Saturday, 28 July 2012

سیٹھ کامران کے سانپ


چپڑاسی نے مُجھے کمرے مییں جانے کا اشارہ کیا ۔ یہ ایک اچھے خاصے سائز کا آفس تھا جِسکا انیٹیئر  پُرانے سامان اور گلی سڑی فائلوں کی کژت کے سبب کسی سرکاری دفتر کا سا منظر پیش کر رہا تھا ۔ میں نے کالی رنگت اور درمیانے سے قد کا ٹھ کے  کمزور سی جسامت والے شخص  کو  بڑی سی ریوالونگ چئیر پر بیٹھے پایا ۔  اِس کے  چہرے پر چیچک کے کے  ہلکے ہلکے داغ تھے گالیں اندر کو  دھنسی ہوئی   تھیں   کالے ہونٹ کثرتِ سِگریٹ  نوشی کی علامت تھے  ۔ اُس کے  سوکھے ہوئے چہرے پر بڑی بڑی  چمکتی ہوئی زندگی سے بھرپور آنکھیں ،ایسے  ہی   غیر فطری سی محسوس ہوتی تھیں جیسے کِسی دشت  میں  کانٹوں  سےبھرے  ایک سوکھے درخت پر تازہ پھل۔ اُس نے مُجھے  سر کی ہلکی سی جُنبش سے  بیٹھنے کا اِشارہ کیا۔وہ مُجھ سے  قریباً پندرہ مِنٹ تک بے تُکے سے سوال کرتا رہا اور پھر   میرے  دائیں ہاتھ میں  قبولیت کی سند تھماتے ہوئے  بولا تُم کل سے آفس جائین کر سکتے ہو۔ یہ میرے کیرئیر کا پہلا انٹرویو  اور پہلی ہی سلیکشن تھی۔انٹرویو لینے 
والا شخص کامیاب بِلڈرز کا مالک  سیٹھ کامران تھا۔
وہ انگوٹھا  چھاپ تھا ۔ مگر حکمت اور مردم شناسی کی صفات  اُس کا خاصہ تھیں وہ ہر بندے کو پہلی ہی نظر میں پڑھ لینے کی صلاحیت رکھتا تھا۔نبض چھوئے بغیر ہی  
وہ  بندے کے  اندرونی اور بیرونی  جمُلہ امراض کی تشخیص کر لیا کرتا تھا اور   پھر ہر ایک کی ضرورت کے مطابق خود کے تیار کردہ حکیم لُقمانہ  کیپسولز کی ایسی ڈوز دیتا کہ بندہ اُس کا گرویدہ ہوئے بغیر رہ نہ پاتا ۔  وہ اپنے کاریگروں اور مزدورں کو بھی اپنے سحرمیں جکڑے رکھتا تھا۔غُصہ سیٹھ کامران کے قریب بھی نہیں پھٹکتا تھا۔ البتہ وہ  اپنے مزدوروں پر  رُعب قائم رکھنے کے لئے  خود پر غُصہ طاری کئے رہتا تھا۔وہ اپنے تمام مُلازمین کو  بیٹا جی کہ کر بُلاتا تھا ۔ وہ اپنے ان بیٹوں کو  شیر کی نظر سے دیکھتا تھا   یہ الگ بات ہے کہ  سونے کا چمچہ فقظ اُسکی  اپنی اصل اولاد کے لئے ہی مُختص تھا۔اُسے مِلنے کِسی سرکاری دفتر کا  چپڑاسی آئے یا کوئی بیسویں گریڈ کا افسر وہ دونوں کو ایک جیسی عزت دیتا تھا۔مگر آنے والے سے بات اُسکے مزاج  اورحیثیت کے مطابق کرتا تھا۔بڑی پوزیشنوں پر بیٹھے افسران کی "خِدمت " کرنے اور اُن کا دِل جیت لینے میں تو اُسے "ملکہ شراوت " حاصل تھی۔وہ اپنا  ماضی  نہیں بھولا تھا اور نہ ہی یہ بتانے میں وہ کوئی  عا ر محسوس کرتاکہ وہ ایک معمولی مزدور سے ترقی کرتا  کرتا کنسٹرکشن کمپنی کا مالک بنا ہے ۔ وہ  اکثر اُس سرد رات کا ذِکر کرتا  ۔سردیوں کی وہ   طویل رات  اور بارش میں ٹپکتی کمرے  کی  جستی چادر کی چھت،  صُبح تک وہ  اُسکی گھر والی اور بیٹی تینوں کو ہی شدید بُخار نے آلیا ۔ جبکہ کامی مزدور  کی جیب میں ناشتے تک کے لئےبھی  پیسے نہیں تھے  ۔۔۔۔  اپنی زِندگی کا  کبھی نہ بھولنے والا واقع بتاتے ہوئے غمی اور فخر کے مِلے جُلے جذبات اُسکی آنکھوں سے عیاں ہوتے تھے


سیٹھ کامران نے ایک بار مُجھ سے کہا کہ پاکستان پر اللہ کا بہت احسان ہےا ِس مُلک میں ترقی کے راستے بہت ہیں مگر ہر راستے کے دروازے پر تالا  لگا ہوا ہے اور ایک زیریلا سانپ کُنڈلی مارے دروازے پر بیٹھا ہے اور دروازے کی چابی سانپ کی کُنڈلی میں پڑی ہے۔  لوگ ترقی کرنا چاہتے ہیں  مگر سانپوں کے خوف سے اُن کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں۔ اُس کا کہنا تھا کہ یہ دودھ پینے والے سانپ ہیں اِن کو دودھ پِلا کر اِن سے دوستی کی جائے تو چابی تک رسائی مُمکن ہے۔ اُن دِنوں میں اِنقلابی خیالات سے بھرا ہوا ایک چھوکرا ہوا کرتا  تھا۔ سیٹھ کامران سے سوال کر بیٹھا " اگر  اِن سانپوں کو مار دیا جائے؟" اُس کا جواب تھا ۔ "نہ بیٹا جی نہ  اِنا ں نو مارنا نیئں  ، اے سپاں دا بڑا خطرناک قبیلہ جے" اُس کے خیال میں اگر آپ کسی ایک سانپ کو مارو گے تو  سانپوں کا یہ خطرناک قبیلہ آپ کی سات پُشتوں سے اِنتقام لے گا۔ میں سیٹھ کامران کی یہ باتیں بالکُل بھی نہ سمجھ پایا ۔ میں نے تقریبا تین سال بعد سیٹھ کی نوکری چھوڑ دی  ۔ اِن تین سالوں میں سیٹھ کی  کمپنی کا گراف مزید اوپر کی طرف گیا۔ بہت سے  نئے پراجیکٹس  پر کام شروع ہوا  اور آفس کی ظاہر حالت اور حجم میں بھی خاطر خوا ہ اِضافہ دیکھا گیا۔


  ملک ریاض کی کہانی   بھی کُچھ  ردوبدل کے ساتھ اِسی قسم کی محسوس ہوتی ہے۔ ملک ریاض  کے مُتعلق کوئی تمہید باندھنے کی ضرورت نہیں ہے ملک ریاض پر بہت کُچھ لِکھا جا چُکا ہے  سید طلعت حُسین  سے لیکر  محترم جاوید چوہدری صاحب   تک بہت سے قلمکاروں نےاپنے قلم سے ملک ریاض کےمُختلف شیڈز  کو  اُجاگر کیا ہے ۔ جنکی روشنی میں اُسکی زِندگی کی پرتوں کو سمجھنا کوئی مُشکل کام نہیں رہا۔ملک ریاض کے مُتعلق مشہور ہے کہ وہ اپنی فائلوں کو  ٹائیر لگا کر چلاتا ہے۔ اگر ملک ریاض کی ترقی کی رفتار پر نظر دوڑائی جائے تو  یوں محسوس ہوگا کہ ملک ریاض "انجینئر "اپنی فائلوں کو"    خود" کا تیار کردہ   مِنی جیٹ اِنجن لگادیتا تھا     جس سے  کام کی رفتار میں سینکڑوں گُناہ اِضافہ ہوجاتا تھا۔میٹرک میں تین  سو تیتیس نمبر لینے والے اس  بند ے نے  جو کام کیا بے مثال کیا ۔ اگر دیکھا جائے تو ملک  ریاض  نے سِکہ رائج الوقت حاصل کرنے کے لئے   طریقہ رائج الوقت ہی استعمال کیا ۔ اُس نے  اِس طرز میں جدید  سائنسی  اُصول مُتعارف کروائے۔ ملک ریاض نے بھی سانپو ں سے  دوستی کی اُن کو دودھ پِلایا ۔ اُسکے اندر کی پیاس نے اُسے مزید آگے  دھکا دیا یہاں تک کہ وہ بڑہتا  بڑہتا ان سانپوں کے سرداروں  تک جا پہنچا ۔سانپوں سے دوستی کا یہ کھیل  اُسے مزہ دینے  لگا   ، اور بات یہاں تک پہنچی کہ وہ سانپوں اور  سپیروں کا بیوپاری بن بیٹھا۔ مگر ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔وِڈیو۔۔۔۔۔

آج ہر محبِ وطن   ملک ریا ض    اور اُس کے افعال پر لعن طعن کرنے کو کلمہ حق     گردانتا ہے۔ ایک بات  یاد رکھنے کی ہے کہ کلمہ حق محظ ایک مُردہ عمل کے سوا کُچھ نہیں ہوتا جب تک کہ راہ حق سےآشنائی نہ ہو  اور  اس سے  سنگت نہ کی جائے۔ یہ  راستہ  بہت پتھریلا  اور خُشک ہے  ۔ اس راستے پر پاوں زخمی ہوتے ہیں ۔پیاس انسان کے   صبر کا کڑا امتحان لیتی ہے ۔ جگہ جگہ زہریلے  سانپوں سے مُقابلہ کرنا پڑتا ہے یہ  سانپ متلاشگانِ حق کے ازلی دُشمن ہوتے  ہیں۔ منزل جِتنی خوبصورت ہے  اُتنا ہی  سفر کٹھن ہے۔  مگر یہ  سفر کلمہ حق  کے مردہ عمل کو زندگی  عطا کرتا ہے۔ ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنے کی ضرورت ہے ۔ اپنے عملوں کی جانچ پڑتا ل کی ضرورت ہے ۔ خود کا محاسبہ شائد ہمارے مُردہ عملوں میں روح بھرنےکا ذریعہ بن جائے۔ہمیں  اپنی جیبوں کی تلاشی لینی ہو گی جِن میں ہم  وہی ٹائر ہر وقت  ریڈی  رکھتے ہیں جو ملک ریاض استعمال کرتا رہا ہے۔ ہم ٹریفک قانون کو توڑ کر اِنہی ٹائروں میں اپنی غلطی چھُپانے کی کوشش کرتے ہیں۔  ٹریفک لائسنس حاصل کرنے  کے لئے قانونی طریقہ کار کو  پس پُشت ڈال کر  اپنی جیبوں میں موجود ٹائروں  سے فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں۔ پاسپورٹ کےحصول میں لمبی لائن دیکھ کرہم دوسروں کا حق مارتے ہوئے یہی ٹائیر  استعمال کرتے ہیں ۔ ہمیں  محکمہ مال سے واسطہ پڑ جائے یا ہم نے اپنا  اِنکم ٹیکس/پراپرٹی ٹیکس ادا کرنا ہو،  کسی پٹواری سے  فرد کے حصول   کا معاملہ ہو یا  بجِلی گیس کے میٹر کا مسئلہ  ہر معاملے  میں ہم سانپوں کو دودھ پِلاتے ہیں ۔ اپنے دِل کو محظ   اِس کمزور دِلیل سے تسلی دیتے ہیں" اِس کے سوا اور کوئی چارہ بھی تو نہیں ہے"۔   حد تو یہ ہے کہ   ووٹ  دیتے وقت بھی ہم اُمیدواران  کی گاڑیوں پر نظر دوڑاتے ہیں اور جِسکی گاڑی کے ٹائر بڑے ہوں اُسے مُنتخب کر لیتے ہیں۔ ہمیں اپنی جیبوں سے تمام ٹائیر نِکالنے ہوں گےاُنہیں شہرکے بڑے سے چوک میں رکھ کر  آگ لگانی  ہوگی ۔اِس  دھوئیں سے اوزون کی تہہ کو ہر گِز کوئی نُقصان نہیں ہو گا مگر ہمارے دِلوں پر  چڑہی ہوئی  سیاہی ضرور دُھل  جائے گی۔ ہمیں  راہ حق پر ایک  ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ایک لشکر کی صورت میں پیش قدمی کی ضرورت ہے ۔  اِن  سانپوں   کے پورے  قبیلے کو گھیرے میں لیکر اِن  کا قلع قمع  کرنے کی ضرورت ہے۔
اگر ہم ایسا نہیں کر سکتے تو یہ سِسٹم یوں ہی چلتا رہے گا۔ آج ایک ملک ریاض ہے کل کوئی اور ہوگا  اسی رول میں کِسی  اور شکل اورنام کے ساتھ ۔ ہماری آنے والی نسلیں بھی اسی سِسٹم میں جی رہی ہوں گی ۔ پاکستان میں بڑے ٹاونز ،بڑی روڈز اور  ملٹی سٹوری بِلڈنگز بنیں گی  ۔  ہر ماں اپنے بچے کو سینے سے لگائے خُداسے اُس کے ملک رِیاض جیسا بننے کی دُعا کرے گی۔ ہر باپ اپنے بچے کو دروازے پر بیٹھےکُنڈلی مارے سانپ کے روپ میں دیکھنا چاہے گا۔ میرے جیسا غبی ، کم عقل اور حالات کی نزاکت کو نہ سجھنےوالا ، لنڈے کی جینز اور ٹی شرٹ پہنے کِسی بڑی سڑک  جِس کے  دونوں طرف ملٹی سٹوری بِلڈنگز   قطار بنائے ہوں گی ، کے فُٹ پاتھ  پر لگے بنچ  پر بیٹھا    شوں شوں کرتی نئی گاڑیوں پر سر سری سی نِگا ہ کرتے ہوئے  اِنسانیت   کے  دُنیا سے رُخصت ہونے پر نوحہ لِکھنے کی ایک ناکام سی کوشش کر رہا ہوگا ۔



Saturday, 16 June 2012

ہائے ری بیجاری ہاکی اور کپتان کی ٹیم



ہمار ا قومی کھیل ہے ایک مرتبہ پھِرآئی سی یو وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے  سُننے میں آرہا ہے کہ زرداردی صاحب وزارتِ کھیل کی بجائے ہاکی  وزارتِ صحت کے حوالے کرنے کا سوچ رہے ہیں اور بہت جلد اِس بارے میں  صدارتی فرمان بھی جاری ہو جانے کی شُنید ہے۔ویسے ہمارے مُلک میں سُننے کو کُچھ بھی مِل  سکتا ہے اور ہونے کو کُچھ بھی ہو سکتا ہے۔۔ہاکی  کی گِرتی ہوئی  صحت پر  ہروہ پاکِستانی پریشان ہوتا ہے  جِسکی یادوں کے آڈیو ریکارڈ  خانے میں وہ آوازیں تواتر کے ساتھ محفوظ ہوتی رہی ہیں"حسن سردار ڈی میں ، ایک کھلاڑی کو ڈاج، دوسرے کو  دیا اور  گیند گول میں"  اور پھِر وہ   دور گیا  اب تو ہاکی کے ہمارے تمام خلیل خان مصنوعی ٹرف پر گو ل کرنے کی بجائے فاختائیں اُڑا تے نظر آتے ہیں۔

ہم تو پِچھلے  پندرہ سالوں سے کوئی پچیس تیس  پلیئرز ہی کو دیکھ رہے ہیں  جو ریٹائرمنٹ  کا اعلان کرتے ہیں اور پھِر  تین چار سال بعد ہری وردی پہنے  ہاکی گراونڈ  میں اللہ اکبر کا نعرہ بُلند کرتے نظر آتے ہیں۔ان پلئرز  کو جب ہاکی میں پیسہ نظرنہ  آیااور نہ کوئی جام شُہرت  نصیب ہوا تو ایجاد کی والدہ سے اُنہوں نے لیا  اِک مشورہ ۔اپنی ہاکیوں کے ہُک کو ایک کُنڈا تصور  کرتے ہوئےیورپی لیگز  میں کُنڈے فِٹ  کرنا شروع کر دئیے  کبھی ڈچ لیگ کبھی جرمن لیگ  ، سپینش لیگ اور اب توایک اور آگئی ہے غیر قانونی  بھارتی لیگ   جِس میں پاکِستان کے پانچ  پلئیرز نے  فیڈریشن  کی اجازت کے بغیر شِرکت کی نتیجتاً  فیڈریشن نے اُن پر پابند ی کا اعلان کردیا ۔ اور نئے لڑکوں  کے ساتھ ٹیم ملائشیا چلی گئی اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سزا یافتگان کی ہوئی واپسی   پھِر، نظر آئیں گے  لندن اولمپکس میں  یہی پلئرزپھِر۔اِس پھِر کی زیر کبھی پیش بن 
کر آن پڑی اوپر تو پھِر۔۔۔۔

پاکِستان  ہاکی سے تو اِن پلئیرز کو کو ئی سروکار  نہیں ہے ۔ گرین شرٹش تو یہ  صِرف  اولمپئینز بننے کے لئے  پہنی رکھتے ہیں ۔ہاکی کے ناقدین کہتے ہیں کہ  گراس روٹ لیول پر ہاکی  پھر سے شُروع کئے بغیر ہاکی میں بہتری کی توقع کرنا   خام خیالی ہے۔ اب بھلا  ان سمجھ داروں کو کون سمجھائے  کہ گراس کو لیول کرنا  کوئی آسان کام نہیں ہے اورپھِر خوامخواہ میں یہ کام کیا کیوں جائے جب گراس پر ہاکی کا دور گُزرے عشرے بیت گئےہیں۔بعض ناقدین کا  کہنا ہے کہ ہاکی کو سیاست کھاگئی ہے ۔یہاں پر بھی سیاست؟؟؟ یہ کلموئی سیاست بھلا دیمک کی کونسی قِسم ہے  کہ جو ہر چیز کو کھاجاتی ہے۔ جِس  اِدارے  کا بھی رُخ کرو پتہ چلتا ہے سیاست کھاگئی  بس ہر طرف ڈھانچے ہی ڈھانچے کھڑے ہیں  اندر سے ہر چیز کھوکھلی ہو چُکی ہے اور سُننے کو یہی مِلتا ہے  کہ سیاست کھاگئی ۔کِسی جرمن پیسٹسائد کمپنی نے بھی اس سیاسی  دیمک  کا  کوئی سپرے   تیار نہیں کیا ، ہاں البتہ ہٹلر  کُچھ دیر اور زِندہ رہتا تو شائد اس طرف کُچھ پیش رفت ہوتی  ۔ میں نے  اہلِ 
دانش سے سُن رکھا ہے کہ جمہوریت کا عِلاج مزید جمہوریت ہوتی ہے ۔ اِس فارمولے کو اگر سیاست پر  اِستعمال کیا جائے تو پھر سیاست کا عِلاج بھی مزید سیاست ہوئی  مطلب مزید سیاسی پارٹیاں مزید نئے چہرے ، مزید  سیاسی نمائندے ،مزید۔۔۔۔۔ میری اِن دیمکانہ باتوں پر اہلِ عِلم لوگ تو لاحول پڑہتے ہیں پر میں بھی کیا کروں مُجھے کِسی پیر صاحب کی بددُعا لگی ہوئی کہ بس اِسی طرح  کی باتیں سوجھتی ہیں۔

سیاست کے آسمان سے ہمارے کپتان جی کے ستارے کی چمک نے ہم تک پہنچنے میں سولہ سال لگائے۔کپتان جی  میرے مزید سیاست کے فلسفے کی اِک روشن مِثال ہیں۔ مگر کُچھ عرصے سے اُنہوں نے اپنی پارٹی کو  ایک  ہاکی  طرز کی سیاسی لیگ میں بدلنا شُروع کر دیا ہے۔اُنہوں نے اپنی جماعت میں بہت سے ہاکی پلئرز نما سیاست دان اکٹھے  کر لئے ہیں۔ یہ  سب سیاست دان بھی ہاکی پلئرز کی طرح اپنے کُنڈے مُختلف لیگوں میں اٹکائی رکھتے ہیں  کبھی  نون لیگ کبھی  ق لیگ کبھی  فلانی لیگ اور اب عِمران لیگ ۔۔خان صاحب کرکٹ کے بہت  بڑے پلئر رہ چُکے ہیں اور یقیناً   وہ ایک گیند پر تین وکٹیں لینے کی بھی اہلیت رکھتے ہیں۔ مگر اُن کو  ہاکی کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ اِن کے یہ نئے ساتھی سیاست کو ہاکی کی طرح کھیلتے ہیں۔یعنی گیند لیکر ڈربل کرتے ہوئے بھاگنا ، دائیں دِکھا کر بائیں نِکلنا، صرِف خود گول کرنے کی کوشش کرنا، اپنے  ہی پلئیر کو جان بوجھ کر  غلط پاس دینا  ، جان بوجھ کر تاخیری حربے استعمال کر نا وغیرہ ، وغیرہ۔ اللہ کی پناہ ایسے سیاسی پلئرز سے  یہ تو بھاگتے  بھاگتے کِسی کے پیر میں گیند مار دیتے ہیں اور اگر امپائر کی نظریں کُچھ کمزوری دِکھائے تو  کِسی کے گھُٹنے میں ہاکی دے مارنے سے بھی نہیں چوکتے۔ خُد نخوستہ  اگر امپائر کی نظروں میں یہ حرکت آجائے تو مُڑ کر ایسے  معصومانہ انداز دیکھتے  ہیں جیسےجناب  ابھی ابھی تو بیت ُاللہ کے سات چکر پورے کر کے آئیں ہیں۔بھئی میری  رائے میں تو  اِن سیاسی کھلاڑیوں کو سمجھنے کے لئے  خان صاحب کو ہاکی میں  مہارت چاہئے۔ خان صاحب  کو تاحال ہاکی کی کوئی سمجھ بوجھ نہیں  ہے مگر  اُن کا یہ نعرہ "نوے دِنوں میں کرپشن ختم کردوں گا " ہاکی بورڈ کی قوم کو دی ہوئیں تسلیوں سے کافی مماثلت رکھتا ہے ۔ جو  ہر گُزرنے والے ٹورنامنٹ پر بس ایک اعلان کر دیتے ہیں کہ  اگلے ٹورنامنٹ میں ہماری ٹیم وِکڑی سٹینڈ پر ضرور پہنچے  گی۔

یہ رام کہانی بیان کر نے کا میرا  مقصد  کپتان جی کویہ  باور کروانا ہے کہ اُن کے نئے ساتھیوں میں سے اکژ  چھاوں کے ساتھی  ہیں ،کڑی دھوپ کے ہمسفر بالکل بھی نہیں ہیں۔ یہ لوگ زیادہ    سے زیادہ چاندنی رات تک ساتھ دینے کی اہلیت رکھتے ہیں اندھیرے سے پہلے ہی یہ لوگ غائب ہونے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ کِسی کوٹھڑی کا اندھیرا اور اُس کے اندر موجود مچھر بڑے بڑوں کو ہیجڑہ بنا دیتے ہیں۔ خد ا نہ کرے کہ ہمارے کپتان پر وہ وقت   آئے۔ 

Thursday, 7 June 2012

Khalil Jabran Aur Pity the Pak Nation



جبران خلیل  جبران اور پِٹی دی پاک نیشن
جسسٹس آصف سعید کھوسہ انتہائی   پُراثر شخصیت   کے مالک ہیں ۔  گورنمنٹ کالج لاہور، پنجاب یونیورسٹی اور پھرکوئنز کالج ،یونیورسٹی آف کیمبرج اور لنکنز اِن  جیسے اداروں  نےجسٹس صاحب کی خُدا داد صلاحیتوں کو نکھارنے میں  اہم  کردار ادا کیا ۔تعلیمی میدا ن  میں حاصل کئے ہوئےطلائی تمغے  جناب کو ایک نُمایا ں اور مُنفرد حیثیت عطا کرتے ہیں ۔ کھوسہ صاحب کی ذاتی لائبریری میں  قانون  کی ضخیم کتابوں  کے ساتھ ساتھ ادبی کتابیں بھی اک  تناسب کے ساتھ موجود ہیں۔  جسٹس کھوسہ نے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا ۔ قانون  کے میدان کو اپنی زِندگی کا بہت  بڑا حصہ دینے کے باوجود  ادب سے اِن کے  تعلق میں کوئی ضُعف نہیں آیا ۔ اپنے پُرانے ہم جماعتی اور آج کے وزیرِاعظم  کے توہینِ عدالت  کے مُقدمےمیں   جسٹس کھوسہ کا اِضافی نوٹ  اس بات کا واضح  ثبوت ہے۔ جِسمیں اُنہوں نے خلیل جبران  کی ایک نظم کو اپنے فِکر ی احساسات کے رنگ میں ڈھالا
قطع نظر اِس کے کہ  کھوسہ صاحب نے  اِضافی نوٹ میں  ادبی حوالہ   دیکر صحیح کیا یا غلط ۔ مُجھے  اُن کا یہ عمل اس طور لائق تحسین ضرور محسوس ہوتا  ہے  کہ اُنہوں نے  کولا ویری ڈی پر تھرکتی  ، سٹار پلس کے  قِسط وار ڈراموں میں غرق  ہو کر اپنی حسِ لطافت کو سیراب کرتی ہوئی  اس قوم کوادب کے ایک بڑے نام   سے مُتعارف  کروایا۔ ہر وہ شخص جِس کی نظریں اخباری خبروں پر کُچھ دیر ٹِکتی ہیں وہ آج خلیل جبران خلیل کی پِٹی دی نیشن کو پڑھ چُکا ہے انٹرنیٹ پر   نوجوان نسل کولا 
ویری ڈی طرز کے گانوں کے ساتھ ساتھ خلیل جبران کے مُتعلق کُچھ پڑہنےکے لئے بھی سرچ اِنجن  کا استعمال کرتی نظر آرہی ہے۔

میری اپنی  ایک   تخیلاتی دُنیا ہے جب اِس حقیقی دُنیا میں چاروں سو اندھیرا  پھیل جاتا ہے  ہے تو میں اس  دُنیا کی  دیوار پھلانگ کر اُس تخیلاتی دُنیا میں  پہنچ جاتا ہوں   جو  کہ صرف اور صرف میری ملکیت ہے ۔میری  ا ِس دُنیا  میں داخلے کا اختیار فقط میرے دِل کے پاس ہے  وہ جِسے چاہے ویزہ دے  اورکھینچ لائے ۔کبھی کِسی سیاست دان کو ، کبھی کِسی کھلاڑی کو ،تاریخ کے  کِسی بڑے نام کو یا پھرکوئی چھابڑی والا، کوئی موچی ، کوئی ترکھان  میرا  مہمان بن بیٹھے۔ پِچھلے کُچھ دِن سے  اس تخیلاتی دُنیا میں میری مُلاقات  1883 میں پیدا ہونے والے خلیل جبران خلیل سے ہو رہی ہے۔میری اُس سے بہت اچھی دوستی ہوگئی ہے۔وہ میرے ساتھ اُردو میں بات کرتا ہے مُجھے اپنی زِندگی کی کہانی سُناتا ہے۔ بچپن کے  اِنتہائی  مُشکل حالات میں جبکہ اُس کے باپ کو کرپشن پر سزا ہوتی ہے اور اُسکی کی تمام جائیداد  ضبط ہو جاتی ہے  جبران  کی ماں اپنے بچوں کو بوسٹن[امریکہ] لے جاتی ہے۔ وہاں اپنے بھائی کی مدد سےاپنے بچوں کی پرورش کے لئےلیس بیچنے کا کام شُروع کرتی ہے اور پھِر  ایک چھوٹا سا سٹور بنالیتی ہے ۔  خلیل جبران اپنی زندگی میں آنے والی بہت بڑی تبدیلی  کے مُتعلق بتاتا  ہے جب اُسکی آرٹ ٹیچر  تیرہ سال کے بچے میں موجودٹیلنٹ کو بھانپ کر اُسکی مُلاقا ت اُس دور کے مشہور  آرٹسٹ فریڈ ہالینڈ ڈے سے کرواتی ہے  جو کہ اُس  کے اندر مو جود  ادب  اور فنونِ لطیفہ  کی صلاحیتیں بھانپ جاتا ہے اور  کُچھ ہی عرصے بعد  اُسے  نیچرل جینئس قراددیتا ہے  اور  اُسکی راہنمائی کرتا ہے۔   اپنی علمی پیاس بُجھانے کے لئے جبران بیروت  کا سفر کرتا ہے  جہاں وہ مدرسۃالحکمہ سے عربی ادب  مِیں اعلی تعلیم حاصل کرتا ہے ۔ ۱۹۰۲  میں اُسکی ماں  اور پھر بہن  مہلک بیماری کے باعث جہان ِفانی سے کوچ کر جاتیں ہیں ۔ اُسکی چھوٹی  بہن ماریانہ کپڑے  سی کر  گزُر  بسر کرتی ہے جبران  پھر سے اپنے  گُرو  ہالینڈ  ڈے  کی مدد لیتے  ہوئے  اپنے آرٹ ورک  کا آغاز کرتا ہے۔جبران  ایلیزببیتھ ہیسکل  جو کہ ہیسکل سکول فار گرلز کی مالکہ تھی  کا ذِکر انتہائی عقیدت و احترام سے کرتا ہے  ہیسکل  اپنے کیرئیر کے آخر میں کیمبرج سکو ل کی ہیڈ مسڑس  بنی ۔  وہ   نہ صرف خلیل جبران  کی  مالی معاون  رہی  بلکہ اُسکی  اگلے بیس سال  تک  انگریزی کی اُستادبھی  رہی۔ ہیسکل ہی کی فنڈنگ پر جبران   نے فرانس  جاکر   مُصوری اور ڈرائینگ کی  اعلی تعلیم حاصل کی ۔

جبران مُجھ سے   اپنی فلسفیانہ باتیں بھی کرتا ہے جو کہ مُجھ جیسے کم عقل کو بغیر چھوءے گُزر جاتی ہیں۔جبران بتاتا ہے کہ وہ  سلطنتِ عثمانیہ کی مُخالفت کیوں کرتا تھا۔ اُسکی باتوں سے عرب دُنیا کے لئے  مُحبت کی خوشبو آتی ۔ وہ میرونیٹ چرچ کے  بہت سخت کنٹرول کا  بھی شدید مُخالف تھا۔ خلیل جبران   اپنے لِکھے ہوئے مضامین کہانیوں  نظموں کا بھی ذِکر کرتا ہے جنہیں اہل دانش نے بہت سراہا۔ ہےاُسکی کی  نظم سپرٹ ریبلیس جو کہ ۱۹۰۸ میں شائع ہوئی  جس کے  بعد  خلیل جبران کو ایک ریفارمسٹ  کے طور پر پہچانا جانے لگا تھا۔  خلیل جبران اپنی چھپنے والی کِتابوں   اور زِندگی کےآخری دور کاذکر بھی کرتا ہےجب   جِگر کے  کینسر نے اُس  کی زندگی کا انتہائی بیدردی سے  خاتمہ کرڈالا۔وہ 1931کا سال تھا جب  اس مشہور لِبنانی ادیب اور آرٹسٹ نے  اِس جہانِ فانی کو خیر آباد کہا۔  اُسے تمام  عرب  دُنیا میں عزت کی نگا ہ سے دیکھا  جاتا ہے۔خلیل جبران اپنی روداد سُنا نے کے ساتھ ساتھ مُجھ سے میرے مُلک کے حالات و واقعات،  رہن سہن اور تاریخ کے بارے میں پوچھتا  جاتا ہے  ۔ وہ میرے مُلک کے  سیاسی حالات  کے بابت   بھی بہت سے سوالات کرتا ہے۔ میں  ان سوالات کے تفصیلی جوابات   دیتا ہوں  ۔ وہ  میری  بھرائی   ہوئی آواز کا دُکھ محسوس کرتا ہے اس دوران اُس کی  آنکھوں میں اُمڈ آنے ولاے آنسو میں صاف  دیکھ سکتا ہوں۔ میں خلیل جبران سے "پِٹی دی نیشن"  ترنم کے ساتھ  سُنانے کی خواہش کا اظہار کرتا ہوں ہو میری خواہش کا احترام کرتا ہے اور اس خوبصورت نظم کو اپنے انداز میں اِس ترنم کے ساتھ پڑہتا ہے کہ  مُجھے  حبیب جالب کی یاد آجاتی ہے۔


 Pity the nation that is full of beliefs and empty of religion.
قابل رحم ہے ہو قوم  جِس کے پاس عقیدے تو بہت ہوں مگر پقین سے خالی ہو
Pity the nation that wears a cloth it does not weave,
قابلِ رحم ہے وہ قوم جو ایسے کپڑے پہنتی ہو جِو اُس نے خود نہ بُنے ہوں
eats a bread it does not harvest,
روٹی وہ کھائے جو کہ اُس نے خود نہ اُگائی
and drinks a wine that flows not from its own wine-press.
دوسروں کی کشیدہ شراب سے لُطف اندوز ہوتی ہو
Pity the nation that acclaims the bully as hero,
قابل رحم ہے وہ قوم جو باتیں بنانے والے کو اپنا سب کُچھ سمجھ لیتی ہو
and that deems the glittering conqueror bountiful.
اور چمکتی ہوئی تلوار سے بنے ٹھنے فاتح کو اپنا سب کُچھ سمجھ لیتی ہو
Pity a nation that despises a passion in its dream,
قابل رحم ہے وہ قوم جو بظاہر خواب کے عالم میں ہوس اور لالچ سے نفرت کرتی ہو
yet submits in its awakening.
لیکن عالم بیدااری میں مُفاد پرستی کو اپنا شُعار بنا لیتی ہو
Pity the nation that raises not its voice
قابل رحم ہے وہ قوم جو  نہیں اُٹھاتی  آواز
save when it walks in a funeral,
سوائے اس کے کہ جب وہ کِسی جنازے کے جلوس میں ہو
boasts not except among its ruins,
اور ماضی کی یادوں کے سِوا اُس کے پاس فخر کرنے کو کُچھ نہ ہو
and will rebel not save when its neck is laid
اور اُس وقت تک حالات کےخلاف احتجاج نہیں کرتی
between the sword and the block.
جب تک اُس کی گردن عین تلوار کے نیچے نہیں آجاتی
Pity the nation, whose statesman is a fox,
قابل رحم ہے وہ قوم جِس کے سیاست دان لومڑی کی طرح مکار ہوں
whose philosopher is a juggler,
اور جِس کے فلاسفر محض شعبدہ باز
and whose art is the art of patching and mimicking.
اور جس کا آرٹ مداری کا کرتب ہو
Pity the nation that welcomes its new ruler with trumpeting,
افسوس اُس قوم پر جو اپنے نئے حُکمران کو ڈھول کی تھاپ پر خوش آمدید کہتی ہے
and farewells him with hooting,
اور اُس کے جانے پر آوازے کستی ہے
only to welcome another with trumpeting again.
محظ اس لئے کہ آنے والے حُکمران کا پھر سے پُرتپاک استقبال کر سکیں
Pity the nation whose sages are dumb with years
جِس کے اہل دانش وقت کےساتھ ساتھ گونگے بہرے ہوگئے ہوں
and whose strong men are yet in the cradle.
اور جِس کے مضبوط لوگوں کے ہاتھ بندھے ہوں
Pity the nation divided into fragments,
قابلِ رحم ہے وہ قوم جو کہ فِرقوں میں بٹی ہو
each fragment deeming itself a nation
اور ہر فِرقہ خود کو ایک الگ قوم تصور کرتا ہو

خلیل جبران مُجھ سے جسٹس کھوسہ کے بارے میں بھی سوال کرتا ہے وہ  اُن کے اِضافی  نوٹ کی بھی تعریف کرتا ہےوہ مُجھ سے پاکستان کے حالات سُن کر خاص طور اپنی نظم میں کُچھ اِضافہ کر کے سُناتا ہے۔
قابلِ رحم ہے وہ قوم  جو دُنیا کی ہر آشائش کو حاصل کرنا  چاہتی ہے مگر  ہر چیزغیروں کی بنی  ہوئی  موبائل سے لیکر گاڑی تک
قابلِ رحم ہے وہ قوم  جس کی اصل طاقت  زراعت ہو  مگر اُس کا کِسان اپنے تن پر اچھے کپڑے پہننے کی بھی  سکت  نہ رکھتا ہو
قابلِ رحم ہے وہ قوم  کہ جِس کا امیر اپنے عالیشان گھر  میں چین کی ٹھنڈی  نیند سوئے اور غریب ،دو وقت کی روٹی کے لئے  مارا مارا پھرے
قابلِ رحم ہے وہ قوم جو    قانون   کو فقط کاغذی کاروائی سے زیادہ کوئی اہمیت نہ دے
قابلِ رحم ہے وہ قوم جس کے مذہب نے حقیقی معنوں میں دُنیا سے   بُت پرستی  اور شخصیت پرستی  کو ختم کیا ہو مگر وہ قوم   شخصیت پرستی   کے اندھے کنویں میں اوندھی  پڑی ہو
قابلِ رحم ہے وہ قوم    کہ جِس کے مُنصف  اُس وقت انصاف کریں جبکہ وہ بے معنی ہو جائے
قابلِ رحم ہے وہ قوم جو بیوپاریوں کے ہاتھ میں عنان حکومت تھما دے اور اُنہِی رہزنوں کو رھبر جانے
قابل رحم ہے وہ قوم جو لاکھوں انسانوں  کا خون دیکر اپنی سرحدوں کا تعین کرے مگر پھِر چند سو بندوق والوں سے یرغمال بن جائے جوپوری قوم کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکتے پھِریں
قابل رحم ہے وہ قوم جوعِلم والوں کی عزت نہ کرے،  تعلیمی اداروں میں نقل اور غُنڈہ گردی عام ہو  اِن  اِداروں میں  مذہبی اقدار کی پاسداری پر تو زور  دیا جائے  مگرتعلیمی میدان میں  کوئی مُسلمہ مقام حاصِل کرنا کبھی بھی اِن کی ترجیح نہ رہی ہو۔
قابل رحم ہے وہ قوم جس کے حُکمران   سرعام اپنی ہی  قوم کے افراد کو قتل کرنے والے کرائے کے جاسوس کو عِبرت کا نشان بنانے کی بجائے چھوڑ دیں اور وہ ااٹھارہ کروڑ   اِنسان پھر بھی محض  ہجوم  ہی بنے رہیں
قابلِ رحم ہے وہ قوم  جِس کے حُکمران  محظ پیسوں کی خاطرغیروں کو  اپنے ہی لوگوں پر بم برسانے کا پرمٹ دے دیں
قابلِ رحم ہے وہ قوم جو صرف آدھا سچ بولے  اوراُسی آدھے سچ کو کُل حقیقت جانے
اور اختلاف کرنے والوں پر غداری یا کُفر کاٹھپہ  جڑ دے
قابل ِ رحم ہے وہ قوم جو ساٹھ سال میں درجن بھر  تجربے کرنے کے باوجود اِک  واضح سیاسی نظام وضع نہ کرپائے۔
قابلِ رحم ہیں  اُس خطے کے باسی  جہاں ڈاکٹرملک غُلام مُرتضی ، حکیم سعید،مولانا سرفراز نعیمی ،مولانا  اسلم شیخوپوری اور ڈاکٹر فاروق جیسے امن کے داعی  عالموں کو  قتل کردیا جائے اور اِس سازش کا توڑ کرنے کے   لئے پھر بھی وہ لوگ مُتحد نہ ہو۔
آج صُبح  میں اپنی جاگیر سے  ہوتا ہوا اس حقیقی دُنیا میں واپس لوٹا  تو سوچنے لگا کہ  خلیل جبران  نے جو کُچھ بھی پاکِستان کے مُتعلق کہا شائدوہ  میرےدِماغ کی اپنی اختراع ہو۔مگر پھر اِک  معصوم  سی خواہش نے دِل میں  اِک انگڑائی سی  لی  ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ خلیل جبران آج کے دور میں ہمارے درمیان موجود  ہوتا  ۔ وہ اپنی   پُر اثرشاعری اور مضامین  کے ذریعے   ہماری کمیوں کوتاہیوں کی نشاندہی کرتا ہماری فِکری اصلاح   کا  سبب ،،،مگریہ کولا ویری ڈی پر تھرکتی  ، سٹار پلس کے  قِسط وار ڈراموں میں غرق  ہوکر ، اپنی حسِ لطافت کو سیراب کرتی ہوئی  اس قوم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔




Friday, 11 May 2012

AJAB PREM KIE GHAZABNAK FILMI KAHANI by Dohr Hai


عجب پریم  کی غضبناک فِلمی کہانی
پریم کہانی میں اِک لڑکاہوتا ہے اِک لڑکی ہوتی ہے
کبھی دونوں ہستے ہیں کبھی دونوں روتے ہیں
(فِلم      پریم کہانی       گائیک   لتا ،کِشور     1975    )
ہر کہانی کی  طرح اِ س فِلمی  پریم کہانی میں ہنسنا بھی ہے رونا بھی ۔روماننٹک سین بھی ہیں ،رو ٹھنا  اور منانا بھی ہے پیار بھرے گیت بھی ہیں  سدا ساتھ  نِبھانے  کے وعدے بھی ہیں۔ مگر   لڑکا  لڑکی نہیں ہیں بلکہ کیریکٹرز ہیں  جو بدلتے جاتے ہیں  مگر پریم کہانی بغیر کسی بریک کے اپنا سفر جاری رکھتی ہےبالکل کِسی سو پ سیریز کی طرح۔ اس فلم کے گانے  ہندی فِلموں  سےجبکہ ڈائیلاگز پنچابی فلموں سے لئے گئے ہیں ۔ایکشن  اور سِسپنس  پورے کا پورا ہالی وُدڈ  کی فِلموں سے چُرایا گیا ہے۔ فِلم کی کہانی حالات نے لِکھی ہے۔اس کا   تخلیق کار وہدائت کار ایکشن اور ہارر موویز بنا نے کا  ماسڑ ہے۔ "سیکنڈ ورلڈ وار کے  جاپانی پٹاخے" "ایرانی بدمعاشں اور معصوم اسرائلی" "اعراق کے  میزائلوں میں نِنجا ٹر ٹلز" کیوبا دی چھوٹا ڈان" "کابلی چھتر اور ویت نامی لِتر" جیسی مشہور فلمیں اِسی نے بنائی ہیں ۔  البتہ"  عجب پریم  کی غضبناک فِلمی کہانی"
اِس کی واحد  لو سٹوری ہے  ۔ اس سٹوری کی  خاص بات یہ ہے کہ نہ اِس کی دُم ہے نہ سر اور اصل میں یہی اسکا عجبی وصف ہے۔ پریمی کا رول ڈائریکٹرنے   خوداپنے لئے رکھا ہےجبکہ ہمارے مُلک کی اشرافیہ اُس کی پریمیکا ہوتی ہے، اور عوام ایکسڑا زکے رول میں گانوں کے دوران ناچتے گاتے دیکھی جاسکتی ہے۔اس اُمید پر کہ شائد اُنہیں بھی کبھی کوئی اچھا رول مِل جائےرول نہیں تو ویزہ۔۔۔
پریم  کہانی کا آغاز 1950 میں لیاقت علی خان کے دورہ امریکہ سے ہوا۔ پریمی اور پریمیکا کی یہ پہلی باضابطہ مُلاقات تھی بس یوں  کہیئے کہ آنکھیں دو سے چار ہوئیں  اور پہلی ہی نظر میں پیار ہو گیا۔
 پیار ہوا اقرار ہوا ہے پیا ر سے پھِر کیوں ڈرتا ہے  دِل
کہتا  ہے دِل رستہ مُشکل معلوم نہیں ہے کہاں منزل
(فلم –  شِری 420، میوزک – شنکر جے شکن ، گائیک­­  منا ڈے اور لتا جی)
دِل  نے رستہ مُشکل ہونے کی پیشین گوئی بالکُل درست کی تھی اور منز ل ہماری ابھی تک  نامعلوم ہی ہے۔ بحرحا ل  نئے نئے پیار کا یہ سِلسلہ کِسی پہلے پیار کی طرح   بتدریج بڑہتا   ہی گیا ہم سیٹو اور سینٹو کے ممبر  بھی  بن گئے اور ایوب خان کے دور تک  پیار کی یہ بیل سٹیچو آف لبرٹی چڑہتی   ہوئی نظر آنے لگی بس پھر  کیا تھا "شریکا ں  نوں اگ لگ گئی"1965میں بھارت نے پاکستان پر حملہ  کردیا۔۔ ہم اپنے شریکوں سے خوب جِگرے سے لڑےاِس اُمید پر کہ ہمارا پریمی مدد کو ضرور پہنچے گا، لتا جی   کی مدھُر آواز ہمارے  انتظار کی کیفیت خوب  بیان کرتی ہے۔ "آئے گا اا، آئے  گا ااآئےگاااا، آئے گاا، آنے واالا آئے گا" مگر نہ وہ آیا نہ اُس کا بحری بیڑہ ۔1971میں ہم آدھا مُلک گنوا  بیٹھے مگر پریم کے اس بندھن پر اِک خراش بھی نہ آنے دی۔
امریکہ کی بانہوں میں جھومنے میں ہی ہمیں اپنی بقا نظر آتی رہی۔
"ہم دونوں مِل کے کاغذ پےدِل کے چِٹھی لکھیں گے جواب آئے گا"
(فِلم     تُمہاری قسم          گائک مکیش، آشا          1978)
ہم دونوں ملکر  کِسی   کاغذی دِل پر  چِٹھی  بھی لکھتے تھے مگر شائد ایڈریس   کی غلطی کر جاتے تھے کیونکہ ہمیں جواب آئی ایم  ایف یا ورلڈ بینک سے ہی  آتاتھا۔
جینئس بھُٹؤدور اقرار و  انکار ، کبھی ہاں کبھی نہ  کی کش مکش میں بُھٹو سمیت ہی بیت گیا
اقرار کرنا مُشکل ہے انکار کرنا مُشکل ہے محبوب سے مُحبت کا اظہارکرنا مُشکل ہے
ہو کِتنا مُشکِل ہے دیکھو اِس دُنیا میں دِل لگانا ہو یارا دِل لگانا
 (فِلم    اگنی شاکسی،    گائیک ایلکا ،    1996 )
اور پھِر ضیاء صاحب کے دور  کا آغاز نئے  سِرے سے اسلامی  ایجاب و قبول  سے ہوا
" تو مُجھے قبول میں تُجھےقبول ،
اس بات کاخُدا گواہ ، خُدا گواہ"
یہ کیفیت   ضیا ء صاحب کی رحلت تک برقرار رہی۔
  زندگی  تو بے وفا ہے ایک دِن ٹُھکرائے گی موت محبوبہ  ہےاپنے  ساتھ لیکر جائے گی
مرکے جینے کی ادا جو دُنیا کو سِکھلائے گا،وہ مُقدر کا سکندر جانِ من کہلائے گا
(مُقدر کا سِکندر       گائک مُحمد رفیع (سیڈموڈ) 1978 )
ضیا  صاحب  مُقدر کا سِکند ر تو نہ بن پائے مگر اس پوری قوم پر سکندر کا  مقدر  بننا لازم  ٹھہرا ۔اس  کے بعد محترمہ بینظیر  کا پہلا دور آتا ہے جِنہوں نے ضیاء صاحب کا اسلامی نکاح گول   کرتے ہو ئے کہانی کے  ٹیمپو کو ٹوٹنے سے بچانے کی کوشش کی۔ پھِر نواز شریف  اپنے پہلے دور سمیت وارد ہوئے ،گلف وار 1 جب  عوام صدام کے پوسٹر خریدتی  نہیں تھکتی تھی تو حکمران امریکہ کے گلے لگے لوً   ڈانس کرتے ہی پائے گئے،
تیری میری پریم کہانی کِتابوں  میں کِتابوں میں ، کِتابوں میں بھی نہ مِلے گی
تیرے میرے پیار کی خوشبو گُلابوں میں گُلابوں  میں، گُلابوں میں بھی نہ مِلے گی
 (فِلم   پِگھلتا آسمان، گائک   کِشور لتا       1985  )
ارے صاحب  کِتاب کِتاب ہوتی ہے کوئی عطاءالحق قاسمی صاحب کا  اخبار میں چھپنے والا  کالم نہیں جو  اُن میں ایسی  واہیات پریم کہانیاں لکھی جائیں۔
اس کے بعد پریمی  نے پریمکا سے مُنہ موڑ لیا  اور پریمیکا  بیچاری "غم کے آنسو "کے والیم ہی نکالتی  رہی " لمبی جُدائی چار دِنا ں دا پیار اور ربا بڑی لمبی جُدائی "  بالآخر  پریمی  کے دِل میں  پریمیکا کی یاد پھِر سے اُمڈ آئی ۔ جب 11 -9کے بعد  اُسے خیال آیا   کہ اُسکی پریمیکا پر   دہشت گرد  ڈورے ڈال رہے ہیں تو وہ   اِدھر  جنگلیوں کی طرح بھاگتا آیا
"چاہے کوئی مُجھے جنگلی کہے کہنے دو جی کہتا رہے ہم پیار کے طوفانوں میں گھِرے ہیں ہم کیا کریں یا اا ھو"
(فِلم    جنگلی        گائیک مُحمد رفیع           1961   )
اور اِدھر پریمیکا  مشرف کی شکل اختیار کئے ہوئے تھی   جو پہلے سے ہی بوبی بنے   تیار بیٹھی تھی۔اُس نے  فوراً آنے والے کو یہ کہتے ہوئے گلے لگا لیا
"ہم تم اِک کمرے میں بند ہو ں اور چابی کھو جائے"
(فِلم      بوبی               گائک     مُکیش، لتا          1973)
 مشرف صاحب کا  دانہ پانی بھی اِس مُلک  سے ختم ہوا مگر اُس بند کمرے کی چابی ابھی تک نہ مِل سکی جسمیں  پیار کے جدید عہدوپیماں ہوئے ۔ آج بھی ساری قوم  اُس بند کمرے کے رومانس کو بُھگت رہی ہے۔ ہماری موجودہ حکومت  نے اس تسلسل کو من و عن قائم رکھاہے ۔
کہانی میں کُچھ عرصے پہلے ایک ٹوسٹ بھی آیا جب ریمنڈ جی ڈیوس جی  کے واقعے کے بعد ہماری فوج کے ایک ادارے نے  اعلان بغاوت کُچھ یوں کیا
"یہ جو مُحبت ہے یہ اُن کا ہے کام محبوب کا جو بس لیتے ہوئے نام مر جائیں مِٹ جائیں
ہو جائیں بدنام رہنے دو چھوڑو بھی جانے دو یار ہم نہ کریں گے پیار"
مگر سچ بات ہے کہ پہلے پیار میں جادوئی اثر ہے اِک بار ہوجائے تو پھر۔۔۔ کُچھ ہی عرصے بعد وہی لوگ  ریمنڈ جی پر اپنا پیار نچھاور  کیا اور  کٹی  پتنگ کا اگلا گیت  گاتے ہوئےاُسے گھر کی راہ دِکھائی۔
پیار دیوانہ ہوتا ہے مستانہ ہوتا ہے ہر خوشی سے ہر غم سے بیگانہ ہوتا ہے۔
شمع کہے پروانے  سے پرے چلا جا میری طرح جل جائے  گا یہاں نہیں آ
وہ نہیں سُنتا اُسکو جل جانا ہوتاہے، ہر خوشی سے ہر غم سے بیگانہ ہوتا ہے
پریم کی یہ فِلمی ٹرین پھر سے اپنی پٹری پر  بمع لو سینز کے چل نِکلی ۔ مگر دو مئی 2011 کی اِک اندھیری رات  کوپریمی نے شائد زیادہ پی لی تھی  اور اُس نے  پریمیکا سے کچھ بڑھ کر چاہنے کی کوشش کی پریمیکا نے خاموش  رہنے میں ہی عافیت جانی ۔ جُدا جُدا کر کے وہ اندھیری رات بیتی ۔ پریمیکا پریمی کی کژت شراب نوشی کی  عادت سے باخبر تھی ۔ اُس نے اپنے دِل کو سمجھایا کہ" مُحبت اورجنگ میں سب جائیز ہے "" جب پیار کیا تو ڈرنا کیا" اور خاموشی میں ہی عافیت جا نی ۔ مگر سلالہ چیک پوسٹ کی   اُس رات جب چاند  ہر طرف اپنی روشنی پھیلائے ہوئے تھا  ،دونوں معمول کے مُطابق پر روماننٹک باتوں میں مشغول تھے کہ  پریمی  پر پھِر  جنوں طاری ہوا اور و ہ عشق  کے تمام تر آداب  کی حدود پھلانگ کر اس تعلق  کے تصور پر شب خون مار بیٹھا، اور اس انتہائی صبر  آزما، یک طرفہ اور مطلب پرستی  پر مبنی پیار کے کھیل کا خود ہی خون کر بیٹھا۔
اس واقعے کے بعد پریمیکا  بِالکُل ہی ٹوٹ کر رہ گئی۔اُس کاپیار ویار سے دِل باِلکُل  اُچاٹ ہو گیا۔ اُس پر یہ بات روزِ روشن  کی طرح عیاں ہوگئی کہ اُسکا پریمی ایک عیاش ، درندہ صفت اور ہوس کا پجاری ہے۔  اُسے اپنی پِچھلی  زِندگی  پر بہت افسوس  ہونے لگا۔مگر اب ہو بھی کیا سکتا تھا۔ اُس نے خود کو سنھبالنے کی کوشش کی ، مگر  ہائے رے قِسمت  اب گُزرے وقت پر پشیمانی کے عِلاوہ آنے والے وقت کے لئے کُچھ کرنابھی تھا۔ مگر اُسے تو انڈین فلمیں دیکھنے اور اس پریم پوجا کے علاوہ کُچھ آتا  ہی نہ تھا ۔ اُس نے آج تک جوکُچھ بھی  کمایا وہ اِسی  جھوٹےپیار ہی کی دین تو تھی۔ اُس نے ہمت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ مگر اُسکے اندر ہی کے کُچھ خانوں سے  ہمت توڑنے کی آوازیں آنے لگیں۔   نہ جانے کیوں اُسکو خواب آنے لگےکہ   وہ بدقماش پریمی اپنی غلطی پر بہت نادم ہے (خواب)
"اچھا کہو  چاہے بُرا کہو، سچا کہو چاہے  جھوٹا کہو ، ہم کو سب قبول ہم سے بھول ہوگئی ہم کو معافی دئی دو "
(فِلم    رام بلرام              گائک کِشور     1980)
 کُچھ مزید وقت گُزرا تو اُسے  خیال آیا کہ بجٹ بھی بنا نا ہے مسئلے مسائل بہت زیادہ ہیں اوپر سے فوجی خرچے بھی کنٹرول سے باہر ہیں ۔ بس کیا ہوگا  اور کیسے ہو گا کی سوچ اُسے پریشان کرنےلگی اور نہ جانے کیوں اُسے لگنے لگا کہ وہ جیسا بھی تھا اُسکا واحد آسرا  تھا۔
"ہم تمہیں چاہتے ہیں  ایسے مرنے والا کوئی زندگی چاہتا  ہوجیسے"
(فِلم         قُربانی          گائیک    منہر اُدہاس ، کنچن     1980   )
دُنیا کی  یہ فلاپ ترین لو سٹوری فی الحال اِسی  حالت میں لٹکی کھڑی ہے ۔ آگے کیا ہوتا ہے وہ تو نظر ہی آرہا ہے مگر ایک بات طے ہے کہ عوام اس غلاظت  بھری سٹوری کو پریم  رنگی ماننے کے لئے بالکُل بھی  تیار نہیں ہیں۔ وہ اس  ناپاک کھیل سے تنگ آچُکے ہیں  اور  اِس  تعلق کا خاتمہ چاہتے ہیں  ۔ اب عوام کو بھی آگے آنا چاہئے اور اپنا ایکسٹرا کا رول ختم کرتے ہوئے۔ اپنا رول ڈائریکٹ ادا کرنا چاہئے  ۔ عوام  ساری کہانی کا کچھ اچھے   اور سلیقہ مندانداز میں اینڈ لتا جی کے گانے سے  کُچھ یوں کر سکتے ہیں
 "نہ تمُ بے وفا ہو نہ ہم بے وفا ہیں مگر کیا کریں اپنی راہیں جُدا ہیں"
(فِلم       اِک کلی مُسکائی             گائک لتاجی       1968)
 اگر اینڈ سین میں کُچھ  سختی پید اکرنی مطلوب ہو تو ایک ہی بار کُچھ مردانہ آواز نِکا ل  کریہ  کہا جا سکتا ہے
"اب تیرے بِن جی لیں ہم زہرزندگی کا پی لیں گے ہم "
یہ  ایک نہ چھُپنے والا سچ ہے کہ زندگی کا زہر اِتنا کڑو ا   نہیں ہو  سکتا جتنی اس ملعون پریم کہانی سے مِلنے والا شہد کڑوا تھا۔ آخر میں  ایک بات سیاق و سباق سے ذرا ہٹ کر کرتا جاؤں۔ حضرت آدم اور اماں ھوا کا جنت سے نکالے جانے  کا واقعہ  اگر یاد کریں   تو کُچھ یوں ہے کہ شیطان کے ورغلانے پر اُنہوں نے ایک گندم کے دانہ نُما پھل کھالیا اور سزا کے طور پر  اُن کے ستر کھُل گئے اور وہ جنت نکالے گئے۔ہمارا امریکہ سے  پُر جوش تعلقات  کا آغازبھی    اُونٹوں پر لدی   تھینک یو امریکہ کے الفاظ سے سجی ہوئی  اُن  گندم کی بوریوں سے ہی ہوا جِن کو کھانے کے بعد ہم ننگے ہوتے گئے اور  دُنیا میں ایک عزت دار مقام سےدور تیسری دُنیا کے تیسرے درجے تک جا پہنچے۔

Sunday, 29 April 2012

KHATTAY MEETHAY SIYASI CHUTKALAY Dohra Hai



 آخر وزیرِاعظم خط کیوں نہیں لکھتے"۔  "ارے بھئی اُنہوں نے  وہ خط  لِکھنے    والا گیت جو سُن رکھا ہے"۔                                                                                       
پیپل کا یہ پتہ نہیں کاغذ کا یہ ٹُکرا نہیں

اسمیں ہماری جان ہے دِل کے بہت ارمان ہیں
پہنچے وہ خط جانے کہاں جانے بنے کیا داستان
اُسپر رقیبوں کا ہے ڈر  لگ جائے اُن کے ہاتھ گر
کِتنا  بُرا انجام ہو مُلک مُفت میں بدنام ہو
جناب  پیرو مُرشد اِس خط ڈرامے کا اینڈ سین بھی بتانے کی صلاحیت رکھتے ہیں                                                                                                                                                         
اِک دِن وہ خط واپس مِلا اور ڈاک بابو نے کہا      
کِسی بنک، تھانے میں  نہیں سارے زمانے میں نہیں                 
  کوئی  اکاوئنٹ   اس نام کا                                                                                                                       
ہم نے سوئس کو خط لکھاخط میں لِکھا۔                                                                   

                      2
مشہور  تجزیہ نگار اور اینکر پرسن طلعت حُسین  نے وزیر اعظم کو  اپنے ایک کالم میں مشورہ دیا ہے  کہ وہ خود کو تمام اِلزامات سے   بڑے آرام سے کلئیر کروا سکتے ہیں بس وہ  اپنے اور اپنے خاندان کے تمام اثاثے عوام کے سامنے پیش کردیں آج  کے بھی اور آج سے چار سال پہلے کے بھی اور اسطرح دودھ کا دودھ اور سیاست  کی سیاست ہو جائے گی۔ جناب پہلی بات  تو  یہ وزیر اعظم صاحب عمران خان کی  طرح کی بچگانہ سیاست کے قائل نہیں ہیں، دوسری بات یہ ہے کہ جناب گیلانی صاحب  درویش صفت آدمی ہیں ،وہ خود نُمائی  کو بالکُل بھی پسند نہیں کرتے ۔ سب سے اہم بات یہ ہے  کہ  پِچھلے چار سالوں میں جو کمایا وہ مِل بانٹ کر کھایا اور مِل بانٹ کر کھانے سے رزق میں کئی گُناہ اضافہ ہوتا ہے۔


                                            ہماری قومی اسمبلی کی سیاست  کا یہ پنچ سالہ دورانیہ بس یوں سمجھیں کہ ٹیسٹ  میچ کے آخری دِن  کے  آخری سیشن تک پہنچ چُکا ہے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ آخری سیشن کی پہلی ہی  بال پر اپوزیشن کو ایک کامیابی نصیب ہو گئی ہے اور اور وہ بھی اوپننگ بیٹسمین اور نائب کپتان کی، یوں اُن کے حوصلے کافی بڑھ گئے ہیں اس وِکٹ کے بعد بس ٹیل ہی باقی بچی ہے۔اس  سے پہلے یہ میچ  بہت حد تک ڈرا ہوتا ہی دِکھائی دے رہا تھا۔حکومت تو  میچ  کھیل ہی ڈرا کرنے  کی  نیت سے رہی ہے۔ جبکہ اپوزیشن بھی اپنی کارکردگی سے  شائقین کو مُتاثر نہیں  کرسکی  ۔ بہت سے کیچ چھوڑے گئے اور اہم  موقعوں پر اپنی وِکٹیں  غیرذمہ دارانہ اندز میں گنوائی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ناقدین نے اپوزیشن پر میچ فِکس کرنے کا الزام لگایا ۔ ویسے ہونے  کو تو ہمارے ہاں کُچھ بھی  ہو سکتا ہے۔ قِصہ مُختصر  اپوزیشن کو حکومت پر پریشر بناتے ہوئے  بقیہ وِکٹیں لینے کا بہت قیمتی موقع میسر آیا ہے، اور اُمید بھی کی جارہی ہے کہ  اس مرحلے پر   پوزیشن کی خاطر اپوزیشن میچ جیتنے کی  پوری کوشش کرے گی۔ ویسے گیلانی صاحب   ریویو کا  حق رکھتے ہیں مگر  یہ شور مچایا جا رہا ہے کہ وہ نااہل ہو چُکے ہیں اِس لئے اُنہیں فارغ کر دینا چاہئے۔  اگر دیکھا جائے تو پاکستانی سیاست کا موجودہ   ڈھانچہ ہی اپنی  اہلیت ثابت کرنے میں مُکمل  ناکام رہا  ہے تو کیا بھلا پھر اُسے بھی ۔۔۔۔۔

4
ہمارے خا دم ِاعلٰی صاحب صرف نا  م ہی سے شہباز نہیں بلکہ  کام کے بھی شہباز ہیں ، وہ اپنی نوک دار اُنگلی سے مُخالفین کی آنکھیں نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ دوران تقریر سب سے زیادہ بار اُنگلی ہِلانے کا ریکارڈ  شہباز شریف صاحب  سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ پِچھلے دِنوں  گنیس بُک کے نمائندے شہباز شریف کی تقریر ریکارڈ کرتے پائے گئے ۔ چند دِنوں بعد یہی لوگ   بغل میں   انعام لئےشہباز صاحب کی کُٹیا  کا دروازہ  کھٹکھٹاتے دیکھے گئے۔ پوچھنے والے نے  پوچھا کہ یہ اُنگلی ہِلانے کا  انعام ہے تو جواب مِلا نہیں بلکہ  دُنیا کا امیر ترین خادم ہونے  کا ۔ جسمیں اُنہوں نے دوسری پوزیشن حاصل کی ہے۔

Sunday, 22 April 2012

IK CHOTI SIE KHABAR By Dohra Hai

22/04/2012
اِک چھوٹی سی خبر
اُس کی اُونچی آواز فون کا سپیکر پھاڑنے کو تھی ۔   میں ریسور کو کان سے آدھ فُٹ کے فاصلے پر رکھے ہوئے تھا۔ وہ گلا پھاڑپھاڑ کر بولتا  چلا جارہا تھا اور میں محض  یار سُن۔۔ چل چھوڑ۔۔یار پریشان کیوں۔۔۔ سے آگے کُچھ نہ کہہ سکا ۔ بس آگ کے شعلے تھے جو اُسکے مُنہ سے باہر آرہے تھے جِن میں نفرت تھی گِلے شکوےتھے اور اندھیر اپھیلاتی ہوئی مایوسی ۔  اُس نے میرے چاروں  اطراف   اندھیراپھیلا کر الوداعی  کلمات  کہے بغیرفون بند کر دیا۔ میں چند منٹ  تک بُت بنے اِسی اندھیرے میں بیٹھا رہا۔ مُجھے ایسے لگا جیسے میرے دوست کی  آج فِکری اور روحانی طور پر موت واقع  ہوگئ ہو۔   وہ میرا سکول کے زمانے کا  دوست  مُنیر احمد تھا۔ ایک اِنتہائی   نفیس ،مُحبت  کرنے والا ، صابر اور سب سے بڑھ کر کبھی مایوس نہ  ہونے والا   پیارا دوست ۔صحیح معنوں میں یاروں کا یار، بہت کم گو طبیعت کا مالک ۔  کبھی نہ شکوہ کرنے والا پانچ فُٹ چھ انچ قدوقامت   کا   ایک نرم  
دِل  مگر بہت  مضبوط  اور پھُرتیلا انسان۔

وہ ایک غریب دیہاتی گھرانے میں پید ا ہوا۔ تین بھایئوں اور چار بہنوں میں سب سے  بڑا۔ وہ  روز  انہ  ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت طے کر کے  شہر کے سکول پہنچتا  تھا۔ تعلیمی میدان میں  وہ ایک اوسط درجے کا سٹوڈنٹ تھا۔مگر کھیل کے میدان میں اُس کی کارکردگی بہت نُمایاں  ہوتی تھی ایتھلیٹکس ، کبڈی ، ہاکی  اور بیڈمنٹن   سب میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتا تھا۔ سکول کے بعد جب کالج میں داخلے کا مرحلہ آیا تو  سپورٹس ریزروڈ سیٹوں پر داخلہ کی  اُسکی خواہش پوری نہ ہوسکی ۔  وجہ صرف اور صرف  سفارش کا نہ ہونا تھی۔ یہ  1988 کی بات ہے۔ اسی سال  اولمپکس گیمز میں ہمارے ایک باکسر حُسین شاہ نے پاکستان کے لئے    واحد کانسی کا تمغہ جیتا۔  بس یہیں سے  مُنیر کی زندگی نے اِک موڑ لیا وہ باکسنگ کے کھیل میں دِلچسپی لینے لگا۔ 1989 میں ہونے والی سیف گیمز میں جب پاکستان کے باکسرز نے تما م  کے تما م گولڈ میڈلز جیت لئے تو  میرے دوست کی مکے بازی کے کھیل سے دِلچسپی بہت بُلندی پر پہنچ  گئی۔ اُس نے اپنی محنت کے سرپر  انٹر کالجئیٹ  باکسنگ میں شرکت کی اور میڈل جیتا۔ گو کہ اُسے اپنی ویٹ کیٹیگری سے  بڑی کیٹیگری میں اُتارا گیا ، یہاں پر وجہ اقربا پروری بنی۔ مگر اُس نے  گلہ شِکوہ کرنے  کی بجائے جواں مردی سے حالات کا مُقابلہ کرتے ہوئے اپنی پوزیشن بنائی۔  اور پھرباکسنگ رِنگ میں  پھُرتیاں دِکھانے والا مُنیر احمدمعاشی حالات کے  شکنجے میں آگیا ،گھر میں بڑا ہونے کے ناطے باپ کا دایاں بازو بننا اُس کی اولین ذمہ داری ٹھہری۔ وہ انٹر کے بعد ایک  غیر معروف پرائیویٹ  ادارے میں مُلازم  ہو گیا۔ تاہم اُسکا شوق  اُسکے ساتھ چپکا رہا۔

اِک معمولی سی سیلز مین کی جاب ، کمر توڑ محنت کے بعد ماہانہ   تنخواہ مونگ پھلی کے دانے موافق۔ اس تنخواہ کے دو حصے والد صاحب کی خدمت میں اور ایک حصہ ماں کے قدموں میں ، اور باقی کا بچا   کلب کی فیس ۔۔۔ کلب میں مُنیر کی محنت تین  سال بعد رنگ لائی اور اُسے   ایک  بڑے پرائیویٹ ادارے نے بطور باکسر اپنے ہاں کنٹریکٹ پر بھرتی کر لیا۔ اُس نے اس  ادارے کی طرف  سے چار بار نیشنل  ایونٹ میں شرکت کی  جس میں دو برانز ایک  سلور میڈل جیتا اور ایک بار بنا  میڈل واپسی ہوئی۔ یہاں پر بھی اُس کے ساتھ پنجابی بلوچی اور مکرانی  کے نام پر   ہاتھ کیا گیا۔ اُسے  ٹریننگ کے لئے باہر بھیجنے  کی بجائے اپنوں کو اُس پر فوقیت  د ی گئی ۔ کوچ نےخود اُس کا رستہ روکنے ،حتی کہ  اُسکی جیت میں روڑے اٹکانے تک کا کوئی موقع ضائع نہ ہونے دیا۔ قریباً چھ سالوں کی نوکری کے بعد اُسکے ہاتھ میں شُکریہ کے ساتھ خُدا حافظ  کا  پروانہ تھما دیا گیا۔ اور یوں سن 2001 میں اِک غریب  کی مُکہ بازی سے  محبت کی داستاں کے  پہلے حصے کا اختتام ہوا۔

میں نے اُسے  زندگی کے کسی موڑ پر کبھی مایوس نہیں دیکھا  ہمیشہ اِک نئی اُمید کے ساتھ مُسقبل میں زندہ  پایا۔  وہ محمد علی کو  اپنا پیر و مُرشد مانتا ہے۔ اُسکے کمرے کا مال و متاع   محض لٹکے ہوئے گلوز کا جوڑا  ،چند میڈل اور دیواروں چِسپاں اُسکے پسند ہ   باکسرز کی   پوسٹر سائزتصاویر ہیں،جن میں ہولی فیلڈ ، لینکس لیوس ، پرنس نسیم ،جارج فور مین  ، مائیکل سپنکس اور سب سے نُمایاں  عظیم محمد علی  شامل ہیں  ۔وہ  مائک ٹائسن کو باکسر نہیں مانتا تھا۔  اُسکی زندگی کا پہلا ٹارگٹ ایشین گیمز   میں شرکت کرنا تھا۔   اُس کا یہ خواب شرمندہ تعبیر  نہ ہو سکا ۔ البتہ ایشین گیمز2002میں ایک پاکستانی باکسر  مہراللہ  کے گولڈ میڈل جیتنے پر صدرِپاکستان نے 50 لاکھ کے انعام کا اعلان کیا   تو میں   نے مُنیر احمد  کو بچوں کی طرح  خوش ہوتے  اور چھلا   نگیں مارتے دیکھاجیسے اُسکی اپنی 50 لاکھ کی لاٹری نکل آئی ہو۔مگر جب کُچھ سالوں بعد مہرُللہ پر چرس  کے استعمال کی وجہ  سے  ،   پابند ی عائد کی گئ  تب  بھی مُنیر کا ڈھلکا چہرہ ا اُسکی معصومیت کو ظاہر کر  رہا تھا ۔مُنیر کو کرکٹ کے کھیل سے چِڑھ سی تھی وہ اکژ سٹے بازی  میں بدنام  ہوئے کرکڑز سے باکسنگ رنگ میں مُلاقات کی خواہش کا اظہار کرتا ،تاکہ اُنہیں  چوکوںاورچھکوںکےاپنے  ریٹ بتا سکے ۔ میں نے اُسکوکرکٹ کے کھیل  میں بھی  پاکستان کی جیت کے لئے  دعائیں کرتا  ہی دیکھا ۔              

میں  کبھی حیران نہیں ہو اکہ مُنیر رِنگ میں اِتنے زور دار مکے کیسےسہہ  جاتا ہے۔ کیونکہ میں جانتا تھا کہ اِس کے اندر بلا کا صبر اور برداشت ہے مگر مُجھے حیرت ہوتی تھی کہ چڑیا کے بچے کو بِلی کے مُنہ میں دیکھ کر تڑپنے والا انسان دوسرے انسان   کو مارتا کیسے ہے۔ وہ جواب دیتا کہ رِنگ  میں اِسکی  توجہ فقط اپنے ہُنر اور اِسکی خوبصورتی پرمرکوز ہوتی ہے۔اُسکو رِنگ سے نِکل  کر میں نے پریشان محض اِس بات پر ہوتے  دیکھا کہ ماں جی سے اپنا زخموں بھرا چہرہ کیسے چھُپائے گا۔ ماں جی  صحیح معنوں میں ایثارو قُربانی کی عالمی سفیر تھیں۔ نماز روزہ ، خود کی نفی ،قُربانی اور  خِدمتِ خلق بس یہی تھا  اُن  کی زندگی کا خُلاصہ۔ یقیناً 
ایسی مائیں ہی اِس دھرتی پر ایسے پیڑوں کے تحفے دیتی ہیں، جنکی ٹہنیاں جھُکی ہوئیں اورپھل میں شہد  کی مٹھاس ہوتی ہے۔

میر ی اُس سے جب بھی مُلاقات ہوتی خوب لمبی ہوتی اور جِس کا بیشترحصہ   کھیلوں پر تبصرے میں گُزرتا۔  حسب عادت میں اُسے بولنے کا موقع کم دیتا اور  وہ  بیچارہ چند الفاظ بیان کر کے مائک پھر سے مُجھے تھما دیتا۔ میں اُسے ازراہ مذاق کہتا کہ تم  اگر کبھی محمد علی کہ طرح ورلڈ ٹائیٹل جیت بھی  لو  گے تو  صحافیوں کو کیسے جیتو گے۔ محمد علی رنگ میں مُخالف کو ناک آؤٹ کرتا تھا تو  صحافیوںکوبھی ناکو ں چنے چبوا دیتا تھا۔ یہ سُن کر وہ  بہت سنجیدہ  سا مُنہ بنا کر کہتا کہ تُمیں کیا پتا کہ میرے پاس کہنے کو کیا کُچھ ہےمگر۔۔۔۔ وہ مُجھے  ہمیشہ کہتا تھا کہ ہمارے مُلک کی زمین میں بہت  طاقت ہے  یہ سونا اُگلتی ہے اور اس دھرتی پر بسنے والے لوگ بڑے سادہ، نرم دِل مگر  فولادی  عزم وحوصلے کے مالک ہیں ۔ اُس کا یہ ماننا تھا کہ  ہمارے یہاں بہت ٹیلنٹ موجود ہے بس اسکو ایک سمِت دینے کی ضرورت ہے۔وہ اپنی مثال دیتا کہ کیسے حُسین شاہ   کے اِک میڈل  نے  اُسے باکسنگ سےجوڑ دیا اور اگر  شروع دِنوں میں اُسے  مناسب راہنمائی اور سرپرستی مِلتی تو وہ بھی۔۔۔   میں اُسکو یہی جواب دیتا کہ  ابھی ہمارا نظام   انتظامی  طور پربہت پیچھے ہیں۔ ہمارے سِسٹم کی  ابھی بہت کانٹ چھانٹ  باقی ہے۔ میں اُسے محُمد علی کی مثال دیتا  کہ 80 کی دہائی کے اوائل میں  اُسکی  فائٹ  پی ٹی وی  براہ راست نشر کرتا تھا  جبکہ ہمارے ہاں براہ راست میچز  دکھانے  کا تصور تک نہ تھا اور یہ پوری   قو  م اِسے کُفر اور اسلام کی جنگ تصور کئے فتح اسلام کی تمنا دِل میں لئے   جذباتیت کی چادر اوڑھےٹی و ی سکرین کے آگے بیٹھ رہتی۔  اور پھر کیا ہوا  بس رات گئی اور بات گئی ۔وہ میری بات سُنی ان سُنی کرتے ہوئے اپنے سر کو  نفی میں معمولی سی جُنبش دیتا اپنی دھرتی ماں  کی  مزید صفات بیان کرتا اور جہانگیر اور جان شیر کی مثال دیتا کہ کیسے  اُنہوں  فقط اپنے ٹیلنٹ پر ساری دُنیا کو دہائیوں تک زیر کیےرکھا۔ میں اُس سے   آج کی سکوائش میں پاکستان کی ریٹنگ پوچھتا  تو وہ  ذرا سا چِڑ ھ کر کہتا یار ہم آج بھی سب کُچھ کر سکتے ہیں بس دِل میں لگن، نیت میں صفائی اور تھوڑی سی راہنمائی چاہئے۔میں اُسے مزید چڑانے کے لئے کہتا کہ دِل کی لگن اور نیت کی صفائی کے لئے ہمیں امریکہ ہی سے کوئی دوائی  اِمپورٹ کرنی پڑے گی ۔ ہر بار ہماری بحث  ایسے ہی طول پکڑتی جاتی۔میں اُسپر زور دیتا کہ  سُہانے خواب دیکھنا اچھا ہے مگر اُن کے پورے ہونے کی اُمید لگانا بے وقوفی۔ ہم تو ایسی گیمز جِن میں ہماری اِجارہ داری تھی  اُنہیں نہ سنمبھال پائے۔ ہاکی  کے گراؤنڈز  ویران پڑے ہیں کبڈی کا کوئی پراپر اِنفرا سڑکچر ہم نہیں دے سکے اور تو اور کُشتی کے اکھاڑوں  کی ہماری روایات دم توڑ گئیں  اور اب وہاں چرس مِلتی ہے یا غُنڈہ گردی کو فروغ۔ میں اُسے حقائق کی طرف کھینچتے ہوئے بتاتا  کہ تُمہارے کھیل پر  کوریا، رشین ممالک ،تھائی لینڈ، جرمنی ، امریکہ  اور  چھوٹے سے کیوبا کا  مُکمل کنٹرول ہے۔ پروفیسر انور چوہدری  کے بیس سال تک آئبا کا صدر  رہنا ہمیں کُچھ خاص فائدہ نہ دے سکا تو اب بھلا ہم کیا اُمید رکھیں۔اس ساری بحث کا ڈراپ سین وہ اپنے جذبات کے سمند ر میں  ڈبکی  لگا  کر کرتا۔وہ اپنے دِل کے خواب مجھ سے شئیر کرنے لگتا اُس کی اِس شیئیرنگ کے دوراں میں مُکمل خاموش ہو جاتا  اور اُسکے اندر کے اُبال کو باہر نکلنے  دیتا۔ وہ اپنے خوابوں کی بات کرتا   اپنی خواہشات بیان کرتا،  اولمپکس میں اُس کی گیم  باکسنگ میں ایک میڈل  کی تمنا کا اظہار  کرتا ، کوئی  سا ایک میڈل اُس کے گھر سے  ،اُسکی  گلی سے ، اُسکے گاؤں سے اُسکے شہر سے یا پھر مُلک کے کِسی کو نے سے ۔  وہ  اپنے گاؤں میں نوجوانوں کی  بے راہ  روی، اسلحے کی طرف اُن کے  رُجحان ،   لڑائی مارکُٹائی، اور فروغ پاتا  بدمعاشی کلچر  نتیجاً  کورٹ کچہری اور فوج داری مُقدمات میں گلتی ہو ئی گبھرؤوں کی  جوانیوں پر اپنا دُکھڑہ روتا۔ وہ   ہندی فلموں اور ڈراموں کے ذریعے ہندی کلچر  کے پھیلتے ہوئے زہر  سے بھی خائف نظر آتا۔ اور پھر  وہ کھیلوں کے ذریعے دیہاتوں کے ماحول کو  صحت مند بنانے کااپنا  خواب دہراتا۔ ایسا خواب جِس میں وہ اپنے گاؤں کے ہرے بھرے کھیتوں  میں گھِرے گراؤنڈ میں  بچوں کو مُختلف کھیلیں کھیلتا دیکھتا ہے۔ وہ کِسی کو دوڑیں لگاتا دیکھتا ، کِسی کو کُشتی لڑتے ، کُچھ بچے کبڈی کھیل رہے ہوتے اور دو چار گراؤنڈ کے اِک کونے میں مُکے   بازی کا فن سیکھ رہے ہوتے۔    اس دوران میں اُسکے خوابوں  کی نزاکت  کو محسوس کرتے  ہوئے اپنے لب سئیےرکھتا۔

میرا دوست پِچھلے دس سالوں سے ایک فِٹنس   کلب میں ٹرینر کی نوکر ی کررہا ہے مگر آج بھی اپنے  ہی گاؤں میں بیوی ،تین بچوں اور ماں با پ کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔ اُسکا ایک بھائی  بڑے شہر میں شفٹ ہو چُکا ہے اور دوسرا بہتر  مُستقبل کے لئے کینیڈا  سکونت اختیار کر چُکا ہے۔  منیر احمد کو بھی باہر جانے کے بہت سے مواقع دستیاب ہوئے  مگر وہ  اپنے خوابوں  اور اُمیدوں کو  دامن میں لئے اپنی دھرتی ماں سے چِپکا بیٹھا ہے۔
مگر آج فون پر اُسکی زبان کی تلخی   اس مُلک کے سِسٹم سے بیزاری کو ظاہر کر رہی تھی اور اُسکی  اُونچی آواز میں کہی ہوئی مایوسی کی باتیں مُجھ پر خوف طاری کررہی تھیں۔مُنیر احمد کے مُنہ سے اِس مُلک کو چھوڑ جانے کی بات سُن کر  میرے جِسم کا بال بال کھڑا ہوگیا۔وہ محض اخبار کی   ایک کالمی چھوٹی سی خبر پر اِتنا سیخ پا ہو رہا تھا۔ خبر  کُچھ یوں تھی ۔ "لندن اولمپکس کے لئے پاکستان کا کوئی بھی باکسر کوئیلفائی نہ کرسکا، جبکہ بھارت کے سات باکسرز نے لندن اولمپکس میں اپنی جگہ بنا لی" مُنیر اپنے  خوابوں کے محل کے زمین بوس ہو جانے پر اتنا دِلبرداشتہ تھایا کوئی معاشی مسئلہ اُسکو اپنے  شیطانی شِکنجے میں لئے ہوئےتھا اِس کا فیصلہ میں ابھی تک کر نہیں پایا۔            








.








.

Sunday, 8 April 2012

BATAA TERY RAZA KIA HAI by Dohra Hai


 اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنی ہی ٹانگوں میں سے گُزار کر کانوںتک پہنچانے کی مشق کا خیال دِل مِیں آتے ہی مُجھ جیسے بہت سے سرکاری میڈیم زدہ لوگ سکول کے کلاس روموں میں گُم ہو جاتے ہیں ۔ہمارے  بزرگوں نے ہمیں اس عمل کا نام مُرغا بننا بتایا ۔اب اس سوال کا جواب کوئی محقق ہی دے سکتا ہے کہ مُرغی کا مُذکرپہلے دُنیا میں آیا یا ۔۔۔۔۔ اس یوگا نُما مشق کا زیادہ استعمال اسکولوں میں بہتر نتائج کے لئے کیا جاتا ہے۔ ہمارے اُردو کےماسٹر جی  بھی  اس ہتھیا ر کا استعمال بڑی مہارت سے کرتےتھے۔ وہ صاحب ذوق شخصیت تھے اکژ اپنا پسندیدہ شعر گُنگُناتے تھے
چار کِتاباں آسمانوں اُتریاں پنجواں اُتریا ڈنڈا
چار کِتاباں کُجھ نہ کیتا ڈنڈا کیتاسیدھا
یہ شعر محض گُنگُنانے کے لئے نہیں تھا بلکہ اس پر مُکمل عمل بھی ہوتا تھا۔ بس یہی تھےوہ حالات جنمیں ہم نے ماسٹر جی سے حضرت عِلامہ اِقبال کو پڑہا بلکہ سمجھا۔ جب کِسی شاگرد کو قریباً بیس منٹ تک مُرغا بنا یا جاتا تو موصوف کے دماغ کی تمام بند الماریوں کے قُفل کھُل جاتے،اور پھر بید کی لچک دار چھڑی بِنا آوازکےپتلی کمریا پر نشان چھوڑتی،تو پورا شعر بمعہ تشریح اُن الماریوں کے خانوںمیں نہایت سلیقے سے فِٹ ہو جاتا تھا نہ ایک سوتر زیادہ نہ کم۔ 
  جب ہم  نے عملی زندگی کو رونق بخشی  تواس ظالم دُنیا نے بھی ہم پر وہی ماسٹر جی والا کُلیہ ہی آزمایا مگرقدرے ہا ئی  ڈوزکے ساتھ۔ فِکرِ مُعاش  کی دوڑ دھوپ میں اقبال ، اُسکا فلسفہ  خودی ، اور فِکرِ اقبال کُچھ ایسی گُم ہوئی جیسے 
سرکاری دفتر میں کوئِ قیمتی فائل گُم ہوجاتی ہے۔

مگر ہماے یہاں ٹیلنٹ کی کمی تھوڑا ہی ہے۔ بہت سے لوگوں نے اقبال کی فِکر اورفلسفے کا بہت باریک بینی کے ساتھ مُطالعہ کیا اور جدید دور سے ہم آہنگ کرنے کے لئے اِس میں ترمیم و اضافےبھی کئے۔ جیسے کہ ہمارے سیاستدان ،جِنہوں نے اقبال کے کہے پر من و عن عمل کیا۔ اقبال نے اپنی شاعری میں" جمہوری تماشہ" کا ذِکر کیا ہے تو ہماری سیاسی اشرافیہ نے نت نئے جمہوری تماشے کر کے دِکھائے اور جمہوریت کا ایسا ماڈل ڈیزائن کیا کہ پوری دُنیا میں کوئی شلوار نہیں ملتی جو ان ننگی ٹانگوں کی ستر پوشی کر سکے ۔ جہاں تک قمیض کا تعلق ہے تو جمہوریت کے تخلیق کُندگان،اہلِ مغرب نےاسے رکھا ہی ٹاپ لیس ہے۔  البتہ جمہوریت کی شلوار سے چھیڑ خانی ہمارے ہاں ہی ہوئی ہے۔
ابلیس کے فرزند ہیں اربابِ سیا ست
اب باقی نہیں میری ضرورت تہہ افلاک
ہماری ہاں کی اشرافیہ میں بیوروکریٹس کا ایک اہم مقام ہے۔ اعلی تعلیم یافتہ، ذہین اور فِکری استطاعت کے حامل یہ افراد معاشرے کا سب سے اہم طبقہ ہیں۔ اس طبقے نے اقبال کا خوب باریک بینی سے مُطالعہ کیا، بدلے ہوئے زمانے کے انداز کو بھی ملحوظ خاطر رکھا، نئے راگ کے لئے ساز بھی بدلے اور آواز بھی۔اور یوں اپنی انفرادی حیثیت کو برقرار رکھا۔ اقبال کی شاعری میں بہتری اور جِدت بھی پیدا کی
خودکوکر بُلند اِتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے      
خلقِ خُدا تُجھ سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

پاک سرزمین کے مُحافظ ہماری اشرافیہ کی لِسٹ کو سدا سے لیڈ کررہے ہیں۔ اقبال سےان کی بھی جزباتی وابستگی ہے۔ البتہ کُچھ ردوبدل بوقتِ ضرورت محض سٹریٹیجک پلیننگ کے لئے ناگزیر ہے۔ حضرت اِقبال نے فرمایا:


نہیں تیرا نشیمن قصرِسُلطانی  کے گُنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر
عسکری قیادت کی وار سٹریٹیجی میں اس شعر کو مرکزی خیال کی حیثیت حاصل ہے ۔ بس تھوڑی سی سمارٹ نیس دِکھائی گئِ ہے،شائد تنقید کرنے والوں کو وہ کُچھ اوور لگتی ہو۔ پہاڑوں کی چٹانوں پر شاہین بنا کے بٹھا دئے طا لبانی اور خود کے لئے قصرِ سُلطانی کے ڈرائنگ روم۔آفڑ آل وار میں کیمو فلاج بھی اِک سود مند لائحہ عمل ہے۔