Sunday, 29 April 2012

KHATTAY MEETHAY SIYASI CHUTKALAY Dohra Hai



 آخر وزیرِاعظم خط کیوں نہیں لکھتے"۔  "ارے بھئی اُنہوں نے  وہ خط  لِکھنے    والا گیت جو سُن رکھا ہے"۔                                                                                       
پیپل کا یہ پتہ نہیں کاغذ کا یہ ٹُکرا نہیں

اسمیں ہماری جان ہے دِل کے بہت ارمان ہیں
پہنچے وہ خط جانے کہاں جانے بنے کیا داستان
اُسپر رقیبوں کا ہے ڈر  لگ جائے اُن کے ہاتھ گر
کِتنا  بُرا انجام ہو مُلک مُفت میں بدنام ہو
جناب  پیرو مُرشد اِس خط ڈرامے کا اینڈ سین بھی بتانے کی صلاحیت رکھتے ہیں                                                                                                                                                         
اِک دِن وہ خط واپس مِلا اور ڈاک بابو نے کہا      
کِسی بنک، تھانے میں  نہیں سارے زمانے میں نہیں                 
  کوئی  اکاوئنٹ   اس نام کا                                                                                                                       
ہم نے سوئس کو خط لکھاخط میں لِکھا۔                                                                   

                      2
مشہور  تجزیہ نگار اور اینکر پرسن طلعت حُسین  نے وزیر اعظم کو  اپنے ایک کالم میں مشورہ دیا ہے  کہ وہ خود کو تمام اِلزامات سے   بڑے آرام سے کلئیر کروا سکتے ہیں بس وہ  اپنے اور اپنے خاندان کے تمام اثاثے عوام کے سامنے پیش کردیں آج  کے بھی اور آج سے چار سال پہلے کے بھی اور اسطرح دودھ کا دودھ اور سیاست  کی سیاست ہو جائے گی۔ جناب پہلی بات  تو  یہ وزیر اعظم صاحب عمران خان کی  طرح کی بچگانہ سیاست کے قائل نہیں ہیں، دوسری بات یہ ہے کہ جناب گیلانی صاحب  درویش صفت آدمی ہیں ،وہ خود نُمائی  کو بالکُل بھی پسند نہیں کرتے ۔ سب سے اہم بات یہ ہے  کہ  پِچھلے چار سالوں میں جو کمایا وہ مِل بانٹ کر کھایا اور مِل بانٹ کر کھانے سے رزق میں کئی گُناہ اضافہ ہوتا ہے۔


                                            ہماری قومی اسمبلی کی سیاست  کا یہ پنچ سالہ دورانیہ بس یوں سمجھیں کہ ٹیسٹ  میچ کے آخری دِن  کے  آخری سیشن تک پہنچ چُکا ہے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ آخری سیشن کی پہلی ہی  بال پر اپوزیشن کو ایک کامیابی نصیب ہو گئی ہے اور اور وہ بھی اوپننگ بیٹسمین اور نائب کپتان کی، یوں اُن کے حوصلے کافی بڑھ گئے ہیں اس وِکٹ کے بعد بس ٹیل ہی باقی بچی ہے۔اس  سے پہلے یہ میچ  بہت حد تک ڈرا ہوتا ہی دِکھائی دے رہا تھا۔حکومت تو  میچ  کھیل ہی ڈرا کرنے  کی  نیت سے رہی ہے۔ جبکہ اپوزیشن بھی اپنی کارکردگی سے  شائقین کو مُتاثر نہیں  کرسکی  ۔ بہت سے کیچ چھوڑے گئے اور اہم  موقعوں پر اپنی وِکٹیں  غیرذمہ دارانہ اندز میں گنوائی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ناقدین نے اپوزیشن پر میچ فِکس کرنے کا الزام لگایا ۔ ویسے ہونے  کو تو ہمارے ہاں کُچھ بھی  ہو سکتا ہے۔ قِصہ مُختصر  اپوزیشن کو حکومت پر پریشر بناتے ہوئے  بقیہ وِکٹیں لینے کا بہت قیمتی موقع میسر آیا ہے، اور اُمید بھی کی جارہی ہے کہ  اس مرحلے پر   پوزیشن کی خاطر اپوزیشن میچ جیتنے کی  پوری کوشش کرے گی۔ ویسے گیلانی صاحب   ریویو کا  حق رکھتے ہیں مگر  یہ شور مچایا جا رہا ہے کہ وہ نااہل ہو چُکے ہیں اِس لئے اُنہیں فارغ کر دینا چاہئے۔  اگر دیکھا جائے تو پاکستانی سیاست کا موجودہ   ڈھانچہ ہی اپنی  اہلیت ثابت کرنے میں مُکمل  ناکام رہا  ہے تو کیا بھلا پھر اُسے بھی ۔۔۔۔۔

4
ہمارے خا دم ِاعلٰی صاحب صرف نا  م ہی سے شہباز نہیں بلکہ  کام کے بھی شہباز ہیں ، وہ اپنی نوک دار اُنگلی سے مُخالفین کی آنکھیں نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ دوران تقریر سب سے زیادہ بار اُنگلی ہِلانے کا ریکارڈ  شہباز شریف صاحب  سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ پِچھلے دِنوں  گنیس بُک کے نمائندے شہباز شریف کی تقریر ریکارڈ کرتے پائے گئے ۔ چند دِنوں بعد یہی لوگ   بغل میں   انعام لئےشہباز صاحب کی کُٹیا  کا دروازہ  کھٹکھٹاتے دیکھے گئے۔ پوچھنے والے نے  پوچھا کہ یہ اُنگلی ہِلانے کا  انعام ہے تو جواب مِلا نہیں بلکہ  دُنیا کا امیر ترین خادم ہونے  کا ۔ جسمیں اُنہوں نے دوسری پوزیشن حاصل کی ہے۔

Sunday, 22 April 2012

IK CHOTI SIE KHABAR By Dohra Hai

22/04/2012
اِک چھوٹی سی خبر
اُس کی اُونچی آواز فون کا سپیکر پھاڑنے کو تھی ۔   میں ریسور کو کان سے آدھ فُٹ کے فاصلے پر رکھے ہوئے تھا۔ وہ گلا پھاڑپھاڑ کر بولتا  چلا جارہا تھا اور میں محض  یار سُن۔۔ چل چھوڑ۔۔یار پریشان کیوں۔۔۔ سے آگے کُچھ نہ کہہ سکا ۔ بس آگ کے شعلے تھے جو اُسکے مُنہ سے باہر آرہے تھے جِن میں نفرت تھی گِلے شکوےتھے اور اندھیر اپھیلاتی ہوئی مایوسی ۔  اُس نے میرے چاروں  اطراف   اندھیراپھیلا کر الوداعی  کلمات  کہے بغیرفون بند کر دیا۔ میں چند منٹ  تک بُت بنے اِسی اندھیرے میں بیٹھا رہا۔ مُجھے ایسے لگا جیسے میرے دوست کی  آج فِکری اور روحانی طور پر موت واقع  ہوگئ ہو۔   وہ میرا سکول کے زمانے کا  دوست  مُنیر احمد تھا۔ ایک اِنتہائی   نفیس ،مُحبت  کرنے والا ، صابر اور سب سے بڑھ کر کبھی مایوس نہ  ہونے والا   پیارا دوست ۔صحیح معنوں میں یاروں کا یار، بہت کم گو طبیعت کا مالک ۔  کبھی نہ شکوہ کرنے والا پانچ فُٹ چھ انچ قدوقامت   کا   ایک نرم  
دِل  مگر بہت  مضبوط  اور پھُرتیلا انسان۔

وہ ایک غریب دیہاتی گھرانے میں پید ا ہوا۔ تین بھایئوں اور چار بہنوں میں سب سے  بڑا۔ وہ  روز  انہ  ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت طے کر کے  شہر کے سکول پہنچتا  تھا۔ تعلیمی میدان میں  وہ ایک اوسط درجے کا سٹوڈنٹ تھا۔مگر کھیل کے میدان میں اُس کی کارکردگی بہت نُمایاں  ہوتی تھی ایتھلیٹکس ، کبڈی ، ہاکی  اور بیڈمنٹن   سب میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتا تھا۔ سکول کے بعد جب کالج میں داخلے کا مرحلہ آیا تو  سپورٹس ریزروڈ سیٹوں پر داخلہ کی  اُسکی خواہش پوری نہ ہوسکی ۔  وجہ صرف اور صرف  سفارش کا نہ ہونا تھی۔ یہ  1988 کی بات ہے۔ اسی سال  اولمپکس گیمز میں ہمارے ایک باکسر حُسین شاہ نے پاکستان کے لئے    واحد کانسی کا تمغہ جیتا۔  بس یہیں سے  مُنیر کی زندگی نے اِک موڑ لیا وہ باکسنگ کے کھیل میں دِلچسپی لینے لگا۔ 1989 میں ہونے والی سیف گیمز میں جب پاکستان کے باکسرز نے تما م  کے تما م گولڈ میڈلز جیت لئے تو  میرے دوست کی مکے بازی کے کھیل سے دِلچسپی بہت بُلندی پر پہنچ  گئی۔ اُس نے اپنی محنت کے سرپر  انٹر کالجئیٹ  باکسنگ میں شرکت کی اور میڈل جیتا۔ گو کہ اُسے اپنی ویٹ کیٹیگری سے  بڑی کیٹیگری میں اُتارا گیا ، یہاں پر وجہ اقربا پروری بنی۔ مگر اُس نے  گلہ شِکوہ کرنے  کی بجائے جواں مردی سے حالات کا مُقابلہ کرتے ہوئے اپنی پوزیشن بنائی۔  اور پھرباکسنگ رِنگ میں  پھُرتیاں دِکھانے والا مُنیر احمدمعاشی حالات کے  شکنجے میں آگیا ،گھر میں بڑا ہونے کے ناطے باپ کا دایاں بازو بننا اُس کی اولین ذمہ داری ٹھہری۔ وہ انٹر کے بعد ایک  غیر معروف پرائیویٹ  ادارے میں مُلازم  ہو گیا۔ تاہم اُسکا شوق  اُسکے ساتھ چپکا رہا۔

اِک معمولی سی سیلز مین کی جاب ، کمر توڑ محنت کے بعد ماہانہ   تنخواہ مونگ پھلی کے دانے موافق۔ اس تنخواہ کے دو حصے والد صاحب کی خدمت میں اور ایک حصہ ماں کے قدموں میں ، اور باقی کا بچا   کلب کی فیس ۔۔۔ کلب میں مُنیر کی محنت تین  سال بعد رنگ لائی اور اُسے   ایک  بڑے پرائیویٹ ادارے نے بطور باکسر اپنے ہاں کنٹریکٹ پر بھرتی کر لیا۔ اُس نے اس  ادارے کی طرف  سے چار بار نیشنل  ایونٹ میں شرکت کی  جس میں دو برانز ایک  سلور میڈل جیتا اور ایک بار بنا  میڈل واپسی ہوئی۔ یہاں پر بھی اُس کے ساتھ پنجابی بلوچی اور مکرانی  کے نام پر   ہاتھ کیا گیا۔ اُسے  ٹریننگ کے لئے باہر بھیجنے  کی بجائے اپنوں کو اُس پر فوقیت  د ی گئی ۔ کوچ نےخود اُس کا رستہ روکنے ،حتی کہ  اُسکی جیت میں روڑے اٹکانے تک کا کوئی موقع ضائع نہ ہونے دیا۔ قریباً چھ سالوں کی نوکری کے بعد اُسکے ہاتھ میں شُکریہ کے ساتھ خُدا حافظ  کا  پروانہ تھما دیا گیا۔ اور یوں سن 2001 میں اِک غریب  کی مُکہ بازی سے  محبت کی داستاں کے  پہلے حصے کا اختتام ہوا۔

میں نے اُسے  زندگی کے کسی موڑ پر کبھی مایوس نہیں دیکھا  ہمیشہ اِک نئی اُمید کے ساتھ مُسقبل میں زندہ  پایا۔  وہ محمد علی کو  اپنا پیر و مُرشد مانتا ہے۔ اُسکے کمرے کا مال و متاع   محض لٹکے ہوئے گلوز کا جوڑا  ،چند میڈل اور دیواروں چِسپاں اُسکے پسند ہ   باکسرز کی   پوسٹر سائزتصاویر ہیں،جن میں ہولی فیلڈ ، لینکس لیوس ، پرنس نسیم ،جارج فور مین  ، مائیکل سپنکس اور سب سے نُمایاں  عظیم محمد علی  شامل ہیں  ۔وہ  مائک ٹائسن کو باکسر نہیں مانتا تھا۔  اُسکی زندگی کا پہلا ٹارگٹ ایشین گیمز   میں شرکت کرنا تھا۔   اُس کا یہ خواب شرمندہ تعبیر  نہ ہو سکا ۔ البتہ ایشین گیمز2002میں ایک پاکستانی باکسر  مہراللہ  کے گولڈ میڈل جیتنے پر صدرِپاکستان نے 50 لاکھ کے انعام کا اعلان کیا   تو میں   نے مُنیر احمد  کو بچوں کی طرح  خوش ہوتے  اور چھلا   نگیں مارتے دیکھاجیسے اُسکی اپنی 50 لاکھ کی لاٹری نکل آئی ہو۔مگر جب کُچھ سالوں بعد مہرُللہ پر چرس  کے استعمال کی وجہ  سے  ،   پابند ی عائد کی گئ  تب  بھی مُنیر کا ڈھلکا چہرہ ا اُسکی معصومیت کو ظاہر کر  رہا تھا ۔مُنیر کو کرکٹ کے کھیل سے چِڑھ سی تھی وہ اکژ سٹے بازی  میں بدنام  ہوئے کرکڑز سے باکسنگ رنگ میں مُلاقات کی خواہش کا اظہار کرتا ،تاکہ اُنہیں  چوکوںاورچھکوںکےاپنے  ریٹ بتا سکے ۔ میں نے اُسکوکرکٹ کے کھیل  میں بھی  پاکستان کی جیت کے لئے  دعائیں کرتا  ہی دیکھا ۔              

میں  کبھی حیران نہیں ہو اکہ مُنیر رِنگ میں اِتنے زور دار مکے کیسےسہہ  جاتا ہے۔ کیونکہ میں جانتا تھا کہ اِس کے اندر بلا کا صبر اور برداشت ہے مگر مُجھے حیرت ہوتی تھی کہ چڑیا کے بچے کو بِلی کے مُنہ میں دیکھ کر تڑپنے والا انسان دوسرے انسان   کو مارتا کیسے ہے۔ وہ جواب دیتا کہ رِنگ  میں اِسکی  توجہ فقط اپنے ہُنر اور اِسکی خوبصورتی پرمرکوز ہوتی ہے۔اُسکو رِنگ سے نِکل  کر میں نے پریشان محض اِس بات پر ہوتے  دیکھا کہ ماں جی سے اپنا زخموں بھرا چہرہ کیسے چھُپائے گا۔ ماں جی  صحیح معنوں میں ایثارو قُربانی کی عالمی سفیر تھیں۔ نماز روزہ ، خود کی نفی ،قُربانی اور  خِدمتِ خلق بس یہی تھا  اُن  کی زندگی کا خُلاصہ۔ یقیناً 
ایسی مائیں ہی اِس دھرتی پر ایسے پیڑوں کے تحفے دیتی ہیں، جنکی ٹہنیاں جھُکی ہوئیں اورپھل میں شہد  کی مٹھاس ہوتی ہے۔

میر ی اُس سے جب بھی مُلاقات ہوتی خوب لمبی ہوتی اور جِس کا بیشترحصہ   کھیلوں پر تبصرے میں گُزرتا۔  حسب عادت میں اُسے بولنے کا موقع کم دیتا اور  وہ  بیچارہ چند الفاظ بیان کر کے مائک پھر سے مُجھے تھما دیتا۔ میں اُسے ازراہ مذاق کہتا کہ تم  اگر کبھی محمد علی کہ طرح ورلڈ ٹائیٹل جیت بھی  لو  گے تو  صحافیوں کو کیسے جیتو گے۔ محمد علی رنگ میں مُخالف کو ناک آؤٹ کرتا تھا تو  صحافیوںکوبھی ناکو ں چنے چبوا دیتا تھا۔ یہ سُن کر وہ  بہت سنجیدہ  سا مُنہ بنا کر کہتا کہ تُمیں کیا پتا کہ میرے پاس کہنے کو کیا کُچھ ہےمگر۔۔۔۔ وہ مُجھے  ہمیشہ کہتا تھا کہ ہمارے مُلک کی زمین میں بہت  طاقت ہے  یہ سونا اُگلتی ہے اور اس دھرتی پر بسنے والے لوگ بڑے سادہ، نرم دِل مگر  فولادی  عزم وحوصلے کے مالک ہیں ۔ اُس کا یہ ماننا تھا کہ  ہمارے یہاں بہت ٹیلنٹ موجود ہے بس اسکو ایک سمِت دینے کی ضرورت ہے۔وہ اپنی مثال دیتا کہ کیسے حُسین شاہ   کے اِک میڈل  نے  اُسے باکسنگ سےجوڑ دیا اور اگر  شروع دِنوں میں اُسے  مناسب راہنمائی اور سرپرستی مِلتی تو وہ بھی۔۔۔   میں اُسکو یہی جواب دیتا کہ  ابھی ہمارا نظام   انتظامی  طور پربہت پیچھے ہیں۔ ہمارے سِسٹم کی  ابھی بہت کانٹ چھانٹ  باقی ہے۔ میں اُسے محُمد علی کی مثال دیتا  کہ 80 کی دہائی کے اوائل میں  اُسکی  فائٹ  پی ٹی وی  براہ راست نشر کرتا تھا  جبکہ ہمارے ہاں براہ راست میچز  دکھانے  کا تصور تک نہ تھا اور یہ پوری   قو  م اِسے کُفر اور اسلام کی جنگ تصور کئے فتح اسلام کی تمنا دِل میں لئے   جذباتیت کی چادر اوڑھےٹی و ی سکرین کے آگے بیٹھ رہتی۔  اور پھر کیا ہوا  بس رات گئی اور بات گئی ۔وہ میری بات سُنی ان سُنی کرتے ہوئے اپنے سر کو  نفی میں معمولی سی جُنبش دیتا اپنی دھرتی ماں  کی  مزید صفات بیان کرتا اور جہانگیر اور جان شیر کی مثال دیتا کہ کیسے  اُنہوں  فقط اپنے ٹیلنٹ پر ساری دُنیا کو دہائیوں تک زیر کیےرکھا۔ میں اُس سے   آج کی سکوائش میں پاکستان کی ریٹنگ پوچھتا  تو وہ  ذرا سا چِڑ ھ کر کہتا یار ہم آج بھی سب کُچھ کر سکتے ہیں بس دِل میں لگن، نیت میں صفائی اور تھوڑی سی راہنمائی چاہئے۔میں اُسے مزید چڑانے کے لئے کہتا کہ دِل کی لگن اور نیت کی صفائی کے لئے ہمیں امریکہ ہی سے کوئی دوائی  اِمپورٹ کرنی پڑے گی ۔ ہر بار ہماری بحث  ایسے ہی طول پکڑتی جاتی۔میں اُسپر زور دیتا کہ  سُہانے خواب دیکھنا اچھا ہے مگر اُن کے پورے ہونے کی اُمید لگانا بے وقوفی۔ ہم تو ایسی گیمز جِن میں ہماری اِجارہ داری تھی  اُنہیں نہ سنمبھال پائے۔ ہاکی  کے گراؤنڈز  ویران پڑے ہیں کبڈی کا کوئی پراپر اِنفرا سڑکچر ہم نہیں دے سکے اور تو اور کُشتی کے اکھاڑوں  کی ہماری روایات دم توڑ گئیں  اور اب وہاں چرس مِلتی ہے یا غُنڈہ گردی کو فروغ۔ میں اُسے حقائق کی طرف کھینچتے ہوئے بتاتا  کہ تُمہارے کھیل پر  کوریا، رشین ممالک ،تھائی لینڈ، جرمنی ، امریکہ  اور  چھوٹے سے کیوبا کا  مُکمل کنٹرول ہے۔ پروفیسر انور چوہدری  کے بیس سال تک آئبا کا صدر  رہنا ہمیں کُچھ خاص فائدہ نہ دے سکا تو اب بھلا ہم کیا اُمید رکھیں۔اس ساری بحث کا ڈراپ سین وہ اپنے جذبات کے سمند ر میں  ڈبکی  لگا  کر کرتا۔وہ اپنے دِل کے خواب مجھ سے شئیر کرنے لگتا اُس کی اِس شیئیرنگ کے دوراں میں مُکمل خاموش ہو جاتا  اور اُسکے اندر کے اُبال کو باہر نکلنے  دیتا۔ وہ اپنے خوابوں کی بات کرتا   اپنی خواہشات بیان کرتا،  اولمپکس میں اُس کی گیم  باکسنگ میں ایک میڈل  کی تمنا کا اظہار  کرتا ، کوئی  سا ایک میڈل اُس کے گھر سے  ،اُسکی  گلی سے ، اُسکے گاؤں سے اُسکے شہر سے یا پھر مُلک کے کِسی کو نے سے ۔  وہ  اپنے گاؤں میں نوجوانوں کی  بے راہ  روی، اسلحے کی طرف اُن کے  رُجحان ،   لڑائی مارکُٹائی، اور فروغ پاتا  بدمعاشی کلچر  نتیجاً  کورٹ کچہری اور فوج داری مُقدمات میں گلتی ہو ئی گبھرؤوں کی  جوانیوں پر اپنا دُکھڑہ روتا۔ وہ   ہندی فلموں اور ڈراموں کے ذریعے ہندی کلچر  کے پھیلتے ہوئے زہر  سے بھی خائف نظر آتا۔ اور پھر  وہ کھیلوں کے ذریعے دیہاتوں کے ماحول کو  صحت مند بنانے کااپنا  خواب دہراتا۔ ایسا خواب جِس میں وہ اپنے گاؤں کے ہرے بھرے کھیتوں  میں گھِرے گراؤنڈ میں  بچوں کو مُختلف کھیلیں کھیلتا دیکھتا ہے۔ وہ کِسی کو دوڑیں لگاتا دیکھتا ، کِسی کو کُشتی لڑتے ، کُچھ بچے کبڈی کھیل رہے ہوتے اور دو چار گراؤنڈ کے اِک کونے میں مُکے   بازی کا فن سیکھ رہے ہوتے۔    اس دوران میں اُسکے خوابوں  کی نزاکت  کو محسوس کرتے  ہوئے اپنے لب سئیےرکھتا۔

میرا دوست پِچھلے دس سالوں سے ایک فِٹنس   کلب میں ٹرینر کی نوکر ی کررہا ہے مگر آج بھی اپنے  ہی گاؤں میں بیوی ،تین بچوں اور ماں با پ کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔ اُسکا ایک بھائی  بڑے شہر میں شفٹ ہو چُکا ہے اور دوسرا بہتر  مُستقبل کے لئے کینیڈا  سکونت اختیار کر چُکا ہے۔  منیر احمد کو بھی باہر جانے کے بہت سے مواقع دستیاب ہوئے  مگر وہ  اپنے خوابوں  اور اُمیدوں کو  دامن میں لئے اپنی دھرتی ماں سے چِپکا بیٹھا ہے۔
مگر آج فون پر اُسکی زبان کی تلخی   اس مُلک کے سِسٹم سے بیزاری کو ظاہر کر رہی تھی اور اُسکی  اُونچی آواز میں کہی ہوئی مایوسی کی باتیں مُجھ پر خوف طاری کررہی تھیں۔مُنیر احمد کے مُنہ سے اِس مُلک کو چھوڑ جانے کی بات سُن کر  میرے جِسم کا بال بال کھڑا ہوگیا۔وہ محض اخبار کی   ایک کالمی چھوٹی سی خبر پر اِتنا سیخ پا ہو رہا تھا۔ خبر  کُچھ یوں تھی ۔ "لندن اولمپکس کے لئے پاکستان کا کوئی بھی باکسر کوئیلفائی نہ کرسکا، جبکہ بھارت کے سات باکسرز نے لندن اولمپکس میں اپنی جگہ بنا لی" مُنیر اپنے  خوابوں کے محل کے زمین بوس ہو جانے پر اتنا دِلبرداشتہ تھایا کوئی معاشی مسئلہ اُسکو اپنے  شیطانی شِکنجے میں لئے ہوئےتھا اِس کا فیصلہ میں ابھی تک کر نہیں پایا۔            








.








.

Sunday, 8 April 2012

BATAA TERY RAZA KIA HAI by Dohra Hai


 اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنی ہی ٹانگوں میں سے گُزار کر کانوںتک پہنچانے کی مشق کا خیال دِل مِیں آتے ہی مُجھ جیسے بہت سے سرکاری میڈیم زدہ لوگ سکول کے کلاس روموں میں گُم ہو جاتے ہیں ۔ہمارے  بزرگوں نے ہمیں اس عمل کا نام مُرغا بننا بتایا ۔اب اس سوال کا جواب کوئی محقق ہی دے سکتا ہے کہ مُرغی کا مُذکرپہلے دُنیا میں آیا یا ۔۔۔۔۔ اس یوگا نُما مشق کا زیادہ استعمال اسکولوں میں بہتر نتائج کے لئے کیا جاتا ہے۔ ہمارے اُردو کےماسٹر جی  بھی  اس ہتھیا ر کا استعمال بڑی مہارت سے کرتےتھے۔ وہ صاحب ذوق شخصیت تھے اکژ اپنا پسندیدہ شعر گُنگُناتے تھے
چار کِتاباں آسمانوں اُتریاں پنجواں اُتریا ڈنڈا
چار کِتاباں کُجھ نہ کیتا ڈنڈا کیتاسیدھا
یہ شعر محض گُنگُنانے کے لئے نہیں تھا بلکہ اس پر مُکمل عمل بھی ہوتا تھا۔ بس یہی تھےوہ حالات جنمیں ہم نے ماسٹر جی سے حضرت عِلامہ اِقبال کو پڑہا بلکہ سمجھا۔ جب کِسی شاگرد کو قریباً بیس منٹ تک مُرغا بنا یا جاتا تو موصوف کے دماغ کی تمام بند الماریوں کے قُفل کھُل جاتے،اور پھر بید کی لچک دار چھڑی بِنا آوازکےپتلی کمریا پر نشان چھوڑتی،تو پورا شعر بمعہ تشریح اُن الماریوں کے خانوںمیں نہایت سلیقے سے فِٹ ہو جاتا تھا نہ ایک سوتر زیادہ نہ کم۔ 
  جب ہم  نے عملی زندگی کو رونق بخشی  تواس ظالم دُنیا نے بھی ہم پر وہی ماسٹر جی والا کُلیہ ہی آزمایا مگرقدرے ہا ئی  ڈوزکے ساتھ۔ فِکرِ مُعاش  کی دوڑ دھوپ میں اقبال ، اُسکا فلسفہ  خودی ، اور فِکرِ اقبال کُچھ ایسی گُم ہوئی جیسے 
سرکاری دفتر میں کوئِ قیمتی فائل گُم ہوجاتی ہے۔

مگر ہماے یہاں ٹیلنٹ کی کمی تھوڑا ہی ہے۔ بہت سے لوگوں نے اقبال کی فِکر اورفلسفے کا بہت باریک بینی کے ساتھ مُطالعہ کیا اور جدید دور سے ہم آہنگ کرنے کے لئے اِس میں ترمیم و اضافےبھی کئے۔ جیسے کہ ہمارے سیاستدان ،جِنہوں نے اقبال کے کہے پر من و عن عمل کیا۔ اقبال نے اپنی شاعری میں" جمہوری تماشہ" کا ذِکر کیا ہے تو ہماری سیاسی اشرافیہ نے نت نئے جمہوری تماشے کر کے دِکھائے اور جمہوریت کا ایسا ماڈل ڈیزائن کیا کہ پوری دُنیا میں کوئی شلوار نہیں ملتی جو ان ننگی ٹانگوں کی ستر پوشی کر سکے ۔ جہاں تک قمیض کا تعلق ہے تو جمہوریت کے تخلیق کُندگان،اہلِ مغرب نےاسے رکھا ہی ٹاپ لیس ہے۔  البتہ جمہوریت کی شلوار سے چھیڑ خانی ہمارے ہاں ہی ہوئی ہے۔
ابلیس کے فرزند ہیں اربابِ سیا ست
اب باقی نہیں میری ضرورت تہہ افلاک
ہماری ہاں کی اشرافیہ میں بیوروکریٹس کا ایک اہم مقام ہے۔ اعلی تعلیم یافتہ، ذہین اور فِکری استطاعت کے حامل یہ افراد معاشرے کا سب سے اہم طبقہ ہیں۔ اس طبقے نے اقبال کا خوب باریک بینی سے مُطالعہ کیا، بدلے ہوئے زمانے کے انداز کو بھی ملحوظ خاطر رکھا، نئے راگ کے لئے ساز بھی بدلے اور آواز بھی۔اور یوں اپنی انفرادی حیثیت کو برقرار رکھا۔ اقبال کی شاعری میں بہتری اور جِدت بھی پیدا کی
خودکوکر بُلند اِتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے      
خلقِ خُدا تُجھ سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

پاک سرزمین کے مُحافظ ہماری اشرافیہ کی لِسٹ کو سدا سے لیڈ کررہے ہیں۔ اقبال سےان کی بھی جزباتی وابستگی ہے۔ البتہ کُچھ ردوبدل بوقتِ ضرورت محض سٹریٹیجک پلیننگ کے لئے ناگزیر ہے۔ حضرت اِقبال نے فرمایا:


نہیں تیرا نشیمن قصرِسُلطانی  کے گُنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر
عسکری قیادت کی وار سٹریٹیجی میں اس شعر کو مرکزی خیال کی حیثیت حاصل ہے ۔ بس تھوڑی سی سمارٹ نیس دِکھائی گئِ ہے،شائد تنقید کرنے والوں کو وہ کُچھ اوور لگتی ہو۔ پہاڑوں کی چٹانوں پر شاہین بنا کے بٹھا دئے طا لبانی اور خود کے لئے قصرِ سُلطانی کے ڈرائنگ روم۔آفڑ آل وار میں کیمو فلاج بھی اِک سود مند لائحہ عمل ہے۔  


            

Saturday, 24 March 2012

JOO TUM NAI KAHA FAIZ NAI JOO FARMAYA HAI by Dohra Hai


 میںبہت دیر سے کِسی گہری سوچ میں گُم گھر کی بالکنی میں کھڑا  تھا اتنی گہری کہ،  ڈوبنے کا خوف محسوس ہونے  لگا بس وہیں سے میں نے واپسی کی راہ لی اور کُچھ لکھنے لکھانے کا موڈ بنا کرسٹڈی ٹیبل پر آبیٹھا ۔ میں نے کمرے کا دروازہ بند کیا اور مُکمل توجہ کاغذ قلم پر مرکوز کرنے کی ٹھانی ابھی غالباًَ دوسری سطر بھی مُکمل نہ ہونے پائی کہ میز پر اِک کھٹکا ہوا ۔میں نے نظریں اُٹھائیں تو ٹیبل کی دوسری طرف ایک دراز قد شخص ٹانگ پر ٹانگ چڑہائےکُرسی پر بیٹھا نظر آیا۔اُس کا ایک ہاتھ کُرسی کی ٹیک کے پیچھے تھا تو دوسرا میز پر اپنی اُنگلیوں سے کھیلتا ہوا ۔وہ خاکی ٹی شرٹ اور جینز پینٹ پہنے ہوئے تھا۔ اُس کا رنگ ہلکی آنچ پر بھُنے ہوءے گندم کے دانوں کی مانند تھا مُنہ بھرا ہوا ،چوڑے شانے، اور موٹے ہونٹ ۔ اُس کی بڑی مونچھیں اوپر کے ہونٹوں کو چھُپائے ہوئے تھیں۔ اُس کی کالی آنکھوں میں بلا کا اعتماد تھا۔وہ  روب دار بھاری آواز میںمُجھ سے مُخاطب ہوا۔ کیا لکھ رہے ہو اور کیوں۔اُس کا اس طرح سے سوال پوچھنا مُجھے بہت بُرا لگا ۔کُچھ توقف کے بعد میں نے  جواب دیا سیاسی حالات پر ایک آرٹیکل لکھ رہا ہوں اور جہاں تک کیوں کی بات ہے تو میں قلم سے جہاد کرنے کا قائل ہوں۔ میرا یہ جواب سُن کر وہ کھِلکھِلا کر ہنس پڑا جیسے کِسی ننھے بچے کی معصوم سی بڑھک سُنی ہو ۔ کُچھ دیر قہقہے لگانے کے بعد وہ یکدم سنجیدہ ہوکر بولا۔کیا جہاد کرو گے اور کِس سے۔ کِتنے لوگ تُمہیں پڑہیں گے پچاس ، سو دویا دوسو اُن میں سے بھی اکثریت کالم ختم ہونے سے پہلے بھُلا کر آگے چل پڑے گی۔ اور اِدھر تُم خود کو۔۔۔۔۔۔ اُسکی بات سُن کرمیں لاجواب ہو گیا اور نظریں جھُکائے دل ہی دل میںشرمندگی محسوس کرنے لگا۔اپنی شرمساری چھپاتے ہوئے میں نے کہا کہ لکھنا ایک اچھا مشغلہ ہے  اور یوں خود کا کتھارسز بھی ہوجاتا ہے۔میری بات مُکمل ہو نے سے پہلے ہی اُس نے سوال کر ڈالا اُس سے کیا تُمہارا اور تُمہارے بچوں کا پیٹ بھرتا ہے۔میں نے نظریں اُٹھائے بغیر نفی میں سر ہلا دیا۔

وہ کُچھ دیر مُجھ پر نظریں جمائے،  خاموش رہا اور پھر گویا ہوا۔ تُم ایک پرائیویٹ ادارے میں اِک بے توقیری کی نوکری کررہے ہو، تُمہاری تنخواہ کے دو حصے کرائے میں، ایک حصہ بلوں میں جاتا ہے اور باقی ایک حصے سے تم اپنا کچن اور دیگر ضرویات کھینچ تان کر پوری کرتے ہو۔ تیس دِن کا یہ سرکل مانگ تانگ کر ہی مُکمل ہوتا ہے۔ ابھی تو تمہارے بچے چھوٹے ہیں اُنکی سکولنگ کا  اِک بنیادی بوجھ بھی تُم پر نہیں پڑا ہے۔ اُس کی رعب دار آواز میں بتدریج اِک گرج پیدا ہوتی گئی۔ میں اُسکی اس تقریر کے دوران مُکمل خاموشی اختیار کئے رہا۔ اُسنے مزید کہا ۔تمہارے بچے بھی مہنگے ترین سکولوں میں پڑھ سکتے ہیں اچھی انگریزی بول سکتے ہیں، آج کی دُنیا کی تمام آسا ئشیں جو کہ اب انسانی زندگی کی ضرورت بن چُکی ہیں اُن ک دسترس میں آسکتی ہیں۔مگر اس کے لئے تُمہیں محنت کرنا ہوگی۔ میں تُمہیں راستہ بتاتا جاوءں گا اور تم رستے پر چل کر وہ مُقام اور خوشیاں حاصل کرپاو گے جن کا اس وقت تُم  تصور بھی نہیں کر سکتے۔

اُس کی یہ بات سن کر میرے اندر اِک نئی امنگ نے انگڑائی لی اور مِیں کُرسی پر سیدھا ہوکر بیٹھ گیا ۔ میں نے بہت آہستگی سے پوچھا مُجھے کیا کرنا ہوگا۔ اُس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مُسکراہٹ آئی اور وہ بولا تمہیں ہمارے اشارے سمجھنے ہوں گے ۔ ہم تمہیں سگنل دیا کریں گے اور تُم اُن سگنلز کو لفظوں میں ڈھالو گے۔ ہماری مدح سرائی کے لئے ہر وقت کوشاں رہو گے۔ ہم اپنی قوم کی بہتری کے لئے جو کڑوے ٹیکے لگاتےہیں، تمہیں اپنی تحریرمیںوہ مٹھاس لانی ہو گی جو اِس کڑواہٹ کو ذہن سے زائل کرے۔ اپنی ڈیمانڈ بتاتے ہوئے اُسکی توجہ میرے چہرے کے تاثرات پر تھی۔ اُس نے مزید کہا کہ ایک بات میں تُم پر واضح کرتا  جاوءں کہ ہمارےدفتر کے باہر تُم سے ہزار درجے بہتر لکھاری ، آشیر باد ک تمنا  دِل میں لئے لائن بنائے کھڑے رہتے ہیں۔ لیکن میں تُمہیں موقع دینا چاہتا ہوں تُمہارے نا گُفتہ بہ حالات دیکھ کر مُجھےتُم پر ترس آتا ہے اور تُمہارے اندر پائی جانے والی معصومیت کُچھ حد تک میرے دِل کو اچھی لگتی  ہے۔

اُس نے پانی کا گلاس اُٹھا یا ایک گھونٹ پانی پیا اور میرے چہرے پر آتے جاتے رنگ دیکھتے ہوئے اِک چُٹکی بجائی اور مُجھے اپنی طرف متوجہ کر کے بولا۔ دراصل تمہیں ہماری خُفیہ طاقت کا اندازہ نہیں ہے ۔ آج جوتمہیں صحافت کے بڑے بڑے نام نظر آرہے ہیں جہنیں تم سنتے بھی ہو اور پڑہتے بھی ہواور اُن کی بات من و عن تسلیم بھی کرتے ہو۔ اِن میں سے اکژ ہمارے لگائے ہوے پودے ہیں ۔اِن کی آبیاری ہم نے کی ہے انہیں ایسے سیاست دان بھی ہم ہی نےبنا کر دئے ہیں جنہوں نے اِن کے لئے لفافہ فیکٹریاں لگائیں۔ مگر اب یہ خود کو بہت بڑا سمجھنے لگ پڑے ہیں  اب تو سیاست دان بھی اِن کی دُکانوں میں اپنا پروڈکٹ بیچنے  کیلئے منتیں کرتے نظر آتے ہیں ۔ ہم تمہیں بھی یہاں تک پہنچا سکتے ہیں۔ تُمہاری کمزور تحریر کو طاقت کے ٹیکے لگانا ہمارا کام ہے۔تُمہای پھیکی ہنڈیا میں بارہ مثالوں کا تڑکا  ہم لگائیں گے۔ تُمہارے لکھے ہوئے باغ کو گُل و گُلزار ہم کریں گے۔ تمیں اتنا پاپولر کردیں گے کہ لوگ تمہیں شوق سے پڑہیں گے بھی اورتمہاری شکل ٹی وی پر دیکھ کر چینل نہیں 
بدلیں گے۔ میری طرف سے تمہیں کھُلی آفر ہے اب فیصلہ تُمہارے ہاتھ میں ہے۔میں تمہیں کُچھ وقت دیتا ہوں سوچنے کے لئے ۔

اُسکی بات ختم ہونے پر میں نے اپنی دونوں کہنیاں میز رکھیں دُعائیہ سائن بناتے ہوئےاپنا سر نیچے جُھکا لیا ، میری نظریں
  ہاتھ کی لکیروں پر ٹھہر گئیں اور میں پھِر سے گہری سوچ میں کھو گیا ۔میں صحافت کے بڑے ناموں کے مُتعلق سوچنے لگا۔ وہ نام جنہیں ہم نظریات ک امین خیال کرتے ہیں جن کی فہم و فراست سے مسُتفید ہونے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بھلا ایسا کیوں ہے کہ ۔ کِسی کا  عرفان فقط ایک ہی در کی صداقت دِکھانے تک ہی محدود ہے، اِک قاسمی کو ہم  نے محض قسمیں کھاتے، گُنگُناتے، سیٹیاں بچاتے بس اِک ہی گانا گاتے سُنا ہے " گنگا نہایا بس ایک ہی شیر باقی سب ہیر پھیر " ، اِک نذیر کو ہم نےبس ہاں جی اور ناں جی کےدرمیان ٹوِسٹ کرتے ہی پایا ہے۔ کوئی سیاست کا عبدلقادر بن کر اپنی لیگ بریک میں کبھی کبھار گُگلی  پھینکتا نظر آتا ہےتو کوئی میر ٹی وی پر صحافت کا سُلطان راہی بنے گردن ہلاتا بڑھکیں مارتا دیکھا جاتا ہے۔اِک ڈاکٹر صحافت کی مُقدس گائے کو اپنا کر دودھ  بھرے تھن کو چِمٹا ہے۔ وہ عسکری قوتوں کا مدح سرا  باریش قلندر بھی جسکے کاروبارِٹھیکیداری کا بھانڈا بھی اِک پیٹی بھائی نے اپنے کالم میں پھوڑ دیا۔ مُجھے ابنِ انشا کا کہا یاد آنے لگا۔" اس عشق میں ہم نے جو کھویا جو پایا ہے  جو تم نے کہا فیض نے جو فرمایا ہے، سب مایا ہے" صحافت کے ہر بڑے نام نے اس مایا سے اشنان فرمایا ہے۔ تو پھر میں ۔۔ ۔۔ اور میرے بچے۔۔۔۔۔ ۔۔۔ میں نے اِک جھٹکے سے اپنا سر اُوپر اُٹھایا ، مگر میرے سامنے والی کُرسی خالی تھی میری نظروں نے اُس کا تعاقب کرنے کی کوشش کی مگر وہ کہیں نہ تھا۔ لیکن ایک چِٹ ٹیبل پر پڑی تھی جِس پر لکھا تھا کہ تُم انتہائی سُست انسان ہو سوچنے میں بہت زیادہ وقت لیتے ہو، تُم ہمارےلئے کِسی کام کے نہیں۔

Saturday, 17 March 2012

SOO KAI PAR SOO KA by Dohra hai


سوکے پر سوکا
ہم نے دُکی پر دُکی اور ستے پر ستہ تو کر کے بھی دیکھا اور ہوتے ہوئے بھی دیکھا مگر جو کچھ رامیش ٹندُلکرکے بیٹے نے کردکھایا وہ اس سے پہلے نہ کبھی دیکھا نہ سُنا ۔ سوکے پر سوکا ریکارڈ کے جُملہ حقوق شائد ٹنڈ ُلکر کے نام ہی محفوظ ہو جائیں گے اور اب غالبا دوبارہ ایسا ہونا مُمکن بھی نہ رہے کیونکہ ایک روزہ کرکٹ کی عمرقریب قریب آخری وقتوں میں دِکھائِ دیتی ہے۔جس طرح آگ اور پانی ایک دوسرے کی ضد ہیں کرکٹ اور بارش کا بھی کُچھ ایسا ہی رشتہ ہے جہاں بارش ہووہاں کرکٹ نہیں ہوسکتی اور جہاں کرکٹ ہو رہی ہو وہاں محبان ِ کرکٹ کم ازکم پانچ دن تک بارش کے قطروں کو بادلوں میں ہی تھمے رکھنے کی خدا سے دُعا کرتے نظر آتے ہیں۔

آفریں ہے اس کھیل پر کہ اِس نے اِسی بارش کی چھیڑخانی پررونے دھونے کی بجائے اِک نئے بچےیعنی ایک روزہ کرکٹ کو جنم دے ڈالا یہ پانچ جنوری اُنیس سو اکہتر کا واقع ہے ۔ اس کھیل نے آگے چل کر اپنے والدین کا نام خوب روشن کیا ۔ انیس صد پچھتر میں ون ڈے کا پہلا ورلڈکپ کھیلا گیا۔ جِسمیں بھارتی بلے باز سُنیل گواسکر نے ساٹھ اورز کی اِننگز کھیلی اورسینتیس رنز ناٹ آوءٹ سکور کیے۔ اگر یہ ابتدا تھی تو گواسکر ثانی کے طور پر مُتعارف ہونے والے ٹندُلکر نے اِس کھیل کی انتہا کر دکھائی۔

اگر مُجھے کہیں سے جادو کا چراغ ملے جِسے رگڑنے سے اِک جن برآمد ہو تو میں اُسے سب سے پہلا حکم یہ دوں گا کہ وہ مُجھے اُس جگہ کے آس پاس کی مٹی لا کر دے جہاں سے قُدرت نے ٹنڈُلکر کا خمیر اُٹھایا تھا اور اُس کے گھر پر لگے کِسی پھل دار درخت کی لکٹری بھی جِسکا پھل بچپن میں ٹنڈلکر کھاتا رہا ہو۔ اُس مٹی سے میں اِک نئِ پچ بنواوں گا اور لکڑی سے اِک بیٹ۔ جس سے میرے مُلک کے ننھے کرکٹرز استفادہ کریں گےاور پھربنیں گے تمام بیٹنگ ریکارڈزہمارے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگراس کے لئے اُس عجزو انکساری کی بھی  ضروت ہوگی جو کہ اس عظیم بلے باز کی شخصیت کا خاصہ ہے۔ ٹنڈ ُلکر نے جب سویں سنچری کا سواں رنز لیا اور آسمانوں پر بیٹھےاپنے مالک کی طرف نظریں اُٹھا کر دیکھا تو عِجز اُسکے پورےوجود سے جھلک رہا تھا۔ مُجھے وہ سولہ سالہ سکول گوئنگ لڑکا یاد آگیا جس نے اُنیس سو نواسی میں پاکستان کے دورے سے کیرئیر کا آغاز کیا۔ اور آزمائشی میچ میں عبدالقادر کو لگاتار چار چھکے داغ دئیے۔

بہت سے ناقدین ٹنڈ ُلکر کو عظیم بیٹسمین نہیں گردانتے بلکہ محض ریکارڈزکا بھوکا کھلاڑی ۔ بحر حال تنقید کے اس شور میں بھی اُس کے  بنائے ہوئے ریکارڈز کی گونج چاروں طرف صاف  سُنائی دیتی ہے۔ قطہ نظر اِس کے کہ ساچن کی سویں سنچری بھی میچ ہار گئی ، اُس کا نام کرکٹ کی تاریخ میں سُنہری حروف سے ہی لکھا جائے گا اور اُس پر سو سنچریوں کے ٹریڈ مارک کا نشان سب سے نمایا ں ہو گا۔

Saturday, 10 March 2012

TREPERTERIA VIRUS by Dohra Hai


 یہ بیسویں ترمیم مُجھے بالکُل بھی ہضم نہیں ہورہی پتا نہیں کیوں اس سے مُجھے کچھ سازش اور ذاتی مُفاد کی بو آتی ہے مگر میں نے جس کِسی سے بھی اپنےخدشات کا ذِکر کیا تو سُننے والے نے میری بات دو  ٹوک رد کی اور اس ترمیم کو تاریخی درجات عطا کرتے ہوءے اس کے  دور رس مُثبت نتائج کی شُنید سُنائی مگر میرا دِل تھا کہ مانتا ہی نہ تھا۔ اِک بدبو سی تھی جو اس حوالے سے میرے دل و دماغ کا گھیراوء کئے ہوئے تھی۔ کل رات گیارہ بجے میں نے آپس کی بات کرنے والے  جوگی بابا کا پروگرام ٹیون کیا تو اِنہیں اس ترمیم کے حق میں دلائل دیتے اور اس کی خوشبووءں کا پُراثر تعارفی سپرے کرتے پایا ۔ بس پھر کیا مُجھے تو یقین ہو چلا کہ میری سونگھنے کی حس کِسی خطرناک بیماری کا شکار ہو چلی ہے۔ یہاں اِک بات بتاتا چلوں کہ میں جوگی بابا کا پروگرام روزانہ لگاتا ہوں مگر یہ میری مجبوری ہے کیونکہ ان کی مہورت ٹی وی پر دیکھ کر ہی میرا تین سالہ بیٹا سہم کر اپنے بسترمیں دُبکتا ہے۔بحر حال اس دِن تو بابا جی نے مُجھے بھی  خوف زدہ کردیا۔  کروٹیں بدل بدل کر رات  گُزاری ۔ اور دِن چڑہتے ہی دفتر کی بجائے ڈاکٹر کی راہ لی۔

قسمت اچھی تھی میری، ڈاکٹر صاحب دُکان کی جھاڑ پونجھ کر کے بس ابھی کُرسی  پر بیٹھے ہی تھے۔ میں نے موقع جانتے ہوءے اپنی ساری کی ساری تکلیف ایک ہی سانس میں اُن سے کہ ڈالی۔ بحرحال ڈاکٹر صاحب نے میرا مسئلہ نہائت تحمل اور صبر سے سُنا ۔ چند سیکنڈ کا توقف کیا اور پھر بڑے پرسکون انداز میں بولے کہ فکر کی کوئی ایسی بات نہیں ہے آپ پر تریپرٹیریا وائرس نے حملہ کیا ہے۔ اتنا جدید اور مُشکل نام جیسے ہی میرے کانوں سے ٹکرایا بس مُجھےتو اپنے پیر  قبرمیں دھنستے ہوءے محسوس ہوءے۔ جسم سے جان باہرکو بھاگنے لگی بڑی مُشکل سے اُسے بدن میں واپس دھکیلا۔ دو چار لمبے لمبے سانس لئے جب یقین ہو چلا کہ زندگی کے آثار ابھی موجود ہیں تو پھر سے گویا ہوا۔"ڈاکٹرصاحب یہ بیماری کتنی خطرناک ہے  کہاں سے آئی ہےاور اس کا علاج کیا ہے۔" تین سوال ایک ساتھ میں نے جڑ دئے۔ ڈاکٹر صاحب انتہائی پرسکون انداز میں کُرسی سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے اور اُن کی نظریں مُجھ پر جمی ہوءی تھیں۔ غالبا وہ میری حرکات و سکنات  کو انجوائے کر رہے تھے۔ میرے سوالات سُن کر ہلکی سی مُسکراہٹ اُن کے چہرے پرنمو دار ہوئی اور وہ بولے۔"دیکھیں آپ زیادہ پریشان نہ ہوں یہ کوئِ خطرناک بیماری نہیں ہے۔ البتہ نِئ ضرور ہے تاہم اس کی روک تھام کے لئے ہمارے شاہی خاندانوں نے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں اور اُمید کی جارہی ہے کہ جلد ہی اس وائیرس پر قابو پا لیا جائے گا اور جہاں تک تعلق ہے کہ یہ وائرس آیا کہاں سے تو اِس بارے میں وثوق سے تو کُچھ نہیں کہا جاسکتا مگر امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شاہی اصطبلوں میں اس کی پیدائش ہوئِ ہے کیونکہ بہت سے گھوڑوں میں یہی والے جراثیم پائے گئے ہیں۔مگر یہ بات خوش آئند ہے کہ ہمارے شاہی خاندانوں نے فوری ایکشن لیتے ہوئے اپنے اصطبلوں کی دیواریں اُونچی کروا لی ہیں اور چارہ کی مقدار اور کوالٹی بھی بہتر کر دی ہے۔ باہر سے چند مہنگے ترین  خوشبو سپرے منگوا کر ٹی وی والوں کو دے دئے گئے ہیں تاکہ وہ ہر وقت چینلز پر سپرے کی پھُس پھُس کرتے رہیں تاکہ عوام کہیں کوئی بدبو محسوس نہ کریں ، مُطمئن رہیں اور اُن میں مایوسی نہ پھیلے۔

میر اگلا سوال اس بیماری کی علامات کے مُتعلق تھا اور ڈاکٹر صاحب کا جواب تھا کہ ساری وُہی علامات ہیں جو آپ میں اس وقت موجود ہیں مثلاْ تبدیلی کی تڑپ پیدا ہوجانا، موجودہ سیاسی خاندانوں سے بغاوت کا جزبہ بیدار ہونا، خاندانی سیاست اور کاروباری سیاست کو اِک روگ سمجھنے لگنا وغیرہ وغیرہ۔ ڈاکٹر صاحب نے مُجھے اس کی روک تھام کے لئے چند احتیاطی تدابیر سے بھی آگاہ کیا۔ جو درج ذیل ہیں۔

۱۔ کسی بھِی نئے سیاسی چہرے کی بات نہ سُنی جاءے خواہ وہ کِتنا ہی مشہور اور نسبتا بہتر کردار کا ہو۔
۲۔ شاہی جمہوری خاندانوں کی بات کو پورے غور سے سُننا اور ہر بات پر سر تسلیم خم کرنا
۳۔ اس بات کا خود کو قائل کرنا کہ تبدیلی کی ضرورت نہیں کیونکہ تبدیلی تو آچُکی ہے۔
۴۔ جو بندہ جمہوری شاہی پارٹی چھوڑ جائے اُسے لوٹا قرار دینا اور جو باہر کہیں سے آجاءے اُسے جپھیاں ڈالنا
۵۔ خود کو اِس عقیدے پر سختی  قائم رکھنا کہ حکومت صرف تجربہ کار اور پہلے سے آزمائے ہوءے ہی کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب کی احتیاطی تدابیر سُننے کے دوران اچانک ہی مُجھے گامے قصائی کی بات یاد آگئی ۔ ابھی کل ہی میں گوشت لینے اُس کی ُدکان پرگیا تھا تو وہ بھی کِسی اسی طرح کے نئے وائرس کا ذکر کر رہا تھا اورکِسی مولوی کا حوالہ دیتے ہوئے بتا رہا تھا کہ یہ وائرس یہودیوں نے ہمارے یہاں چھوڑا ہے۔ مُجھ سے رہا نہ گیا اورمیں نے یہ سوال بھی ڈاکٹر صاحب سے کر ڈالا۔ ڈاکٹر صاحب نے دورانِ مُلاقات پہلی بار زور دار قہقہہ لگایا اور بولے کہ یار ہمارے ہاں جِتنی گندگی اور غلاظت ہے یہاں پر بیرونی وائیرسز کی ضرورت نہیں ہے۔ اور ویسے  بھی باہر کے وائرس اِتنی گندگی میں سروائیو نہیں کر سکتے۔ میرا  ڈاکٹر صاحب سے آخری سوال اس مرض کے نُقصانات کے مُتعلق تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے کُچھ اُکتاتے ہوئے سہی مگرجواب سیر حاصل دے ڈالا۔ اُن کا کہنا تھا ۔ پچھلے چونسٹھ سالوں سے ہمارے یہاں کِتنے وائرسز آءے ختم ہو گئے اور اُن کی جگہ نئے وائرسز نے لے لی۔مگر ہم جیسے تھے جہاں تھے وہیں کے وہیں رہے۔ ہماری قوتِ مُدافعت بہت مضبوط ہو چُکی ہے۔ ہمیں بھلا اس وائرس سے کیا نُقصان ہونا ہے , بلکہ ہو سکتا ہے کہ یہ وائرس ہم پر کُچھ مُثبت اثرات چھوڑجائے یا پھر ہمارے دماغ اس نئے وایرس کا ڈیٹا بھی اپنے پاس محفوظ کر لیں۔ اصل میں تریپرٹیریا وائرس سے خطرہ جمہوری شاہی خاندانوں کو ہےکیونکہ وہ اِتنے نازک افراد ہوتے ہیں کہ ذدا سی دھول  اُڑتی ہے تو اُن کو ڈسٹ الرجی کا عارضہ ہو جاتا ہےاور وہ اپنی موت کے خوف میں مُبتلا ہو جاتے ہیں

Friday, 2 March 2012

DIFFAA-E-PAKSTAN AUR KALI BILLI by Dohra hai


سردیوں کی اندھیری رات تھی میں اِک میدان میں تنہا ٹھٹھرا ہواسہما بیٹھا تھا حیران و پریشان تھا کہ یہاں کیسے پہنچا۔ اس کھلے میدان کے کناروں پر لگے درختوں کے پتوں سے ہوا خوب چھیڑ خانی کر رہی تھی پتوں کی سر سراہٹ ماحول کو مزید خوف ناک بنا رہی تھی۔ ٹھنڈی ہوا کے تیزجھونکے میرے بدن میں سوسو چھید کر کے گُزرتے تھے۔ستا روں سے بھرا کھُلا آسمان شبنم کی پھوار پھونک کر موسم کو مزید یخ کررہا تھا۔ آسمان پر ٹمٹماتے ہوئے ستارے شائد مُجھے آنے والےکِسی خطرے کا سِگنل دے رہے تھے۔ اس وسیع میدان کےبالکُل  وسط میںستر،اسی کے قریب قبریں تھیں۔شدید سردی اور خوف نے میرے بدن کو ساکت کردیا تھا۔ اچانک مُجھے  ان قبروں میں سے مردے نکلتے ہوئے نظر  آئےاور ساتھ ہی میدان میں کُچھ روشنی  بھی پھیل گئ   ، ان مُردوں نے سفید چادریں اوڑھی ہوئی تھیں۔ ان کے چہرے نارمل سائز سے نسبتا بڑے تھے، شکلیںکُچھ بگڑی ہوئ محسوس ہوتی تھیں۔ بہت سوں کے سروں اور چھاتیوں پر بچھو چِمٹے ہوئے تھےچند ایک سانپوں کی جکڑ میں تھے۔یہ سانپ اوربچھو وقفے وقفے سےانہیں کاٹتے تھے جس پر وہ زور دار چیخ  مارتے تھے۔یہ مردے بہت سی ٹولیاں بنا کرکھڑے ہوگئے ۔ یہ چند منٹ آپس میں سرگوشی کرتے اور پھر اِن میں سے ایک اونچی آواز میںکُچھ بولنا شروع  کردیتاجیسے کوئی  تقریر کررہا ہو،تمام ٹولوں کی نْقل وحرکت ایک ہی سی تھی ۔ان کی تقریروں کی اور چیخوں کے شور نے چند لمحوں پہلے سائیں سائیں کرتے میدان کو  اِک مچھلی منڈی میں تبدیل کردیا تھا۔ گو کہ اِن کی شکلیں بِگڑی ہوئی تھیں ،پھر بھی نہ جانے کیوں مُجھے یہ محسوس ہونے لگا جیسے ان چہروں سے میری کُچھ شناسائی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ کُچھ ہی دیر میں میرا تمام خوف اُڑن چھو ہو گیا اور میں اِن کی حرکات و سکنات  کے مُشاہدے میںمُکمل طور پر کھو گیا۔ یکایک میری نظر اِک اژدہے پر پڑی جو بڑی تیزی سے میری طرف بڑھ رہا تھا۔ میرا دھیان اس کی طرف جانے تک  بہت دیرہو چُکی تھی اور وہ مُجھ پرچھلانگ لگا چُکا تھا۔


میں نے اِک زور دار چیخ ماری اوراگلا سین کچھ اسطرح سے ہے کہ میں اپنے کمرے میں بستر پر پایا جاتا ہوں ۔وہ بھی اِس حالت میں کہ پلنگ کے ساتھ ٹیک لگاءے ہوءے تھا، ہیٹر فُل سپیڈ میں آن تھا ۔ ٹیوب لائٹ جل رہی تھی اور ٹی وی سکرین پر کوئی بریکنگ نیوز چل رہی تھی۔ گھڑی تین بجانے ہی کو تھی ۔حواس کُچھ بحال ہوءے تو سمجھ میں آیا کہ خواب میں دیکھے ہوئے چہروں سے میری شناسائی انہی نیوز چینلز ہی کے ذریعے ہوئی ہے۔ تب مُجھے خیال آیا کہ میری الیکٹرانک میڈیا سے نفرت اس خواب کی وجہ ہوگی۔مگرکھوج لگا نے پر کھُرا اُس تقریر تک جا پہنچا کہ جِسے سُنتے سُنتے میری آنکھ لگ گئی تھی۔ یہ مولانا یعقوب صاحب  کی تقریر تھی کہ جِسمیں وہ میڈیا کا قبرستان بنانے کی دھمکی دے رہے تھے، مولانا کا تعلق حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ سے ہے۔ دھمکیاں دینا ایک پریشر ٹیکٹک ہے اور ہر جماعت ایسا کرتی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میں نے ان کی دھمکی کو اِتنی سنجیدگی سے کیوں لیا ۔ جواب کی تلاش میں، وقت کی پٹڑی پر ریورس گئر لگا کرمیں ذرا  پیچھے کو چلا تو زندگی کی  گاڑی نے کالج لائف کے سٹاپ پر جا کر بریک لگادی۔یہ وہ زمانہ تھا  جب ہم لشکرِطیبہ والوں کا مُجلہ، فارغ پیریڈ کے دوران کالج کے لان میںاپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر  پڑہا  کرتے تھے۔ جِس کے پچھلے صفحے پر تحریر ہوتا تھا کہ اسے پڑھنا ، پڑھانا اور آگے پھیلانا باعث ثواب پے۔کوئی شک نہیں کہ اسمیں دین کی بہت اچھی اور مُفید معلومات ہوتی تھیں۔ مگر اس مُجلے میں ہمسایہ مُلک کے کافروں کا ذکر کچھ ایسے انداز میں کیا جاتا تھا جس سے صرف دشمنی خریدی اور نفرت بیچی جاسکتی ہے۔ تصویر، ٹی وی اورڈش کی کسی طور بھی مذھب میںاجازت مُمکن نہیں اس مُجلے میں یہ تصورایک حُکم کے طور پربڑے تواتر کے ساتھ صادر کیا جاتا تھا ۔ٹی وی سیٹ توڑنے کی سلسلہ وار کہانی شائع ہوتی تھی آلہ بصری کو جہنم واصل کرنے کی باقائدہ ترغیب دی جاتی تھی ۔  ٹی وی قبرستان میں دفناءے ہوءے سیٹس کا باقائدہ ِرکارڈ بھی رکھا جاتا تھا۔ یہ لوگ اُس قبرستان میں  اب کبھی فا تحۃ کہنے بھی نہیں گئے ویسے بھی فاتحہ خوانی ان کے مسلک میںجائز تصور نہیں کی جاتی۔ اب یہ اُسی ٹی وی پراپنے لئے ٹائم مانگتے ہیں یا پھر اِک نئے قبرستان کی دھمکی دیتے ہیں۔ سچ کہا ہے کِسی نے۔بدلتا ہےآسماں  رنگ کیسے کیسے۔
دفاع پاکستان قونصل میں اک جماعت جو کہ ماضی میں عشقِ صحابہ کی دعویدار رہی ہے۔عشق توفقط  پیار، ایثارو قُربانی کا اِک خوبصورت درس ہے۔ اور صحابہ جیسی عظیم ہستیوں سے دعوہ عشق سے اچھی  اور کوئی بات نہیں ہو سکتی۔ نبی صلاۃ و سلام کے تربیت یافتہ ساتھیوں نے اپنے نام اور وجود کو اللہ کے دین کے لئے وقف کردیااُن سے افضل  بھلا کون ۔ مگر اس جماعت محض رقابت  کی پتنگیں اُڑائیں،طعن و تشنیع کے کھینچے مارے،نفرت کے پیچ لگائے، اختلافی مسائل کی چرخی سے لمبی لمبی ڈوریں دیں نتیجتا  اپنی خود کی گُڈیاںبھی بو کاٹا ہوئیں اور تعصب کا مانجھہ لگی ہوئی ڈور پورے ملک میں گُنجل گُنجل ہوکر پھیل گئِ جو اب بھی کسی کی گردن کاٹتی ہے تو کسی کو پیروں میں پھنس کر اُوندھے مُنہ گِراتی ہے۔
اپنے بات کو تقویت دینے کے لئے میں اپنے ایک خوبرو دوست کا واقعہ بیان کرتا جاوءں، جس پر آغاز جوانی میں اِک مذہبی بھوت سوار ہوگیا۔ وہ بھوت اُسے مدرسے لے اُڑا ، اُس کی تعلیم کا آغاز صرف و نحو کی کلاس سے ہوا۔ اُستاد محترم نے پہلے دِن صرف و نحو کی تعریف بیان کی مکمل کورس کا ذکر کیا اور اس موضوع پر لکھی ہوئی اعلی ترین کتاب کا تعارف کروایا۔ دوسرے دن اُسے بتایا گیا کہ یہ کِتاب ایک اہلِ تشیع نے لکھی ہے۔محترم دوست دِل ہی دِل میںمُعلم کی فراخ دِلی اور اعلی ظرفی سے بہت مُتاژر ہوا۔ تیسرے دِن کلاس میں اُستادِ محترم نے پہلے سے تیار کردہ نوٹس بمع سوال وجواب لکھوائے۔ اک سوال تھا کہ یہ کتاب اِک  اہل تشیع عالم نے لکھی ہے اس بارے آپ کی کیا راءے ہے؟ اس سوال کاجو جواب لکھوایا گیا وہ کُچھ یوں تھا۔"اگر آپ کو کِسی گندی نالے میں قیمتی ہیرا پڑا نظر آئے تو کیا آپ اُٹھائیں گے یا نہیں"۔ گندی نالی کے گندے جواب کو سُن کر موصوف پر مذہبی بھوت کی گرفت کُچھ ڈھیلی ہوئی جس کا بھرپور فائدہ ایک دُنیاوی جن نے خوب اُٹھایا اور ساتویں دِن اُس بھوت کو شکستِ فاش دیتے ہوےمحترم دوست کو واپس دُنیا داری کی راہ دِکھا ئی۔
ہہاں غور طلب بات یہ ہے کہ یہ وہ دور تھا کہ جب ہمارے یہاں کسی بلیک واٹر نامی تنظیم کا کوئی وجود نہ تھا بلکہ یہ تمام کیا دھرا تنگ نظری کی اُس بلیک کیٹ کا تھا جو کئی بار ہماری ترقی کا راستہ کاٹ چُکی ہے اور ہر سو اپنی نحوست کے اژرات اب تک پھیلا رہی ہے۔ اگر ہمیں پاکستان کا دفاع مضبوط کرنا ہے تو ہمیں اِس کالی بِلی کو مار بھگانا ہو گا۔تب ہی ہمارا دفاع ناقابلِ تسخیرحد تک مضبوط ہوگااور ترقی کی منزل ہماری دسترس میں آئے گی۔ جنرل ضیاءالحق نے پاکستان میں اسلامائزیشن کے ہائِ پوٹینسی انجیکشن لگا ئےبہت اچھا کیا ۔ مگر اس کے سائد ایفیکٹس خطرناک بیماریوں کی صورت میںنمودار ہوئے ۔ جس کا مُجھے پہلی بار احساس انیس سو نواسی میں ہوا جب پاکستان میں ساوءتھ ایشین گیمز پہلی بار مُنعقد ہوئیں۔ بینظیر بھُٹو اُس وقت وزیر اعظم تھیں۔ ان گیمز کی ابتدائیہ تقریب میں سکول کی ننھی معصوم بچیوں نے بہت خوبصورت پرفارمنس پیش کی ۔ جس پر ہمارے مُلک کے مولوی حضرات کو بُخار ہوگیا مگر پیرا سٹا مول خود لینے کی بجائے اُنہوں نے قوم کے منہ میں دینی شُروع کر دی۔
اقبال نے اپنے فلسفے اور فِکر کی بُنیاد پر ہمیں آگاہی دی"جُدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی" ۔ مگر ہم نے جواپنے تجربے سے سیکھا وہ اِس سے ذرا  مُختلف ہے۔" جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے تبلیغی جماعت اور شامل ہو دیں سیاست میں تو بن جاتا ہےمولانا فضل الرحمان"حضرت اقبال کا کہاغلط نہیں ہے ۔ درحقیقت ہماری کیمیا گری میں ہی  کوئی نُقص رہ گیا ہے جو نتائج بہتر نہیں آتے ورنہ دین کو سیا ست سے الگ کرنا تو ہے ہی بڑے گھاٹے کا سودا ہے۔ 
ہم نے سُنا تھا کہ مُلا کی دوڑ مسجد تک ہوتی ہے۔ لیکن حقیقت اس سےبالکُل  مُختلف نِِکلی مُلا کو ہم نے جی ایچ کیو اور آب پارہ تک بھی دوڑتے دیکھا بلکہ اگر موقع ملے تو امریکہ تک میراتھان لگانے سے بھی نہیں کتراتا ۔ سمارٹ مگر پھر بھی نہیں ہوتا  البتہ کبھی کبھار اوور سمارٹ بننے کی کوشش ضرور کرتا