپنا  والیم کم رکھا ۔ میں سالم کھال اور  ہڈیوںسمیت اپنے  کمرے  میں پہنچ گیااور میر ا یہ فِلمی سفر ختم ہوا۔

مُجھے رات سوتے سوتے چار بج گئے اور صُبح چھے ساڑھے چھ بجے  چھوٹے بھائی نے ڈوڈوکی سیرکا مضمون مُجھے سنانا شُروع کر دیا۔ میں سخت نیند میں تھا۔ میں نے چھوٹے بھائی کو صلواتیں سُناتے ہوئے یہ ڈیوٹی اس کے سُپرد  کر دی ۔میں تکیے کے سٹیشن سے نیند کے سگنل  لئے خواب کی ٹرانسمشن سے  مُنقطع ہوا رابطہ ابھی بحال کر نہ پایا  تھا  کہ چھوٹے بھائی  نے پھِر سے  مُجھے جھنجوڑتے ہوئے اُٹھایا"وہ  ۔ ۔وہ ڈوڈو قابو میں۔۔۔" اُس کی بات مُکمل نہ ہونے پائی تھی کہ ٹامی کی چیخنے کی آوازیں ۔۔۔۔ ہم سب گھر والے پِچھلے صحن کی طرف بھاگے۔ ڈوڈو نے ٹامی کو نیچے گِرارکھا تھا اور اپنے دانت اُس کی گردن میں گاڑ رکھے تھے۔وہ منظر اِنتہائی خوفناک تھا۔ بڑی مشکل سے ٹامی کو ظالم کے نرغے سے چھُڑوایا گیا۔اُس کی گردن کے سفید چمکتے بال لال ہوچُکے تھے ۔میں اور والد صاحب  زخمی ٹامی کو  فوراً سے انکل اصغر کے گھر لے گئے ۔ انکل والد صاحب کے بچپن کےدوست اور ویٹنری ڈاکڑ  ،اُن کے گھر تک پہنچنے میں مُشکل سے پندرہ منٹ لگتے تھے۔ ٹامی خطرے سے باہر تھا ۔گردن میں دو تین زخم  تھے   مگرزیادہ گہرے نہ تھے ۔ٹامی کی  مرہم پٹی کرا کے کوئی گھنٹے بعد ہم واپس گھرلوٹے تو سب گھر والوں نے سُکھ کا سانس لیا ۔تمام بزگانِ فیملی نے باری باری میری خوب"خاطر " کی۔ایک  کمینے کُتے نے میری گھر میں وہ   کُتے والی کروائی کہ بس  ۔وہ میرے سامنے ہوتا  تو میں اُسےگولی ماردیتا۔اِس  چار ٹانگوں والے بھگیاڑ نما کُتے کو نہیں بلکے دو ٹانگوں والے اُس گدھے کو جو پِچھلے سات دِنوں  سے شادیاں "چر" رہا تھا۔

بیچارہ زخمی ٹامی تو  خیر اُس دِن ایک ہارے ہوئے فوجی کی طرح  سر جھُکائے زیادہ تر  ایک کونے میں ہی بیٹھا رہا مگر  ڈوڈو  کے مزاج میں بھی بہت تبدیلی آگئی ۔ اُس نے خوامخواہ کی اکڑ اور اڑب پن کی روش ترک کر دی۔ اِسی طرح اگلے دو دِن بھی گُزر گئے ۔ جمیل جب  ڈوڈو کو لینے آیا تو ڈوڈو اُسے ایسا چِمٹا جیسے دس دن نہیں بلکے سالوں بعد اپنے مالک کی شکل دیکھ رہا ہو۔جمیل کو ڈوڈو کی کرتوت کا عِلم ہوا تو بیچارہ بہت شرمندہ ہوا۔ ڈوڈو کو اُس نے ٹھیک ٹھاک ڈانٹ پلائی۔ جمیل جب جانے لگا تو میں نے  ڈوڈو کو پیار کیا مگر اُس نے اپنا سر اوپر نہیں اُٹھایا۔  مین گیٹ سے باہر نِکلتے ہوئے  ڈوڈو  نے گردن گھُما   صحن کے ایک کونے میں  اپنے پنجوں کے درمیان زمین پر  سر رکھ کر لیٹے ٹامی کی طرف ایسے دیکھا جیسے کہ رہا ہو "ہوسکے تو مُجھے معاف کردینا"

مُجھے آج بھی وہ دس دن یاد آتے ہیں تو سوچتا ہوں  اپنی غلطیوں سے، بہتر کل کے لئے جانور بھی جینا سیکھ جاتا ہے ۔  مگر  انا کےسخت خول میں بُغض و عناد کی کنکریاں جمع کئے بیٹھا اِنسان انہی نفرت  کی کنکریوں کے اثاثے کو سینے سے لگائے اپنی ساری زِندگی بِتا دیتا ہے ۔

 سچ کہ گئے تھےبا با  بُلھے شاہ" بازی لے گئے کُتے"






Sunday, 10 November 2013

سبز باغ کی سبزی

دو گھنٹوں سے جاری  کامیاب مذاق رات اپنے  آخری مرحلے میں داخل ہو چُکے تھے۔ حکیم اللہ محسود اپنے لاڈلے جرمن شیفرڈ کے بالوں میں پیار سے  ہاتھ پھیرتے ہوئے مُشترکہ اعلامیہ  پر دستخط  کرنے ہی  کو تھاکہ دڑ  ۔۔دڈ۔ دڑ۔دڑ۔ ڈرون طیارے کی آواز نے سب  تلپٹ کرڈالا  ۔مگر  اگلا منظر  ڈرون سے زیادہ ڈرونا  تھا،غضبناک ہوتی ہوئی بیگم میرے سر پر کھڑی تھی ۔ گھبراہٹ میں آنکھیں ملنے کی بجائے بےاختیار میرے مُنہ سے نِکلا "بیگم اِتحاد ہوگیا"۔ میں متوقع حملے سے پہلے خو د کو لحاف کی پناہ میں دے چُکا تھا۔ "ارے او اِتحاد بین الپارٹیز کےٹھیکیدار کُچھ گھر والوں کی  فِکر بھی ہے ،کھِڑکی کے ٹوٹے  شیشے سے آتی ٹھنڈی ہو ا میں بچے ساری رات ٹھٹھرتے رہے مگر تُم دِن  کے گیار ہ  بجے  خراٹے لیتے  ہمسائیوں کے کتے کی نیند بھی حرام کئے ہوئے ہو۔"  تاریخی واقعات و القابات سے لیس  بیگم کا  خِطاب کوئی سو اگیارہ مِنٹ تک جاری رہا ۔جِس کی تفصیل عام کرنا ہر گِز ہر گِز مُلکی مفاد میں نہیں۔ چند سیکنڈکی خاموشی کے بعد  بیگم کی آواز پھِر سے گونجی "پندرہ مِنٹ سے سبزی والا  گلا پھاڑ پھاڑ ہلکان ہو رہا ہے مگر تُمہیں  اپنی سیاست کے سوا کاہے کی ہوش " میں نے جھلا کر لحاف  پرے  پھینکتے ہوئے  کہا "پَچھلے تیرہ مِنٹ  سے تو میں تُمہارے تابڑ توڑ حملوں سے بچ رہا  ہوں اب تُمہاری طرف سے جنگ بندی ہوتو   آگے کے لائحہ عمل بھی تیار کیا جائے "۔میں نے سلیپر پہنے اور  سبزی لینے چل پڑا۔


سبزی والا   سائیکل کی کاٹھی پر بیٹھا پیڈل مارنے ہی کو تھا  کہ اُسے روکتے ہوئے میں نے پوچھا ۔ "ہاں بھئی  یہ مٹر کِس طرح لگائے ہیں  ؟"180 روپے کِلو جی " وہ  سائیکل  سے اُترتے ہوئے بولا۔   میں نے اپنا غُصہ سبزی فروش پر نِکالتے  ہوئے   اللہ کے غضب  کو اُسی کے مخصوص کر دیا۔ اُس نے جھٹ سے  عُذر پیش کیا  "بس کیا  کریں جی، پٹرول ہی بہت مہنگا  ہوگیا ہے جی"۔ میں نے اُس کی  پھٹیچر سائیکلی پر نظریں گاڑتے ہوئے کہا"یہ مِرزا دور کی سایئکل میں بھلا تُم پٹرول ڈالتے کہاں سے ہو"۔  وہ بھی ڈیل کارنیگی کا شاگرد   نِکلا کہنے لگا کہ پٹرول تو اب ہماری قوم کی رگوں میں دوڑتا ہے  صاحب ۔ بس  تھوڑی سی تپش مِلنے کی دیر ہے بندہ آگ کا گولا  بن جاتا ہے ۔ میں نے اُسکے جواب کو نظر انداز کرتے ہوئے ۔ ٹماٹروں کا ریٹ پوچھا  تو جواب مِلا 160 روپے  کِلو ۔  میں نےایک دو ٹماٹر اُٹھا  کر دیکھے "ارے یہ گلے سڑے ٹماٹر  تو کِسی کو مارتے ہوئے بھی شرم آئے" اُس نے جواب دئے بغیر کندھے  میں لٹکتے  تھیلے میں سے چمکتا ہو ا ٹماٹر نِکال کر اپنی ران پر کُچھ ایسے رگڑا کہ مُجھے خانصاحب کی  جوانی یاد آگئی ۔جب وہ  نئی گیند  ران  پررگڑتے   میچ کا  اپنا پہلا سپیل پھینکتے تھے اور  ہمارے کانوں میں اِفتخار احمد کی آواز  رس گھولتی تھی۔ "عِمران ٹو گواسکر  اینڈ  ہی بولڈ ہیِم""220 روپے کِلو جی " کم بخت کی بھدی آواز نے میری سُنہری   یادوں کی بنتی ڈوری کو مکڑی کے جال  کی طرح بِنا احساس کئے توڑ ڈالا۔ میں نے خشمگیں نظروں سے سبزی فروش کو دیکھا اور سائیکل کے  کیرئیر پر پڑی ٹوکری سے ہوا مُنقطع تعلق پھِر سے باندھا ۔ "یار یہ  سُرخی پاؤڈر لگائے کشمیری ناری کی طرح چمکتی سبزی کا کیا   ریٹ ہے  ؟"۔ وہ اپنا مُنہ میرے کان کے قریب لاتے ہوئے بڑے  رازدارنہ اندازمیں بولا " 106 روپے ٍ12پیسے "۔ میں نے حیرت سے پوچھا "بھائی یہ   سبزی کا ریٹ  بتا رہے ہو  کہ ڈالر کا ؟" اُس  کے مُنہ میں بھی جیسے  جواب تیار تھا نِکلنے کو" باؤ جی یہ سبزی کھانے والا ڈالروں میں ہی کھیلتا ہے۔ میں نےسپن باؤلر کی طرح ہاتھ میں شلجم گھُماتے ہوئے جواب دیا" میاں  ہمارا  بھلا فارن کرنسی سے کیا  لینا دینا  ڈالروں میں  تو   بس تُمہارے یہ گونگلوہی  کھیلتے ہیں" اب کی بار اُس نے جواب میں گُلزار کی شاعری کا سہارا لیا۔

ہم نے دیکھی ہے اِن آنکھوں میں شلجموں کی مہکتی خوشبو

ہاتھ سے چھوکے اِنہیں رِشتوں کا اِلزام  نہ دو

شلجم کو شلجم ہی رہنے دو سیاست کا نامِ بدنام نہ دو

اُس کے جواب  کی  داد دئے بغیر میں رہ نہ سکا، مگر وہ اپنی سائیکل پر سوار ہوچُکا تھا۔  میں نے  اُسے پھِر سے روکتے ہوئے  آلو پیاز کے ریٹ   بھی پوچھ لئے ۔ وہ میری ہتھیلی پر دو ہری مرچیں پکڑاتے ہوئے بولا " باؤ جی بُرا مت منانا  آپ اور میرے جیسے مُنہ رکھنے والوں کے لئے جو دال والا  مُحاورہ  بنا ہوا ہے نہ اُس میں اب آلو اور پیاز کا  اِضافہ بھی ہو چُکا ہے ۔ آپ اِن مرچوں  کی چٹنی پر ہی گُزارا کرو جی "۔سبزی والا اپنی چاں چوں کرتی سائیکل پر  اگلی منزل کو چل دیا اور میں  ہتھیلی پر دو  ہری مرچیں سجائےسوچنے لگا کہ ہمارے آج کے حُکمران اپنے ہزاروں مربع میل پر پھیلے سبز باغ میں ہمارے لئے آلو مٹر ٹماٹر بھلے ہی نہ لگائیں  مگر اپنے سیاسی مُرشد کی یاد میں کم ازکم گنڈے (پیاز) تو گڈ لیں۔۔